98. Surah Al-Bayyina

البينةThe Evidence · 8 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 98:1

لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ مُنْفَكِّیْنَ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ الْبَیِّنَةُۙ Open ayah 98:1 in the Quran reader

اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے کفر کیا اور مشرکین (مکہ کفر سے) باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس ایک روشن دلیل نہ آتی (چنانچہ وہ دلیل آگئی)

اہل کتاب اور مشرکین باز آنے والے نہ تھے جب کہ ان کے پاس روشن دلیل نہ آتی 1 ؎ (منفکین) کا اصل مادہک ک ہے اور اس مادہ کے صرف دو الفاظ قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں ایک سورة البلد آیت 13 میں (فک) کا لفظ اور اس جگہ ( منفکین) کا لفظ ۔ یہ اسم فاعل جمع مذکر منصوب ہے جس کا واحد منفک ہے اور انفکاک ہے ۔ اس کا مصدر ہے باب انفعال ، باز رہنے والے ، جدا ہونے والے ، چھوٹنے والے ۔ مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے کفر کیا اور مشرکین مکہ سے بھی جن لوگوں نے رسول اللہ ﷺ ، قرآن کریم اور آخرت سے انکار کیا وہ کبھی اس کفر سے باز آنے والے ، اس کفر سے الگ ہونے والے اور اس کفر کو چھوڑنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس کوئی روشن دلیل نہ آجاتی ۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے عرب کے لوگ دو گروہوں میں بٹے ہوئے تھے ایک گروہ وہ تھا جو سرے سے کسی نبی و رسول پر ایمان نہیں رکھتا تھا اور نہ ہی ان کے پاس کوئی آسمانی صحیفہ تھا۔ ان میں کوئی اپنے بزرگوں کی پرستش کرتا تھا اور کوئی کو اکب کی عبادت میں لگا ہوا تھا اور کوئی آگ کو اپنا معبود مانتا اور تسلیم کرتا تھا۔ ان کے عقائد میں شدید اختلاف کے باوجود جو قدر مشترک تھی وہ شرک تھا اور دوسرا گروہ وہ ان لوگوں کا تھا جو کسی نہ کسی نبی کے امتی ہونے کے دعویدار تھے اور ان کے پاس کوئی نہ کوئی آسمانی کتاب تھی لیکن مرد زمانہ سے وہ بھی کھلی گمراہی میں مبتلا ہوچکے تھے۔ ان کے آسمانی صحیفے تحریف کی نذر ہوچکے تھے اور ان کے اعمال و عقائد میں واضح بگاڑ پیدا ہوچکا تھا ۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) کی تعلیمات سے انہیں کوئی دلچسپی نہ تھی اور خود ساختہ اور اختراعی مزعومات کو اپنا دین بنا لیا تھا۔ ان کا بگاڑ اس حد تک پہنچ چکا تھا کہ کوئی سیدنا عزیز (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دیتا تھا اور کوئی مسیح (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا یقین کرتا تھا۔ اگرچہ شرک میں یہ لوگ بھی دیگر مشرکین سے پیچھے نہ تھے لیکن فرضی طور پر جو کچھ وہ مانتے تھے اس ماننے کے باعث ان کو ان سے الگ کر کے بیان کیا گیا اور قرآن کریم نے ان کا جہاں بھی ذکر کیا ان کو الگ الگ ناموں سے یاد کیا ۔ پہلے گروہ کو مشرک کہا گیا اور دوسرے گروہ کو اہل کتاب اس لیے کہ دوسرا گروہ اپنے آپ کو ایک ایسے دین کا پیرو کہلاتا تھا جو بنیادی طور پر دین توحید سے اس لیے قرآن کریم نے انہیں مشرکین کے لفظ سے یاد نہیں کیا لیکن نام کے علاوہ کام چونکہ ان کے ایک جیسے تھے اس لیے ان کو مشرکین کے ساتھ اہل کتاب کے نام سے جوڑ دیا گیا گویا ان کے نام تو جدا جدا رہے لیکن احکام ایک جیسے تھے اس لیے ان کو ہدایت یافتہ قرار نہیں دیا ۔ اسی طرح شرعی احکام میں بھی اس فرق کو ملحوظ رکھا گیا لیکن اس میں کچھ تفصیلات جن کے ذکر کا یہاں موقع نہیں ہے اختصار اس کا یہ ہے کہ اہل کتاب کے مشرکین کو دوسرے مشرکین کے ساتھ اکٹھا رکھا اور اہل کتاب میں جو مشرک نہیں تھے ان کو اہل کتاب کے نام سے یاد کرتے ہوئے ان کے احکام کو مشرکین کے احکام سے بالکل الگ رکھا اور یہی حال اب مسلمانوں کی موجودگی میں مسلمانوں کے ساتھ ہونا چاہیے کہ وہ لوگ جو مسلمان کہلا کر مشرک ہیں ان کو مشرکوں کے ساتھ ہی سمجھا جائے گا لیکن وہ لوگ جو مشرک نہیں و ہیں خواہ وہ کتنے ہی گناہ گار ہیں اور برائیوں کے مرتکب ہیں ان کو مسلمانوں ہی کی فہرست میں رکھاجائے گا ۔ مذکورہ آیت میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ ان دونوں گروہوں میں کفر اور شرک اتنا راسخ ہوچکا تھا کہ اب دوسرے درجہ کی کوشش انہیں اس دلدل سے نہیں نکال سکتی ۔ کوئی عالم ، کوئی زائد ، کوئی صلح اب ان کو راہ ہدایت پر نہیں چلا سکتا جن تاریکیوں میں بھی وہ ڈوبے ہوئے ہیں ان کو کوئی معمول روشنی اس تاریکی سے نہیں نکال سکتی ۔ ان کی ہدایت کے لیے تو کوئی بہت قوی دلیل درکار ہے جس کی کرنیں تاریکیوں کا سینہ چاک کر کے رکھ دیں اور شکوک و شبہات کے غبار کو اڑا کر رکھ دیں اور طلوع آفتاب سے جس طرح زمین کا گوشہ گوشہ چمکنے لگتا ہے ہدایت کا کوئی ایسا آفتاب طلوع ہو جو ان کے قلب و اذہان کے کونے کونے میں اجالا کر دے تاکہ اوپر دیکھنے والوں کو اس بات میں کسی قسم کا شبہ نہ رہے ہے تاریکی سے نکل سکیں یا نہ نکل سکیں یہ تو ان کی قسمت کی بات ہے کہ وہ جو کچھ بیجیں گے وہی کل کاٹیں گے۔
Ayah 98:2

رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةًۙ Open ayah 98:2 in the Quran reader

(وہ) اللہ سے آنے والا ایک رسول ہے جو ان کو پاکیزہ صحیفے پڑھ کر سناتا ہے

اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا ایک رسول جو پاکیزہ صحیفے سناتا ہے 2 ؎ ایسی البینہ کون ہو سکتی ہے ؟ فرمایا ایسی بینہ اللہ تعالیٰ کا آخری رسول محمد رسول اللہ ﷺ ہو سکتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے منصب رسالت پر فائز کر کے گمراہیوں کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا ہے ۔ گویا یہ رسول محمد رسول اللہ ﷺ ہی روشنی اور ہدایت کا وہ بلند معیار ہیں جس کی تابنہ شعاعوں سے عالم انسانیت کے نشیب و فراز جگمگا رہے ہیں ، کیوں ؟ فرمایا اس لیے کہ وہ ایسی کتاب کی تلاوت فرماتے ہیں جو ہر قسم کے نقص اور عیب سے پاک ہے اور ہر نقص سے وہ مبرا ہے اور یہ ایسی تعلیمات ہیں کہ جو اس سے پہلے صحائف میں تھا وہ بھی اس میں آگیا اور صرف وہی باقی رہ گیا جس میں اس کے ماننے والوں نے تحریف کی ہے اور اپنی طرف سے انہوں نے اسلام میں داخل کردیا ہے۔ یہ اسلام کے لفظ سے غلط فہمی نہ ہو ۔ نبی اعظم و آخر ﷺ سے پہلے بھی دین اسلام ہی تھا گزشتہ قومیں بھی اسلام پر اکتفا نہ کرسکیں اور اسلام کا نام ترک کر کے انہوں نے نئے نئے نام رکھ لیے اور آج بدقسمتی سے مسلمانوں نے بھی وہی کچھ کیا جو وہ کرتے آ رہے تھے لیکن فرق یہ رہ گیا کہ مسلمانوں نے جو نئے نام رکھے وہ اپنے تک محدود رکھے اور دوسروں کے مقابلہ میں آج بھی اہل اسلام کہلاتے ہیں اس لیے حالت یہ ہوچکی ہے کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور والا معاملہ ہو کر رہ گیا ہے۔
Ayah 98:3

