Ayah 99:1[اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ : جب ہلایا جائے گا زمین کو ][ زِلْزَالَهَا : جیسے اس کو ہلا مارنے کا حق ہے ]
ترکیب : (آیت۔ 1 تا 3) بات اِذَا سے شروع ہو رہی ہے اس لیے ان آیات میں آے والے افعال ماضی کا ترجمہ مستقبل میں ہوگا۔
نوٹ 1: اس میں اختلاف ہے کہ یہاں جس زلزلہ کا ذکر ہے، یہ وہ زلزلہ ہے جو نفخۂِ اولٰی (پہلا صور پھونکے جانے) سے پہلے دنیا میں ہوگا، جیسا کہ علاماتِ قیامت میں ذکر آیا ہے۔ یا اس زلزلہ سے مراد وہ زلزلہ ہے جو دوسرا صور پھونکے جانے کے بعد ہوگا جب مردے زندہ ہو کر اٹھیں گے۔ مفسرین کے اقوال مختلف ہیں لیکن آگے احوال قیامت اور حساب کتاب کا ذکر ہے، وہ قرینہ اسی کا ہے کہ یہ زلزلہ دوسرا صور پھونکے جانے کے بعد کا ہے۔ (معارف القرآن) ۔
اس وقت زمین جو کچھ اس کے پیٹ میں ہے مثلاً مردے یا سونا چاندی وغیرہ، سب کچھ باہر اگل ڈالے گی لیکن اس وقت مال کا کوئی لینے والا نہ ہوگا۔ (ترجمہ شیخ الہند (رح) ) ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ زمین اپنے جگر کے ٹکڑے بڑی چٹانوں کی صورت میں اگل دے گی۔ اس وقت ایک شخص جس نے مال کے لیے کسی کو قتل کیا تھا وہ دیکھ کر کہے گا یہ وہ چیز ہے جس کے لیے میں نے اتنا بڑا جرم کیا تھا۔ جس شخص نے اپنے رشتہ داروں سے مال کی وجہ سے قطع تعلق کیا تھا وہ کہے گا یہ ہے وہ چیز جس کے لیے میں نے یہ حرکت کی تھی۔ چوری کی سزا میں جس چور کا ہاتھ کاٹا گیا تھا وہ کہے گا اس کے لیے میں نے اپنا ہاتھ گنوایا تھا۔ پھر کوئی بھی اس سونے کی طرف التفات نہ کرے گا۔ (معارف القرآن)
Ayah 99:2[وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ : اور نکال ڈالے گی زمین ][ اَثْقَالَهَا : اپنے سارے بوجھ ]
Ayah 99:3[وَقَالَ الْانسَان : اور کہے گا انسان ][مَالَهَا : اس کو کیا (ہوگیا) ہے ]
Ayah 99:4[يَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ : اس دن وہ بیان کرے گی ][ اَخْبَارَهَا : اپنی خبریں ]
(آیت۔ 4) تُحَدِّثُ کا مفعول اَخْبَارَھَا بنفسہٖ آیا ہے۔ اس حوالے سے نوٹ کرلیں کہ حَدَّثَ کا مفعول بِ کے صلہ کے ساتھ بھی آتا ہے اور بنفسہٖ بھی آتا ہے۔
نوٹ 2: آیت۔ 4 ۔ کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ حالات یہ ہیں کہ زمین ہر بندے اور بندی کے بارے میں اس عمل کی گواہی دے گی جو اس کی پیٹھ پر اس نے کیا ہوگا۔ وہ کہے گی کہ اس نے فلاں دن فلاں کام کیا تھا۔ یہ ہیں وہ حالات جو زمین بیان کرے گی۔
زمین کے متعلق یہ بات کہ وہ قیامت کے روز اپنے اوپر گزرے ہوئے سب حالات و واقعات بیان کرے گی، قدیم زمانے کے آدمی کے لیے تو بڑی حیران کُن ہوگی کہ آخر زمین کیسے بولنے لگے گی، لیکن آج علوم طبعی کے انکشافات اور سنیما، ریڈیو، ٹیلیویژن، ٹیپ ریکارڈر، الیکٹرانکس وغیرہ ایجادات کے اس دور میں یہ سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں کہ زمین اپنے حالات کیسے بیان کرے گی۔ انسان اپنی زبان سے جو کچھ بولتا ہے اس کے نقوش ہوا میں، ریڈیائی لہروں میں اور مختلف جگہوں کے ذرات میں ثبت ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس وقت چاہے ان ساری آوازوں کو ٹھیک اسی طرح ان چیزوں سے دہروا سکتا ہے جس طرح کبھی وہ انسان کے منہ سے نکلی تھیں۔ پھر انسان نے زمین پر جہاں بھی کوئی کام کیا ہے اس کی ایک ایک حرکت کا عکس اس کے گردوپیش کی تمام چیزوں پر پڑا ہے اور اس کی تصویر ان پر نقش ہوچکی ہے۔ بالکل گھپ اندھیرے میں بھی اس نے کوئی فعل کیا ہو تو خدا کی خدائی میں ایسی شعاعیں موجود ہیں جن کے لیے اندھیرا اور اجالا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ وہ ہر حالت میں اس کی تصویر لے سکتی ہیں۔ یہ ساری تصویریں قیامت کے روز ایک متحرک فلم کی طرح انسان کے سامنے آجائیں گی۔
اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کے اعمال کو براہ راست خود جانتا ہے، مگر آخرت میں جب وہ عدالت قائم کرے گا تو جس کو بھی سزا دے گا، انصاف کے تمام تقاضے پورے کر کے دے گا۔ اس کی عدالت میں ہر مجرم انسان کے خلاف جو مقدمہ قائم کیا جائے گا، اس کو ایسی مکمل شہادتوں سے ثابت کردیا جائے گا کہ اس کے مجرم ہونے میں کسی کلام کی گنجائش باقی نہ رہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 99:5[بِان رَبَّكَ : (یہ) اس سبب سے کہ آپ ﷺ کے رب نے ][ اَوْحٰى لَهَا : الہام کیا اس کو ]
(آیت۔ 5) قرآن مجید میں تقریباً ہر جگہ اَوْحیٰ کا مفعول الیٰ کے صلہ کے ساتھ آیا ہے۔ یہ واحد مقام ہے جہاں اس کی ضمیر مفعولی ھا کے ساتھ لام کا صلہ آیا ہے۔
Ayah 99:6[يَوْمَىِٕذٍ يَّصْدُرُ النَاسُ : اس دن واپس ہوں گے لوگ ][ اَشْتَاتًا : الگ الگ ہوتے ہوئے ][ لِيُرَوْا : تاکہ ان لوگوں کو دکھایا جائے ][ اَعْمَالَهُمْ : ان کا سب کیا دھرا ]
(آیت۔ 6) اَشْتَاتًا حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ یَرَوْا مضارع مجہول ہے جو ثلاثی مجرد اور باب افعال میں ہم شکل ہوجاتے ہیں۔ لیکن یہاں ان میں پہچان کا ایک قرینہ موجود ہے۔ رَئٰ ی۔ یَرٰی (ثلاثی مجرد) کا ایک مفعول آتا ہے، کس کو دیکھا۔ جبکہ اَرٰی۔ یُرِی (باب افعال) کے دو مفعول آتے ہیں، کس کو دکھایا اور کیا دکھایا۔ یہاں یُرَوْا میں شامل ھم کی ضمیر نائب فاعل (یعنی مفعول اوّل) موجود ہے۔ آگے اَعْمَالَھُمْ اس کا مفعول ثانی آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ یہاں یُرَوْا بابِ افعال کا مضارع مجہول ہے۔
Ayah 99:7[فَمَنْ يَّعْمَلْ : پس جس نے (بھی) عمل کیا ][ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا : کسی ذرہ کے ہم وزن کسی بھلائی کا ][ يَّرَهٗ : تو وہ دیکھ لے گا اس کو ]
(آیت۔ 7) مَنْ شرطیہ ہے۔ اس لیے یَعْمَلْ مجزوم آیا ہے۔ یَرٰی جواب شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہوا تو اس کی یا گرگئی۔ ترجمہ جملہ شرطیہ کے لحاظ سے ہوگا۔ یَعْمَلْ کا مفعول خَیْرًا ہے جو نکرہ مخصوصہ ہے۔ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ اس کی خصوصیت مقدم ہے۔
نوٹ 3: آیت۔ 7 ۔ میں خیر سے مراد وُہ خیر ہے جو شرعاً معتبر ہے یعنی جو ایمان کے ساتھ ہو۔ بغیر ایمان کے کوئی نیک عمل اللہ کے نزدیک نیک نہیں یعنی آخرت میں ایسے نیک عمل کا جو حالت کفر میں کیا گیا تھا، کوئی اعتبار نہیں ہوگا، گو دنیا میں اس کو اس کا بدلہ دے دیا جائے۔ اسی لیے اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہوگا وہ بالآخر جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ کیونکہ اس آیت کے وعدے کے مطابق اس کو اپنی نیکی کا پھل بھی آخرت میں ملنا ضرور ہے۔ اگر اور کوئی نیکی نہ ہو تو خود ایمان بہت بڑی نیکی ہے۔ اگلی آیت میں شر سے مراد وُہ شر ہے جس سے اپنی زندگی میں توبہ نہ کرلی ہو، کیونکہ توبہ سے گناہوں کا معاف ہونا قرآن وسنت میں یقینی طور پر ثابت ہے۔ البتہ جس گناہ سے توبہ نہ کی گئی ہو وہ چھوٹا ہو یا بڑا، آخرت میں اس کا نتیجہ ضرور سامنے آئے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایسے گناہوں سے بچنے کا پورا اہتمام کرو جن کو چھوٹا یا حقیر سمجھا جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر بھی مواخذہ ہونا ہے۔ (معارف القرآن) ۔
Ayah 99:8[وَمَنْ يَّعْمَلْ : اور جس نے (بھی) عمل کیا ][ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا : کسی ذرہ کے ہم وزن کسی برائی کا ][ يَّرَهٗ : تو وہ دیکھ لے گا اس کو ]