102. Surah At-Takaathur

التكاثرCompetition · 8 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 102:1

اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ Open ayah 102:1 in the Quran reader

تمہیں ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کی حرص نے غافل کردیا۔

(1) الھکم التکاثر :”الھی یلھی“”لھو“ سے ہے، جس کا معنی ہے ”کسی چیز کیساتھ اتنا لگاؤ اور دلچسپی جو اسے اہم چیزوں سے غافل کر دے۔“”التکاثر“”کتثرہ“ سے باب تفاعل کا مصدر ہے، جس میں تشارک کا معین پایا جاتا ہے، یعنی ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش۔ مال و اولاد اور جاہ شرف، الغرض دنیا کی ہر چیز دوسرے تمام لوگوں سے زیادہ حاصل کرنے کی حرص اور پھر حاصل ہوجانے پر دوسروں پر فخر کرنا۔ (2) اس حرص کی حد کیا ہے ؟ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(لوکان لابن ادم وادیان من مال لابتعی ثالثاً ، ولا یملا جوف ابن آدم الا التراب ، ویتوب اللہ علی من تاب)] بخاری، الرقاق، باب ما یتقی من فنتۃ المال ’: 6336”اگر ابن آدم کے پاس مال کی بھری ہوئی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری وادی تلاش کرے گا اور آدم کے بیٹے کے پیٹ کو مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھتری اور اللہ اس کی طرف پلٹ آتا ہے جو واپس پلٹ آئے۔“ سب سے زیادہ نقصان دہ حرص دو چیزوں کی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ما ذنبان جائعات ارسلا فی عنم بافسدلھا من حرص المرء علی المال وا لشرف لدینہ) (ترمذی، الزھد، باب حدیث ما ذنبان جائعان …: 2386، وصححہ الالبانی)”’ و بھوکے بھییے جو بھیڑ بکریوں میں چھوڑ دیئے جائیں، وہ انہیں اتنا خراب نہیں کرتے جتنا آدمی کے مال اور شرف (اونچا ہونے) کی حرص اس کے دین کو خراب کرتی ہے۔“ (3) کس چیز سے غافل کردیا ؟ اللہ کے احکام سے، اس کے دین سے اور آخرت سے۔
Ayah 102:2

حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ Open ayah 102:2 in the Quran reader

یہاں تک کہ تم نے قبرستان جا دیکھے۔

حتی زرتم المقابر :”زرتم“”زار یزور زیارۃ“ (ن) (ملنے کے لئے جانا) سے ماضی معلوم ہے۔ ”المقابر“”مقبرۃ“ کی جمع ہے جو ”قبر یقبر قبراً“ (ن) (دفن کرنا) سے اسم ظرف ہے، دفن کی جگہیں، قبرستان۔ ’ زرتم التکابر“ (قبرستان جا دیکھے) کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری موت آگئی، یعنی موت آنے تک یہ غفلت طاری رہی، بلکہ جیسے جیسے موت قریب آتی گئی غفلت کا یہ نشہ بڑھتا گیا۔ رسول اللہ نے فرمایا :(یکبر ابن آدم و یکبر معہ اثنان حب المال و طول العمر) (بخاری، الرفاق، باب من یلغ ستین سنۃ…:(6321)”آدمی بڑا ہوتا جاتا ہے اور اس کے ساتھ دو چیزیں بڑی ہوتی جاتی ہیں، مال کی محبت اور لمبی عمر کی محبت۔“
Ayahs 102:3–4

كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 102:3 in the Quran reader

ہرگز نہیں، تم جلدی جان لوگے۔

ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 102:4 in the Quran reader

پھر ہرگز نہیں، تم جلدی جان لوگے۔

کلا سوف تعلمون…: یعنی اپنی غفلت کا انجام جان لو گے۔ تاکید کے لئے بات دہرائی ہے۔
Ayahs 102:5–7

كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِؕ Open ayah 102:5 in the Quran reader

ہرگز نہیں، کاش ! تم جان لیتے، یقین کا جاننا۔

لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَۙ Open ayah 102:6 in the Quran reader

کہ یقینا تم ضرور جہنم کو دیکھو گے۔

ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَیْنَ الْیَقِیْۙنِ Open ayah 102:7 in the Quran reader

پھر یقینا تم ضرور اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لوگے۔

کلالو تعلمون علم الیقین…:”لترون“”رای یری رویہۃ“ (ف) (دیکھنا) سے جمع حاضر فعل مضارع معلوم بانون تاکید ثقلیہ ہے، تم ضرور بالضرور دیکھو گے۔ ان آیات کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة حاقہ کی آیت (51) کی تفسیر۔ مسلمان اور کافر سبھی جہنم کو دیکھیں گے، جیسا کہ فرمایا :(وان منکم الا واردھا) (مریم : 81)”تم میں سے ہر کوئی اس پر وارد ہوگا۔“ پھر اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لیں گے، کوئی شک و شبہ نہیں رہے گا۔
Ayah 102:8

ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠ Open ayah 102:8 in the Quran reader

پھر یقینا تم اس دن نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے جاؤ گے۔

(ثم نتسلن یومئذ عن النعیم : یعنی صحت و عافیت، کھانیپ ینے اور دوسری تمام نعمتوں کے بارے میں سوال ہوگا کہ ان کا کہاں تک شکر ادا کیا ؟ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی لذت اور معمولی سے معمولی عافیت ایسین ہیں جس کے بارے میں سوال نہ ہو۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی ﷺ اور ابوبکر و عمر ؓ عنہمابھوک کی وجہ سے گھر سے نکلے اور ایک انصاری کے گھر آئے، اس نے مہمانی میں کھجوریں اور بکری کا گوشت پیش کیا۔ آپ نے گوشت اور کمجوریں کھائیں اور اوپر سے شیریں پانی پیا۔ جب خوب سیر ہوچکے تو آپ ﷺ نے فرمایا :(والذی نفسی بیدہ التسالن عن ھذا النعیم یوم القیامۃ) (مسلم، الاشربۃ، باب جواز استباعہ غیرہ …: 2038)”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم سے قیامت کے دن اس نعمت کے بارے میں (بھی)) سوال ہوگا۔“