Ayah 100:1[وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا : قسم ہے ہانپتے ہوئے تیز دوڑنے والوں (گھوڑوں) کی ]
ض ب ح
[ضَبْحًا : (ف) دوڑتے ہوئے سینے سے آواز نکالنا۔ ہانپنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 1 ۔]
ترکیب : عربی میں عام طور پر گھوڑوں کے لیے جمع مؤنث کے صیغے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان آیات میں جمع مؤنث کے صیغوں کا ترجمہ اردو محاورے کے مطابق جمع مذکر میں کیا جائے گا، (آیت۔ 1) ضَبْحًا حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔
نوٹ 1: قرآن مجید جس چیز کی قسم کھا کر کوئی مضمون بیان فرماتا ہے تو اس چیز کو اس مضمون کے ثبوت میں دخل ہوتا ہے۔ یہاں جنگی گھوڑوں کی خدمات کا ذکر اس بات کی شہادت میں لایا گیا ہے کہ انسان بڑا ناشکرا ہے۔ تشریح اس کی یہ ہے کہ جنگی گھوڑے میدان جنگ میں انسان کے حکم اور اشارے کے تحت اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر کیسی کیسی سخت خدمات انجام دیتے ہیں۔ حالانکہ انسان نے ان گھوڑوں کو پیدا نہیں کیا۔ انسان ان کو جو گھاس، دانہ وغیرہ دیتا ہے وہ بھی اس کا پیدا کیا ہوا نہیں ہے۔ اس کا کام صرف اتنا ہے کہ اللہ کے پیدا کیے ہوئے رزق کو ان تک پہنچانے کا ایک واسطہ بنتا ہے۔ اب گھوڑے کو دیکھیں کہ وہ انسان کے اتنے سے احسان کو کیسا پہچانتا اور مانتا ہے کہ اس کے ایک اشارے پر اپنی جان کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ اس کے بالمقابل انسان ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ایک حقیر قطرے سے پیدا کیا، اس کو مختلف کاموں کی قوت بخشی، اس کے کھانے پینے کی ہر چیز پیدا فرمائی اور اس کی تمام ضروریات کو اس تک پہنچا دیا مگر وہ ان تمام احسانات کا شکر گزار بننے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا۔ (معارف القرآن)
نوٹ 2: یہاں انسان کے متعلق دو باتیں کہی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ تکلیفوں کو یاد رکھتا ہے اور نعمتوں اور احسانات کو بھول جاتے ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ مال کی محبت میں شدید ہے۔ یہ دونوں باتیں شرعاً اور عقلاً مذموم ہیں۔ ناشکری کا مذموم ہونا تو بالکل ظاہر ہے لیکن مال کی محبت کو بھی مذموم قرار دیا گیا ہے حالانکہ اس پر انسانی ضروریات کا مدار ہے اور اس کے کسب و اکتساب کو شریعت نے صرف حلال ہی نہیں بلکہ بقدر ضرورت فرض قرار دیا ہے۔ تو مال کی محبت کا مذموم ہونا اس اعتبار سے ہے کہ انسان مال کی محبت سے اتنا مغلوب ہوجائے کہ اللہ کے احکام سے غافل ہوجائے اور حلال و حرام کی پروا نہ رہے۔ اس لیے مال کو کمانا اور بقدر ضرورت جمع کرنا تو مذموم نہیں بلکہ فرض ہے لیکن دل میں اس کی محبت ہونا مذموم ہے۔ جیسے انسان بیماری میں دوا بھی پیتا ہے، آپریشن بھی کراتا ہے مگر دل میں ان چیزوں کی محبت نہیں ہوتی بلکہ بدرجۂ مجبوری اور بقدر ضروت کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ کے نزدیک مومن کو ایسا ہونا چاہیے کہ بقدر ضرورت مال کو حاصل بھی کرے، اس کی حفاظت بھی کرے اور ضرورت پر اس سے کام بھی لے مگر دل اس کے ساتھ مشغول نہ ہو۔ جیسا کہ مولانا رومی (رح) نے فرمایا : کہ پانی جب تک کشتی کے نیچے رہے تو وہ کشتی کا مددگار ہے مگر یہی پانی جب کشتی کے اندر آجائے تو کشتی کو لے ڈوبتا ہے۔ اسی طرح مال جب تک دل کی کشتی کے اردگرد رہے تو مفید ہے لیکن جب دل کے اندر گھس گیا تو ہلاکت ہے۔ (معارف القرآن)