فِیْهَا كُتُبٌ قَیِّمَةٌؕ Open ayah 98:3 in the Quran reader

جن میں قائم رہنے والے احکام ہیں

جن میں قائم رہنے والے احکام میں 3 ؎ یہ گزشتہ آیت کے الفاظ (صحفا مطھرۃ) کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ قرآن کریم میں گزشتہ کتابوں کی ہدایات بھی آگئی ہیں اور وہ بھی جو گزشتہ کتب میں نہیں تھیں سب کی وضاحت بیان کردی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں صرف ایسے احکام و ہدایت ہیں جو سراسرحق اور درست ہیں ۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ آیت زیر نظر میں کتب سے مراد احکامات ہیں لیکن صحیح بات یہ ہے کہ کتب سے مراد گزشتہ صحائف ہیں اور مطلب یہ ہے کہ گزشتہ صحائف کی وہ تعلیم جو کسی طرح کی ملاوٹ سے پاک اور صاف تھی وہ بھی سب کی سب اس میں آگئی ہے اس لیے جس طرح خود نبی اعظم و آخر ﷺ کی ذات ِ اقدس جملہ انسانی کمالات کی مظہر اتم تھی آپ ﷺ کے اخلاق ، سیرت اور اعمال ہر طرح کی آلائش سے اسی طرح پاک و صاف تھے کہ آپ ﷺ کے چہرہ کو دیکھ لینے کے بعد آپ ﷺ کی صداقت کا یقین ہر دل میں پیدا ہوجاتا تھا جو آپ ﷺ کو جھٹلاتے تھے ان کے دل بھی کافی حد تک تصدیق کرتے تھے اور اس کی مثالیں ایک یا دو نہیں بلکہ بہت سی موجود ہیں اور اس طرح جو کتاب یعنی قرآن کریم پڑھ کر سنایا کرتے تھے وہ ہر پہلو سے سراپا اعجاز تھا اور جو نظام حیات اس کتاب نے انسانیت کو بخشا وہ اپنی افادیت اور اپنی ظاہری و باطنی برکتوں کے اعتبار سے اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا اور جب ہدایت کے لیے تینوں سامان بہم ہوجائیں تو پھر ہدایت پذیری میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہتی سوائے اس کے کہ انسان کو اس کی بد بختی اس چشمہ فیض سے سیراب ہونے سے محروم کر دے جس طرح اس وقت کے مسلمانوں کے ساتھ ہورہا ہے کہ وہ سب کے سب اسلام کا نام لیتے ہیں اور ان کے کاموں پر اگر نظر دوڑائی جائے تو ایک کام بھی ایسا نہیں ہے جو خالصتاً اسلام کے نام پر کیا جا رہا ہو اور جو اسلام کے نام پر کیا جا رہا ہے وہ کام بھی اسی فیصد اسلام کا نہیں بلکہ محض رسم و رواج کا ہے۔ قرآن کریم میں دنیا میں ایسی کتاب ہے جس نے اپنے سچ ہونے اور اس میں تحریف نہ ہونے کا حکم منوایا ہے لیکن جو مسلمان اس وقت عملی طور پر کر رہے ہیں وہ سراسر اس کے خلاف ہے اور اس وقت دین کے نام سے جتنے کام کیے جا رہے ہیں ان میں سوال حصہ بھی اسلام کے کام کا نہیں بلکہ زمانہ کے رسم و رواج ہیں لیکن مذہبی ٹھیکہ داروں نے ان کے نام بدل کر ان کو اسلام کے نام سے موسوم کردیا ہے حالانکہ اسلام نے جو کچھ ہم کو دیا ہے ، قرآن کریم نے جو کچھ پیش کیا ہے وہ سراسر سچائی پر مبنی باتیں ہیں اور یہی زیر نظر آیت ہم کو بتا رہی ہے جس کی سچائی میں ذرا بھر بھی شک نہیں ہے۔
Ayah 98:4

وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنَةُؕ Open ayah 98:4 in the Quran reader

