Ayah 101:1(القارعۃ :”فرع یفرع قرعاً) (ف) شدت کے ساتھ دروازہ کھکھٹانا۔”القارعۃ“ ”الطآمۃ، الصآختہ ، الحآقۃ، الغاشیۃ“ اور ”الواقعۃ“ کی طرح قیامت کا ایک نام ہے، کیونکہ صدور کی آواز کانوں اور دلوں بلکہ ہر چیز کے ساتھ شدت سے ٹکرائے گئی، حتیٰ کہ اس آواز کی وجہ سے زمین اور پہاڑ بھی ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں گے، جیسا کہ فرمایا :(وحیلت الارض والجبال فدکتا دکتہ واحدۃ) (الحاقۃ : 13)”اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھایا جائے، پس دونوں ٹکرا دیئے جائیں گے، ایک بار ٹکرا دینا۔“
Ayahs 101:2–3ماالقارعۃ، وما ادرک ما القارعۃ : یعنی وہ ”القارع 1“ کیا ہے ؟ کس قدر عیجب اور کتنی خوف ناک ہے ؟ تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ وہ ”قارعہ“ کیا چیز ہے ؟ یعنی وہ اتنی عظیم الشان اور عجیب و غریب ہے کہ مخلوق میں سے کوئی اس کی شدت و عظمت جانتا ہی نہیں کہ تجھے بتائے۔ ہاں، اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے ، اس لئے اس نے خود ہی اگلی آیت میں اپنے فضل سے اس کا کچھ حال بیان فرما دیا۔
Ayah 101:4(یوم یکون الناس کالفراش المبثوث :”الفراش“ اسم جنس ہے، مفرد کے لئے ”فراشہ“ آتا ہ، پروانے۔ یعنی جس طرح پروانے بیشمار تعداد میں ایک دوسرے کے گرداڑتے ، گھومتے اور آپس میں ٹکراتے ہوئے آگ کی طرف تیزی سے جا رہے ہوتے ہیں اسی طرح سب لوگ ایس ہی پریشانی اور تیزی کے ساتھ میدان محشر میں بلانے والے کی طرف جائیں گے، جیسا کہ فرمایا :(خشعاً ابصارھم یخرجون من الاجاث کانھم جراد منتشر، مطعین الی الذاع) (القمر : 8، 8)”ان کی نظریں جھکی ہوں گی، وہ قبروں سے نکلیں گے جیسے وہ پھلی ہوئی ٹڈیاں ہوں۔ پکارنے والے کی طرف گردن اٹھا کر دوڑنے والے ہوں گے۔“ اور فرمایا :”مھطعین مقنعی رؤسھم لایرتد الیھم طرفھم و افدتھم ھوآئ) (ابراہیم : 33)”اس حال میں کہ تیز دوڑنے والے، اپنے سروں کو اوپر اٹھانے والے ہوں گے، ان کی نگاہ ان کی طرف نہیں لوٹے گی اور ان کے دل خالی ہوں گے۔“ اور فرمایا :(یومئذ یتبعون الداعی لا عوج لہ) (طہ : 108)”اس دن وہ پکارنے والے کا پیچھا کریں گے، جس کے لئے کوئی کجی نہ ہوگی۔“ اور وہاں پہنچ کر بھی انہیں قرار نہیں ہوگا، بلکہ اسی طرح بےقرار و بےتاب بھگاتے پھریں گے، فرمایا :(یوم یقمر المرء من اخیہ…لکل امری منھم یومئذ شان یغنیہ) (عبس : 33 تا 38)”جس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا…اس دن ان میں سے ہر شخص کی ایک ایسی حالت ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بےپروا بنا دے گی۔“
Ayah 101:5وتکون الجبال کا لھعھن المنفوش :’ الجھن“ اون یا رنگین اون۔”المنفوش“ ڈھن کی ہوئی۔ قیامت کے دن پہاڑ دھنک کر اون یا روئی کے گالوں کی طرح کردیئے جائیں گے، جیسا کہ فرمایا :(ویسئلونک عن الجبال فقل ینسفھا ربی نسفاً) (طہ : 105)”اور وہ تجھ سے پہاڑوں کے متعلق سوال کرتے ہیں، تو کہہ دے کہ میرا رب انہیں خوب اچھی طرح دھنک کر رکھ دے گا۔“ چونکہ پہاڑ سرخ ، سیاہ ، سفید اور بیشمار رنگوں والے ہیں، اسلئے جب وہ دھنکے جائیں تو رنگی اور دھنکی ہوئی اون کی طرح ہوجائیں گے۔ قیامت کے دن پہاڑوں پر گزرنے والے مختلف احوال کے لئے دیکھیے سورة نبا (20) کی تفسیر۔
Ayah 101:6فاما من ثقلت موازینہ :”موازین“ ”میزان“ کی جمع ہے ، ترازو۔ مراد ترازو کے پلڑے ہیں۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة اعراف (8، 9) کی تفسیر۔ اس کے بعد اعمال کا وزن ہوگا۔”من ثقلت موازینہ“ (جس کے پلڑے بھاری ہوگئے) سے مراد نیکیوں کے پلڑے ہیں۔
Ayah 101:7(فھو فی عیشۃ راضیۃ :”عاش یعیش عیشاً و معاشاً و عیشۃ و معیشۃ“ (ض) زندگی والا ہونا۔”عیشۃ“”فعلۃ“ کے وزن پر مصدر ہے، جو حالت اور کیفیت پر دلالت کرتا ہے، تو ”عیشۃ“ زندگی کی حالت۔ ”راضیہ ”رضی یرضی رضا“ (س) سے ہے، یہاں ”راضیۃ“ بمعنی ”ذات الرضا“ ہے، یعنی خوشی والی زندگی ، جیسے ”تامر“ کھجور والے کو اور ”لابن“ دودھ والے کو کہا اجتا ہے۔
Ayahs 101:8–9واما من خفت موازینہ…:”ھاویۃ“ ”ھوی یھوی ھویا“ (ض) گرنا۔ ”ھاویۃ“ کا لفظی معنی گڑھا ہے جس میں گرا جائے، مراد جہنم ہے۔ ”فامہ“”اس کی ماں“ مراد اس کا ٹھکانا ہے، جس طرح ماں اپنے بچے کو گود میں جگہ دیتی ہے۔
Ayah 101:10(1) وما ادرک ماھیۃ :”مادرک“ کے ساتھ سوال اس کی ہولناکی نمایاں کرنے کے لئے ہے۔
(2)”ماھیہ“ اصل میں ”ماھی“ ہے، وہ کیا ہے ؟ یاء کے فتحہ کی حفاظت کیلئے وقف کے وقت اس کے بعد ساکن باء لگا دیتے ہیں، اسے ہائے وقف کہتے ہیں جو ملا کر پڑھیں تو گرجاتی ہے۔ بعض قراء ملا کر پڑھنے کی صورت میں بھی اسے باقی رکھتے ہیں۔
Ayah 101:11(نار حامیۃ :”حامیۃ“”حمی یحمی حمیاً“ (س) (گرم ہونا) سے اسم فاعل ہے، یعنی وہ ہاویہ صرف ایک بےانتہا گہرا گڑھا ہی نہیں بلکہ سراسر آگ ہے، جو سخت گرم ہے۔ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(نارکم جزء من سبعین جزء من نار ھنم) (بخاری، بدہ الخلق، باب صفۃ النار وانھا مخلوقہ : 3265)”تمہاری آگ جہنم کی آگ کے ستر (70) حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔“ اللہ ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔ (آمین)