98. Surah Al-Bayyina

البينةThe Evidence · 8 ayahsفہم القرآن

تعارف

تعارف

سورة البیّنہ کا تعارف اس سورت کا نام اس کی پہلی آیت کے آخر میں بیان ہوا ہے۔ یہ ایک رکوع پر مشتمل ہے جس کی آٹھ آیات ہیں اس کے مکی اور مدنی ہونے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ تاہم اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ یہ سورت مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی کیونکہ اس میں مشرکین کے ساتھ اہل کتاب کو بھی خطاب کیا گیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ مکہ میں عیسائی اور یہودی نا ہونے کے برابر تھے اس لیے غالب گمان ہے کہ یہ سورت مدنی ہے اس سے پہلی سورت میں قرآن مجید کے نزول اور اس کی عظمت کا ذکر کیا گیا۔ اس میں صاحب قرآن کی عظمت اور ضرورت کا تذکرہ ہوا ہے جس میں یہ وضاحت ہے کہ جس طرح قرآن مجید کی اہمیت اور ضرورت تھی اسی طرح ہی ایک رسول کا آنا بھی ضروری تھا۔ القرآن اور الرّسول کی آمد کا مقصد یہ ہے کہ نبی آخر الزمان مشرکین بالخصوص اہل کتاب کو قرآن کا یہ پیغام دیں کہ وہ صرف ایک رب کی عبادت کرنے کے ساتھ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا اہتمام کریں۔ یہی وہ الدّین ہے جو ہمیشہ سے چلا آرہا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

Ayahs 98:1–3

لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ مُنْفَكِّیْنَ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ الْبَیِّنَةُۙ Open ayah 98:1 in the Quran reader

اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کافر تھے وہ باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس روشن دلیل نہ آجائے

رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةًۙ Open ayah 98:2 in the Quran reader