اور اہل کتاب نے آپس میں اختلاف کیا لیکن اس کے بعد وہ روشن دلیل ان کے پاس آ چکی

جن لوگوں کو یہ کتاب دی گئی وہ اس کے آنے کے بعد بھی مختلف گروہوں میں تقسیم ہو گئے 4 ؎ ( البینۃ) سے مراد کیا ہے گزشتہ آیت اول میں بھی یہی لفظ آیا ہے جس کا مطلب وہاں بذاتہٖ رسول کیا گیا ہے اور یہی اس جگہ مفہوم صحیح اور درست ہے ۔ لا ریب اس جگہ بھی خود رسول اللہ ﷺ کی ذات ہی اس سے مراد ہو سکتی ہے یا زیادہ سے زیادہ آپ قرآن کریم کو ( البینۃ) کہہ سکتے ہیں تیسرا کوئی مطلب اس کا نہیں لیا جاسکتا ۔ یہود و نصاریٰ نے کیا کیا ؟ یہی کہ وہ بیشمار مذاہب میں تبدیل ہوگئے اور مختلف گروہوں اور فرقوں میں بٹ گئے اور ہر فرقہ اپنے آپ کو دین کا ٹھیکہ دار یقین کرتا تھا اور باقی تمام فرقے اس کے نزدیک گمراہ اور راہ راست سے بھٹکے ہوئے اور دوزخ کا ایندھن تھے۔ ان ہی مذہبی تنگ نظریوں کے باعث باہم جنگ وجدال کا سلسلہ جاری رہتا ، جس کو موقع ملتا دوسروں پر ہل بول کر کشتوں کے پشتے لگا دیتا اور خون کی ندیاں بہا دیتا ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمایا ہے کہ ان کی یہ تفرقہ بازیاں اور تشت و افتراق ، جہالت اور بےعلمی کا نتیجہ نہ تھیں بلکہ بد دماغوں نے اس وقت تفرقہ بازی کی آگ بھڑکائی جب حق کو کھول کر ان کے سامنے رکھ دیا گیا تھا۔ دلائل اور براہین نے حق و باطل کو ممتاز کردیا تھا۔ محض اپنے ذاتی مفادات اور جھوٹی انا کی قربان گاہ پر اپنے ملی اور دینی اتحاد کی یک جہتی کو بھینٹ چڑھا دیا تھا۔ اس وقت اگر اس عبارت کو من و عن اسی طرح رہنے دیں اور صرف یہود و نصاریٰ نے کیا کیا ؟ کی جگہ نام نہاد مسلمانوں نے کیا کیا لگا دیں اور جہاں کہیں تھا ، تھی کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کو ہے سے بدل دیں تو یہی عبارت آج مسلمانوں پر صادق آئے گی لیکن افسوس کہ پہلے فرقوں میں سے بھی ہر ایک نے اپنے آپ کو الگ رکھ کر دوسرے کی بات کی اور یہی کچھ آج ہم کر رہے ہیں کہ ہم یہود و نصاریٰ کا نام لیتے ہیں اور اپنا نام اس میں سے حذف کردیتے ہیں حالانکہ کردار کے لحاظ سے اس طرح ان پر ہم فٹ ہوچکے ہیں کہ کوئی پہچان ہی نہیں سکتا کہ مندیگرم تو دیگری اور اس پر جتنا افسوس کیا جائے اتنا ہی کم ہے بجائے اس کے کہ ہم ان کے حالات سے سبق سیکھتے ہم وہی کچھ ہو کر رہ گئے ہیں اور اس وقت اگر کوئی فرق ہے تو وہ صرف ناموں کا ہے کہ ہمارے ہاں نام اور ہیں اور ان کے ہاں نام اور ہیں۔ ( البینۃ) سے مراد نبی کریم ﷺ کو لے کر اس کا مفہوم اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ کی آمد سے قبل یہود و نصاریٰ دونوں گروہ آپ ﷺ کی آمد آس لگائے بیٹھے تھے اور آپ ﷺ کے لیے چشم براہ تھے کیونکہ دونوں گروہوں میں آپ ﷺ کی آمد یقینی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بڑی بےچینی سے آپ ﷺ کا انتظار کر رہے تھے اور جب بھی کفار کے ساتھ بر سر پیکار ہوتے تو آپ ﷺ کا ذکر کر کے ان کو ڈراتے اور دشمنوں پر فتح حاصل کرنے کی پیش گوئیاں بیان کرتے لیکن جونہی آپ ﷺ تشریف لے آئے اور آپ ﷺ کو آپ ﷺ کے نشانات سے پہچان بھی لیا تو ان کے تیور بدل گئے ، ایسا کیوں ہوا ؟ اس لیے کہ ان کے خیال میں ان کے گروہ میں سے آنے کا بیان تھا لیکن آپ ﷺ جب تشریف لائے تو آپ ﷺ بنی اسرائیل سے نہیں آئے تھے بلکہ بنی اسماعیل میں سے آئے اس لیے انہوں نے ہزار تاویل کی اور آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کو ماننے سے انکار کردیا اور انکے اندر ہدایت کی بجائے حسد وعناد کے شعلے بھڑک اٹھے اور آپ ﷺ پر ایمان لانے سے انہوں نے انکار کردیا اور اپنی آسمانوں کتابوں میں آخر الزمان نبی و رسول کی بیان کردہ نشانیاں آپ ﷺ کے اندر روز روشن کی طرح مشاہدہ کرلینے کے بعد آپ ﷺ کو جھٹلانے پر کمر بستہ ہوگئے اس کی تفصیل چونکہ عروۃ الوثقیٰ ، جلد اول سورة البقرہ کی آیت 89 میں ہم بیان کرچکے ہیں اس لیے اسی پر اکتفا کرتے ہوئے اشارہ دے رہے ہیں کہ محولہ حوالہ کی طرف مراجعت فرمائیں حقیقت آپ پر واضح ہوجائے گی۔
Ayah 98:5

وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۙ۬ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ Open ayah 98:5 in the Quran reader

حالانکہ انہیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں اور عبادت کو اسی کیلئے مخصوص کردیں یکسو ہو کر ثابت قدم رہنے والے ہوں نماز (باجماعت) کی پابندی کرنے والے اور زکوٰۃ ادا کرنے والے ہوں اور یہی سچا (اور سیدھا) قائم رہنے والا دین ہے

