Ayah 98:1[لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوْا : تھے ہی نہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ][ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَالْمُشْرِكِيْنَ : مشرکین اور اہل کتاب میں سے ][ مُنْفَكِّيْنَ : باز آنے والے (کفر سے)][ حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ : جب تک کہ (نہ) پہنچے ان کے پاس ][ الْبَيِّنَةُ : روشن دلیل ]
ترکیب : (آیت۔ 1) لَمْ یَکُنْ میں کَانَ کا اسم اَلَّذِیْنَ سے اَلْمُشْرِکِیْنَ تک کا پورا فقرہ ہے اور مُنْفَکِّیْنَ اس کی خبر ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ اَلْمُشْرِکِیْنَ سابقہ مِنْ پر عطف ہونے کی وجہ سے حالت جَر میں ہے۔ (آیت۔ 2) رَسُولٌ کو اگر خبر مانیں تو اس سے پہلے اس کا مبتدا محذوف مانا جائے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس کو فاعل مانیں اور اس سے پہلے فعل فَقَدْ جَائَ یا فَقَدْ اَتٰی محذوف مانیں۔ دونوں صورتوں میں یہ پورا جملہ سابقہ اَلْبَیِّنَۃُ کی وضاحت ہے۔ ترجمہ میں ہم دوسری صورت کو ترجیح دیں گے کیونکہ ایسی صورت میں آگے فعل مضارع یَتْلُوْا کو رَسُوْلٌ کا حال ماننے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے، جو زیادہ حسب حال ہے۔ صُحْفًا مُّطَھَّرَۃً یہ پورا مرکب توصیفی نکرہ مخصوصہ ہے۔ اور آگے کا پورا جملہ اس کی خصوصیت ہے۔ (آیت۔ 3) کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ مبتدا مؤخر نکرہ ہے اس کی خبر موجودۃُ محذوف ہے اور فِیْھَا قائم مقام خبر مقدم ہے۔ اس میں ھَا کی ضمیر صُحُفًا مُّطَھَّرَۃٌ کے لیے ہے۔ (آیت۔ 5) لِیَعْبُدُوا پر لام کَی نہیں ہے۔ آیت میں سے مَا نا فیہ اور اِلاَّ کو نکال دیں تو عبارت یوں بنتی ہے۔ وَاُمِرُوْا لِیَعْبُدُوْا۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ اس پر لام کَی نہیں بلکہ لام امر ہے اور یَعْبُدُوْا منصوب نہیں بلکہ مجزوم ہے۔ ترجمہ اسی لحاظ سے کرنا ہوگا۔ مُخْلِصِیْنَ حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے اور یہ اسم الفاعل ہے۔ اس نے الدِّیْنَ کو نصب دی ہے۔ یُقِیْمُوْا اور یُؤْتُوْا سابقہ لِیَعْبُدُوْا کے لام امر پر عطف ہونے کی وجہ سے مجزوم ہیں۔ دِیْنُ الْقِیَمّۃِ مرکب اضافی ہے۔ اَلْقَیِّمَۃِ مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے دِیْنُ کی صفت نہیں ہوسکتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کا موصوف یہاں محذوف ہے جو اَلْمِلَّۃِ یا اَلرِّجَالِ ہوسکتا ہے۔
نوٹ 1: قرآن مجید کی ترتیب میں سورة البینہ کو سورة علق اور سورة قدر کے بعد رکھنا بہت معنی خیز ہے۔ سورة علق میں پہلی وحی درج کی گئی ہے۔ سورة قدر میں بتایا گیا ہے کہ وہ کب نازل ہوئی اور اس سورة میں بتایا گیا ہے کہ اس کتاب کے ساتھ ایک رسول بھیجنا کیوں ضروری تھا۔
نوٹ 2: کفر میں مشترک ہونے کے باوجود اہل کتاب اور مشرکین، دونوں گروہوں کو دو الگ الگ ناموں سے یاد کیا گیا ہے۔ اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے پاس انبیاء کی لائی ہوئی کتابیں تھیں اور مشرکین سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی نبی کے پیرو اور کسی کتاب کے ماننے والے نہ تھے۔ اگرچہ قرآن مجید میں اہل کتاب کے شرک کا بہت سے مقامات پر ذکر کیا گیا ہے لیکن قرآن میں کہیں بھی ان کے لیے مشرک کی اصطلاح استعمال نہیں کی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اصل دین تو توحید ہی کو مانتے تھے اور پھر شرک کرتے تھے۔ بخلاف اس کے غیر اہل کتاب کے لیے مشرک کا لفظ بطور اصطلاح استعمال کیا گیا ہے کیونکہ وہ اصل دین شرک ہی کو قرار دیتے تھے اور توحید کو ماننے سے ان کو قطعی انکار تھا۔ یہ فرق ان دونوں گروہوں کے درمیان صرف اصطلاح میں ہی نہیں بلکہ شریعت کے احکام میں بھی ہے۔ اہل کتاب کا ذبیحہ مسلمانوں کے لیے حلال کیا گیا اور ان کی عورتوں سے نکاح کی اجازت دی گئی۔ جبکہ مشرکین کا نہ ذبیحہ حلال ہے اور نہ ان کی عورتوں سے نکاح حلال ہے۔ (تفہیم القرآن)
