Ayahs 98:1–3لم یکن الذین۔۔۔ تا۔۔۔ قیمہ۔
عام قرات یہی ہے اور مصحف کا خط بھی ایسا ہی ہے حضرت ابن مسعود اسے لم یکن المشرکون واھل الکتاب پڑھتے یہ قرات تفسیر کے طریقہ پر ہے ابن عربی نے کہا، یہ بیان وضاحت کے انداز میں تو جائز ہے لیکن تلاوت میں جائز نہیں، صحیح روایت میں نبی کریم ﷺ سے فطلقوھن لقبل عدتھن۔ قرات ثابت ہے مگر یہ بھی تفسیر کے طور پر ہے کیونکہ تلاوت وہ ہے جو مصحف کے خط میں ہے۔ اہل کتاب سے مراد یہود ونصاری ہیں المشرکین محل جر میں ہے کیونکہ اس کا عطف اہل کتاب پر ہے، حضرت ابن عباس نے کہا، اھل الکتاب سے مراد وہ یہودی ہیں جو یثرب میں تھے وہ بنوقریظہ، بنونضیر اور بنو قینقاع تھے۔ مشرکین سے مراد جو مکہ مکرمہ اور اس کے اردگرد رہتے تھے اور مدینہ طیبہ اور اس کے اردگرد رہتے تھے یہ مشرکین مکہ تھے۔ وہ کفر کو چھورنے والے اور اس سے اعراض کرنے والے نہ تھے یہاں تک محمد ﷺ ان کے پاس تشریف لے آئیں ایک قول یہ کیا گیا ہے انتہا سے مراد انتہا تک پہنچنا ہے یعنی وہ اپنی عمروں کو انتہا تک پہنچنے والے نہیں اور مرنے والے نہیں یہاں تک کہ ان کے پاس بینہ پہنچ جائے۔ اس تعبیر کی بنا پر انفکاک، انتہا کے معنی میں ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے منفکین سے مراد زائل ہونے والے ہیں۔ یعنی ان کی مدت ختم ہونے والی نہیں یہاں تک کہ رسول ان کے پاس آجائیں۔ عرب کہتے ہیں، ماانفککت افعل کذا، یعنی میں لگاتار ایسا کرتا رہا۔ وماانفک فلان قائما وہ لگاتار کھڑا رہا، فک کا اصل معنی کھولنا ہے اس معنی میں فک الکتاب (کتاب کھولنا) فک الخلخال (پازیب کھولنا) اور فک السلام ہے، طرفہ نے کہا، فالیت لا ینفک کشحی بطانۃ، لعضب رقیق الشفرتین مھند۔ میں نے قسم اٹھائی میرا پہلو اس کاٹ دار تلوار کا بطارنہ رہے گا جس کی دھار بڑی باریک ہے اسے ہند میں بنایا گیا۔ ذورمہ نے کہا، حراجیج ماتنفک الامناخۃ، علی الخلف اونرمی بھا بلدا قفرا۔ وہ لمبی پتلی کمروالی اونٹیناں ہیں انہیں ہمیشہ بغیر چارہ کے بٹھایا جاتا ہے یا ہم انہیں چتیل شہروں میں لے جاتے ہیں۔ اس سے اس نے یہ ارادہ کیا ہے وہ ہمیشہ بٹھائی جاتی ہیں الا کا لفظ شعر میں زائد ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، منفکین بارحین کے معنی میں ہے یعنی وہ اس طرح رہیں گے کہ وہ دنیا نہیں چھوڑیں گے یہاں تک کہ ان پر بینہ آجائے، ابن کیسان نے کہا، اہل کتاب اپنی کتابوں میں حضرت محمد کی صفت کو چھوڑنے والے نہیں تھے یہاں تک کہ آپ کو مبعوث کیا گیا جب آپ کو مبعوث کیا گیا تو انہوں نے آپ سے حسد کیا اور اس سے انکار کیا یہ بھی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے، فلما جاء ھم ماعرفوا کفروابہ۔ البقرہ) جب آپ ان کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے پہچانا، آپ کا انکار کردیا، اسی وجہ سے ارشاد فرمایا، وماتفرق الذین اوتوالکتاب۔ البینہ 4) اہل کتاب نے تفرقہ نہ کیا، اس تاویل پر یہ ارشاد بھی ہے، والمشرکین یعنی یہ حضرت محمد کے بارے میں نازیبا باتیں نہیں کرتے یہاں تک کہ آپ کو مبعوث کردیا گیا ہے کیونکہ وہ پہلے آپ کو امین کہتے تھے، یہاں تک کہ آپ کی زبان پر بینہ آگئی اور حضور ﷺ کو آپ کی طرف مبعوث کیا گیا تو اس وقت انہوں نے آپ سے دشمنی کی۔