اللہ کی طرف سے ایک رسول جو پاکیزہ صحیفے پڑھ کر سنائے

فِیْهَا كُتُبٌ قَیِّمَةٌؕ Open ayah 98:3 in the Quran reader

جن میں لکھے ہوئے ٹھوس احکام ہیں

فہم القرآن ربط سورت : لیلۃ القدر میں نازل ہونے والا قرآن مجید کسی ایک فرقہ اور قوم کے لیے نازل نہیں ہوا، یہ بلا تخصیص ہر دور کے لوگوں کے لیے نازل ہوا جس میں اہل کتاب اور مشرکین بھی شامل ہیں۔ اس سورة مبارکہ میں اہل کتاب اور مشرکین کو الگ، الگ مخاطب کیا گیا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ اہل کتاب مشرک نہیں تھے۔ یہ قرآن مجید کا مخصوص انداز ہے کہ وہ اہل کتاب کو بنی اسرائیل اور ان کے معروف نام اہل کتاب سے مخاطب کرتا ہے، جہاں تک ان کے شرک کا تعلق ہے یہ اسی طرح ہی شرک میں ملوّث تھے جس طرح عرب کے مشرکین شرک میں مبتلا تھے۔ فرق صرف اتنا تھا اور ہے کہ عرب کے مشرکین بتوں کے واسطے سے عبادت اور دعا کرتے تھے۔ یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے اور دعا میں ان کا واسطہ اختیار کرتے تھے اور کرتے ہیں نصاریٰ یہودیوں سے ایک قدم آگے بڑھ کر حضرت عیسیٰ اور مریم (علیہ السلام) کو اللہ کا جز قرار دیتے ہیں اور یہ عیسیٰ اور حضرت مریم ( علیہ السلام) کے نام پر شرک کرتے تھے اور کرتے ہیں۔ ارشاد ہوا کہ اہل کتاب اور مشرکین میں سے جنہوں نے کفر کیا وہ اس وقت تک اپنے شرک سے باز نہیں آئیں گے جب تک کھلا معجزہ نہ دیکھ لیں، کھلے معجزے سے مراد وہ معجزات اور مطالبات ہیں جن کا یہ لوگ تقاضا کرتے تھے۔ حالانکہ ان کے مطالبات پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کے ذریعے پورے ہوچکے تھے۔ جن کی قرآن مجید میں تفصیل موجود ہے اس کے باوجود وہ ایمان نہ لائے۔ ” اور بےعلم لوگوں نے مطالبہ کیا کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی ؟ اسی طرح ان سے پہلے لوگوں نے مطالبہ کیا تھا۔ ان کے اور ان کے دل یکساں ہوگئے ہیں بلا شبہ ہم نے یقین کرنے والوں کے لیے نشانیاں بیان کردی ہیں۔ ہم نے آپ کو حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور آپ سے جہنمیوں کے بارے میں پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی۔ “ (البقرۃ : 118، 119) ” ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ اس کے نام کھلے خط بھیجے جائیں ایسا ہرگز نہیں ہوگا اصل بات یہ ہے کہ یہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے۔ قرآن تو ایک نصیحت ہے جس کا جی چاہے اس سے سبق حاصل کرے۔ “ (المدثر : 52 تا 55) ان کے پاس حضرت محمد ﷺ تشریف لاچکے ہیں جن کی ذات، اخلاق اور کردار بہت بڑا اور کھلا معجزہ ہے۔ آپ ان کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں جس کی ایک ایک آیت بول کر بتاتی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا پاکیزہ کلام ہے اور اس میں اس کے محکم فرمان موجود ہیں۔ ” صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً “ کی وضاحت فرما کر یہ اشارہ کیا ہے کہ جس طرح تورات اور انجیل میں تحریف کرکے یہود و نصاریٰ نے اللہ کی ذات اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کے کردار کے متعلق اخلاق باختہ باتیں منسوب کی ہیں۔ قرآن مجید اس قسم کی بےہودگی اور بےمقصد باتوں سے پاک ہے، اس میں یہ بھی اشارہ ہے جس طرح موجودہ تورات اور انجیل کی عبارات میں الجھاؤ اور تضاد پایا جاتا ہے۔ قرآن مجید کا کوئی ایسا مسئلہ اور ضابطہ نہیں جس میں الجھاؤ اور ٹکراؤ پایا جاتا ہو، اس کے احکام واضح اور ٹھوس ہیں۔ اس میں یہ بات بھی پائی جاتی ہے کہ پہلی کتابیں مشکوک ہوچکی ہیں لیکن قرآن مجید شکوک و شبہات سے پاک ہے۔ اہل علم نے ” صُحُفًا “ کا معنٰی اوراق اور مضامین لیے ہیں جو پاکیزہ ہونے کے ساتھ واضح اور ٹھوس ہیں، پاکیزہ کا یہ بھی مطلب ہے کہ قرآن مجید کے احکام فرد اور معاشرے میں پاکیزگی پیدا کرتے ہیں۔” قَیِّمَۃٌ“ سے مراد ہے کہ قرآن مجید کے احکام اور الفاظ میں کوئی تبدیلی نہیں آسکے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ ( الحجر : 9) ” حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ابی بن کعب ؓ سے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں تجھ سے قرآن مجید کی تلاوت سنوں ابی ؓ نے عرض کی کہ ” اللہ “ نے آپ کو میرا نام لے کر فرمایا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں میں۔ حضرت ابی بن کعب ؓ نے حیران ہو کر پوچھا کیا میرا رب العالمین کے ہاں ذکر ہوا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا بالکل ذکر ہوا ہے۔ اس خوشی سے حضرت ابی بن کعب ؓ کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے دوسری روایت میں ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ سے (لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا) کی تلاوت سنوں۔ ابی بن کعب ؓ نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں تیرا نام لیا ہے۔ یہ سن کر حضرت ابی بن کعب ؓ خوشی سے رو پڑے۔ “ (رواہ البخاری : باب مناقب ابی بن کعب) مسائل 1۔ اہل کتاب اور مشرکین کی غالب اکثریت اپنے کفر سے باز آنے والی نہیں 2۔ رسول کریم ﷺ کی ذات لوگوں کے لیے کھلے معجزے کی حیثیت رکھتی ہے۔ 3۔ قرآن مجید میں کسی قسم کا الجھاؤ اور ٹکراؤ نہیں پایا جاتا۔ 4۔ قرآن مجید ہر قسم کی غلطی سے مبرّا اور پاک ہے۔
Ayahs 98:4–5

وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنَةُؕ Open ayah 98:4 in the Quran reader

جن لوگوں کو پہلے کتاب دی گئی تھی یہ آپس میں تقسیم نہیں ہوئے مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح دلیل آچکی تھی

وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۙ۬ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ Open ayah 98:5 in the Quran reader

اور انہیں اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں، اپنے دین کو اس کے لیے خالص کر کے بالکل یکسو ہو کر نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں یہی مستحکم دین ہے

