103. Surah Al-Asr
العصرThe Declining Day, Epoch · 3 ayahsکشف الرحمٰن
وَ الْعَصْرِۙ Open ayah 103:1 in the Quran reader
قسم ہے زمانے کی۔
(1) قسم ہے زمانے کی۔
اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ Open ayah 103:2 in the Quran reader
کہ بیشک انسان بڑے خسارے میں ہے۔
(2) کہ بلا شبہ انسان بڑے خسارے اور ٹوٹے میں ہے۔
اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠ Open ayah 103:3 in the Quran reader
مگر ہاں وہ لوگ جو ایمان لائے اور وہ نیک اعمال کے پابند رہے اور ایک دوسرے کو دین حق قائم رہنے کی تاکید کرتے رہے اور نیز ایک دوسرے کو صبروتحمل کی فہمائش کرتے رہے۔
(3) مگر ہاں وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند بھی رہے اور ایک دوسرے کو دین حق پر قائم رہنے کی تاکید کرتے رہے اور نیز ایک دوسرے کو صبر و تحمل کی فہمائش کرتے رہے۔
زمانہ جاہلیت میں بعض لوگ آپس میں ایک دوسرے کے دوست تھے بعض دوشت مسلمان ہوگئے بعض کفر پر قائم رہے اور جو لوگ کفر پر قائم رہے وہ مسلمانوں کو طعنہ دیتے تھے کہ تم تو بڑے سمجھ دار تھے تم کیسے مسلمان ہوگئے اور تم نے اپنی عمر کو تباہ کرلیا۔ اسی قسم کی گفتگو ایک دفعہ کلدہ بن اسد نے حضرت صدیق ؓ سے کی انہوں نے فرمایا تو بیوقوف ہے جو آدمی امر حق کو قبول کرتا ہے وہ ٹوٹے اور نقصان میں نہیں پڑتا، خسارے میں وہ ہوتا ہے جو امر حق کے قبول کرنے سے منہ پھیرتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی مفسرین کے لفظ عصر میں تین قول ہیں۔
ایک زمانہ جس میں انسان کی عمر بھی داخل ہے دوسرے نماز عصر کا وقت کہ یہ بھی سودوزیاں اور نفع نقصان کا وقت ہے تیسرے نبی کریم ﷺ کا زمانہ جس میں نور نبوت کی شعاعیں سب طرف پھیلیں اور جس میں رسالت عظمیٰ اور خلافت کبریٰ کے انوار و برکات سے دنیا مستفیض ہوئی اور بڑے بڑے سرکشوں نے اسلام کی حقانیت اور اسلام کی معجزنما تعلیم کا اعتراف کیا۔
واللہ الحمد ! ہم نے ان تینوں اقوال میں سے پہلا قول اختیار کیا ہے یعنی زمانے کی قسم کھاتا ہوں کہ انسان عمر کے ضائع ہونے کی وجہ سے بڑے نقصان میں ہے یعنی انسان کے پاس بڑا سرمایہ اور بڑی پونچی اس کی عمر ہے جس سے دینی اور دنیوی کمالات حاصل کئے جاتے ہیں مگر یہ پونجی ہر وقت کم ہوتی رہتی ہے۔
عمر جس قدرزیادہ ہوتی رہتی ہے اتنی ہی گھٹتی رہتی ہے انسانی عمر ایک بہترین چیز ہے بشرطیکہ اس کو صحیح کام میں لگایا جائے ورنہ خسارہ ہی خسارہ ہے ۔ اگر کسی نے اپنی عمر کو محض لذات اور دنیوی خرابات میں خرچ کیا اس کے پاس سوائے ٹوٹے کے اور کیا رہا۔
اور جس نے اپنی عمر کو نیک کاموں میں خرچ کیا اور سعادت و کمال حاصل کیا اس نے ایسا نفع کمایا جو کبھی ختم ہونے والا نہیں اس نے ہر قسم کی دائمی لذتوں کو حاصل کرلیا۔ حضرت حق تعالیٰ نے اس مختصر سورت میں سب ہی کچھ فرمادیا۔
علما کہتے ہیں عمر کی مثال اس برف فروخت کرنیوالے کی ہے جو ہر وقت گھلتی رہتی ہے یعنی رکھے رکھے کم ہوتی رہتی ہے یہی زمانے کا دور اور دن رات کی لٹ پلٹ ایک دن عمر کو فنا کردے گی اور پھر خواہ کتنا ہی افسوس کرو یہ چیز دوبارہ حاصل ہونے والی نہیں۔
لہٰذا ! سمجھ دار انسان وہی ہے جو اس ناپائیدار پونجی کو کمال اور سعادت کے حاصل کرنے میں خرچ کرے اسی لئے فرمایا انسان نقصان اور ٹوٹے میں ہے مگر ہاں وہ لوگ جو ایمان لے آئے اور نیک اعمال کے پابند رہے۔ ایمان لانے والے اور نیک عمل کرانے والے اس نقصان سے مستثنیٰ ہیں اور یہی کمال کا حصول ہے اور یہی لوگ خوش نصیب ہیں۔
آگے کمال کے بعد تکمیل کی طرف اشارہ ہے کہ ایمان اور عمل صالح کے ساتھ ساتھ وہ لوگ ایک دوسرے کو آپس میں حق پر قائم رہنے کی تاکید کرتے رہتے ہیں۔ یعنی دین حق یا اعتقاد حق یا قرآن اور اس کے احکام پر قائم رہنے یا ایمان و توحید پر قائم رہنے کی تاکید کرتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کو صبروتحمل کی فہمائش کیا کرتے ہیں یعنی ادائے فرض اور اوامرالٰہی کے ادا کرنے میں یا گناہوں سے بچنے میں جو تکلیف ہو اس کے برداشت کرنے کی فہمائش کیا کرتے ہیں۔
کمال اور تکمیل دونوں مرتبوں کا ذکر فرمادی ۔ سبحان اللہ !
اس مختصر اور چھوٹی سی سورت میں سب ہی کچھ آگیا بعض سلف سے منوقل ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ یہی ایک سورت نازل فرماتا تو سمجھ دار بندوں کی ہدایت کے لئے کافی تھی صحابہ کرام ؓ کا عام قاعدہ یہ ہوگیا تھا کہ جب وہ شخص باہم ملاقات کرتے تو ایک دوسرے کو رخصت کرنے سے پہلے سورة والعصر سناتے اور ان کو حق پر قائم رہنے اور تکالیف کو برداشت کرنے کی فہمائش کرتے۔
تم تفسیر سورة العصر