ایک لغوری نے کہا : منفکین کا معنی ہلاک ہونے والے ہیں، یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے، انفک صلا المراۃ عندالولادۃ یعنی وہ جدا ہوجائے اور آپس میں نہ ملے تو وہ ہلاک ہوجائے، معنی یہ ہے انہیں عذاب نہ دیا گیا اور وہ ہلاک نہ ہوئے مگر اس وقت جب رسولوں کو بھیجا گیا اور کتابیں نازل کرکے حجت تمام کردی گئی تو وہ اس وقت ہلاک ہوئے۔ کچھ لوگوں نے مشرکین کے بارے میں یہ کہا، اس سے مراد اہل کتاب ہیں کیونکہ یہودیوں میں سے کچھ لوگوں نے کہا، عزیر ابن اللہ اور نصاری میں سے کچھ نے کہا، عیسیٰ ابن اللہ کچھ نے کہا، ھو ابن اللہ ان میں سے کچھ نے کہا، ثالث ثلاثہ، نعوذ بااللہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اہل کتاب مومن تھے پھر انہوں نے اپنے انبیاء کا انکار کیا مشرک فطرت سلیمہ پر پیدا کیے گئے جب بالغ ہوئے تو انہوں نے انکار کیا، اسی وجہ سے فرمایا، والمشرکین، ایک قول یہ کیا گیا ہے مشرکون یہ اہل کتاب کی بھی صفت ہے کیونکہ انہوں نے بھی اپنی کتاب سے فائدہ اٹھایا نہیں اور توحید کو ترک کردیانصاری تثلیث کے قائل ہیں عام یہودی تشبیہ کے قائل ہیں جب کہ یہ سب شرک ہے یہ تیرے اس قول کی طرح ہے، جاءنی العقلاء والظرفائ، جب کہ تو ان اقوام کی ذاتوں کا ارادہ کرتا ہے اور تو ان کی صفت دوامور سے لگاتا ہے معنی یہ ہوگا اہل کتاب مشرکوں میں سے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں کفر سے مراد نبی کریم کے ساتھ کفر ہے معنی یہ بنے گا یہود ونصاری (جواہل کتاب تھے) میں سے جنہوں نے حضرت محمد ﷺ کا انکار کیا وہ چھوڑنے والے نہیں اور مشرک جو عربوں اور غیرعربوں (جواہل کتاب میں سے نیہں) وہ چھوڑنے والے نہیں۔ قشیری نے کہا، اس میں بعد ہے کیونکہ اس کا ظاہری معنی یہ بنتا ہے، حتی تاتیہم البینہ۔ رسول من اللہ۔ کیونکہ یہی رسول یہی محمد ﷺ ہیں تو یہ کہنا بہت ہی بعید بات ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے محمد کے ساتھ کفر کیا وہ چھوڑنے والے نہیں یہاں تک کہ محمد ﷺ ان کے پاس آگئے مگر اس صورت میں کہ یہ کہا جائے اس کلام سے یہ ارادہ کیا، جنہوں نے اب حضرت محمد کا انکار کیا اگرچہ وہ اس سے قبل حضرت محمد کی تعظیم بجالانے والے تھے اس کفر سے رکنے والے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کو ان کی طرف مبعوث کرے، ان کے لیے آیات کو بیان کرے تو اس وقت وہ ایمان لائیں گے۔ اعمش اور ابراہیم نے المشرکون کو مرفوع پڑھا ہے اس کا عطف الذین پر ہے جب کہ پہلی قرات واضح ہے کیونکہ رفع پڑھاجائے تو اس میں دو قسمیں بنتی ہیں گویا وہ دونوں اہل کتاب کے علاوہ ہیں حضرت ابی کی قرات اور حضرت عبداللہ بن کے مصحف میں اختلاف پہلے گزرچکا ہے۔
حتی تاتیھم البینہ۔ کا معنی ہے حتی اتتھم۔ یعنی ان کے پاس آگئی البینہ سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ رسول من اللہ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپ کو بھیجا گیا، زجاج نے کہا، رسول یہ البینہ سے بدل ہے فراء نے کہا، یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے رسول ہیں کیونکہ البینہ کالفط کبھی مذکر کی حیثیت سے استعمال ہوتا ہے تو یہ جملہ کہا جاتا ہے، بینتی فلان حضرت ابی اور حضرت ابن مسعود کی قرات میں رسول منصوب ہے، یتلو یعنی وہ پڑھتا ہے اس کا باب یوں چلتا ہے تلایتلوہ تلاوۃ، صحفا یہ صحیفہ کی جمع ہے صحیفہ اسے کہتے ہیں جس میں لکھا جاتا ہے۔
