Ayahs 99:1–5فہم القرآن
ربط سورت : البیّنہ کا اختتام ان الفاظ پر ہوا کہ ” اللہ تعالیٰ “ ہر اس شخص پر راضی ہوگا جس نے اس سے ڈر کر زندگی بسر کی اللہ تعالیٰ کے ڈر کا حقیقی تقاضا ہے کہ انسان ہر دم قیامت کا عقیدہ تازہ رکھے جس دن کی ابتداء بڑے بڑے زلزلوں سے ہوگی۔
قرآن مجید نے یہ حقیقت بڑی تفصیل کے ساتھ بتلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جب پہلی دفعہ اسرافیل صور میں پھونک مارے گا تو زمین و آسمانوں میں ایسا بھونچال آئے گا کہ بالآخر ہر چیز ختم ہوجائے گی۔ ایک مدّت کے بعد جس کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں اس مدّت میں صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی باقی رہے گی۔ اسرافیل دوسری پھونک مارے گا تو ایک دفعہ پھر زمین پر زبردست زلزلے رونما ہوں گے جن سے زمین کو پوری طرح ہلا کر رکھ دیا جائے گا، پہلا صور پھونکنے پر زمین چٹیل میدان بن جائے گی اور دوسری دفعہ صور پھونکنے پر زمین اپنے اندر کے بوجھ باہر پھینک دے گی کیونکہ اسے رب تعالیٰ نے اس طرح کرنے کا حکم دیا ہوگا۔
” اور جو کچھ زمین میں ہے اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اس کے لیے یہی لازم ہے۔ “ (الانشقاق : 5)
اکثر مفسرین کے نزدیک ” اَثْقَالَھَا “ سے مراد انسان اور اس کے اعمال ہیں، چناچہ اگر کوئی انسان ڈوب کرمرا یا آگ میں جل کر راکھ ہوا، رب ذوالجلال کے حکم سے نہ صرف زمین انسان کے ذرّات کو باہر نکال دے گی بلکہ لوگ اس طرح زمین سے صحیح سالم نکلیں گے جس طرح مرنے سے پہلے تھے، نہ صرف انسان اپنے وجود کے ساتھ زمین سے نکلیں گے بلکہ جو کچھ اس دھرتی پر کرتے رہے۔ زمین اس کے پورے کے پورے ثبوت پیش کرے گی۔ ماضی میں سائنسی ترقی نہ ہونے کی وجو سے بیشمار لوگ اس بات پر گمراہ ہوئے کہ انسان کے اعمال کا کس طرح وزن کیا جاسکے گا کیونکہ اعمال کا ٹھوس وجود نہیں ہوتا۔ لیکن سائنسی ترقی نے ایک حد تک یہ ثابت کردیا ہے کہ ہر چیز کا ایک وجود ہوتا ہے۔ قیامت کے دن انسان جونہی اپنا کیا کرایا دیکھے گا تو پکار اٹھے گا کہ زمین کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ ہر بات بیان کیے جا رہی ہے، ایسا اس لیے ہوگا کہ اسے اس کے رب کا حکم ہوگا۔ قیامت کے دن زمین ہر قسم کا ثبوت پیش کرنے کے ساتھ شہادت دے گی جس کا انکار کرنا انسان کے بس میں نہیں ہوگا۔
(اِِنَّا اَنذَرْنٰکُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰہُ وَیَقُوْلُ الْکٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرَابًا) (النبا : 40)
” ہم نے تمہیں اس عذاب سے ڈرادیا ہے جو قریب آچکا ہے جس دن آدمی سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور کافر پکار اٹھے گا کہ کاش میں مٹی بنا رہتا۔ “
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَرَأَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ ہَذِہِ الآیَۃَ (یَوْمَءِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَہَا) قَالَ أَتَدْرُونَ مَا أَخْبَارُہَا ؟ قَالُوا اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ أَخْبَارَہَا أَنْ تَشْہَدَ عَلَی کُلِّ عَبْدٍ أَوْ أَمَۃٍ بِمَا عَمِلَ عَلَی ظَہْرِہَا تَقُولُ عَمِلَ یَوْمَ کَذَا کَذَا وَکَذَا فَہَذِہِ أَخْبَارُہَا)
(رواہ الترمذی : باب ما جاء فی العرض، قال الترمذی ھٰذاحدیث حسن صحیح )
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : (یَوْمَءِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَہَا) پھر آپ نے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ زمین کی خبریں کیا ہوں گی ؟ صحابہ نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا زمین کا خبر دینا یہ ہے کہ وہ ہر مرد اور عورت کے عمل کے متعلق گواہی دے گی جو اس نے زمین پر رہتے ہوئے کیا ہوگا۔ زمین کہے گی کہ اس نے فلاں دن فلاں عمل کیا، یہی اس کی خبریں ہوں گی۔ “
