Ayah 100:1(1) قسم ہے ان گھوڑوں کی جو ہانپتے ہوئے دوڑنے والے ہیں - یعنی تیز دوڑنے میں ان کے سانس کی آواز سننے میں آتی ہے۔
Ayah 100:2(2) پھر ان گھوڑوں کی قسم جو پتھر پر ٹاپ مار کر آگ جھاڑتے ہیں۔ یعنی دوڑنے میں گھوڑے کے نعلوں سے جو پتھر ٹکاتے ہیں ان سے آگ جھڑتی ہے۔
Ayah 100:3(3) پھران کی جو صبح سویرے چھاپا مارتے ہیں۔ یعنی لوٹنے اور تخت و تاراج کرنی کی غرض سے۔
Ayah 100:4(4) پھر اس وقت گرد و غبار اڑھاتے ہیں۔ یعنی صبح کے وقت گردوغبار نہیں ہوتا بلکہ دبا ہوا ہوتا ہے مگر ان کی دوڑ اور رفتار اتنی تیز ہوتی ہے کہ اس وقت بھی غبار اڑتا ہے۔
Ayah 100:5(5) پھر گھس جانے والے دشمنوں کی جماعت میں - یعنی اس صبح کے وقت جو اغارت اور لوٹ کا وقت ہے دشمن کی فوج اور دشمن کی جماعت میں جا گھستے ہیں اہل عرب کی عام عادت یہ تھی کہ وہ کسی دشمن پر رات کو حملہ نہ کرتے تھے اور اس کو شجاعت وبہادری کے خلاف سمجھتے تھے اس لئے عام طور پر صبح کے وقت لوٹتے اور لڑتے تھے…چونکہ اہل عرب کو گھوڑوں سے عام دلچسپی تھی اور جنگ جو ہونے کی وجہ سے گھوڑوں کی خاص طور پر پرورش کرتے تھے اس لئے گھوڑوں کی قسم کھائی۔
بعض مفسرین نے اونٹ مراد لئے ہیں لیکن صحیح یہی ہے کہ ان قسموں سے گھوڑے مراد ہیں وہ جہاد کے گھوڑے ہوں یا غیر جہاد کے ہوں البتہ لڑائی کے ہوں بعض حضرات نے گھوڑوں سے ان کے سوا مراد لئے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ جہاد والے سواروں کی قسم ہے اس سے بڑا کون سا عمل ہے کہ اللہ کے کام پر اپنی جان دینے کو حاضر۔ بہرحال گھوڑا چونکہ اپنے آقا کا نہایت وفادار ہوتا ہے خشک گھاس کھاکر اپنے آقا کی وفاداری کرتا ہے اپنے محسن کو پہچانتا ہے اس کے حکم پر روشن کی فوج میں گھس کر نیزوں اور تلواروں کے زخم کھاتا ہے گولیوں کی بوچھاڑ میں گھس جاتا ہے اور سدھا ہوا گھوڑا مالک کو بچاتا ہے اور خود زخمی اور لہولہان ہوجاتا ہے اور اپنی جان کو خطرے میں ڈال دیتا ہے اگر کبھی سوار گرپڑتا ہے تو اس کو اٹھا کر اپنی پیٹھ بٹھا لیتا ہے غرض گھوڑوں کی وفاداری مشہور ہے اور انہی قسموں کی مناسبت سے جواب قسم فرماتے ہیں۔
Ayah 100:6(6) کہ بیشک انسان اپنے پروردگار کا بڑا ہی ناسپاس ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کفران نعمت کرتا ہے اور وہ کوئی طرح کا ہوتا ہے ایک تو یہ کہ اس کی نعمت کو دوسرے کی سمجھے دوسرا یہ کہ جو فائدہ اس نعمت سے چاہیے وہ لیوے بلکہ اس کے برخلاف اسے خرچ کرے ، تیسرا یہ کہ اس نعمت کی محبت اس قدر دل میں اثر کر جائے کہ نعمت دینے والے کو بھی بھول جائے۔
خلاصہ : یہ کہ مراد اس سے کافر ہے جو اپنی حرص اور لالچ میں اس قدر غرق ہے کہ محسن حقیقی کو فراموش کئے بیٹھا ہے حالانکہ گھوڑا جو ایک جانور ہے اس کی وفاداری کو دیکھ کر بھی اس بدبخت کی آنکھیں نہیں کھلتیں اور اپنی غفلت اور اللہ تعالیٰ کی ناسپاسی میں مبتلا ہے۔