مال و دولت کے متعلق اسلام کا یہ وہ متوازن طرز فکر اور طرز عمل ہے جو ہمارے پروردگار کو مطلوب ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس کو بیان کرنا اور اس کی تلقین کرنا جتنا آسان ہے، اس کو اپنانا اور لائف اسٹائل بنانا اتنا ہی مشکل ہے۔ یہ اس دنیا کا پُل صراط ہے، بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز۔ کوئی مائی کا لعل گزر نہیں سکتا، اللہ اگر توفیق نہ دے۔ اس لیے اسی کے آگے گڑگڑاتے رہنا چاہیے، اسی سے توفیق و تائید مانگتے رہنا چاہیے۔ یہ لائف اسٹائل اختیار کرنا نسبتاً آسان ہے۔ اور اللہ جب اس راہ کا راہی بنا دے تو پھر کہہ دینا چاہیے حَسْبِیَ اللّٰہ لَا الٰہ الاَّ ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیِمْ (التوبہ۔ 129) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص صبح اور شام اس آیت کو سات سات بار پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کو دین اور دنیا کی فکروں سے نجات دیدے گا۔ (حدیث منقول از صحیفۂ اہل حدیث، 7 ۔ جنوری 2011 ئ۔ مرتب)
Ayah 100:2[فَالْمُوْرِيٰتِ : پھر قسم ہے رگڑ سے آگ نکالنے والوں کی ][ قَدْحًا : جیسا رگڑنے کا حق ہے ]
ق د ح
[قَدْحًا : (ف) دو چیزوں کو رگڑ کر آگ نکالنا، زیر مطالعہ آیت۔ 2 ۔]
(آیت۔ 2) قَدْحًا مصدر ہے اور اس میں رگڑ کر آگ جلانے کا مفہوم ہے۔ جبکہ اَلْمُوْرِیٰتِ مادہ وری سے باب افعال میں اسم الفاعل ہے۔ اس میں بھی رگڑ کر آگ جلانے والے کا مفہوم ہے۔ یہ دونوں ہم معنی ہونے کی وجہ سے بہتر ہے کہ قَدْحاً کو مُوْرِیَات کا مفعول مطلق مانا جائے۔ (حافظ احمد یار صاحب) ۔ اَلْمُوْرِیٰتِ کو حالت نصب میں ماننے کی کوئی وجہ یا قرینہ یہاں موجود نہیں ہے۔ اس لیے اس کو پہلی آیت کے واو قسمیہ پر عطف مان کر حالت جَرّ میں مانا جائے گا۔ ضَبْحًا ظرف ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔
Ayah 100:3[فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًا : پھر قسم ہے صبح کے وقت غارتگری کرنے والوں کی ]
Ayah 100:4[فَاَثَرْنَ : پھر وہ اٹھاتے ہیں اس (وقت) میں ][ بِهٖ نَقْعًا : گردوغبار کو ]
ن ق ع
[نَقْعاً : (ف) کسی جگہ پانی کا جمع ہو کر ٹھہر جانا۔ گردوغبار کا گر کر بیٹھ جانا۔]
[ نَقْعٌ اسم ذات بھی ہے۔ گردوغبار۔ ٹھہرا ہوا پانی۔ زیر مطالعہ آیت۔ 4 ۔]
(آیت۔ 4 ۔ 5) ۔ اَثَرْنَ اور وَسَطْنَ فعل ماضی میں جمع مؤنث کے صیغے ہیں۔ لیکن ان میں آفاقی صداقت یعنی گھوڑوں کی مستقل خصلت کا بیان ہے اس لیے ان کا ترجمہ حال میں ہوگا۔ (دیکھیں آیت۔ 2:49 ۔ نوٹ۔ 2) ۔ نَقَعًا اور جَمْعاً بالترتیب اَثَرْنَ اور وَسَطْنَ کے مفعول ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں۔