حالانکہ ان کو ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا اور دین قیم کی دعوت دی گئی تھی 5 ؎ یہ حقیقت اس وقت کھل کر سامنے آجاتی ہے جب ان دعوتوں کی طرف رخ کیا جائے جن دعوتوں کے ایک سرے پر نوح (علیہ السلام) اور دوسرے پر سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کھڑے ہیں اور قرآن کریم نے ان میں سے 24 ، 25 دعوتوں کا ذکر نام بنام بھی کیا ہے۔ ان میں سے ایک ایک دعوت کا آپ مطالعہ کر کے دییں و کہ ہر نبی و رسول نے اپنی قوم کو سب سے پہلے سبق جو یاد کرایا وہ توحید ہی کا سبق تھا اور وہ قومیں جو آج طرح طرح کے شرک میں مبتلا ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسی قوم نہیں جس کو اس کے نبی و رسول نے اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لانے کا حکم نہ دیا ہو اور غیر اللہ کی عبادت کو ضلالت اور گمراہی نہ کہا ہو ۔ ان دعوتوں میں سے آخری دعوت یعنی سیدنا مسیح (علیہ السلام) کا نام لے کر ان سے قیامت کے روز پوچھے جانے کا ذکر بھی بڑی تفصیل کے ساتھ کیا اگر اس کو دیکھنامطلوب ہو تو عروۃ الوثقیٰ جلد سوم میں سورة المائدہ کی آیت 116 تا 119 کی تفسری نکال کر ملاحظہ کریں بات بالکل صاف ہوجائے گی ۔ بہر حال ان کے انبیاء و رسل (علیہ السلام) نے انہیں یہ تلقین کی کہ اپنے عقائد کو شرک و کفر کی ہر آلائش سے پاک وصاف رکھیں اور صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے عقیدے پر مضبوطی سے جم جائیں۔ پھر آپ ﷺ نے جس عقیدہ کی دعوت دی ہے یہ کوئی نئی دعوت نہیں ہے پہلے انبیاء و رسل (علیہ السلام) نے بھی اپنی امتوں کی یہی دعوت دی تھی اور اپنی اپنی امت اور قوم کو اسی پر ثابت قدم رہنے کی تاکید فرمائی اور ہر باطل سے منہ موڑ کر جو شخص حق کی طرف متوجہ ہوجائے اسے حنیف کہتے ہیں اور حنفناء اس کی جمع ہے جس کی طرف نبیوں اور رسولوں کی دعوتوں کا ذکر کیا گار ہے اور پھر ان کو یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ ان کے گرد و پیش باطل اپنی مختلف شکلوں میں موجود ہے اس لیے ہر باطل سے دامن چھڑا کر وہ پوری یکسوئی کے ساتھ حق کی طرف متوجہ ہوجائیں اور عقیدہ کی اصلاح کے ساتھ ساتھ اپنی عبادات اور احکامات کی ادائیگی کا بھی بار بار حکم دیا ، دانائی اور راست بازی کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ آپ ﷺ کی دعوت کو قبول کرلیتے اور آپ ﷺ کے نقش پا پر چل کر جنت میں مقام حاصل کرتے لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے صاف صاف انکار کردیا اور سر پھیر دیا یہ بات تو خرت یہود و نصاریٰ کی تھی لیکن آپ پر ایمان لانے کے دعویداروں نے جو گل کھلائے انہوں نے یہود و نصاریٰ کے بھی کان کاٹ کر رکھ دیئے اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا ان سے کئی گنا زیادہ آج نام نہاد مسلمان کہلانے والے سواد اعظم نے کر دکھایا کہ ایک اللہ کی بجائے اب گھر گھر معبود و الٰہ بنالیے گئے ایک داتا کی بجائے کئی داتا اور ایک مشکل کشا کی بجائے ہزاروں اور لاکھوں مشکل کشا بناکر رکھ دیئے جو مقام انہوں نے ہیل ، لاۃ ، منوۃ اور عزیٰ کو دیا تھا آج وہی مقام ہمارے ہاں