Ayahs 98:1–32:۔” لم یکن “ اہل کتاب سے یہود و نصاری مراد ہیں۔ ” منفکین “ یہاں تامہ ہے بمعنی منتھین عن کفرہم (قرطبی) ۔ یہاں ایک اشکال ہے وہ یہ ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین کے کفر و شرک سے باز آنے کی انتہاء پیغمبر (علیہ السلام) کی آمد بیان فرمائی ہے اور حتی چونکہ انتہاء غایت کے لیے ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ رسول کی آمد پر ان کی پہلی حالت یعنی کفر و شرک پر قیام ختم ہوجائے، لیکن اس کے بعد والی آیت ” وما تفرق الذین اوتوا الکتاب “ کا مقتضی یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی آمد کے بعد ان کے کفر میں اضافہ ہوگیا۔ اس طرح دونوں آیتوں میں بظاہر تضاد معلوم ہوتا ہے۔ اس کے متعدد جوابات ہیں۔ اول۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے اہل کتاب اور مشرکین کہا کرتے تھے کہ جب تک نبی موعود ﷺ نہ آجائے اس وقت تک ہم اپنا دین نہ چھوڑیں گے اس طرح ان آیتوں میں ان کے قول سابق کی حکایت ہے اور ” وما تفرق۔ الایۃ “ میں نفس الامر اور حقیقت واقعہ کا بیان ہے کہ پیغمبر (علیہ السلام) کی آمد کے بعد ان کا حال ان کے دعوے کے خلاف ہے۔ دوم اہل کتاب اور مشرکین سارے کے سارے کفر و شرک سے ہٹنے والے نہیں تھے جب تک ان کے پاس رسول نہ آجاتا۔ جب رسول آگیا تو اب ان کا حال پہلا سا نہ رہا۔ بلکہ ان میں سے بہت سوں نے کفر و شرک کو چھوڑ کر اسلام قبول کرلیا (ملخصا من الکبیر للامام الرازی) ۔ حضرت شیخ قدس سرہٗ کے نزدیک یہی جواب راجح ہے۔ حاصل یہ ہوا کہ اہل کتاب اور مشرکین کفر و شرک سے ہٹنے والے نہیں تھے جب تک کہ ان کے پاس واضح برہان نہ آجاتی اور یہ انتظام نہ ہوجاتا کہ اللہ کی طرف سے ان کے پاس رسول آئے جو ان کو اللہ تعالیٰ کی پاکیزہ کتاب کی تعلیم دے اور ان کو تبلیغ کرے اب چونکہ یہ کام ہوچکا ہے اور حق و باطل کے درمیان امتیاز قائم ہوگیا ہے، اس لیے اب جو لوگ حق کو نہیں مانتے اور پیغمبر (علیہ السلام) کی دعوت کو جھٹلاتے ہیں اور نئی نئی راہیں نکالتے ہیں وہ یہ سب کچھ محض ضد وعناد کی وجہ سے کر رہے ہیں۔ یہ مسئلہ کتب سابقہ میں بھی موجود ہے اور اہل کتاب کے علماء ثقات اس پر ایمان بھی لا چکے ہیں، اس لیے اب نہ ماننے والوں کا کوئی عذر قبول نہیں ہوگا۔ تائید : ” حجتہم داحضۃ عند ربہم وعلیہم غضب ولہم عذاب شدید۔ اللہ الذی انزل الکتب بالحق والمیزان “ (الشوری رکوع 2) ۔ اس کی پوری تفصیل سورة شوری میں گذر چکی ہے۔ ” رسول من اللہ “ ، البینۃ سے بدل ہے۔ ” صحفا مطہرۃ “ باطل کی نجاستوں سے پاک کتابیں اور صحیفے، صحیفہ ان اوراق کو کہا جاتا ہے جن میں کچھ لکھا ہو۔ والصحف القراطیس التی یکتب فیہا والمراد بتطہیرہا تنزیہہا عن الباطل (روح ج 30 ص 201 ملخصاً ) ۔ ” کتب قیمۃ “ پختہ اور محکم مضامین پر مشتمل سورتیں یا محکم احکام۔ ” رسول “ سے حضرت محمد ﷺ اور صحف سے قرآن مجید مراد ہے۔ (کبیر) ۔