مطھرہ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا، وہ صحیفے جھوٹ، شک، نفاق اور گمرایہ سے پاک ہیں قتادہ نے کہا، باطل سے پاک ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ جھوٹ، شبہات اور کفر سے پاک ہیں، سب کا معنی ایک ہی ہے، صحیفے مکتوب میں سے جسے اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہیں اسے وہ پڑھتے ہیں اس معنی پر یہ چیز بھی دلالت کرتی ہے وہ اسے زبانی پڑھا کرتے تھے کتاب سے نہیں پڑھا کرتے تھے کیونکہ آپ امی تھے نہ آپ لکھتے تھے اور نہ پڑھا کرتے تھے۔ مطھرہ یہ صحف کی صفت ہے یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے، فی صحف مکرمہ، مرفوعۃ مطھرہ۔ (العبس) معزز صحیفوں میں جو ذیشان ہیں پاکیزہ ہیں۔ مطھرہ، یہ ظاہر صحف کی صفت ہے اور یہ قرآن کی بھی صفت ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ مناسب یہی ہے کہ اسے پاک لوگ ہی مس کریں، جس طرح سورة الواقعہ میں فرمایا جس کی وضاحت پہلے گزرچکی ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : صحفا مطھرہ سے مراد وہ صحیفے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ام الکتاب میں ہیں، اسی میں سے ان چیزوں کو لکھا گیا جو انبیاء پر کتابیں وحی کی گئی جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، بل ھو قرآن مجید۔ فی لوح محفوظ۔ البروج) بلکہ وہ قرآن مجید ہے لوح محفوظ میں ہے حضرت حسن بصری نے کہا، پاکیزہ صحیفے آسمان میں ہیں۔ قیمہ کا معنی سیدھی اور درست اور محکم ہے یہ عربوں کے اس قول میں جن میں کتابیں ہیں ؟ جواب اسکا یہ ہے، یہاں کتب سے مراد احکام ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، کتب اللہ لاغلبن۔ المجادلہ 21) اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا ہے کہ میں ضرور غالب آوں گا رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، اللہ کی قسم میں تمہارے درمیان کتاب اللہ سے فیصلہ کروں گا۔ پھر رجم کا فیصلہ کیا جب کہ رجم کا ذکر کتاب اللہ میں موجود نہیں، اس کا معنی ہے میں تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ کروں گا، شاعر نے کہا : وماذاک قال اللہ اذ ھو یکتب۔ یہاں بھی یکتب فیصلہ کرنے کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، کتب قیمہ سے مراد قرآن حکیم ہے اسے کتب، کا نام دیا گیا ہے کیونکہ یہ بیان کی بہت سی انواع پر مشتمل ہے۔
Ayah 98:4وماتفرق الذین اوتوالکتاب الا من بعد ماجاء تھم البینہ۔
الذین اوتوالکتاب۔ سے مراد یہودونصاری ہیں اہل کتاب کے لی تفریق کا خصوصاذکر کیا دوسرے لوگوں کا ذکر نہیں کیا اگرچہ وہ بھی کافروں کیساتھ جمع ہیں الگ اس لیے ذکر کیا، کیونکہ انہیں اپنے بارے میں گمان ہے کہ انہیں علم حاصل ہے جب انہوں نے افتراق کیا ہے تو ان کا غیر جس کے پاس کتاب ہی نہیں وہ اس وصف میں زیادہ داخل ہوگا۔ البینہ سے مراد واضح دلیل ہے اس سے مراد حضرت محمد کی ذات ہے یعنی قرآن حکیم نعمت ہونے کے وصف میں ان کتابوں کے موافق جو کتابیں ان کے پاس ہیں اس کی وجہ یہ ہے وہ آپ کی نبوت پر متفق تھے جب آپ کو مبعوث کیا گیا تو انہوں نے انکار کردیا اور فرقوں میں بٹ گئے ان میں سے کچھ سرکشی وحسد کی وجہ سے کافر ہوگئے اور کچھ ایمان لے آئے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، وماتفرقوا لامن بعد ماجاء ھم العلم بغیا بینھم۔ الشوری) وہ فرقوں میں نہ بٹے مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آچکا تھا انہوں نے یہ باہم حسد کی وجہ سے کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : البینہ سے مراد وہ بیان ہے جوان کتابوں میں مذکور ہے کہ آپ نبی مرسل ہیں علماء نے کہا، سورت کے آغاز سے قیمہ تک ان لوگوں کے بارے میں جو حکم ہے جو اہل کتاب اور مشرکین میں سے ایمان لائے اور ما تفرق اس میں ان اہل کتاب کے بارے میں حکم ہے جو دلائل کے قائم ہونے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔
Ayah 98:5وما امروا الالیعبدواللہ۔۔۔ تا۔۔۔ القیمہ۔
اس میں تین مسائل ہیں :
تورات وانجیل میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا بیان۔
مسئلہ نمبر 1۔ ان کفار کو تورات اور انجیل میں حکم نہیں دیا گیا مگر یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اظہار کریں۔ لیعبد میں لام، ان کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، یرید اللہ لیبین لکم۔ النساء 26) یہاں بھی لام، ان کے معنی میں ہے، اس طرح ان آیات میں بھی لام، ان کے معنی میں ہے، یریدون لیطفوا نور اللہ (الصف 8) امرنا لنسلم لرب العالمین۔ الانعام) حضرت عبداللہ بن مسعود کی قرات میں، الا ان یعبدواللہ ہے۔ الدین سے مراد عبادت ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، قل انی امرت ان اعبداللہ مخلصالہ الدین۔ الزمر) اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ عبادات میں نیت ضروری ہے کیونکہ اخلاص دل کا عمل ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کو طلب کیا جاتا ہے۔
حنیف کا معنی ومفہوم۔
مسئلہ نمبر 2۔ حنفاء سے مراد ہے تمام دوسرے دینوں کو چھوڑ کر اسلام کی طرف مائل ہونے والے۔ حضرت ابن عباس کہا کرتے تھے، حنفاء سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے حنیف سے مراد ہے جو ختنہ کرائے اور حج کرے، یہی سعید بن جبیر کا قول ہے اہل لغت کہتے ہیں، تحنف الی الاسلام کا معنی ہے وہ اسلام کی طرف مائل ہوگیا۔
القیمہ کا معنی ومفہوم۔
مسئلہ نمبر 3۔ وہ نماز کو اس کے اوقات میں، اس کی حدود کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور زکوۃ کو اسکے محل میں دیتے ہیں، یہ دین جس کا انہیں حکم دیا گیا ہے یہی دین مستقیم ہے۔ زجاج نے کہا، یہ ملت مستقیم کا دین ہے۔ القیمہ موصوف محذوف کی نعت ہے۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے یہ اس امت کا دین ہے جو حق کو قائم کرنے والی ہے حضرت عبداللہ کی قرات میں ذالک الدین القیم ہے۔ خلیل نے کہا، القیمہ، القیم کی جمع ہے القیم دونوں ایک ہیں فراء نے کہا، دین کو القیمہ کی طرف مضاف کیا جبکہ یہ اس کی صفت ہے کیونکہ الفاظ مختلف ہیں، ان سے ایک قول یہ بھی کیا گیا ہے کہ یہ شی کی اپنی ذات کی طرف اضافت سے متعلق ہے اس میں ھاء مدح اور مبالغہ کے لیے داخل ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، ھاضمیر الملۃ اور الشریعۃ کی طرف لوٹ رہی ہے محمد بن اشعث طالقانی نے کہا، یہاں القیمہ سے مراد وہ کتابیں ہیں جن کا ذکر ہورہا ہے اور دین کی طرف یہ مضاف ہے۔