نوٹ 3: آیت۔ 1 ۔ کا مطلب ہے کہ ان لوگوں کے کفر سے نکلنے کی کوئی صورت اس کے سوا نہ تھی کہ ایک روشن دلیل آ کر انھیں کفر کی ہر صورت کا غلط اور خلافِ عقل ہونا سمجھائے اور راہ راست کو واضح اور مدلل طریقے سے ان کے سامنے پیش کر دے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس روشن دلیل کے آجانے کے بعد وہ سب کفر سے باز آجانے والے تھے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دلیل کی غیر موجودگی میں ان کا حالت کفر سے نکلنا ممکن ہی نہ تھا۔ البتہ اس کے آنے کے بعد بھی ان میں سے کچھ لوگ اگر کفر پر قائم رہیں تو اس کی ذمہ داری پھر ان ہی پر ہے۔ (تفہیم القرآن)
نوٹ 4: کفروشرک کی عالمگیر ظلمت کو دور کرنے کے لیے رب العالمین کی حکمت ورحمت کا تقاضہ یہ ہوا کہ جیسے یہ مرض شدید اور عالمگیر ہے، اس کے علاج کے لیے ویسا ہی کوئی ماہر معالج بھیجنا چاہیے آگے اس ماہر حکیم کی صفت بیان کی کہ اس کا وجود ایک اَلْبَیِّنَۃ یعنی روشن دلیل ہو۔ آگے فرمایا اس معالج سے مراد اللہ کا وہ رسول ہے جو قرآن کی واضح حجت لے کر ان کے پاس آئے۔ آگے قرآن کی چند اہم صفات کا بیان ہے۔
تلاوت کے معنے پڑھنے کے ہیں لیکن ہر پڑھنے کو تلاوت نہیں کہا جاتا بلکہ تلاوت اس پڑھنے کو کہتے ہیں جو پڑھانے والے کی تلقین کے بالکل مطابق ہو۔ کتاب اور صحیفہ تقریباً ہم معنی لفظ ہیں۔ لیکن کتاب کا لفظ حکم کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے اور قرآن میں بھی اس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً الانفال۔ 68 ۔ اس جگہ بھی یہی دوسرے معنی مراد ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ صُحُفًا مُّطَھَّرَۃً سے مراد یہ ہے کہ یہ صحیفے جھوٹ، شک، نفاق اور گمراہی سے پاک ہیں۔ آگے قَیِّمَۃ کو اگر مستقیم کے معنی میں کتب یعنی احکام کی صفت لیں تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ احکام منصفانہ اور معتدل ہیں اور اگر اس کو مضبوط ومستحکم کے معنی میں لیں تو مطلب ہوگا کہ یہ احکام جو قرآن میں آئے ہیں قیامت تک قائم رہیں گے۔ (معارف القرآن)
Ayah 98:2[رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ : (تو آچکا ہے) ایک رسول اللہ کی طرف سے ][ يَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً : پڑھتا ہوا ایسے پاکیزہ صحیفے ]
Ayah 98:3[فِيْهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ: جن میں پختہ لکھی ہوئی باتیں (احکام) ہیں ]
Ayah 98:4[وَمَا تَفَرَّقَ : اور الگ الگ نہیں ہوئے ][ الَّذِينَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ : وہ لوگ جن کو دی گئی کتاب ][ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا : مگر اس کے بعد سے جو ][ جَاۗءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ : آئی ان کے پاس واضح بات ]
