Ayahs 98:1–31۔ ظہور اسلام سے قبل دنیا اتنی شدید جہالتوں اور ضلالتوں اور ایسے گہرے کفر میں مبتلا تھی کہ بغیر اس کے کہ ایک مصلح اعظم آئے، او اپنے ہمراہ ایک مکمل نظام نامہ لائے، کوئی توقع اصلاح کی نہ تھی، چناچہ مشیت الہی نے اپنی حجت کو واضح طور پر پورا کرنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کو قرآن کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ (آیت) ” لم ..... منفکین “۔ ذکر زمانہ قبل ظہور اسلام کا ہورہا ہے۔ (آیت) ” منفکین “۔ یعنی کفر کو چھوڑنے والے، کفر سے ہٹنے والے۔ (آیت) ” البینۃ ..... اللہ “۔ یہاں رسول اللہ ﷺ کو صراحت کے ساتھ ایک دلیل واضح قرار دیا ہے۔ (آیت) ” رسول من اللہ “۔ بدل ہے (آیت) ” البینۃ “۔ کا اے الحجۃ الواضحۃ والمراد محمد ﷺ (مدارک) (آیت) ” البینۃ “۔ ال کے ساتھ صیغہ معرفہ میں لاکر گویا اس طرف اشارہ کردیا کہ وہ بہت بڑی دلیل ہے، جس پر کسی اضافہ کی گنجائش نہیں، اور پھر معا بعد (آیت) ” رسول “۔ تنوین کے ساتھ صیغہ نکرہ میں لاکر اس سے بھی یہی کام لیا ہے۔ انھا للتفخیم اے ھو المبینۃ التی لامزید علیھا اوالبینۃ کل البینۃ لان التعریف قد یکون للتفخیم وکذا التنکیر وقد جمعھما اللہ ھھنا فی حق الرسول (علیہ السلام) (کبیر) اور اسی کی ایک نظیر اسی پارہ کی سورة البروج میں گزر چکی ہے، جہاں حق تعالیٰ نے اپنے کو بصیغہ معرفہ المجید کہا اور پھر معا بعد بصیغہ نکرہ فعال فرمادیا۔ (آیت) ” مطھرۃ “۔ یعنی ہر باطل سے پاک ومنزہ “۔ اے مطھرۃ عن الباطل (کبیر) (آیت) ” الذین ...... والمشرکین “۔ قرآن واسلام کے منکرین میں (2) طرح کے لوگ تھے، اور آج تک یہ تقسیم آرہی ہے۔ ایک کی اصل تعلیمات سے بہت دورجاپڑے تھے، دوسرے وہ جو سرتا سر شرک میں غرق تھے۔ اور جو توحید ونبوت کے بنیادی خیالات سے بھی ناآشنا تھا۔ تفسیر کبیر میں ہے کہ مفسر واحدی نے اس آیت کو نظم و تفسیر کے لحاظ سے قرآن مجید کی دشوار ترین آیتوں میں شمار کیا ہے۔ اور لکھا ہے کہ اچھے اچھے صاحب علم اس میں غوطہ کھاگئے ہیں، لیکن دشواریوں کی کوئی نوعیت بالتفصیل بیان نہیں کی ہے۔ قال الواحدی فی کتاب البسیط ھذہ الایۃ من اصعب ما فی القران نظما وتفسیرا وقد تخبط فیھا الکبار من العلماء ثم انہ (رح) تعالیٰ لم یلخص کیفیۃ الاشکال فیھا (کبیر) (آیت) ” من اھل الکتب والمشرکین “۔ من یہاں تبیین کے لئے ہے نہ کہ تبعیض کیلئے۔ کلمۃ من ھھنا لیست للتبعیض بل للتبیین (کبیر) لیکن بعض اکابر اس کے خلاف بھی گئے ہیں۔ ومن للتبعیض کما قال علم الھدی الشیخ ابو منصور الماتریدی فی التاویلات لالتبیین (روح)
Ayah 98:42۔ یعنی اہل کتاب جو توحید، نبوت، کتاب، حشر وغیرہ کے بنیادی عقائد سے فی الجملہ آشنا ومانوس تھے، اور جن سے اس کی توقع بہت زیادہ کی جاسکتی تھی کہ کتاب ہدی کے آجانے کے بعد اسی کو قول فیصل سمجھ کر اس کا اتباع کریں گے اور اپنے باہمی دینی مناقشوں میں اسی کو حکم بنائیں گے، وہ اور الٹے اس کی مخالفت میں پیش پیش ہوگئے۔ (آیت) ” وما ...... الکتب “۔ اہل کتاب کے تفرق سے مراد مسیحیوں اور یہود، اور پھر ان کے اندرونی فرقوں کے آپس کے شدید تفرقے اور مناقشے ہیں۔ (آیت) ” البینۃ “۔ مراد قرآن اور رسول کریم ﷺ سے ہے۔ (آیت) ” البینۃ “ کے اگر عام معنی ہی لئے جائیں، تو آیت سے مراد یہ ہوگی کہ یہ تو اہل کتاب کا شروع سے دستور چلا آرہا ہے کہ یہ حجت قائم ہونے کے بعد ہی بگڑتے رہے ہیں، تو آج ان کا بگڑنا کوئی نئی بات نہیں۔
