100. Surah Al-Aadiyaat

العادياتThe Chargers · 11 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 100:1

وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًاۙ Open ayah 100:1 in the Quran reader

قسم ہے ان (گھوڑوں) کی جو پیٹ اور سینے سے آواز نکالتے ہوئے دوڑنے والے ہیں !

(والعدیت ضبحاً :”العدیت“ ”عدا یعدوا عدوا“ (ن) (دوڑنا) سے اسم فاعل ہے، دوڑنے والے۔ ”صبح“ اس آواز کو کہتے ہیں جو گھوڑے کے تیز دوڑنے کی وجہ سے اس کے جوف سے نکلتی ہے، جو نہ سانس کی آواز ہوتی ہے اور ہنہنانے کی، اس لئے اس کا معنی ”ہانپ کر“ کرنا محل نظر ہے۔ آیت میں اگرچہ گھوڑوں کا لفظ نہیں، مگر لغت عرب میں ”ضبح“ کا لفظ گھوڑے کیلئے آتا ہے یا کتے کے لئے، کیونکہ یہ مخصوص آواز انھی دو جانوروں سے نکلتی ہے۔ اس جگہ کتے مراد ہو ہی نہیں سکتے، اس لئے گھوڑے ہی مراد ہیں۔ یہاں تیز دوڑنے والے گھوڑوں کو بطور شاہد پیش کیا گیا ہے، وہ گھوڑے مسلمانوں کے ہوں یا کافروں کے، انہیں غازیوں کے ساتھ مخصوص بھی نہیں کیا گیا، کیونکہ مقصد گھوڑوں کی فضیلت بیان کرنا نہیں بلکہ انہیں آئندہ آنے والے دعروے کی دلیل کے طور پر پیش کرنا ہے۔
Ayah 100:2

فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًاۙ Open ayah 100:2 in the Quran reader

پھر جو سم مار کر چنگاریاں نکالنے والے ہیں !

فالموریت قدحاً :‘”اوری یوری ابرائ““ (افعال) چقماق (پتھر) سے آگ نکالنا۔ ”قح یقدح قدحا“ (ف) آگ نکالنے کے لئے پتھر پر پتھر مارنا ہے، مراد سم مارنا ہے۔ تیز دوڑتے ہوئے ان کے سم پتھروں پر پڑتے ہیں تو ان میں سے چنگاریاں نکلتی ہیں۔
Ayah 100:3

فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًاۙ Open ayah 100:3 in the Quran reader

پھر جو صبح کے وقت حملہ کرنے والے ہیں !

(فالمغیرت صبحاً :”فالمغیرت“”آغار بغیر اغارۃ“ (افعال) سے اسم فاعل ”مغیرۃ“ کی جمع ہے، ٹوٹنے کے لئے حملہ کرنے والے۔
Ayah 100:4

فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًاۙ Open ayah 100:4 in the Quran reader

پھر اس کے ساتھ غبار اڑاتے ہیں۔

(فاثرن بہ نفعاً :”فاثرن“ ”اثار یثیر اثارۃ“ (افعال) ”الغبار“ غبار اڑانا۔”نقعاً“ غبار۔
Ayah 100:5

فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًاۙ Open ayah 100:5 in the Quran reader

پھر وہ اس کے ساتھ بڑی جماعت کے درمیان جا گھستے ہیں۔

فوسطن بہ جمعاً :”وسطن“ ”وسط یسط وسطاً“ (ض)”القوم او المکان“ کسی چیز کے درمیان میں ہونا۔“
Ayahs 100:6–7

اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ Open ayah 100:6 in the Quran reader

بیشک انسان اپنے رب کا یقینا بہت ناشکرا ہے۔

وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌۚ Open ayah 100:7 in the Quran reader