Ayah 100:5[فَوَسَطْنَ بِهٖ : پھر وہ درمیان میں گھس جاتے ہیں اس وقت ][ جَمْعًا : کسی جماعت کے ]
Ayah 100:6[ان الْانسَان لِرَبِهٖ : بیشک انسان اپنے رب کے لیے ][ لَكَنُوْدٌ: یقینا انتہائی ناشکرا ہے ]
ک ن د
[کُنُوْدًا : (ن) زمین کا بنجر ہونا۔ انسان کا ناشکری کرنا ]
[ کَنُوْدٌ فَعُوْلٌ کے وزن پر مبالغہ ہے۔ نعمتوں کو بھولنے والا اور مصائب کو شمار کرنے والا۔ انتہائی ناشکرا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 6 ۔]
Ayah 100:7[وَانهٗ عَلٰي ذٰلِكَ : حالانکہ بیشک وہ اس (بات) پر ][ لَشَهِيْدٌ: یقینا معائنہ کرنے والا ہے ]
Ayah 100:8[وَانهٗ لِحُبِ الْخَيْرِ : اور بیشک وہ مال کی محبت کے لیے ][ لَشَدِيْدٌ: یقینا بہت سخت ہے ]
Ayah 100:9[اَفَلَا يَعْلَمُ : تو کیا وہ جانتا نہیں (اس وقت کو)][ اِذَا بُعْثِرَ : جب کریدا جائے گا ][ مَا فِي الْقُبُوْرِ : اس کو جو قبروں میں ہے ]
Ayah 100:10[وَحُصِّلَ مَا : اور حاصل کرلیا جائے گا اس کو جو ][ فِي الصُّدُوْرِ : سینوں میں ہے ]
ح ص ل
[حُصُوْلاً : (ن) حاصل ہونا۔ باقی رہنا۔]
(تفعیل) تحصیلاً حاصل کرنا، ظاہر کرنا، کان سے سونا، چاندی یا دوسری معدنیات نکالنا۔ کسی چیز کا چھلکا اتار کر گودہ نکالنا۔ (زیر مطالعہ آیت۔ 10)
نوٹ 3: آیت۔ 10 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ ظاہری افعال کے پیچھے جو باطنی محرکات (Motives) چھپے ہوئے ہیں وہ سب کھول کر رکھ دئیے جائیں گے اور ان کی جانچ پڑتال کر کے اچھائی برائی کو الگ الگ کردیا جائے گا۔ یعنی فیصلہ صرف ظاہر ہی کو دیکھ کر نہیں کیا جائے گا کہ انسان نے عملاً کیا کچھ کیا۔ بلکہ دلوں میں چھپے ہوئے رازوں کو نکال کر دیکھا جائے گا کہ انسان نے جو کام کیے وہ کس نیت اور کس غرض سے کیے۔ اس بات پر اگر انسان غور کرے تو وہ یہ تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اصلی اور مکمل انصاف خدا کی عدالت کے سوا اور کہیں نہیں ہوسکتا۔ دنیا کے لادینی قوانین بھی اصولی حیثیت سے یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ کسی شخص کے محض ظاہری فعل کی بنا پر اسے سزا نہ دی جائے بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ اس نے کس نیت سے وہ فعل کیا۔ لیکن دنیا کی کسی عدالت کے پاس وہ ذرائع نہیں ہیں جن سے وہ نیت کی ٹھیک ٹھیک تحقیق کرسکے۔ یہ صرف اور صرف خدا ہی کرسکتا ہے کہ انسان کے ہر ظاہری فعل کے پیچھے جو باطنی محرکات کارفرما رہے ہیں ان کی بھی جانچ پڑتال کر کے جزا یا سزا کا فیصلہ کرے۔ پھر آیت کے الفاظ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ فیصلہ محض اللہ کے اس علم کی بنا پر نہیں ہوگا جو وہ دلوں کے ارادوں اور نیتوں کے بارے میں پہلے ہی سے رکھتا ہے، بلکہ قیامت کے روز ان رازوں کو کھول کر سامنے رکھ دیا جائے گا اور کھلی عدالت میں یہ دکھایا جائے گا کہ ان میں خیر کیا تھی اور شر کیا تھا۔ (تفہیم القرآن)
مورخہ 12 صفر 1432 ھ۔ بمطابق 17 ۔ جنوری 2011 ئ۔
Ayah 100:11[ان رَبَّهُمْ بِهِمْ : بیشک ان کا رب ان کے بارے میں ][ يَوْمَىِٕذٍ لَّخَبِيْرٌ: اس دن یقینا خبررکھنے والا ہے ]