Ayah 99:1(1) جب زمین اپنی پوری حرکت سے خوب ہلائی جائے۔
Ayah 99:2(2) اور زمین اپنے بوجھ باہر نکال ڈالے۔
Ayah 99:3(3) اور انسان کہنے لگے کہ اس زمین کو کیا ہوگیا
Ayah 99:4(4) اس روز زمین اپنی سب باتیں بیان کردے گی۔
Ayah 99:5(5) اس لئے کہ آپ کے پروردگار نے اس کو یہی حکم دیا ہوگا۔ یعنی زمین میں سخت زلزلہ آئے اور وہ اس زلزلے کی حرکت سے خب جھنجھوڑی اور حرکت دی جائے اور زمین اپنے بوجھ یعنی مردے اور دفینے باہر نکال پھینکے شاید یہ دوسرے نفخہ صور پھونکنے کے وقت ہوگا جس سے تمام زمین کا ہموار کرنا مقصود ہوگا۔
دفینے سے مراد سونے چاندی کی کانیں اور وہ اموال ہیں جو زمین میں دبائے گئے ہوں گے غرض جو کچھ زمین میں ہے وہ باہر آجائے گا اور کوئی اس مال کا سنبھالنے والا اور لینے والا نہ ہوگا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں قیامت سے پہلے جو مال زمین میں دبا ہے سونا روپا اس سے نکل پڑے گا تب لینے والے نہ رہیں گے اور انسان زندہ ہوکر کہے گا کہ اس زمین کو کیا ہوگیا اور اس میں یہ سخت بھونچال کیوں آرہا ہے۔
ہوسکتا ہے کہ عالم ارواح میں جو روحیں ہیں وہ اس سے متاثر ہوکر کہیں اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ آدمی قیامت کے منکر ہوگا جو کہے گا ورنہ مسلمان اور قیامت پر ایمان رکھنے والا تو جانتا ہی ہے کہ قیامت میں یہ سب کچھ ہوگا اس روز زاین اپنی تمام خبریں بیان کردے گی یعنی زمین پر جو برے بھلے اعمال کسی نے کئے ہوں گے وہ زمین سب بتادیگی کہ فلاں شخص نے مجھ پر نماز پڑھی تھی فلاح نے چوری کی تھی خون کیا تھا (وغیرذلک)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کیا تم لوگ جانتے ہو کہ زمین کی خبریں بتانا کیا ہے لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول جانتا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا زمین ہر مرد اور عورت کے ان تماماعمال پر گواہی دے گی جو انہوں زمین پر کیے ہوں گے اس لئے پروردگار کا اس کو یہی حکم ہوگا یعنی زمین کو حکم دیا جائے گا کہ وہ تمام لوگوں کے اعمال بیان کرے اور جو جو کچھ کسی نے اس پر کیا ہے اس سب کو ظاہر کردے۔
Ayah 99:6(6) اس دن لوگ مختلف جماعتیں بن کر موقف حساب سے واپس ہوں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھائے جائیں۔ یعنی ان کے اعمال کے ثمرات اور نتائج ان کو دکھائے جائیں مطلب یہ ہے کہ موقف حساب سے اس طرح لوٹیں گے کہ بعض جماعتیں دوزخیوں کی ہوں گی اور بعض اہل جنت کی ہونگی، دوزخی دوزخ میں اور جنتی جنت میں چلے جائیں گے تاکہ دوزخی اپنے اعمال کی پاداش بھگتیں اور اہل جنت جنت میں پہنچ کر اپنا صلہ پائیں۔ لیروا اعمالھم کا یہ مطلب ہے کہ جو کچھ دنیا میں کہا ہے اس کا پھل دیکھیں یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ قبروں سے نکل کر ان کی ٹولیاں بنادی جائیں۔ ایک ٹولی زانیوں کی ایک شرابیوں کی ایک ٹولی چوروں کی ایک بےنمازیوں کی ایک روز خوروں کی وغیرہ وغیرہ اور ان مختلف ٹولیوں کو گھیر کر موقف حساب میں لایا جائے جہاں ان کا حساب وکتاب ہو اور یہ سب لوگ اپنے اپنے اعمال اور ان کی فہرستوں کو موقف حساب میں پہنچ کر دیکھیں۔ (واللہ اعلم)
Ayah 99:7(7) پس جب شخص نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔
Ayah 99:8(8) اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ یعنی جس برائی پر مرتے دم تک رہا اور نہ توبہ کی اور نہ ایمان لایا اسی طرح جس نیکی پر آخر دم تک رہا۔ اور اس سے پھرا انہیں ذرہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے لال چیونٹی بہت چھوٹی ہوتی ہے یعنی اس کے ہم وزن نیکی اور بدی اس دن پوشیدہ نہ رہے گی۔ نبی کریم ﷺ نے اس آیت کا نام جامعہ فاذہ فرمایا۔