فہم القرآن ربط کلام : واضح ہدایات آجانے کے باوجود اہل کتاب کا منفی کردار۔ اس فرمان میں بظاہر صرف اہل کتاب کو مخاطب کیا گیا ہے لیکن اس خطاب میں مشرکین بھی برابر کے شریک ہیں۔ اہل کتاب کا الگ اس لیے ذکر کیا ہے کہ مشرکین عرب بظاہر کسی آسمانی کتاب کے قائل نہیں تھے لیکن اہل کتاب آسمانی کتابوں پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے تھے۔ یہاں ان کی مذہبی حالت بیان کرکے اشارہ کیا ہے کہ جب اہل کتاب کے کفر و شرک کی حالت یہ تھی اور ہے تو مشرکین کے شرک کی حالت کیا ہوگی ؟ اس کے ساتھ ہی اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اہل کتاب کے فکری انتشار اور ان کے کفرو شرک کی وجہ یہ نہیں کہ ان کے پاس رسول، آسمانی کتابیں اور کھلے معجزات نہیں آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس رسول اور کتابیں آئیں اور انبیاء کرام (علیہ السلام) نے انہیں معجزات دکھائے لیکن اس کے باوجود یہ لوگ آپس میں تقسیم ہوگئے حالانکہ انہیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ کسی اور کی عبادت کرنے کی بجائے دین حق کی ہدایت کے مطابق یکسو ہو کر صرف ایک ” اللہ “ کی عبادت کریں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں یہی سچا اور مستحکم دین ہے۔ لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے لاپرواہی کی جس وجہ سے نہ اللہ کی خالص بندگی پر قائم رہے اور نہ ہی نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کرسکے جس کے نتیجے میں نہ صرف دین خالص سے دور ہوئے بلکہ آپس میں بھی فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ دین قیم کے الفاظ لاکر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ دین میں فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں۔ یاد رہے کہ دین واضح ہونے کے ساتھ اس کے بنیادی اصول ہمیشہ سے ایک رہے ہیں۔ ان کا بنیادی تقاضا ہے کہ دین کے ماننے والے بھی آپس میں متحد اور ایک رہیں۔ ” حضرت عوف بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہودی اکہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے، ان کے ستر فرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا۔ عیسائی بہتر فرقوں میں بٹ گئے، ان کے اکہترفرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں داخل ہوگا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، ان میں سے بہتر جہنمی ہوں گے اور ایک جنتی ہوگا۔ صحابہ نے عرض کی جنت میں جانے والے کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقہ پر چلنے والے ہیں۔ “ (رواہ ابن ماجۃ : باب افْتِرَاقِ الأُمَم، قال الالبانی ھٰذا حدیث حسن) دین کے معانی اطاعت : (تَنْزِےْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِےْزِ الْحَکِےْمِ اِنَّا اَنْزَلْنَا اِلَےْکَ الْکِتٰبَ بالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّےْنَ اَ لَا لِلّٰہِ الدِّےْنُ الْخَالِصُ ) (الزمر : 1 تا 3) ” یہ کتاب اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ (اے محمد) یہ کتاب ہم نے آپ کی طرف برحق نازل کی ہے۔ لہٰذا اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے اللہ کی بندگی کرو خبردار، دین خالص اللہ کا حق ہے۔ “ قانون اور ضابطہ : (فَبَدَاَ بِاَوْعِےَتِھِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِےْہِ ثُّمَّ اسْتَخْرَجَھَا مِنْ وِّعَاءِ اَخِےْہِ کَذٰلِکَ کِدْنَا لِےُوْسُفَ مَا کَانَ لِےَاْخُذَ اَخَاہُ فِی دِےْنِ الْمَلِکِ ۔۔ ) (یوسف : 76) ” یوسف نے اپنے بھائی سے پہلے دوسروں کی تھیلوں کی تلاشی لینی شروع کی، پھر اپنے بھائی کے تھیلے سے گم شدہ چیز برآمد کرلی۔ اس طرح ہم نے یوسف کی تائید اپنی تدبیر سے کی۔ اسے یہ اختیار نہ تھا کہ بادشاہ کے دین یعنی مصر کے شاہی قانون کے مطابق اپنے بھائی کو پکڑلیتا۔ “ نظام حکومت : (وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْ اَقْتُلْ مُوْسٰی وَلْےَدْعُ رَبَّہٗ اِنِّیْٓ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِےْنَکُمْ اَوْ اَنْ یُّظْھِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ ) (غا فر : 26) ” ایک دن فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا، چھوڑو مجھے میں موسیٰ کو قتل کیے دیتا ہوں اور یہ پکار دیکھے اپنے رب کو۔ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا یا ملک میں فساد برپا کرے گا۔ “ دین بمعنٰی دین (مذہب): (قَا تِلُوْا الَّذِےْنَ لَا ےُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَلَا بالْےَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا ےُحَرّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلَا ےَدِےْنُوْنَ دِےْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِےْنَ اُوْتُوْا الْکِتٰبَ حَتّٰی یُعْطُوْا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّھُمْ صٰغِرُوْنَ ) (التوبۃ : 29) ” جنگ کرو اہل کتاب میں سے ان لوگوں کے خلاف جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں جانتے اور دین حق کو اپنا دین نہیں سمجھتے ان سے لڑو یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور ماتحت بن کر رہیں۔ “ دین سے مراد قیامت : (یَّصْلَوْنَھَا ےَوْمَ الدِّےْنِ وَمَا ھُمْ عَنْھَا بِغَآءِبِےْنَ وَمَآ اَدْرٰکَ مَا ےَوْمُ الدِّےْنِ ثُمَّ مَآ اَدْرٰکَ مَا ےَوْمُ الدِّےْنِ ےَوْمَ لَا تَمْلِکُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَےْءًا وَاْلَامْرُ ےَوْمَءِذٍ لِّلّٰہِ ) (الانفطار : 5 1 تا 19) ” جزا کے دن وہ اس میں داخل ہوں گے اور اس سے ہرگز غائب نہ ہو سکیں گے۔ اور تم کیا جانتے ہو کہ وہ جزا کا دن کیا ہے ؟ ہاں تمہیں کیا خبر کہ وہ جزا کا دن کیا ہے ؟ یہ وہ دن ہے جب کسی شخص کے لیے کچھ کرنا کسی کے بس میں نہ ہوگا، فیصلہ اس دن صرف اللہ کے اختیار میں ہوگا۔ “ دین بمعنٰی جزأ و سزا : (مٰلِکِ ےَوْمِ الدِّےْنِ ) (فاتحہ : 3) ” روز جزا کا مالک ہے۔ “ مسائل 1۔ اہل کتاب واضح دلائل پانے کے باوجود فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ 2۔ اہل کتاب کو حکم تھا کہ وہ آسمانی دین کے مطابق صرف ایک اللہ کی عبادت کریں۔ 3۔ اہل کتاب کو حکم تھا کہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیتے رہیں۔ 4۔ صرف ایک اللہ کی یکسو ہو کر عبادت کرنا، نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا دین خالص کے بنیادی اصول ہیں۔ تفسیر بالقرآن دین قیم کے بنیادی اصول : 1۔ غیب پر ایمان لانا۔ (البقرۃ : 1) 2۔ قرآن مجید اور پہلی آسمانی کتابوں پر ایمان لانا۔ (البقرۃ : 4) 3۔ اللہ اور کتب سماوی پر ایمان لانا۔ (البقرۃ : 136) 4۔ آخرت پر یقین رکھنا۔ (البقرۃ : 4) 5۔ انبیاء پر ایمان لانا اور ان میں فرق نہ کرنا۔ (آل عمران : 84) 6۔ ایمان کی تفصیل۔ (البقرۃ : 285)
Ayah 98:6

