99. Surah Az-Zalzala

الزلزلةThe Earthquake · 8 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 99:1

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ Open ayah 99:1 in the Quran reader

جب زمین سخت ہلا دی جائے گی، اس کا سخت ہلایا جانا۔

(اذا زلزلت الارض زلزالا :”زلزل یزلزل زلزلۃ و زلزالا“ (فعللہ) سخت لہانا۔ یہاں ”زلزال“ مصدر مفعول کے معنی میں ہے، یعنی سخت ہلایا جانا۔ اس سے مراد دور سے نفخہ کے ساتھ آنے والا زبردست زلزلہ ہے، کیونکہ دور سے نفخہ کے ساتھ ہی مردے قبروں سے نکلیں گے، فرمایا :(ثم نفخ فیہ اخری فاذا ھم قیام ینظرون) (الزمر : 68) ”پھر اس میں دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو یک لخت وہ کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہوں گے۔“ (زلزالھا“ (اپنے زلزلے) سے مراد یہ ہے کہ زمین کو سخت ہلا دینے کے لئے جتنا زبردست زلزلہ ہونا چاہیے اس قسم کے زلزلے کے ساتھ وہ سخت ہلا دی جائے گی۔
Ayah 99:2

وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ Open ayah 99:2 in the Quran reader

اور زمین اپنے بوجھ نکال باہر کرے گی۔

(واخرجت الارض اثقالھا :”اثقال“ ”ثقل“ کی جمع ہے، مسافر کا سامان اور نفیس چیزیں جن کی وہ حفاظت کرتا ہے، یعنی زمین نے جو کچھ سنبھلا کر رکھا ہوا ہے اسے باہر نکال دے گی۔”یا ”ثقل“ کی جمع ہے جو حمل کو کہتے ہیں، جیسے فرمایا :(فلما اثقلت) (الاعراف : 189)”پس جب وہ (عورت) بھاری ہوگئی۔“ اس صورت میں زمین کو حاملہ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے، یعنی اتنا شدید زلزلہ ہوگا کہ زمین پھٹ اجئے گی اور اس میں جو فوت شدہ لوگ ہیں یا جو کچھ بھی زمین نے سنبھال کر رکھا ہوا ہے باہر ناکل کر خلای ہوجائے گی، جیسا کہ فرمایا :(والقت ما فیھا و تخلت) (الانشقاق : 3)”اور اس میں جو کچھ ہے باہر پھینک دے گی اور خالی ہوجائے گی۔“
Ayah 99:3

وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ Open ayah 99:3 in the Quran reader

اور انسان کہے گا اسے کیا ہے؟

(وقال الانسان مال لھا): ہر انسان ہی اچانک پیش آنے والے واقعات سے دہشت زدہ ہو کر یہ الفاظ کہے گا۔ خصوصاً کافر جو قیامت کا منکر تھا، اس کیلئے تو یہ بات حد سے بڑھ کر تعجب انگیز ہوگی۔
Ayah 99:4

یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ Open ayah 99:4 in the Quran reader

اس دن وہ اپنی خبریں بیان کرے گی۔

(یومئذ تحدث اخبارھا :) یعنی زمین وہ سب کچھ بیان کرے گی جو اس پر کیا گیا اور بتائے گی کہ کس نے کس وقت کیا نیکی یا کیا بدی کی۔
Ayah 99:5

بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَاؕ Open ayah 99:5 in the Quran reader

اس لئے کہ تیرے رب نے اسے وحی کی ہو گی۔

(بان ربک اوحی لھا :) کیونکہ اس کے رب نے اسے یہ حکم دیا ہوگا۔
Ayah 99:6

یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا١ۙ۬ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ Open ayah 99:6 in the Quran reader

اس دن لوگ الگ الگ ہو کر واپس لوٹیں گے تا کہ انھیں ان کے اعمال دکھائے جائیں۔

(یومئذ یصدر الناس اشتاتاً ، لبروا اعمالھم :”یصدر“ واپس لوٹیں گے، یعنی پہلے قبروں میں گئے تھے، اب وہاں سے حساب کے لئے میدان محشر میں اللہ کے حضور واپس لوٹیں گے، جیسا کہ فرمایا :(ثم یمتکم ثم یحیکم ثم الیہ ترجعون) (البقرۃ : 28)”پھر وہ تمہیں مارے گا، پھر زندہ کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔“ ”اشتاتاً ”شت“ کی جمع ہے، الگ الگ۔ ”لیروا“ (اری یری اراء ۃ“ (افعال) سے مضارع مجہول ہے، تاکہ وہ دکھائے جائیں اپنے عمل۔ ”لبروا“ میں ضمیر نئاب فاعل ہے اور ”اعمالھم“ مفعول ثانی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر شخص اکیلا اکیلا اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے لئے پیش ہوگا، اس کا قبیلہ، اس کی جماعت اور دوست احباب کوئی ساتھ نہیں ہوگا، جیسا کہ فرمایا :(ولقد جئتمونا فرادی کما خلقنکم اول مرۃ) (الانعام : 93)”اور یقیناً تم ہمارے پاس اس طرح اکیلے آئے ہو جیسے ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔“ الگ الگہ و کر اس لئے لوٹیں گے کہ ہر ایک کو اس کے اعمال دکھائے جائیں، جیسا کہ فرمایا :(اقرا کتبک کفی بنفسک الیوم علیک حسیباً) (بنی اسرائیل : 13)”اپنی کتاب پڑھ، آج تو خود اپنے آپ پر بطور محاسب بہت کافی ہے۔“ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ لوگ الگ الگ گروہ کی شکل میں میدان محشر کی طرف روانہ ہوں گے، اگر چہ اللہ تعالیٰ کے حضور فرداً فرداً پیش ہوں گے ، جیسا کہ فرمایا :(ویوم نحشرمن کل امۃ فوجاً ممن یکذب بایتنا فھم یوزعون) (النمل : 83)”اور جس دن ہم ہر امت میں ایک گروہ ان لوگوں کا اکٹھا کریں گے جو ہماری آیت ا کو جھٹلاتے تھے، پھر ان کی جدا جداق س میں بنائی جائیں گی۔“
Ayahs 99:7–8