اور بیشک وہ اس بات پر یقینا (خود) گواہ ہے۔

(ان الانسان لربہ لکنود…:”کند یکند“ (ن)”کنودا“ (کاف کے ضمہ کے ساتھ ”النعمۃ“ نعمت کا انکار کرنا، ناشکری کرنا۔”کنود“ (کاف کے فتحہ کے ساتھ) بروزن ”فعرل“ بمعنی فاعل برائے مبالغہ ہے، بہت ناشکری کرنے والا۔ یہ مذکر و مونث دونوں کے لئے آتا ہے۔ اصل میں ”کنود“ اس زمین کو کہتے ہیں جو کوئی چیز نہ اگاتی ہو۔ اس سورت میں پہلی پانچ آیات میں قسمیں اٹھانے کے بعد چھٹی آیت میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ انسان یقیناً اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ یہ پانچوں قسمیں اس دعوے کی دلیل اور شاہد کے طور پر لائی گئی ہیں۔ اس کی تفصیل یہے کہ گھوڑے اپنے مالک کے ایسے وفادار اور شکر گزار ہیں کہ رات جب وہ انہیں لے کر نکلتے ہیں تو وہ بلا چون و چرا چل پڑتے ہیں، نہ اپنے آرام کی پروا کرتے ہیں اور نہ رات کی تاریکی کی، پھر وہ مالک کے کہنے پر صدق نیت کے ساتھ اس طرح سرپٹ دوڑتے ہیں کہ ان کے جوف سے آواز نکلنے لگتی ہے اور تیزی سے دوڑتے ہوئے ان کے قسم جہاں پڑتے ہیں ان کی ٹھوکر اور رگڑ کے ساتھ پتھروں سے چنگاریاں نکلتی جاتی ہیں۔ پھر صبح کے وقت جب ہر چیز آرام کر رہی ہوتی ہے، ان کے مالکا نہیں لے کر دشمن کو لوٹنے کے لئے دھاوا بولتے ہیں تو اس وقت بھی وہ غبار اڑاتے ہوئے دوڑتے چلے جاتے ہیں، خواہ غبار کے ساتھ سانس گھٹ رہا ہو، یا آگے دشمن کی تلوار، تیر اور نیزے ان کے سینے چھید رہے ہوں، یہ کسی بھی چیز کی پروا نہ کرتے ہوئے اسی حالت میں دشمن کی جماعت کے وسط میں جا گھستے ہیں۔ گھوڑے اپنے اس مالک کے لئے اتنی تگ و دو کرتے ہیں جو ان کی تھوڑی بہت خدمت کرتا ہے، جس نے نہ انہیں پیدا کیا ہے اور نہ ان کا حقیقی رازق ہے، تو کیا انسان اللہ تعالیٰ کے کہنے پر جو اس کا خلاق بھی ہے، مالک اور رازق بھی اتنی تگ و دو کرنے اور قربانی دینے پر تیار ہے ؟ وہ خود مانے گا کہ یقینا نہیں، تو پھر اس کے ناشکرا ہونے میں کیا شک ہے ؟
Ayah 100:8

وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 100:8 in the Quran reader

اور بیشک وہ مال کی محبت میں یقینا بہت سخت ہے۔

وانہ لحب الخیر لشدید : یعنی اس ناشکری کا سبب مال کی شدید محبت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی حرص، طمع اور بخل کی بد دعاتیں ہیں جن کی وجہ سے یہ اپنے منعم حقیقی کو بھلا بیٹھا ہے۔
Ayah 100:9

اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِۙ Open ayah 100:9 in the Quran reader

تو کیا وہ نہیں جانتاجب قبروں میں جو کچھ ہے باہر نکال پھینکا جائے گا۔

افلا یعلم اذا بغثر ما فی القبور : یعنی انسان اپنے رب کی ناشکری کرتا ہے اور مال سے شدید محبت کی و سے اپنے مالک کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا ہے، تو کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا جب وہ سب کچھ نکال باہر پھینکا جائے گا جو قبروں میں ہے اور ان میں موجود تمام مردوں کو زندہ کر کے قبروں سے نکال باہر کیا جائے گا ؟”افلا یعلم“ (تو کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا) کا مطلب یہ یہ کہ کیا وہ اس وقت سے نہیں ڈرتا کہ اپنے مالک کو کیا جواب دے گا ؟
Ayah 100:10

وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِۙ Open ayah 100:10 in the Quran reader

اور جو کچھ سینوں میں ہے ظاہر کردیا جائے گا۔

وحصل ما فی الصدور : دوسرے اعمال تو پہلے ہی ظاہر ہوچکے تھے، مگر دل کی نیت اور ارادے کے متعلق خیال ہوسکتا تھا کہ اسے کون جانتا ہے، تو اس وقت وہ بھی ظاہر کردیئے جائیں گے، جیسا کہ فرمایا :(یوم ثبلی السرآئر) (الطارق : 9)”جس دن پوشیدہ راز ظاہر کئے جائیں گے۔“
Ayah 100:11

اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۠ Open ayah 100:11 in the Quran reader

بیشک ان کا رب اس دن ان کے متعلق یقینا خوب خبر رکھنے والا ہے۔

ان ربھم بھم یومئذ لخیر : اس آیت پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ رب تعالیٰ تو ہمیشہ ہی بندوں کے حالات سے باخبر ہے، پھر اس دن کو خاص کیوں فرمایا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس دن جب ظاہری اعضا سے سر زد ہونے والے اعمال کے علاوہ دلوں کے اعمال ظاہر کر کے ان کی بھی جزا و سزا دی جائے گی، تو اگر پہلے کسی کو شک تھا تو اس دن وہ بھی والے اعمال کے علاوہ دلوں کے اعمال ظاہر کر کے ان کی بھی جزا و سزا دی جائے گی، تو اگر پہلے کسی کو شک تھا تو اس دن وہ بھی دور ہوجائے گا کہ یقیناً ان کا رب ان کے متعلق خوب خبر رکھنے والا ہے۔