103. Surah Al-Asr
العصرThe Declining Day, Epoch · 3 ayahsتفسیر القرآن الکریم
وَ الْعَصْرِۙ Open ayah 103:1 in the Quran reader
زمانے کی قسم !
اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ Open ayah 103:2 in the Quran reader
کہ بیشک ہر انسان یقینا گھاٹے میں ہے۔
اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠ Open ayah 103:3 in the Quran reader
سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور ایک دوسرے کو حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔
(1) والعصر، ان الانسان لفی خسر…: قرآن مجید میں مذکور قسمیں عام طور پر اس دعویٰ کی دلیل ہوتی ہیں جو قسموں کے بعد مذکور ہوتا ہے۔ اس سورت کا مفہوم سمجھنے کے لئے خسارے کا مفہوم ذہن میں لانا ضروری ہے۔ خسارہ یا نفع کسی نہ کسی تجاتر اور بیع میں ہوتا ہے جس میں آدمی اپنا راس المال (سرمایہ) لگاتا ہے، اگر راس المال فروخت ہوجائے اور راس المال اور محنت سے بڑھ کر آمدنی ہوجائے تو یہ نفع ہے، ورنہ خسارہ۔ اس سورت میں زمانے کی قسم کھا کر یہ حقیقت مدلل کی گئی ہے کہ چار صفات والے لوگوں کو چھوڑ کر ہر انسان ہی خسارے میں ہے، کیونکہ انسان کے پاس رسا المال صرف اور صرف زمانے کا کچھ حصہ یعنی اس کی عمر ہے، جیسا کہ فرمایا :(او لم نعمرکم مایتذکر فیہ من تذکر و جآء کم النذیر) (فاطًر : 38)”اور یہ سرمایہ ایسا ہے جو بہت تیزی سے خود بخود ختم ہو رہا ہے، اگر ختم ہونے سے پہلے پہلے اس سے قیمتی چیز، یعنی وہ چ اورں صفات حاصل کرلیں تو نفع ہے ورنہ خسارہ ہی خسارہ ہے۔ جس طرح برف بیچنے والا اس کے پگھلنے سے قیمتی چیز، یعنی وہ چ اورں صفات حاصل کرلیں تو نفع ہے ورنہ خسارہ ہی خسارہ ہے۔ جس طرح برف بیچنے والا اس کے پگھلنے سے پہلے پہلے اسے فروخت کرلے اور اس کی اچھی قیمت حاصل کرلے تو نفع ہے، ورنہ برف اس کا انتظار نہیں کرے گی بلکہ کچھ دیر کے بعد خود بوخود تحلیل ہو جائیگی، پھر اس کے خسارے میں کیا شک ہے ؟
(2) ان الانسان لفی خسر : حقیقت یہ ہے کہ انسان کا خسارے سے بچنا بہت ہی مشکل ہے، کیونکہ خسارہ اس المال ضائع کرنے کا نام ہے اور انسان کا راس المال عمر ہے اور ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ آدیم اپنی عمر ضائع نہ کر رہا ہ، کیونکہ آدمی پر جو گھڑی گزرتی ہے اگر اللہ کی نافرمانی میں گزیر تو خسارے میں کوئی شک ہی نہیں، اگر مباح اور جائز کاموں میں گزری پھر بھی خسارہ ہے، کیونکہ اس گھڑی سے آدمی آخرت کے لئے کچھ حاصل نہ کرسکا اور اگر اطاعت اور نیکی میں گزری تو یہی نیکی اس سے بہتر طریقے پر یا اس سے بہتر کوئی اور نیکی بھی کرسکتا تھا، کیونکہ نیکی کے درجات کی کوئی انتہا نہیں اور اللہ کے جلال و قہر کے مرتاب کی بھی کوئی انتہا نہیں۔ اب جس قدر کسی شخص کو ان درجات کا علم ہوگا، ان پر عمل کرے گا اور دوسروں کو ان کی تعلیم دے گا اور خود صبر اور دوسروں کو صبر کی تلقین کرے گا، تو اسی قدر خسارہ کم ہوتا جائے گا، ورنہ اعلیٰ درجے کو چھوڑ کر ادنیٰ درجے پر اکتفا تو ایک قسم کا خسارہ ہی ہے۔ خلاصہ یہ کہ انسان کسی نہ کسی قسم کے خسارے سے ضرورت دو چار رہتا ہے۔ (خلاصہ از رازی)