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ Open ayah 99:7 in the Quran reader

تو جو شخص ایک ذرہ برابر نیکی کرے گا اسے دیکھ لے گا۔

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠ Open ayah 99:8 in the Quran reader

اور جو شخص ایک ذرہ برابر برائی کرے گا اسے دیکھ لے گا۔

8(1) فمن یعمل مثقال ذرۃ…:”یرہ“ اصل میں ”یراہ“ ہے، جو ”رای یری رویۃ“ کا فعل مضارع ہے،”فمن یعمل“ شرط کی جزا ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے، اسلئے الف حذف ہوگیا۔”ذرۃ“ بکھرے ہوئے غبار کا چھوٹے سے چھوٹا حصہ جو روشن دان میں سورج کی شعاعوں سے چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔ چھوٹی چیوٹنی کو بھی ”ذرہ“ کہتے ہیں کافر ہو یا مسلمان، ذرہ بھر نیکی کی ہوگی تو دیکھ لے گا اور ذرہ بھر برائی کی ہوگی تو دیکھ لے گا، اعمال کے دفتر سے کوئی چیز غائب نہیں ہوگی۔ جیسا کہ فرمایا، (ووجدواما عملوا حاضراً ولا یظلم ربک احداً) (الکھف : 39)”اور انہوں نے کیا اسے حاضر پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔“ البتہ اعمال کی جزا اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق ہوگی۔ چناچہ کافروں کے اعمال ضائع کردیئے جائیں گے، انہیں آخرت کے بجائے دنیا ہی میں بدلا دے دیا جاءے گا۔ قرآن مجید اور صحیح احادیث کی روشنی میں ان کے اعمال ضائع ہونے اور سفارش کے مفید نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ جہنم سے نہیں نکل سکیں گے، ان پر جنت حرام ہے۔ البتہ بعض اعمال یا کسی شفاعت کی وجہ سے عذاب میں تخفیف ہوسکتی ہے، جیسا کہ ابو طالب کو صرف آگ کا جوتا پہنایا جائے گا اور کفار اپنے اپنے اعمال کے لحاظ سے جہنم کے مختلف درکات میں ہوں گے۔ منافقین آگ کے سب سے نچلے حصے میں ہوں گے۔ (دیکھیے نسائ : 145) اہل ایمان کو ان کی برائیوں کی سزا تب ملے گی جب یہ شرطیں موجود ہوں :(1) گناہ کبیرہ ہوں۔ (دیکھیے نسائ : 31(2) ان سے توبہ کئے بغیر فوت ہوجائیں۔ (3) ان کی نیکیاں میزان میں بھاری نہ ہو سکیں۔ (4) ان کے حق میں کوئی سفارش قبول نہ ہو۔ (5) ان کا کوئی عمل ایسا نہ ہو جس سے وہ مغفرت کے مستحق ہوچکے ہوں، مثلاً اہل بدر۔ (6) اللہ تعالیٰ نے وہ گناہ معاف نہ کیا ہو، کیونکہ گناہ گار مومن اللہ کی مرضی پر ہے، وہ چاہے تو اسے عذاب دے، چاہے تو بخش دے۔ (2) رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کو جامع اور بےنظیر آیت قرار دیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے گھوڑوں کے متعلق فرمایا :(الخیل للثلاثۃ : لرجل اجر و لرجل ستر و علی رجل وزر)”گھوڑے تین طرح کے لوگوں کے لئے ہیں، ایک آدمی کے لئے اجر ہیں اور ایک آدمی کیلئے پردہ ہیں اور ایک آدمی پر بوجھ ہیں۔“ اس پر آپ ﷺ سے گدھوں کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا، (ما انزل اللہ علی فیھا الا ھذہ الآ یۃ الفاذۃ الجامعۃ :(فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ ، و من یعمل مثقال ذرۃ شرایرہ) (بخاری، التفسیر، باب قولہ :(فمن یعمل مثقال ذرہ خیرا یرہ): 3862) ”اللہ نے اس کے متعلق اس بےنظیر و جامع آیت کے علاوہ مجھ پر کچھ نازل نہیں فرمایا :”تو جو شخص ایک ذرہ برابر نیکی کرے گا اسے دیکھ لے گا اور جو شخص ایک ذرہ برابر برائی کرے گا اسے دیکھ لے گا۔“