Ayah 98:43:۔ ” وما تفرق “ اہل کتاب کے عناد و شقاق کا ذکر ہے۔ اہل کتاب، یہود و نصاریٰ نے دین میں جو مختلف راہیں نکالی ہیں یہ سب کچھ انہوں نے لاعلمی سے نہیں کیا۔ بلکہ البیۃ آجانے کے بعد جان بوجھ کر عمداً قصداً محض ضد وعناد کی وجہ سے کیا ہے۔ یہ اختلاف ڈالنے والے اہل کتاب کے باغی علماء تھے اور یہ اختلاف انہوں نے اللہ کی طرف سے علم اور بینات آجانے کے بعد کیا اور محض ضد وعناد کی وجہ سے کیا جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے ” وما تفرقوا الا من بعد ماجاءھم العلم بغیا بینہم “ (شوری رکوع 2) ۔
Ayah 98:54:۔ ” وما امرو “ حنفاء، حنیف کی جمع ہے یعنی ہر باطل دین سے اعراض کر کے دین اسلام کی طرف مائل ہونے والا۔ ای مائلین عن الادیان کلہا الی دین الاسلام (قرطبی ج 20 ص 144) ۔ ” دین القیمۃ “ مرکب اضافی ہے اور القیمۃ مقدر کی صفت ہے ای المسئلۃ القیمۃ۔ یعنی محکم اور پختہ مسئلہ اور وہ مسئلہ توحید ہے یا الملۃ القیمۃ یعنی ملت مستقیمہ کے احکام ہیں جس کا حکم نہایت صحیح اور محکم ہے۔ وقال الزجاج ای ذلک دین الملۃ المستقیمۃ (قرطبی) ۔ زجاج کے دو قول ہیں اگر ملت سے مراد امت ہو تو مفہوم زیادہ واضح ہوجاتا ہے۔ یعنی یہ اس امت کا دین ہے جو حق پر قائم ہے جیسا کہ علامہ آلوسی فرماتے ہیں۔ وقال الزجاج ای الامۃ القیمۃ بالحق ای القائمۃ بالھق (قرطبی) ۔ اہل کتاب نے متفرق شاخیں نکال لیں حالانکہ ان کی کتابوں میں انہیں یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ باطل اور جھوٹے دینوں کو چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس کی عبادت اور پکار میں کسی کو شریک نہ کریں، نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں۔ حق پر قائم رہنے والی امت کا دین یہی ہے۔
Ayahs 98:6–75:۔ ” ان الذی کفروا “ تخویف اخروی۔ یہود و نصاریٰ اور مشرکین جنہوں نے رسول کا، قرآن کا اور دین کا انکار کیا وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ لوگ خدا کی ساری مخلوق میں سب سے بد تر ہیں۔ ” ان الذین امنوا “ بشارت اخرویہ۔ لیکن جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک کام کیے وہ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق میں سب سے بہتر ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مومن کامل کا مرتبہ عرش عظیم اور کعبہ شریفہ سے بھی اونچا ہے کیونکہ یہ بھی مخلوق ہیں اور مؤمن کامل خدا کی ساری مخلوق سے افضل و اعلی ہے۔
Ayah 98:86: ” جزاءہم “ اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کی جزاء یہ ہے کہ ان کے لیے جنت کے دائمی باغات ہیں جن میں تمام انواع مشروبات کی ندیاں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے نہ جنت کی نعمتوں کو زوال ہوگا نہ اہل جنت کو موت آئیگی، نہ ان کو جنتوں سے نکالا ہی جائیگا اور نہ وہ خود ہی ان سے نکلنا پسند کریں گے۔ ” ؓ “ یہ ان کے ایمان خالص، یقین کامل اور عمل صالح کا انعام ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اور وہ بھی انعام و اکرام پر راضی ہیں۔ یہ اعزاز واکرام اور یہ انعام وافضال ایسے ہی لوگوں کے لیے ہے جو اپنے پروردگار سے ڈر کر اس کے احکام کی اطاعت کریں اور اس کے محرمات سے دور رہیں۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