نوٹ 5: آیت۔ 4 ۔ میں تفرق سے مراد وہ انکار واختلاف ہے جو قرآن اور نبی کریم ﷺ کی نبوت کے بارے میں اہل کتاب میں پیدا ہوا۔ ان کی آسمانی کتب تورات و انجیل میں رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا، آپ ﷺ کی خاص خاص صفات کا اور آپ ﷺ پر قرآن نازل ہونے کا واضح ذکر موجود تھا۔ اس لیے کسی یہودی یا نصرانی کو اس میں اختلاف نہیں تھا کہ آخر زمانے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لائیں گے، آپ ﷺ پر قرآن (اللہ کا کلام) نازل ہوگا اور آپ ﷺ ہی کا اتباع سب پر لازم ہوگا۔ مگر جب اللہ کا اَلْبَیِّنَہ یعنی رسول آخر الزماں تشریف لے آئے تو ان میں افتراق پیدا ہوگیا کہ کچھ لوگ تو آپ ﷺ پر ایمان لے آئے اور بہت سے انکار کرنے لگے۔ یہ معاملہ چونکہ اہل کتاب ہی کے ساتھ مخصوص تھا اس لیے اس آیت میں صرف اہل کتاب ہی کا ذکر فرمایا ہے، مشرکین کو شامل نہیں کیا۔ (معارف القرآن)
Ayah 98:5[وَمَآ اُمِرُوْٓا : اور ان لوگوں کو حکم نہیں دیا گیا سوائے اس کے کہ ][ اِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ : چاہیے کہ وہ لوگ بندگی کریں اللہ کی ][ مُخْلِصِيْنَ : خالص کرنے والے ہوتے ہوئے ][ لَهُ الدِّيْنَ : اسی کے لیے ضابطۂ حیات (دین) کو ][ حُنَفَاۗءَ : یکسو ہوتے ہوئے ][ وَيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ : اور چاہیے کہ وہ لوگ قائم کریں نماز کو ][ وَيُؤْتُوا الزَّكٰوةَ : اور چاہیے کہ وہ لوگ پہنچائیں زکوٰۃ کو ][ وَذٰلِكَ : اور یہ ہے ][ دِيْنُ الْقَيِّمَةِ : (لوگوں کا) پختہ ضابطۂ حیات (دین)]
Ayah 98:6[ان الَّذِينَ كَفَرُوْا : بیشک وہ لوگ جنھوں نے انکار کیا ][ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ : اہل کتاب میں سے ][ وَالْمُشْرِكِيْنَ : اور (بیشک) سب شرک کرنے والے ][ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ : جہنم کی آگ میں ہیں ][ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭ: ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے اس میں ][ اُولٰۗىِٕكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ : وہ لوگ ہی تمام مخلوق کے بدترین ہیں ]
ترکیب 1: اَلْمُشْرِکِیْنَ کے دو امکانات ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو مِنْ پر عطف مانا جائے۔ ایسی صورت میں مطلب ہوگا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ وَ (مِنَ ) الْمُشْرِکِیْنَ ۔ دوسرے یہ کہ اس کو اِنَّ پر عطف مانا جائے۔ ایسی صورت میں مطلب ہوگا وَ (اِنَّ ) الْمُشْرِکِیْنَ ۔ دونوں ترجمے درست مانے جائیں گے۔ یہ پورا فقرہ مبتدا ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے۔ فِیْ نَارِ جَھَنَّمَ قائم مقام خبر ہے اور خٰلِدِیْنَ حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے ھُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ میں ھُمْ ضمیر فاصل ہے۔ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ مرکب اضافی ہے اس لیے یہاں شَرُّ تفضیل کل (SuperlativeDegree ) ہے۔ (دیکھیں آسان عربی گرامر حصہ سوم، پیراگراف :6:62) اَلْبَرِیَّۃِ دراصل فَعِیْلٌ کے وزن پر بَرِیْئٌ کا مونث بَرِیْئَۃٌ ہے، اس کو اس طرح بھی پڑھتے ہیں اور ہمزہ کو یا میں تبدیل کر کے بَرِیَّۃٌ بھی پڑھتے ہیں۔
نوٹ 1: آیت۔ 6 ۔ میں فرمایا کہ جو قرآن کی تکذیب کر کے کفر کے مرتکب ہوئے ہیں وہ سب جہنم میں بھر دئیے جائیں گے۔ ساتھ ہی یہ تاکید بھی ہے کہ وہ اس جہنم میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخل کیے جائیں گے۔ یہاں اہل کتاب کے زعم پر نظر رہے کہ اول تو دوزخ کی آگ سے ان کو کوئی سابقہ پڑنے والا نہیں ہے اور اگر پڑا بھی تو وہ چند دنوں سے زیادہ کے لیے نہیں ہوگا۔ آگے اُولٰگکَ ھُمْ شَرُّالْبَرِیَّۃِ فرما کر ان کے غرور و تکبر پر ضرب لگائی گئی ہے۔ اہل کتاب اور مشرکین کے سردار قرآن اور پیغمبر ﷺ پر ایمان لانے کے لیے شرط لگاتے تھے کہ جب تک کوئی فرشتہ آسمان سے نہیں اترے گا یا ایسی ہی دوسری شرائط لگاتے کہ اس کے بغیر وہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ محمد ﷺ اپنے دعوائے رسالت میں سچے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ شرائط وہ اس غرور کی بنا پر لگاتے تھے کہ وہ اپنے ہی اند رکے ایک شخص کو جو دنیوی اعتبار سے ان سے کم تر بھی ہے، خدا کا رسول مان کر اس کی اطاعت کا قلاوہ اپنی گردن میں کس طرح ڈال لیں۔ ان کا یہ غرور قبول حق سے مانع بنا جس نے ان کو بدترین مخلوق بنادیا۔