Ayahs 98:6–7ان الذین کفروا۔۔۔ تا۔۔۔ البریہ۔
المشرکین کا عطف الذین، اسم موصول پر ہے یا یہ مجرور ہے اور اس کا عطف اھل پر ہے۔ نافع اور ابن ذکوان نے دونوں مواقع پر البریہ کو ہمزہ کے ساتھ اپنے اصل پر پڑھا ہے۔ یہ عربوں کے اس قول سے ہے، براء اللہ الخلق۔ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اللہ تعالیٰ کے لیے باری کا لفظ استعمال ہوتا ہے جس کا معنی خالق ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے، من قبل ان نبراھا، الحدید 22) اسے پیدا کرنے سے قبل جب کہ باقی نے ہمزہ کے بغیر اور یاء کو مشدد پڑھا ہے یہ یاء ہمزہ کے عوض میں ہے فراء نے کہا، اگر بدیہ کالفط برسی سے مشتق ہو جس کا معنی مٹی ہے تو اس کی اصل ہمزہ کے بغیر ہوگی، تو کہے گا، براہ اللہ یبروہ براو یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا۔ قشیری نے کہا، جس نے کہا بریہ، بری سے مشتق ہے جس کا معنی مٹی ہے تو وہ یہ بھی کہے گا ملائکہ اس لفظ کے تحت داخل نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے البریہ یہ بریت القلم سے ماخوذ ہے یعنی میں نے اسے مقدر کیا تو اس میں ملائکہ داخل ہوں گے لیکن یہ قول ضعیف ہے کیونکہ اس سے یہ واجب ہوگا کہ جو اسے ہمزہ کے ساتھ پڑھے وہ غلطی پر ہے۔
شر البریہ۔ کا معنی ہے مخلوقات میں سے سب سے برا، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ عموم پر دلالت کررہا ہے ایک قوم کا نقطہ نظر ہے اس سے مراد ہے وہ ان لوگوں میں سے ہے جو سب سے برے تھے جو نبی کریم کے زمانے میں تھے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وانی فضلتکم علی العالمین۔ البقرہ) میں نے تمہیں تمام عالموں پر فضیلت دی، یعنی تمہارے زمانے کے عالمین پر فضیلت دی یہ کوئی بعید نہیں کہ کافر قوموں میں ایسے لوگ بھی ہوں جوان سے بھی برے ہوں، جس طرح فرعون، حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والا۔ اسی طرح خیرالبریہ بھی یاتوعموم کے معنی میں ہوگا یا اس دور کے لوگوں سے سب سے بہتر ہوں گے جنہوں نے اس لفظ کو ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے انہوں نے اس سے انسانوں کو فرشتوں پر فضیلت کا استدلال کیا ہے اس بارے میں گفتگو سورة البقرہ میں گزرچکی ہے حضرت ابوہریرہ نے کہا، مومن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بعض ان ملائکہ سے فضیلت رکھتا ہے جو اس کی بارگاہ میں حاضر ہیں۔
Ayah 98:8جزاء ھم عندربھم۔۔۔ تا۔۔۔ خشی ربہ۔
جزا سے مراد ثواب ہے، رب سے مراد خالق ومالک ہے، جنت سے مراد باغات ہیں، عدن کا معنی ٹھہرنا ہے مفسرین کہتے ہیں، جنت عدن سے مراد درمیانی باغات ہیں تو کہتا ہے عدن بالمکان وہ مقیم ہوا، معدن الشی سے مراد اس کا مرکز ومستقر ہے، اعشی نے یہی معنی لیا ہے۔ وان یستضافوا الی حکمہ، یضافوا الی راجح قد عدن۔ اگر انہیں اس کے فیصلہ کی طرف مائل کیا جائے تو انہیں اپنے راجح امر کی طرف مائل کیا گیا ہے جو مرکز و محور ہے۔ وہ نہ وہاں سے کوچ کریں گے اور نہ ہی مریں گے اللہ تعالیٰ ان کے اعمال پر راضی ہیں۔ حضرت ابن عباس نے یہی کہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے بدلہ سے راضی ہیں، یہ جنت اس شخص کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرا اور معاصی سے رکا۔