Ayah 104:1(1) ہر ایسے شخص کے لئے بڑی خرابی ہے جو عیب نکالنے والا اور طعنہ دینے والا ہو - ھمز اور لمز کے معنی توڑنے اور شکستہ کرنے کے آتے ہیں یہاں مراد لوگوں کی عزت اور آبرو کو مجروح کرنے والا ابن عباس کا قول ہے ھمزہ بہت غیبت کرنیوالا اور لمزہ بکثرت عیب بیان کرنے والا ابو زید نے کہا ہاتھوں ، آنکھوں اور بھوئوں سے حقارت کرنے والا ھمزہ اور زبان سننے طعن کرنے والا المزہ ہے ابو العالیہ کا قول ہے ھمزہ وہ ہے جو لوگوں کو رو در رو برا کہے اور لمزہ وہ ہے جو پیٹھ پیچھے لوگوں کے عیب بیان کرے۔ مھزہ وہ ہے جو کھلم کھلا لوگوں کے عیب بیان کرے۔ لمزہ وہ ہے جو سر اور آنکھوں سے کسی کے لئے تحقیر آمیز اشارات کرے۔
بعض نے کہا ھمزہ اور لمزہ اس شخص کو کہتے ہیں جو لوگوں کے برے لقب رکھے بہرحال آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایسے شخص کے لئے بڑی خرابی ہے جو پیٹھ پیچھے عیب نکالے اور سامنے آئے تو تعن وشنیع کرے۔
Ayah 104:2(2) وہ جو حرص کی وجہ سے مال سمیٹتا ہو اور اس کو بار بار گنتا ہو۔ یعنی مال کی محبت کا یہ حال ہے کہ مال جمع کرتا ہے اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے جیسا کہ بعض حریص اور مال سے محبت کرنے والوں کو دیکھا جاتا ہے کہ بلا ضرورت روز صبح کو تجوری کھولتے اور روپیہ کو گن گن کر رکھتے ہیں انہوں نے ہر روز کا مشغلہ بنالیا ہے روزصبح کو یا شام کو ایک دفعہ ضرور رقم کو گن لیتے ہیں اور سینت کر رکھ دیتے ہیں۔
Ayah 104:3(3) وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس ہمیشہ رہے گا - یعنی غایت حرص اور غایت طمع اور بار بار گننا اور سنبھال سنبھال کر رکھنا اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اس کا مال ہمیشہ اس کیساتھ دے گا۔
Ayah 104:4(4) ایسا ہرگز نہیں ہوگا بخدا وہ شخص ایک ایسی آگ میں پھینکا جائے گا جو ہرچیز کو توڑ کر رکھ دے گی۔ حطمہ دوزخ کے ناموں میں سے ایک نام ہے حطم کے معنی توڑ دینے پامال کرنے اور روندنے کے ہیں چونکہ دوزخ کی آگ بھی ہر اس چیز کو جو اس میں ڈالی جائے توڑ پھوڑ کر پامال اور روند کر بھسم کردے گی اس لئے دوزخ کا نام حطمہ رکھا ہے آگے تحویل اور تہدید کے لئے سوال فرماتے ہیں۔
Ayah 104:5(5) اور اے پیغمبر آپ کو کیا معلوم ہے کہ وہ توڑ پھوڑ کرنی اور روندنے والی آگ کیسی ہے - یعنی وہ حطمہ کیسی کچھ ہے۔ اے پیغمبر کیا آپ کو معلم ہے آگ اس کی تفصیل ہے۔
Ayah 104:6(6) وہ اللہ تعالیٰ کی آگ ہے جو سلگائی گئی ہے - یعنی وہ آگ اور آگوں کی طرح نہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آگ ہے جو اس کے حکم سے سلگائی گئی ہے۔
Ayah 104:7(7) وہ ایسی ہے جو بدن کو لگتے ہی دلوں تک جا پہنچے گی۔ یعنی یہاں کی آگ بدن میں لگتی ہے تو دل پر پہنچنے سے پہلے آدمی مرجاتا ہے مگر وہ آگ لگتے ہی دلوں کو جھانک لیتی ہے اور دلوں تک پہنچ جاتی ہے پھر جس دل میں ایمان ہوتا ہے اس کو نہیں جلاتی اور جس دل میں کفر ہوتا ہے اس کو جلا ڈالتی ہے اور چونکہ وہاں موت نہیں آئے گی اس لئے دکھ اور تکلیف برابر محسوس ہوتی رہے گی۔ دل چونکہ بہت لطیف چیز ہے اس لئے اس کا ذکر فرمایا کہبدن میں نفوذ کرتے ہی قلب تک پہنچ جاتی ہے مگر ان تمام چیزوں میں آگ کے نفوذ ہوجانے پر بھی موت نہیں آئے گی قلب پر آگ کا متولی ہوجانا اور قلب کو گھیر لینا شاید اس لئے فرمایا کہ یہ قلب ہی ان ناپاک اور ناشائسہ عقائد کی جگہ ہے جن عقائد کے یہ قائل تھے دل انہی عقائد کا محل ہے یا اس لئے دل کا ذکر فرمایا کہ دل کو کوئی صدمہ پہنچے تو آدمی مرجاتا ہے چہ جائے کہ آگ دل تک پہنچ جائے لیکن یہ مریں گے نہیں اور دل برابر سوزش کو محسوس کرتا رہے گا۔
Ayah 104:8(8) وہ آگ اہل جہنم پر ہر طرف سے بند کردی جائے گی یعنی جہنم میں ڈالنے کے بعد جہنم کو ہر طرف سے بند کردیاجائے گا۔
Ayah 104:9(9) ان کی حالت یہ ہوگی کہ وہ بڑے بڑے ستونوں میں بندھے ہوئے ہوں گے۔ یعنی یا تو آگ کے شعلے اس قدر بلند ہوں گے جیسے لمبے لمبے ستون ان ستونوں میں گھرے ہوئے ہوں گے یا یہ مطلب ہے کہ دوزخ پر سر پوش رکھ کر اس پر آگے کے لمبے لمبے ستون ڈال دیئے جائیں گے تاکہ سر پوشی نہ کھل سکے یا یہ مطلب ہے کہ آگ کے ستونوں سے باندھے جائیں گے اور جکڑدیئے جائیں گے تاکہ کوئی حرکت نہ کرسکیں اور ہلنے جلنے میں جو تخفیف حاصل ہوتی ہے وہ نہ ہو یا یہ معنی ہوں کہ دوزخ کے دروازے بند کر کیا ن میں لمبے لمبے ستون اڑا دیئے جائیں گے تاکہ کوڑا نہ کھل سکیں۔
بہرحال عذاب کی غلظت شدت اور دوام ہے۔
اعاذنا اللہ منھا ومن شرھا من حرھا۔
تم تفسیر سورة الھمزۃ