Ayah 98:1(1) اہل کتاب میں سے جو لوگ منکر ہوئے اور مشرکین اس وقت تک باز آنے والے نہ تھے کہ جب تک ان کے پاس واضح دلیل نہ آجاتی - یعنی نبی کریم ﷺ کی بعثت سے قبل اہل کتاب یعنی یہودونصاریٰ اور مشرکین کی حالت بالکل بگڑ چکی تھی اور ان کی اصلاح اور درستی کی کوئی شکل نہ تھی اور ان کی خرابی اور ان کے بگاڑ کی حالت کا یہ اقتضا تھا کہ ان کے پاس کوئی روشن اور واضح دلیل آجائے تو وہ اپنی حرکات ناشائسہ سے باز آجائیں اہل کتاب اپنے پیغمبروں کی تعلیم سے ہٹ کر گمراہ ہوچکے تھے کوئی مسیح کو ابن اللہ کہتا تھا کوئی حضرت عزیرکو ابن اللہ کہتا تھا۔
غرض تمام دنیا میں گمراہی عام ہوچکی تھی اور اس گمراہی کا تقاضا تھا کہ کوئی دلیل کھلی ہوئی آجانے کے بعد وہ باز آجائیں اور ان کی اصلاح ہوجائے۔
ہوسکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ یہود و نصاریٰ کے خراب ہوجانے اور دین سے دور ہوجانے کے بعدوہ اپنی کتابوں کی پیشین گوئیوں کی بنا پر یہ کہتے ہوں اور ان کے کہنے مشرکین یہ خیال کرتے ہوں کہ نبی آخرالزماں آجائیں تو ہم سب کی اصلاح ہوجائے اور ہماری روحانی ترقی ہو۔
گویا اس حالت انتظار کا تقاضا یہ تھا کہ جب ان کے پاس وہ واضح دلیل آجائے گی تو یہ باز آجائیں گے مشرک اپنے شرک چھوڑ دیں گے اور اہل کتاب اپنی کافرانہ روش سے باز آجائیں گے چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔
Ayah 98:2(2) وہ واضح دلیل ایک اللہ تعالیٰ کا رسول ہو جو پاک صحیفے پڑھ کر سنائے۔
Ayah 98:3(3) ان صحیفوں میں درست و مضبوط مضامین لکھے ہوئے ہوں ۔ یعنی عالم میں روشنی پھیلانے کے لئے جس ضرورت کو محسوس کیا جارہا تھا وہ رسول تشریف لائے اور ایسی کتاب پڑھتے ہوئے آئے جو پاک ورقوں میں لکھی ہوئی ہے مراد صحف مطہرہ سے قرآن ہے کتب سے مراد قرآن کی سورتیں ہیں کیونکہ قرآن کی ہر سورت اپنے مضامین کے اعتبار سے ایک مستقل کتاب ہے یا کتب سابقہ کے مضامین کا خلاصہ اس قرآن میں درج ہے یا عام مضامین مراد ہیں جیسا کہ ہم نے اختیار کیا ہے یعنی اس کے علوم اور مضامین نہایت صحیح اور سیدھے اور نایت مضبوط ومعتدل ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہر سورت ایک کتاب ہے۔ پھر شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت ﷺ سے پہلے سب دین والے بگڑگئے تھے ہر ایک اپنی غلطی پر مغرور اب چاہیے کسی حکیم یا ولی یا بادشاہ عادل سمجھائے راہ پر آویں سو ممکن نہ تھا جب تک ایسا رسول نہ آوے۔
نبی کریم ﷺ کو نبی نہ فرمایا کیونکہ نبی کریم ﷺ کی تنہا ذات مقدس ایک کھلی ہوئی واضح اور روشن دلیل ہے بہرحال اس ذات اقدس کو تشریف آوری کے بعد بجائے اس کے کہ اہل کتاب ان پر ایمان لے آتے اور ان کی تعلیم کو قبول کرلیتے اور ان کو دیکھا دیکھی مشرکین پر بھی اثر پڑتا اور مجوسی اور صائبین اور بت پرست بھی اسلامی تعلیم کی جانب مائل ہوتے لیکن ہوا کیا کہ یہودونصاری یعنی اہل کتاب ہم باہم دست و گریبان ہوگئے اور اس بینہ کے متعلق آپس مبں متفرق ہوگئے۔
