101. Surah Al-Qaari'a

القارعةThe Calamity · 11 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 101:1

اَلْقَارِعَةُۙ Open ayah 101:1 in the Quran reader

وہ کھڑ کھڑانے والا حادثہ یعنی قیامت ۔

(1) وہ کھڑ کھڑادینے والا حادثہ۔
Ayah 101:2

مَا الْقَارِعَةُۚ Open ayah 101:2 in the Quran reader

کیا ہے یہ کھڑکھڑانے والا حادثہ۔

(2) کیا ہے وہ کھڑکھڑا دینے والا حادثہ۔
Ayah 101:3

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ Open ayah 101:3 in the Quran reader

اور اے پیغمبر آپ کو کچھ معلوم ہے کہ وہ کھڑکھڑانے والا حادثہ کیسا کچھ ہے۔

(3) اور آپ کو کچھ معلوم ہے کہ وہ کھڑکھڑا دینے والا حادثہ کیا کچھ ہے - قرع کے معنی اصل میں کھٹکھٹانے اور زور سے بجانے کے ہیں عرف میں ہر ہیبت ناک اور خطرناک حادثے کو قارعہ کہتے ہیں۔ سورة رعد میں گزر چکا ہے۔ ولا یزال الذین کفروا تصیبھم بما صنعوا قارعۃ۔ کا ترجمہ ہم نے صدمہ یا دھڑکا کیا ہے یہاں ہم نے کھڑ کھڑانے کے ساتھ حادثہ بھی کردیا ہے اور قیامت اور اسرافیل (علیہ السلام) کی آواز سے بڑھ کر کون سا ہیبت ناک حادثہ ہوگا جس سے عام گھبراہٹ پیدا ہوجائے گی۔ اسی لئے قیامت کا نام قارعۃ ہے۔ ع و ای کریم لم تصبہ القوارع، یعنی کونسا شریف آدمی ایسا ہے جس کو حادثوں اور صدموں سے دوچار ہونا نہ پڑتا ہو۔ قیامت میں فزع اور گھبراہٹ بھی ہے اور صور کی آواز سے کھڑکھڑاہٹ بھی ہے۔ بہرحال اس کی اہمیت کے لئے پھر سوال فرمایا وما ادرک مالقارعۃ اب آگے اس ہیبت ناک چیز کے چند آثار بیان فرمائے یعنی اس کا کھڑکھڑانا اس دن ہوگا۔
Ayah 101:4

یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ Open ayah 101:4 in the Quran reader

وہ حادثہ وہ ہے جس دن لوگ ایسے پراگندہ پریشان ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے پروانے۔

(4) جس دن لوگ پر اندہ اور پریشا ن ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے پروانے - فراش ان پر دار جانوروں کو کہتے ہیں جو روشنی پر آتے ہیں اور چراغ میں گرکر مرجاتے ہیں خواہ وہ ٹڈے ہوں، تیتریاں ہوں اور زہریلے اور بدبودا کیڑے ہوں۔ یہ کیڑے چونکہ کمزور اور بکثرت ہوتے ہیں اس لئے ان کے ضعف اور کثرت سے تشبیہ دی۔ نیز یہ کہ یہ پروانے مضطرب ہوتے ہیں کہ ایک جگہ قرار نہیں پاتے اسی طرح اس دن انسان مضطرب اور بےقرار و بےچین ہوں گے ایک جگہ آرام و اطمینان سے ن بیٹھ سکیں گے سورة قمر میں گزر چکا ہے کانھم جراد منتشر۔ بہرحال ان تین حالتوں کی وج سے پروانوں کے ساتھ تشبیہہ فرمائی آگے پہاڑوں کی تشبیہہ فرماتے ہیں۔
Ayah 101:5

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ Open ayah 101:5 in the Quran reader

اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین اون کی طرح ہوجائیں گے۔

(5) اور پہاڑ کی دھنکی ہوئی رنگین اون کی مثل ہوجائیں گے - چونکہ پہاڑ اڑتے پھریں گے اور ان پہاڑوں میں مختلف رنگ ہیں جیسا کہ سورة فاطر اور سو رہ معارج میں گزرا ہے اس لئے ان کو رنگیں اون کے ساتھ تشبیہہ دی اب آگے نامہ اعمال تولے جانے کے بعد جو تقسیم ہوگی اس کا ذکر ہے۔
Ayah 101:6

فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗۙ Open ayah 101:6 in the Quran reader

پھر جس شخص کا پلہ بھاری ہوگا۔

(6) پھر جس شخص کا پلہ بھاری ہوگا۔
Ayah 101:7

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍؕ Open ayah 101:7 in the Quran reader

تو وہ پسندیدہ زندگی میں ہوگا۔

(7) تو وہ پسندیدہ زندگی اور خاطر خواہ آرام میں ہوگا۔
Ayah 101:8

وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗۙ Open ayah 101:8 in the Quran reader

اور جس شخص کا پلہ ہلکا ہوگا۔

(8) اور جس شخص کا پلہ ہلکا ہوگا۔
Ayah 101:9

فَاُمُّهٗ هَاوِیَةٌؕ Open ayah 101:9 in the Quran reader

تو اس کا ٹھکانہ ہاویہ ہوگا ۔

(9) تو اس کا ٹھکانا ہادیہ ہوگا - بہرحال وزن اعمال کے بعد جس کا پلہ ایمان و اخلاص کے اعتبار سے بھاری ہوگا تو وہ جنت میں چلا جائے گا جہاں من مانی زندگی اور خاطر خواہ آرام میسرہوگا اور جس کا ایمان و اخلاص کے اعتبار سے اعمال کا وزن ہلکا ہوگا یعنی دین حق کا منکر ہوگا تو اس کا ٹھکانا ہاویہ یعنی جہنم کے سب سے نیچے درجے میں ہوگا جہاں زندگی کی مثل زندگی نہ ہونیکے ہے۔ بہرحال معلوم ہوا کہ عمل خواہ کتنا ہی برا کیوں نہ ہو اگر ایمان اور اخلاص نہ ہو تو اس کا کچھ وزن ہی نہیں آمد مال کو کہتے ہیں کیونکہ ماں کی گود اصل سکون کی چیز ہے اس لئے یہاں ترجمہ مسکن اور ٹھکانا کیا گیا ہے کیونکہ ان کا اصل مسکن ہاویہ ہے ہاویہ اتنا عمیق طبقہ ہے کہ اس کی گہرائی کا اندازہ نہیں ہوسکتا اس لئے اس کے متعلق سوال فرماتے ہیں۔
Ayah 101:10

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِیَهْؕ Open ayah 101:10 in the Quran reader

اور اے پیغمبر آپ کو کچھ معلوم ہے کہ وہ ہاویہ کیا چیز ہے۔

(10) کہ اے پیغمبر آپ کو کیا معلوم ہے کہ وہ ہاویہ کیا چیز ہے۔
Ayah 101:11

نَارٌ حَامِیَةٌ۠ Open ayah 101:11 in the Quran reader

وہ ایک دہکتی ہوئی آگ ہے۔

(11) وہ ایک دہکتی ہوئی آگ ہے - یعنی ہاویہ کی گہرائی اور وہاں کے عذاب کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے بس اتنا سمجھ لو کہ وہ ایک دہکتی ہوئی آگ ہے جس کی حرارت انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ (عاذنا اللہ منھا) تم تفسیر سورة القارعہ