شیخ عبد القادر جیلانی ، علی ہجویری ، صابر کلیری ، سلطان باہو ، شہباز قلند ، لطیف بھٹائی ، مہر علی ، جماعت علی وغیرہ وغیرہ کو دے دیا گیا اور علی مشکل کشا ، نذر اللہ اور نیاز حسین اور اس طرح کے ہزاروں اور لاکھوں شخصیتوں کو حاصل ہے اور مسلمانوں میں اور خصوصاً برصغیر پاک و ہند میں اس وقت کے مشرکین سے ہی حالت بری ہورہی ہے اور ہمارا طبقہ علماء ہے کہ وہ انہی مشرکین کی بات کرتا ہے جب کرتا ہے اپنے دور کے مشرکین کی بات کرنے کی بجائے ان کی وکالت کے لیے کھڑا ہوجاتا ہے۔ بلا شبہ وہی دین سچا اور صحیح دین ہو سکتا ہے جس میں اصلاح عقائد اور اصلاح اعمال کا جامع نظام موجود ہو اور اسلام کے علاوہ کہیں بھی کسی عقائدو اعمال کا یہ حسین امتزاج نظر نہیں آئے گا لیکن افسوس کہ آج وہ بھی ہم کو کتابوں میں بند پڑا نظر آتا ہے اگر کوئی ہمارے معاشرہ میں دیکھنا چاہے تو اس وقت وہ عنقا ہے ، کبھی ہوگا صدر اول یا دور اول میں بہر حال اگر ہم اس کو معاشرہ میں دکھا نہ سکیں تو یہ ہماری کمزوری ہے نہ کہ دین اسلام کی جس کے متعلق قرآن کریم نے ( القیمۃ) کا لفظ لا کر دوسرے ادیان کو چیلنج کردیا ۔ صلوٰۃ کا قیام اور زکوٰۃ کی ادائیگی معاشرہ کو اسلامی معاشرہ بنانے میں مدد دیتی ہے بلکہ اسلامی معاشرہ کی تشکیل کے لیے لازم ہے لیکن اس وقت ان دونوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے کیونکہ دونوں سے وہ مقصد حاصل نہیں ہو رہا جو مقصد ان سے حاصل ہونا چاہیے تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے اور قدرے اس کی تفصیل اس کے مقام پر گزر چکی ہے۔ اختصار کو ایک بارنگاہ میں لائیں کہ اسلامی معاشرہ کے لیے شرک کی بیخ کنی شرط اول ہے کیونکہ اس کا حکم خصوصاً دیا گیا جب تک کسی معاشرہ میں شرک قائم ہو اس وقت تک اس معاشرہ کو اسلامی معاشرہ میں اور جس مملکت میں شرک کی لغت موجود ہو اس مملکت کو اسلامی مملکت نہیں کہا جاسکتا کیونکہ کوئی مملکت صرف کاغذوں میں اسلامی لکھ دینے سے اسلامی نہیں ہوتی جب تک اس کی شرط اول ہی پوری نہ ہو اور ہمارے ملک عزیز پاکستان کی حالت آپ کے سامنے ہے کہ اس میں جتنا شرک موجودہ دور میں ہورہا ہے ایسا شرک شاید مشرکین مکہ کے ہاں بھی نہ ہوگا اور جب شرط اول ہی پوری نہ ہوئی تو مزید بحث کا فائدہ کیا ہوا ؟ ایک اللہ کی عبادت شرط اول ہے پھر قانون اسلام کی باری آئے گی تو اس میں صحیح اقامت صلوٰۃ اور صحیح طور پر ادائے زکوٰۃ کا نظام لازم ہے اور یہ دونوں چیزیں بھی اس ملک کو اس طرح حاصل نہیں ہیں جس طرح ان کا ہونا دین اسلام کے لیے شرط ہیں ۔ پھر اس میں دین قیم کا سوال کہاں سے پیدا ہوگا ؟ بہر حال اپنی سمجھ میں کچھ نہیں آتا لیکن مذہبی پروہت ہیں تو وہ کچھ اور طرح کی باتیں کرتے نظر آتے ہیں ان کی کسی بات کا رخ اسلام کی طرف نہیں ہے خواہ وہ خالصتاً سیاسی جماعتیں ہوں یا خالصتاً مذہبی جماعتیں یا دونوں کا ملا جھلاکھچڑہو جیسے جمعیت اہل حدیث اور جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی کے سارے گروپ خواہ اپنی اپنی شناخت کے لیے مزید لاحقے اور سابقے رکھتے ہوں یہ سب کے سب کھچڑ ہیں جو بیماروں کو کفایت کرتے ہیں ۔
Ayah 98:6