Ayah 98:4(4) مگر جب ان کے پاس وہ واضح اور کھلی دلیل آگئی تو اس کے بعد ہی وہ لوگ جو اہل کتاب تھے اختلاف میں پڑ کر متفرق ہوگئے۔ یعنی دین کو قبول کرنے سے بھی انحراف کیا اور ان کے باہمی اختلافات جو پہلے سے چلے آرہے تھے وہ اور ابھرگئے اور ان میں اور جان پڑگئی اور سالام قبول کرکے ان اختلافات کو دور نہ کیا۔ صاحب کشاف نے اس آیت پر تقریر کرتے ہوئے لکھا کہ ان کی نظیر ایسی ہے جیسے کوئی مفلس اور فقیر فاسق تھا اور جب کوئی اس کو نصیحت کرتا تو وہ اپنے ناصح سے کہتا اگر اللہ تعالیٰ مجھ کو غنی اور دولت مند کردے تو میں فسق سے توبہ کرلوں گا اور فسق سے باز آجائوں گا۔
حسن اتفاق سے وہ فاسق فقیر غنی ہوگیا تو بجائے تائب ہونے کے اور زیادہ فاسق ہوگیا یہی حالت ان اہل کتاب کی ہے کہ جب تک نبی آخرالزماں ؐ تشریف نہ لائے تھے تو کہا کرتے تھے وہ آخری نبی سابقہ پیشین گوئیوں کے ماتحت آجائے تو ہم اس پر ایمان لاکر اپنی اصلاح کرلیں گے مگر جب وہ نبی آخرالزماں یعنی بینۃ آگیا تو منکر ہوگئے۔
سورہ بقرہ میں گزرا ہے فلما جاء ھم ماعرفوا کفروابہ اس آیت کو علماء نے اصعب مانی القرآن نظماً وتفسیراً فرمایا ہے۔
اسی لئے امام رازی نے بہت بحث فرمانے کے بعد اس طرح خلاصہ کیا ہے کہ لم یکن الذین کفروا سے بینہ تک تو ان کی حکایت مذکور ہے یعنی مشرکین اور اہل کتاب کی اور وما تفرق الذین واقع سے خبر دنیا ہے چناچہ فرماتے ہیں۔ والمغی ان الذی وقع کان بخلاف ماارھوا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس رسول اور اس کتاب کے آئے پیچھے شبہ نہ کرو پھر اب اہل کتاب ضد سے مخالف ہیں شبہ سے نہیں۔ بہرحال بعض حضرات کفر پر قائم رہے ضد سے اور بعض صلاحیت پسند ایمان لیآئے آگے فرماتے ہیں کہ جو کچھ یہ آخری نبی فرماتے ہیں کتب سابقہ میں بھی یہی مرقوم ہے۔
Ayah 98:5(5) حالانکہ کتب سابقہ میں ان اہل کتاب کو صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ یکسو ہوکر خالص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے اعتقاد سے اس کی عبادت کیا کریں اور نماز کی پابندی رکھیں اور زکوٰۃ دیا کریں اور یہی طریقہ درست اور مضبوط ہے - مطلب یہ ہے کہ جس طرح اس رسول کے صحیفوں میں کتب قمیہ مندرج اور مرقوم ہے اسی طرح ان اہل کتاب کو جو کتب سماویہ دی گئی تھیں ان میں بھی ان کو صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کریں کہ عبادت کو اسی کے لئے خالص رکھیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح تمام ادیان باطلہ سے یکسو ہوکر خلوص کے ساتھ اسی کی عبادت کیا کریں اور نماز کو قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں اور یہی تو دین قیم اور ملت قیمہ ہے اور یہی طریقہ درست اور مضبوط ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی یہ چیزیں ہر دین میں پسند ہیں۔ اس میں اعتقاد وعمل دونوں آگئے آیت میں اہل کتاب کو ترغیب ہے کہ اس دین میں بھی وہی باتیں ہیں جو کتب سابقہ میں گزرچکی ہیں اور حنفاء اور یکسوئی کا نام لینے میں مشرکین کو بھی ترغیب ہے کہ یہ پیغمبر اور یہ قرآن وہی طریقہ بتاتا ہے جو تمارے جدامجد اور مورث اعلیٰ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ ہے چونکہ اس پیغام کو سن کر بعض ایمان لے آئے تھے اور بعض مشرکین واہل کتاب اپنی ضد پر قائم رہے آگے ان کا انجام اور اس کی تفصیل ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 98:6(6) بے شک اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کفر پر قائم رہے وہ جہنم کی آگ میں جائیں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ لوگ تمام مخلوق کے بدترین ہیں۔ یعنی جہنم میں داخل ہوں گے اور اس جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ لوگ بدترین خلائق ہیں یعنی بہا تم سے بھی زیادہ ذلیل اور بدتر ہیں وہ بھی اپنے محسنوں کو پہچانتے ہیں لیکن یہ اپنے محسن کے ناسپاس ہیں۔
Ayah 98:7(7) البتہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند رہے تو یہ لوگ بہترین خلائق یعنی تمام مخلوق سے بہتر ہیں - یعنی جو اس دین پر ایمان لائے اور اعمال صالحہ کی پابندی کرتے رہے وہی لوگ بہترین خلائق ہیں آگے ان کو جزا اور ان کا صلہ بیان کرتے ہیں۔
Ayah 98:8(8) ان کا صلہ ان کے پروردگار کیپ اس ایسے دائمی باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ تعالیٰ ان سے خوش اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی یہ جنت اور رضا اس شخص کے لئے ہے جو اپنے پروردگار سے ڈرتا ہے - یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال سے خوش ہوا اور وہ لوگ اس کی عطا سے راضی ہوئے اور جو خیروکرامت اور بزرگی ان کو دی جائے گی وہ اس سے راضی رہیں گے خشیت خداوندی چونکہ اس راہ میں اہم امر ہے۔
اس لئے آخر میں فرمایا ذلک لمن خشی ربہ یعنی یہ رضائے مولیٰ جو سب مرتبوں سے بڑا مرتبہ ہے جیسا کہ سورة توبہ میں گزر چکا ہے۔ ورضوان من اللہ اکبر تو ایسی بڑی چیز کے وہی بندے مستحق ہوں گے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے اور خوف کھاتے رہتے ہیں اور خوف کی وجہ سے اس کی نافرمانی سے بچتے ہیں یہ خشیت علماء حق کا حصہ ہے۔
سوہ فاطر میں ارشاد ہے۔ انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء ، یعنی خشیت علماء کا حصہ ہے یہاں فرمایا ذلک لمن خشی ربہ ، یعنی خشیت والوں کے لئے رضائے خداوندی ہے۔ لہٰذا علماء کے لئے رضائے الٰہی مخصوص ہے۔
حدیث میں آتا ہے نبی کریم ﷺ نے ابی بن کعب سے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو حکم فرمایا ہے کہ تم مجھ کو لم یکن الذین کفروا کی سورت سنائو انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ! کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ اس پر ابی کعب نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ کیا رب العلمین کی بارگاہ میں یاد کیا گیا آپ ﷺ نے فرمایا ہاں یہ سن کر ابی بن کعب روپڑے۔
تم تفسیر سورة البینۃ