Ayah 98:7[ان الَّذِينَ اٰمَنُوْا : بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے ][وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ: اور انھوں نے عمل کیے نیکیوں کے ][ اُولٰۗىِٕكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ : وہ لوگ ہی تمام مخلوق کے بہترین ہیں ]
Ayah 98:8[جَزَاۗؤُهُمْ : ان لوگوں کی جزا ][ عِنْدَ رَبِهِمْ : ان کے رب کے پاس ][ جَنّٰتُ عَدْنٍ : عدن کے باغات ہیں ][ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْانهٰرُ : بہتی ہیں جن کے دامن سے نہریں ][ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا : ایک حالت میں رہنے والے ہوتے ہوئے اس میں ہمیشہ ][ ۭرَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ : راضی ہوا اللہ ان لوگوں سے ][ وَرَضُوْا عَنْهُ ۭ: اور وہ لوگ راضی ہوئے اس سے ][ ذٰلِكَ لِمَنْ : یہ اس کے لیے ہے جو ][ خَشِيَ رَبَّهٗ : مرعوب ہوا اپنے رب سے ]
(آیت۔ 8) جزاؤُھُمْ مبتدا ہے۔ عِنْدَ رَبِّھِمْ اس کی خبر نہیں ہے بلکہ متعلق خبر مقدم ہے اور جَنّٰتُ عَدْنٍ اس کی خبر ہے۔
نوٹ 2: آیت۔ 8 ۔ میں اہل جنت کی سب سے بڑی نعمت کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے، اب ناراضی کا کوئی خطرہ نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے خطاب فرمائیں گے یَا اھْلَ الْجَنَّۃِ تو اہل جنت جواب دیں گے لَبَّیْکَ رَبَّنَا وَ سَعْدَیْکَ وَالْخیْرُ کُلُّہٗ فِیْ یَدَیْکَ ۔ پھر حق تعالیٰ فرمائیں گے ھَلْ رَضِیْتُمْ ۔ وہ جواب دیں گے اے ہمارے پروردگار اب بھی راضی نہ ہونے کا کیا احتمال ہے جبکہ آپ نے ہمیں وہ سب کچھ عطا فرما دیا جو کسی مخلوق کو نہیں مِلا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا میں تم کو اس سے بھی افضل اور بہتر نعمت دے دوں۔ پھر فرمائیں گے کہ میں نے اپنی رضا تمہارے اوپر نازل کردی اب کبھی تم سے ناراض نہ ہوں گا۔ اس حدیث میں اہل جنت سے پوچھا گیا ہے کہ آپ راضی بھی ہو۔ اور اس آیت میں خبر دی گئی ہے کہ اہل جنت اللہ تعالیٰ سے راضی ہوں گے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کے ہر حکم اور ہر فعل سے راضی ہونا تو لازمۂ عبدیت ہے۔ اس کے بغیر تو کوئی جنت میں جا ہی نہیں سکتا، پھر یہاں اہل جنت کی رضامندی کا ذکر کرنے کا کیا مطلب ہے جواب یہ ہے کہ رضا کے عام مفہوم کے اعتبار سے تو رضاء بالقدر فرائض عبدیت میں سے ہے لیکن رضا کا ایک درجہ اور بھی ہے جو اس سے آگے ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اس کی ہر مراد عطا کردیں اور کوئی تمنا یا آرزو باقی نہ چھوڑیں۔ (معارف القرآن)
نوٹ 3: سورت کے آخر میں وہ بات بتادی جس پر تمام دینی کمالات اور آخرت کی نعمتوں کا مدار ہے اور وہ ہے اللہ کی خشیت۔ خشیت اس خوف کو نہیں کہا جاتا جو کسی دشمن، درندے یا موذی چیز سے طبعاً ہوتا ہے بلکہ خشیت اس خوف کو کہتے ہیں جو کسی کی عظمت اور جلال سے پیدا ہو اور جس کا تقاضہ یہ ہو کہ وہ ہر کام اور ہر حال میں اس کی رضاجوئی کی فکر کرے اور ناراضی کے شبہہ سے بھی بچتا رہے۔ یہی وہ چیز ہے جو انسان کو عبد کامل اور مقبول بنانے والی ہے۔ (معارف القرآن)
مورخہ 5 ۔ صفر 1432 ھ بمطابق 10 ۔ جنوری 2011 ء