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِیَّةِؕ Open ayah 98:6 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ اہل کتاب میں سے کافر ہوئے اور مشرکین بھی دوزخ کی آگ میں داخل ہوں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے یہی لوگ (اللہ کے نزدیک) بدترین مخلوق ہیں

بلا شبہ کافر کافر ہیں خواہ وہ اہل کتاب سے ہوں یا دوسرے گروہوں سے 6 ؎ کفر اور اسلام دو کرداروں کا نام ہے اور یہ دونوں کردار ایک دوسرے کے خلاف ہیں ۔ ایک کردار وہ ہے جو دوزخیوں کا کردار ہے اور دوسرا وہ کردار ہے جو اہل جنت کا ہے۔ خواہ کسی دور میں ان کا نام کچھ رکھ دیا گیا ہو یعنی کبھی وہ اہل کتاب کہلائیں یا اپنے آپ کو مسلمان کہیں کہنے سے کچھ نہیں ہوتا کردار صرف عقیدہ کا نام نہیں بلکہ عقیدہ اور عمل کے مل جانے سے کردار بنتا ہے۔ اہل کتاب میں سے یہود کا دعویٰ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی لائی ہوئی ہدایت کو ماننے کا نام بتایا جاتا ہے اور دوسرا گروہ اہل کتاب کا نصاریٰ کا ہے جن کا دعویٰ عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو تسلیم کرنے کا ہے لیکن دعویٰ کو بالائے طاق رکھ کر اگر ان کے عقائد و اعمال کو دیکھا جائے جس کو ہم کردار کے نام سے یاد کر رہے ہیں تو دونوں گروہوں میں اس کا کوئی حصہ بھی موجود نہیں ہے اور ان کے بعد ہم مسلمان آتے ہیں ہمارا دعویٰ بھی اسلام کا ہے لیکن عقائد و اعمال کے لحاظ سے ہم آج من حیث القوم یہودو نصاریٰ سے بھی آگے بڑھ چکے ہیں اس لیے یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ کفر اور شرک دونوں کا ٹھکانہ جہنم بتایا گیا ہے اور زیرنظر آیت میں بھی اس کا اعلان کیا جا رہا ہے اور ان کو قرآن کریم کی نگاہ میں ( شترالبریۃ) کہا گیا ہے اور سب کو معلوم ہے کہ ( شر) برائی کو کہتے ہیں جس سے برائے نام سب کو نفرت ہے اور یہ خیر کے مخالف ہے اور ( بریۃ) کے معنی مخلوق کے ہیں اور دونوں کو ملا کر اس کو بہت بری مخلوق قرار دیا گیا ہے اور یہ کون ہیں وہی جو شرک کے مرتکب ہیں خواہ لاۃ و عزیٰ کو شریک ٹھہرا کر اور خواہ محمد رسول اللہ ﷺ اور علی ؓ کو اللہ کا شریک ٹھہرا کر دونوں گروہوں میں شریک میں کوئی فرق نہیں اور اسی طرح دونوں کے بری مخلوق ہونے میں کوئی فرق نہیں ، ہاں ! محمد رسول اللہ ﷺ اور سیدنا علی ؓ کو اللہ کا شریک ٹھہرنے والے عند اللہ زیادہ برے ہونے چاہیں بجائے لاۃ و عزیٰ کو شریک ٹھہرانے والوں کے ، کیوں ؟ اس لیے کہ لاۃ و عزیٰ کے شرک سے منع کرے کا ہم کو علم نہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ اور سید نا علی ؓ کا شرک سے منع کرنا روز روشن کی طرح واضح ہے اس لیے ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنانے والے دوہرے مجرم ہیں ایک ان کی نافرمانی کے اور دوسرے شرک کے اور ان کے مقابلہ میں لاۃ و عزیٰ کو شریک ٹھہرانے والے صرف شریک ٹھہرانے کے مجرم ہیں فیصلہ آپ خود کرلیں گویا کہا جا رہا ہے کہ آفتاب ہدایت ضوفشاں ہے۔ صحیفہ ٔ رشد و ہدایت انکے سامنے ایسا نظام حیات پیش کر رہا ہے جو ان کی جسمانی اور روحانی نشو ونما اور ان کی دنیوی اور اخروی فلاح کا ضامن ہے جو لوگ اب بھی اس کا انکار کرتے ہیں اور جو اب بھی لپک کر نبی کریم ﷺ کا دامن مضبوطی سے پکڑ نہیں لیتے وہ بلا شبہ تمام مخلوق سے بد تر ہیں اس لیے وہ اس لائق ہیں کہ انہیں دوزخ کا ایندھن بنا دیا جائے وہ ہمیشہ اس میں جلتے رہیں اور یہ لوگ کسی رعایت اور نرمی کے مستحق نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے ساتھ نرمی کے جائے گی۔
Ayah 98:7

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِؕ Open ayah 98:7 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے وہی ساری مخلوق میں سب سے بہتر ہیں

بلا شبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے وہی مخلوق میں سے بہتر ہیں 7 ؎ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ، اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اور قیامت و آخرت کے ساتھ ، قرآن کریم کے اللہ تعالیٰ کی کتاب ہونے کے ساتھ جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور اس راستے کی ساری صعوبتوں کو خاطر میں نہیں لاتے اور آگے بڑھ کر اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں اور آپ ﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر گامزن ہوجاتے ہیں یہی نفوس قدسیہ فخر روز گار ہیں اور انسانیت کی آبرو ہیں ، اس کائنات کی کوئی چیز ان کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کرسکتی ۔ ان کا دل پاک ، نگاہیں پاک ، نیت پاک ، عزم بلند ، شوق فراواں اور منزل اونچی اور اتنی اونچی کہ وہاں تک کسی کی بھی رسائی نہیں ہے مگر وہی جن کو اللہ تعالیٰ ہمت اور توفیق بخش دے بلا شبہ یہ لوگ ساری مخلوق میں سے بہتر مخلوق ہے کہ ان کا مقابلہ فرشتے بھی نہیں کرسکتے جو مجسمہ ٔ نیکی اور بھلائی ہیں اور یہی چیز ان کو مقابلے میں ہیچ کردیتی ہے اور انسان کا مقابلہ فرشتہ نہیں کرسکتا جب کہ وہ برائی کی طاقت رکھنے کے باوجود برائی کے قریب بھی نہ پھٹکے تو یہی وہ کمال ہے جس نے ان کو ( خیرالبریۃ) بنا دیا ہے۔
Ayah 98:8

جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ۠ Open ayah 98:8 in the Quran reader

ان کا صلہ ان کے پروردگار کے ہاں ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی وہ ان (باغات) میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ، یہ اس کیلئے ہے جو اپنے پروردگار سے ڈرتا ہے (اور اسی کی رضا چاہتا ہے)