Ayah 100:7(7) اور بیشک وہ انسان اپنی ناسپاسی پر خود بھی گواہ ہے اور اس کو خود بھی اس کی خبر ہے - یا تو یہی مطلب ہے کہ جو ہم نے ابھی عرض کیا ہے کہ گھوڑوں کی وفاداری کو دیکھ کر بھی اس میں احسان مندی اور شکرگزاری کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا یا یہ مطلب ہے کہ تھوڑے سے تامل اور تھوڑی سی توجہ میں اس کو ناسپاسی کا یقین ہوسکتا ہے یعنی جو بات تھوڑے سے تامل سے معلوم ہوسکتی ہے وہ بمنزلہ معلوم ہونے کے ہی ہے اس علم بالقوۃ کو علم بالفعل کے مرتبے میں رکھ کر لفظ شہید فرمایا کہ اس کو خود بھی اس کی خبر ہے اور خود بھی جانتا ہے اور یہ انسان اپنی ناسپاسی پر خود بھی گواہ ہے گویا اس کی ناسپاسی اس کے سامنے ہے اور یہ اپنے کفران نعمت سے اچھی طرح واقف ہے اور اکثر مفسرین نے انہ کی ضمیر کامرجع حضرت حق سبحانہ کو قرار دیا ہے اس طرح مطلب یہ ہوگا کہ اس کی ناسپاسی پر اللہ تعالیٰ گواہ ہے اور اس کی ناسپاسی اور کفران نعمت اللہ تعالیٰ کے سامنے ہے۔
Ayah 100:8(8) اور بیشک انسان مال کی محبت میں بڑا قوی اور بڑا سخت ہے۔ یعنی مال کی محبت میں اندھا ہورہا ہے اور یہ نہیں جانتا کہ اس مال کا انجام کیا ہونے والا ہے یا شدید کے معنی بخیل کے ہیں جیسا کہ بعض نے کہا ہے کہ یہ مال کی محبت میں بڑا بخیل ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے جان چراتا ہے۔
اوپر چونکہ جنگ کا ذکر فرمایا تھا اس لئے شاید اس آیت میں اس کا سبب بیان فرمایا ہو کہ انسان کی کنودیت اور مال کی محبت تمام جھگڑوں کی جڑ ہے آگے اس حالت پر وعید کے طور پر ارشاد فرماتے ہیں۔
Ayah 100:9(9) کیا انسان کو وہ قت معلوم نہیں کہ جب وہ مردے جو قبروں میں ہیں زندہ کرکے اٹھا کھڑے کئے جائیں گے - یعنی جو قبروں میں مدفون ہیں اور خاک میں ملے ہوئے ہیں وہ سب زندہ کر لئے جائیں گے اور وہ خاک میں سے نکال لئے جائیں گے۔
Ayah 100:10(10) جور جو کچھ سینوں میں پوشیدہ ہے وہ سب آشکارا کردیا جائے گا - یعنی دلوں کی تمام مخفی باتیں اور سینوں کے تمام راز ظاہر ہوجائیں گے خواہ وہ خیر ہوں یا شر ہوں۔
Ayah 100:11(11) بے شک اس دن ان کا پروردگار ان کے تمام احوال سے باخبر اور آگاہ ہے۔ یعنی یوں تو ہر وقت بندے کے ظاہر اور پوشیدہ حال سے اللہ تعالیٰ آگاہ ہے اور اس کا علم بندے کے ظاہر و باطن کو محیط ہے لیکن اس دن اس کا علم سب پر ظاہر ہوجائے گا جبکہ وہ ہر ایک کو اس کے کئے کی پاداش دے گا یا صلہ عطا فرمائے گا۔ اگر انسان اس دن یقین کرتا تو اپنی کنودیت یعنی کفران نعمت اور حب مال اور اپنی بخیلی سے باز آجاتا اور اللہ تعالیٰ کافرماں بردار اور شکرگزار ہوجاتا۔
تم تفسیر سورة العادیات