(3) الا الذین امنوا و عملوا الصلحت : بعض لوگوں نے اس سورت سے ثابت کیا ہے کہ اعمال ایمان سے لاگہیں، اس میں داخل نہیں ہیں، وہ نہ ہوں تب بھی ایمان کامل ہے، کیونکہ دونوں کو عطف کے ساتھ الگ الگ ذکر کیا گیا ہے۔ مگر یہ بات درست نہیں، بلکہ ایمان دل، زبان اور ارکان تینوں کے اعمال کا نام ہے۔ اگر عطف کی وجہ سے یہ دونوں الگ الگ ہیں تو پھر ماننا پڑے گا کہ حق کی وصیت عمل صالح میں شامل نہیں، بلکہ عمل صالح سے الگ کوئی چیز ہے۔ اسی طرح صبر کی وصیت حق کی وصیتل اور عمل صالح دونوں سے الگ کوئی چیز ہے، جب کہ یہ تینوں باتیں ہی درست نہیں۔ حق یہ ہے کہ ایمان کے بعد عمل صالح کو الگ اس لئے ذکر کیا کہ ایمان کے اس جز کو کوئی شخص معمولی سمجھ کر اس سے بےاعتنائی نہ کر بیٹھنے اور عمل صالح میں سے حق کی وصیت اور صبر کی وصیت کو الگ اس لئے ذکر فرمایا کہ کوئی شخص اپنی ذات کی حد تک عمل صالح کر کے یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ میں اب خسارے سے محفوظ ہوں۔ نہیں، بلکہ اسے یہ علم و عمل اور اس پر صبر دوسروں کو بھی سکھانا ہوگا۔
(4) وتواصوا بالحق : خسارے سے بچنے کے لئے عمل سے خلای ایمان کافی نہیں اور نہ صرف خود عمل کرلینا کافی ہے، بلکہ ایک دور سے کو حق بات کی تاکید کرنا بھی ضروری ہے۔ حق سے مراد وہ ہدایت ہے جو وحی ک صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی، جس میں قرآن وحدیث دونوںں شامل ہیں۔ پھر ان تنیوں چیزوں یعنی حق پر ایمان لانے، اس پر عمل کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے میں بیشمار مصائب و تکالیف پیش آسکتی ہیں، ان پر خود صبر کرنا ہوگا اور تمام مسلمانوں پر لازم ہوگا کہ وہ ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کیرں۔ یہاں ”تواصوا“ (ایک دوسرے کو وصیت کریں) فرمایا ہے،”اوصوا“ (وصیت کریں) نہیں فرمایا، جس کا مطلب یہ ہے کہ سب مسلمان ایک دوسرے کو حق اور صبر کی وصیت کرتے ہیں۔ چند آدمیوں کے ادا کرنے سے یہ فرض ادا نہیں ہوتا۔
(5) وتواصوا بالصبر : صبر کا معنی باندھنا اور روکنا ہے۔ یہ تین قسم کا ہے :(1) حق پر صبر اور اور اس کی مسلسل پابندی، مثلاً توحید، اتباع سنت اور نماز روزہ پر پابندی رہنا۔ (2) برائی سے صبر، مثلاً شرک، زنا، قتل ناحق اور جھوٹ وغیرہ سے صرب۔ (3) مصیبت پر صبر اور ہر قسم کے جزع فزع سے پرہیز۔