ان کا صلہ ان کے پروردگار کے ہاں ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں 8 ؎” ان کا صلہ ان کے پروردگار کے ہاں ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی “ وہ لوگ جن کو گزشتہ آیت میں ( خیر البریۃ) کہا گیا ہے اب ان کے صلہ کو بیان کیا جا رہا ہے کہ بہشت کے سدا بہار باغات انہی کے لیے منتظر کھڑے ہیں اور ان باغات میں ان کے لیے ٹھنڈے اور میٹھے پانی کی بہنے والی نہریں ہیں جو ان کے لے بنائی گئی ہیں اور وہاں کا ہر پھول اور ہر کلی ان کی محبت کے رنگ میں رنگی ہوئی ہے اور وہ ان باغات میں تا ابد الاباد رہیں گے نہ ان کو نکالا جائے گا اور نہ وہ خود نکلنا پسند کریں گے۔ جنت کی ساری رونقیں ان لوگوں کے دم قدم سے ہیں اگر یہ وہاں نہ رہیں تو شگفتگیاں اداسیوں میں بدل جائیں اور بہاریں منہ موڑ جائیں ۔ ان باغات میں ان کو کیا کچھ پیش کیا جائے گا اس کی تفصیل ہم عروۃ الوثقیٰ ، جلد ہشتم سورة الرحمن اور سورة الواقعہ میں بہت تفصیل سے کرچکے ہیں کیونکہ یہ دونوں سورتیں جنتیوں کے لیے انعامات و اکرامات اور دوزخیوں کے لیے عذاب پر عذاب کے مناظر سے بھری پڑی ہیں اور ہم نے بھی اس جگہ قرآن کریم کے منشا کو واضح الفاظ میں بیان کردیا ہے اگر یاد نہ رہا ہو تو دوبارہ نظر ڈال لیں ان شاء اللہ خوب سیر ہوجائے گی۔ ” اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے “ جنت اور جنت کے انعامات جن کا ذکراوپر کیا گیا بہت بڑا نعام ہے لیکن ایک انعام ایسا ہے جو ان سارے انعاموں سے بڑا انعام ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوگئے تھے یا یہ رضا اور خوشنودی یک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ ہے اور دو طرفہ خوشنودی کا لطف وہی جان سکتے ہیں جو اس لطف کا کچھ پر تو حاصل کرچکے ہوں اور بلا شبہ یہ انعام باقی سارے انعامات سے بڑا ہے کیونکہ یہ اصل ہے اور باقی سب اس کی فرع ہیں اور یہ دو طرفہ رضا مندی ہی سارے لوگوں کی قسمت میں نہیں ہے وہ بہت ہی خوش قسمت ہیں جن کو یہ انعام حاصل ہوگا ۔ فرمایا یہ ان لوگوں کو میسر آئے گا ” یہ اس کے لیے ہے جو اپنے پروردگار سے ڈرتا ہے “ یہ انہی خوش نصیبوں کو نصیب ہوگا جو اس دنیا میں اپنے پروردگار حقیقی سے ڈرتے رہے۔ گویا یہ منصب رفیع ہر ایک کی قسمت میں نہیں اور خصوصاً جھوٹی آرزوئوں میں گزر بسر کرنے والوں کو یہ کب نصیب ہوگا یہ شرف تو ان سعادت مندوں کے حصے میں آئے گا جو زندگی بھر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہے اور اس کے احکام کی خلاف ورزی کی ان کی جرأت نہیں ہوئی اور اگر کبھی بھولے سے ان سے لغزش ہو بھی جائے تو وہ خوف و ندامت کے باعث رو رو کر آنسوئوں کے دریا بہا دیتے ہیں اور یہ سجدوں سے اس وقت تک سر اٹھانے والے نہیں جب تک ان کے گناہ دھل کر ان کی چادر بےداغ نہیں کردی جاتی جس سے ان کا سارا میل کچیل صاف ہوجاتا ہے۔ دنیا میں اللہ تعالیٰ کا یہ انعام اگر کسی کے حصے میں آجائے کہ وہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے اپنی بندگی کا تحفہ نہایت عاجزی اور فروتنی سے پیش کرے اور اللہ تعالیٰ کا ڈر اور خوف اس کے دل کو کپکپا دے اور غلطی سرزد ہونے کے ساتھ ہی اس کو افسوس لا حق ہو اور وہ رب کریم کی بارگاہ میں رو رو کر اپنا گناہ معاف کرا لینے کا سرٹیفکیٹ حاصل کرلے تو گویا وہ کامیاب و کامران ہوگیا اس کی دنیا بھی سنور گئی اور آخرت بھی سنورنے میں کوئی شبہ نہ رہا ۔ اسی مضمون پر ہم سورة (البینۃ) کی تفسیر کو ختم کرتے ہیں ربنا لا تحملنا مالا طاقۃ لنا بہ واعف عنا واغفرلنا وار حمنا انت مولنا فانصرنا عل القوم الکافرین