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِیَّةِؕ Open ayah 98:6 in the Quran reader

اہل کتاب اور مشرکین میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ہے یقیناً وہ 3 کی آگ میں داخل کیے جائیں گے، اور اس میں ہمیشہ رہیں گے، یہ لوگ بدترین مخلوق ہیں

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور مشرکین کا انجام۔ اس سورت کی پہلی آیت میں جس طرح اہل کتاب اور مشرکین کو بیک وقت مخاطب کیا گیا اسی طرح اس آیت میں اہل کتاب اور مشرکین کا انجام بھی ایک بتلایا ہے۔ فرمان یہ ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین میں سے جنہوں نے کفر کیا وہ جہنم میں داخل کیے جائیں گے۔ اہل کتاب اور مشرکین میں دو قسم کے لوگ کفار میں شامل ہوں گے ایک وہ گروہ جو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں کفر و شرک پر قائم رہا۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو نبی آخرالزمان ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے ہیں یہ جہنم میں داخل کیے جائیں گے۔ کردار اور انجام کے لحاظ سے یہ لوگ ایک جیسے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے بدترین ہیں جس بنا پر ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ دوسرے مقام پر انہیں چوپاؤں سے بھی بدتر مخلوق قرار دیا گیا ہے۔ ” بلاشبہ ہم نے بہت سے جن اور انسان جہنم کے لیے پیدا کیے ہیں ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں یہ لوگ چوپاؤں جیسے ہیں بلکہ ان سے بدتر ہیں اور غافل ہیں۔ “ (الاعراف : 179) (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُول اللَّہِ ﷺ أَنَّہُ قَالَ وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لاَ یَسْمَعُ بِی أَحَدٌ مِنْ ہَذِہِ الأُمَّۃِ یَہُودِیٌّ وَلاَ نَصْرَانِیٌّ ثُمَّ یَمُوتُ وَلَمْ یُؤْمِنْ بالَّذِی أُرْسِلْتُ بِہِ إِلاَّ کَانَ مِنْ أَصْحَاب النَّارِ ) (رواہ مسلم : باب وُجُوبِ الإِیمَانِ بِرِسَالَۃِ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ ﷺ ” حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے یہودیوں اور عیسائیوں میں سے جس شخص تک میرا پیغام پہنچ جائے۔ پھر وہ اسی حالت میں مرجائے اور مجھ پر ایمان نہ لائے وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ “ (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ؓ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ مَنْ مَّاتَ یُشْرِکُ باللّٰہِ شَیْءًا دَخَلَ النَّارَ وَقُلْتُ أَنَا مَنْ مَّاتَ لَا یُشْرِکُ باللّٰہِ شَیْءًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ ) (رواہ البخاری : باب ماجاء فی الجنائز) ” حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول ﷺ نے فرمایا : جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا وہ جہنم میں جائے گا اور میں کہتا ہوں جس شخص نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا اور وہ توحید پر فوت ہوا وہ جنت میں جائے گا۔ “ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ إجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُْوْبِقَاتِ قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَاھُنَّ قَالَ اَلشِّرْکُ باللّٰہِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰہُ إِلَّا بالْحَقِّ وَأَکْلُ الرِّبَاوَأَکْلُ مَالِ الْیَتِیْمِ وَالتَّوَلِّيْ یَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ ) (رواہ البخاری : باب قول اللہ تعالیٰ (إن الذین یأکلون أموال الیتامی ظلما) ” حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچ جاؤ صحابہ کرام ؓ نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ ! وہ گناہ کون سے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، ناحق کسی جان کو قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا اور پاکدامن، مومن، بیخبر عورتوں پر تہمت لگانا۔ “ مسائل 1۔ مشرکین اور اہل کتاب کے کافر ہمیشہ ہمیش کے لیے جہنم میں داخل کیے جائیں گے۔ 2۔ مشرکین اور اہل کتاب کے کفار بدترین مخلوق ہیں۔ یہ جہنم میں داخل ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن کفار اور مشرکین کی سزا : 1۔ بیشک وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کی تکفیر کی ان کے لیے شدید عذاب ہے۔ ( آل عمران : 4) 2۔ کفار کے لیے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ (آل عمران : 91) 3۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بہت بڑا عذاب ہوگا۔ (البقرۃ : 114) 4۔ وہ لوگ جو ہماری آیات کی تکذیب کرتے ہیں وہ عذاب میں مبتلا ہونگے۔ (المائدۃ : 73) 5۔ مشرکوں کے اعمال برباد ہوجائیں گے۔ (الانعام : 88) 6۔ مشرکوں پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے۔ (الفتح : 6) 7۔ مشرک پر جنت حرام ہے۔ (المائدۃ : 72) 8۔ مشرک جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ (البقرۃ : 39) 9۔ کافر اور حق کی تکذیب کرنے والے جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ (الزخرف : 74) 10۔ ” اللہ “ کے دشمن جہنم میں ہمیشہ جلتے رہیں گے۔ (فصلت : 28)
Ayahs 98:7–8

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِؕ Open ayah 98:7 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے، یقیناً وہ بہترین مخلوق ہیں

جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ۠ Open ayah 98:8 in the Quran reader

ان کے رب کے ہاں ان کی جزا ہمیشہ رہنے والے باغات ہیں۔ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہوا، اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، یہ جزا اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈر جائے

