Ayah 102:1(1) تم لوگوں کو زیادتی کی حرص اور کثرت تعداد پر تفاخر نے غافل کردیا اور تم کو مشغول کردیا۔ آیت کی دو طرح تفسیر کی گئی ہے ایک تو کثرت مال اور دنیوی سامان کی بہتات پر فخر کرنا اور دوسرے کثرت تعداد پر فخر کرنا کہ ہمارے قبیلے کے آدمی زیادہ ہیں اور تمہارے قبیلے کی تعداد کم ہے چاہے مردم شماری کرلو بس اس تکاثر نے تم کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے غصے سے نجات دلانے والی باتوں سے غافل کردیا اور تم کو ان چیزوں نے مسغول کردیا۔
Ayah 102:2(2) یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔ اس کے بھی دو مطلب ہیں ایک تو یہ کہ موت آگئی اور تم قبرستان جا پہنچے یا یہ ہے کہ زندوں کی مردم شماری کرتے کرتے قبر میں جا کر گننے لگے اور قبرستان جا پہنچے۔
کہتے ہیں عرب کے دو مشہور قبیلوں بنوعبدمناف اور بنو سہم بن عمرو میں باہمی منافست تھی اور دونوں اپنے کارناموں پر اور اپنی تعداد پر فخر کیا کرتے تھے چناچہ مرم شماری کی نوبت پہنچی اور بنو سہم بن عمرو کی تعداد کم ہوگئی انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہمارے لوگ لڑائیوں میں بہت مارے گئے ہیں اس وجہ سے ہماری تعداد کم ہوگئی۔ لہٰذا ہماری قبریں بھی شمار کرو چناچہ دونوں فریق قبرستان پہنچ گئے اور قبریں شمار کرنے سے بنو سہم کے لوگ کچھ زیادہ ہوگئے اس پر یہ سورت نازل ہوئی کہ تم کو باہمی تکاثر نے ایسا مشغول کیا کہ تم قبرستان جاپہنچے۔ اور پہلی تفسیر یوں ہے کہ تم کو حب جاہ و مال اور ظاہری زینت نے اس قدر غافل کیا کہ تم مرگئے اور قبر میں چلے گئے اور عذاب سے بچنے اور ایسے عمل اختیار کرنے پر جو عذاب سے نجات دلائیں تم کو غور کرنے کا موقع ہی نہیں ملا آگے اس پر ردع اور جھڑکی فرمائی۔
Ayah 102:3(3) ہرگز یہ چیزیں قابل فخر اور لائق توجہ نہیں تم کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا - یعنی دم نکلتے ہی اور قبر میں جاکر تم کو معلوم ہوجائے گا تم کو پھر دوبارہ تنبیہہ کی جاتی ہے۔
Ayah 102:4(4) کہ ہرگز یہ چیزیں قابل التفات نہیں اور آخرت انکار کے قابل نہیں تم کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا اور تم جلدی ہی جان لو گے۔ یعنی قبروں سے نکلتے ہی تم کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ غفلت اور یہ فخر تمہارے لئے کس قدر مضر ہوگا اور کس قدر نقصان پہنچے گا۔
Ayah 102:5(5) ہرگز تمہارا یہ خیال صحیح نہیں ہے اگر تم یقینی طور پر جان لیتے - یعنی دلائل صحیحہ سے اگر تم جان لیتے کہ آخرت کے مقابلے میں یہ سب دنیوی سازوسامان ہیچ اور بیکار ہے تو ہرگز ان چیزوں پر محرو مباہات نہ کرتے اور حب جاہ ومال میں مبتلا نہ ہوتے۔
Ayah 102:6(6) خدا کی قسم بلا شبہ تم لوگ ضرور دوزخ کو دیکھو گے - یعنی اگر یہاں استدلال صحیحہ سے اس کا یقین نہیں کرتے تو دیکھ یقین کرو گے اگرچہ اس وقت یقین کرنا مفید نہ ہوگا پھر مکرر تاکید کے لئے کہا جاتا ہے۔
Ayah 102:7(7) خدا کی قسم تم لوگ اس جہنم کو ایسا دیکھنا دیکھو گے جو خود یقین ہے - یعنی یقین کی آنکھ سے دیکھو گے اور عینی مشاہدہ کرو گے اور اس وقت یقین کرنے میں کسی دلیل کی ضرورت نہ ہوگی کیونکہ استدلال میں کبھی یقین کا ترتب فوری ہوتا ہے اور کبھی تاخیر سے ہوتا ہے لیکن مشاہدہ کرنے میں بغیر کسی دلیل کے یقین کا ترتب فوری ہوتا ہے نیز مشاہدے میں انکشاف بھی زیادہ ہے یہی مراد عین الیقین ہے۔
صاحب مدارک کے الفاظ یہ ہیں الرویۃ التیھی نفس الیقین یہی وجہ ہے کہ ہر منکر اس دن امنابہ کا نعرہ لگاتا ہوگاحالان کہ یہ ایمان اس وقت بیکار اور بےسود ہوگا۔
Ayah 102:8(8) پھر تم سب اس دن دنیوی نعمتوں کے بارے میں باز پرس کی جائے گی۔ اوپر کی آیتوں میں تہویل اور تغلیظ فی التہدید کے لئے کفار کو خطاب تھا اور یہاں خطاب عام ہے کفار سے جو سوال نعمتوں کے بارے میں ہوگا وہ تو بیخ و تقریع کے لئے ہوگا کیونکہ انہوں نے نعمتوں کے استعمال کے بعد ناشکری اور مسلمانوں سے جو سوال ہوگا وہ تشریف اور تکریم کے لئے ہوگا۔
بہرحال ٹھنڈے پانی اور کھجوریں، ٹھنڈا سایہ، نیند کی لذت، شرائع کی تخفیف قرآن کا نزول اسلام کی بزرگی، غرض ہر قسم کی نعمتیں خواہ ظاہری ہوں یا وہ باطنی ہوں جسمانی ہوں یا روحانی ہوں۔ آفاقی ہوں یا ذاتی ہوں سب سے سوال ہوگا بعض علماء نے فرمایا صحت اور فراغ یہ دو نعمتیں بہت بڑی ہیں ان کے متعلق سوال ہوگا۔
بعض نے کہا سیدالمرسلین کی بعثت اور تشریف آوری سب سے بڑی نعمت ہے حضور ﷺ کے متعلق سوال کیا جائے گا کہ تم نے ان کی اطاعت کا کیا حق ادا کیا۔
عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا امن اور صحت گھر جہاں سکونت رکھتا تھا کپڑا جس سے بدن ڈھانکتا تھا، وہ غذا جس سے قوت حاصل کرتا تھا یہ سب چیزیں مسئول عنہ ہوگی۔ واللہ اعلم
تم تفسیر سورة التکاثر