Ayah 98:53۔ (اور جب انہیں تعلیمات کو ان لوگوں نے مانا، تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ یہ خود اپنی کتابوں کے عملا منکر و مخالف ہوگئے ہیں) (آیت) ” وما امروا “۔ یعنی یہ حکم انہیں خود انہیں کی کتابوں میں مل چکا ہے۔ (آیت) ” مخلصین ..... حنفآء “۔ اور اسی اخلاص فی الدین کے اندر خامت النبیین ﷺ کی تصدیق اور قرآن مجید پر ایمان بھی داخل ہیں۔ (آیت) ” ذلک ‘۔ یعنی یہی امور جن کا ذکر معاقبل ہوچکا ہے۔ عبادت الہی اخلاص وحنیفیت کے ساتھ اور اقامت صلوۃ ادائے زکوٰۃ۔ اشارۃ الی ماذکر من عبادۃ اللہ بالاخلاص واقامۃ الصلوۃ وایتاء الذکوۃ (روح) (آیت) ” دین القیمۃ “۔ قیمۃ صفت ہے موصوف محذوف الملۃ کی۔ اے دین الملۃ القیمۃ (مدارک) قال المبرد والزجاج ذلک دین الملۃ القیمۃ فالقیمۃ نعت لموصوف محذوف (کبیر)
Ayah 98:64۔ یہاں یہ بتادیا کہ جو لوگ قانون الہی کے باغی ومنکر ہیں، ان کا ماضی جو کچھ بھی ہو، اور وہ دوسری حیثیتوں سے جیسے بھی ہوں، اللہ کی عدلت میں ” شریت “۔ میں کامل ہیں۔
Ayah 98:75۔ یعنی جو لوگ قانون الہی کے تصدیق کرنے والے اور وفادار ہیں وہ دوسری حیثیتوں سے جیسے کچھ بھی ہوں، اللہ کی عدالت میں ” خیریت “ میں کامل ہیں۔
Ayah 98:86۔ (اور یہ خشیت ہی تو انسان کو ایمان وعمل صالح پر لاتی ہے جس کی جزاء جنت اور نعماء جنت ہیں) (آیت) ” خلدین فیھا ابدا “۔ ابدا کا اضافہ خلود جنت کے ففہوم کو مؤکد وغیر منقطع بنادینے کے لئے ہے، قیام جنت محض طویل وممتد ہی نہ ہوگا، زمانہ نامتناہی کے لئے ہوگا، عجب نہیں جو الفاظ آیت سے مقصود تردید ان گمراہ گروہوں کی ہو، جن کے خیال میں، جنت میں ایک طویل مدت کے بعد فنا ہوجائے گی، اور دنیا کی تخلیق اس کے بعد پھر سے ہوگی (آیت) ” ؓ ..... عنہ “۔ اللہ ان بندوں سے ہر طرح خوش ومطمئن ہوگا، اور یہ بندے بھی اللہ سے ہر طرح خوش ومطمئن ہوں گے۔ ایسے خوش نصیب بندوں کی خوش نصیبی پرک سے رشک نہ آئے گا ؟ (آیت) ” ذلک “ ، یعنی یہ جنت اور رضاء اے المذکور من الجزاء ورضوان (بیضاوی) (آیت) ” خشی ربہ “۔ داخلہ جنت کا مدار ایمان وعمل صالح پر ہوا، لیکن خود یہ تو خشیت الہی ہی سے پیدا ہوتے ہیں۔ (آیت) ” جنت عدن “۔ جنت کو حق تعالیٰ نے کہیں جنات عدن سے تعبیر فرمایا ہے، اور کہیں جنات النعیم سے، اور کہیں دارالسلام سے۔ محققین نے کہا ہے کہ خود ایمان کی ترکیب عقیدہ اور قول اور عمل کے اجزائے سہ گانہ سے ہوئی ہے، تو ہر ہر جزو کے مقابلہ میں ایک ایک صفت جنت کو بیان کیا گیا ہے۔ اعلم ان اللہ سبحانہ وصف الجنۃ مرۃ بجنات عدن ومرۃ بجنات النعیم ومرۃ بدار السلام وھذہ الاوصاف الثلاثۃ انما حصلت لانک رکبت ایمانک من امور ثلاثۃ اعتقاد وقول وعمل (کبیر)