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین اور کفار کے مقابلے میں صالح کردار ایمان والوں کا مقام اور انعام۔ دین اسلام کے اوصاف حمیدہ میں جو اوصاف سب سے نمایاں اور مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں پہلا وصف یہ ہے کہ دین اسلام کسی مخصوص قوم اور علاقے کے لوگوں کو دعوت نہیں دیتا، اس کی دعوت رنگ و نسل، جغرافیائی حدود اور زمانے کی قیود سے بالاتر ہے۔ اس لیے قرآن مجید کھلے الفاظ میں دعوت دیتا ہے کہ جو لوگ بھی اللہ اور نبی آخرالزمان ﷺ پر ایمان لائیں اور صالح اعمال اختیار کریں وہ مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔ دوسرے مقام پر اس بات کی یوں وضاحت کی گئی ہے۔ ” بیشک مسلمانوں، یہودیوں، عیسائیوں اور بےدین لوگوں میں سے جو بھی اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، انہیں نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ “ (البقرۃ : 62) انبیائے کرام (علیہ السلام) کے بعد نہ صرف تمام لوگوں میں بلکہ اللہ کی مخلوق میں صحابہ کرام ؓ کی جماعت سب سے افضل ہے جن کے ایمان اور اعمال کو ان کے بعد آنے والے لوگوں کے لیے معیار قرار دیا گیا ہے۔ (فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ فَقَدِ اہْتَدَوْا وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا ہُمْ فِیْ شِقَاقٍ فَسَیَکْفِیْکَہُمُ اللّٰہُ وَ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ) (البقرۃ : 137) ” اگر وہ تمہاری طرح ایمان لائیں تو ہدایت پائیں گے اور اگر منہ موڑیں تو وہ واضح ضد کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کے مقابلہ میں آپ کو کافی ہوگا اور وہ خوب سننے اور جاننے والا ہے۔ “ ان کی جزا ان کے رب کے ہاں یہ ہے کہ ان کو ہمیشہ رہنے والی جنت میں ہمیشہ کے لیے داخل کیا جائے گا، ایسی جنتیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ صحابہ پر راضی ہوگیا اور صحابہ ؓ اپنے رب پر راضی ہوئے، یہ صلہ ہر وہ شخص پائے گا جو اپنے رب پر خالص ایمان لایا اور نبی آخر الزمان ﷺ کے طریقے کے مطابق صالح اعمال کرنے کے ساتھ اپنے رب سے ڈرتا رہا۔ رب تعالیٰ سے ڈرنے کی شرط اس لیے رکھی گئی ہے کہ اس کے بغیر ایمان اور اعمال میں اخلاص پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی انسان گناہوں سے بچ سکتا ہے۔ صحابہ ؓ کا مقام اور احترام : ” حضرت ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ سول محترم ﷺ نے فرمایا : میرے زمانہ کے لوگ سب سے بہتر ہیں۔ پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے۔ پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے۔ اس کے بعد کچھ لوگ آئیں گے ‘ جن کی گواہی ان کی قسم سے، اور ان کی قسم ان کی گواہی سے سبقت لے جائے گی۔ “ (رواہ البخاری : باب لاَ یَشْہَدُ عَلَی شَہَادَۃِ جَوْرٍ إِذَا أُشْہِدَ ) (عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَا تَسُبُّوْا اَصْحَابِیْ فَلَوْاَنَّ اَحَدَکُمْ اَنْفَقَ مِثْلَ اُحُدٍ ذَھَبًا مَّا بَلَغَ مُدَّ اَحَدِھِمْ وَلَا نَصِیْفَہٗ ) (رواہ البخاری : باب مناقب ابی بکر) ” حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : تم میرے اصحاب ؓ کو برا مت کہو۔ کیونکہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو وہ صحابہ ؓ کے آدھے مد (چوتھائی کلو گرام) کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ “ (قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ سَبَّ نَبِّیًا قُتِلَ وَمَنْ سَبَّ اَصْحَابَہٗ جُلِدَ ) (رواہ الطبرانی فی الصغیر) ” رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو نبی کو گالی دے اسے قتل کیا جائے اور جو صحابہ کو گالی دے اسے کوڑے مارے جائیں۔ “ مسائل 1۔ جو لوگ سچے دل کے ساتھ ایمان لائے اور صالح اعمال کرتے رہے ہیں وہ اللہ کی پوری مخلوق میں بہتر ہیں۔ 2۔ بہترین لوگوں کے لیے ان کے رب نے جنتیں تیار کر رکھی ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ 3۔ بہترین لوگ ہمیشہ کی جنت میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ صحابہ پر راضی ہوا اور صحابہ اپنے رب پر راضی ہوگئے۔ تفسیر بالقرآن جنت اور اس کی نعمتوں کی ایک جھلک : (الحجر : 47۔ 48) (الرعد : 35) (الواقعہ : 28 تا 30) (الحاقہ : 23) (حم السجدہ : 31)