مسائل
1۔ قیامت کے دوسرے مرحلے میں زمین کو پوری طرح ہلاکر رکھ دیا جائے گا۔
2۔ زمین اپنے سینے سے ہر قسم کا بوجھ نکال باہر کرے گی۔
3۔ زمین اس دن انسان کے حق یا اس کے خلاف ہر قسم کی شہادت دے گی مجرم کہے گا کہ زمین کو کیا ہوگیا ہے ؟
4۔ زمین ہر چیز اس لیے بیان کرے گی کیونکہ اسے اس کے رب کا حکم ہوگا۔
تفسیر بالقرآن
قیامت کے دن انسان کے حق یا اس کے خلاف پیش ہونے والی شہادتیں :
1۔ قیامت کے دن ” اللہ “ پر جھوٹ باندھنے والوں کے خلاف گواہ پیش کیے جائیں گے۔ (ہود : 18)
(النور : 24) (البقرۃ : 143) (یٰس : 65) (حٰم السجدۃ : 20) ( البقرۃ : 142) (الحج : 78)
Ayahs 99:6–8فہم القرآن
ربط کلام : محشر کے میدان میں لوگوں کے اکٹھا ہونے کیا ہمیت اور ہر کسی کا اپنے اعمال کا سامنا کرنا۔
قرآن مجید اور حدیث رسول میں یہ بات بڑی تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہے کہ لوگ اپنی قبروں سے نکل کر محشر کے میدان کی طرف جائیں گے۔ لوگوں کے جمع کرنے کے بارے میں قرآن مجید میں دو طرح کی آیات وارد ہوئی ہیں۔
” جس دن صور میں پھونک ماری جائے گی تم گروہ در گروہ نکل آؤ گے۔ “ (النبا : 18)
” قیامت کے دن سب اکیلے اکیلے اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔ “ (مریم : 95)
بظاہر ان آیات کے مفہوم میں تعارض اور تقابل نظر آتا ہے لیکن معمولی توجہ کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی جائے تو بات یوں سمجھ میں آتی ہے کہ قبروں سے لوگ اکیلے اکیلے اٹھائے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے حضور بھی ہر شخص اکیلا اکیلا ہی پیش کیا جائے گا۔ لیکن محشر کے میدان میں اکٹھا ہونے کے لیے کھربہا انسان گروہوں کی صورت میں جمع ہوں گے اور ہر شخص کے سامنے اس کا اعمالنامہ کھول کر رکھ دیا جائے گا۔
” کتاب رکھی جائے گی آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ جو کچھ اس کتاب میں ہوگا وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے ہائے افسوس ! یہ کیسی کتاب ہے کہ اس نے نہ چھوٹی بات چھوڑی ہے اور نہ بڑی بات چھوڑی ہے اس نے سب کچھ شمار کر رکھا ہے انھوں نے جو کچھ کیا تھا اسے حاضر پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ “ (الکہف : 49)
” عبداللہ ؓ بن عیاش بن ابی ربیعہ کے غلام زیاد نے عبد اللہ ؓ بن عیاش کے سامنے حدیث بیان کی اس آدمی سے جس نے اسے نبی ﷺ سے سنا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک آدمی آپ کے سامنے عرض کرنے لگا اے اللہ کے رسول ﷺ میرے دو غلام ہیں جو میرے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں، خیانت کرتے اور میری نافرمانی کرتے ہیں۔ میں انہیں پیٹتا ہوں اور گالیاں دیتا ہوں میرا معاملہ کیسا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس قدر تیری خیانت، تیری نافرمانی اور تیرے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں اگر تیری ڈانٹ ڈپٹ ان کی غلطیوں سے کم ہوئی تو تجھے اجر عطا کیا جائے گا اور اگر برابرہوئی تو معاملہ یکساں ہے اور اگر ڈانٹ ان کی خطاؤں سے زیادہ ہوئی تو تیری نیکیوں میں کمی کی جائے گی یہ سن کر وہ شخص آپ ﷺ کے سامنے زاروقطار رونے لگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو اللہ کی کتاب نہیں پڑھتا ؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن ہم عدل و انصاف کا ترازو قائم کریں گے اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ نیکی اور برائی ایک رائی کے دانے کے برابر ہوئی ہم اسے بھی لے آئیں گے۔ ہم کافی ہیں حساب لینے والے۔ وہ آدمی کہنے لگا اے اللہ کے رسول میں اس سے بہتر سمجھتا ہوں کہ غلاموں کو آزاد کر دوں اور میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں میں نے انہیں آزاد کردیا۔ “
(رواہ احمد : مسند السیدۃ عائشۃ، قال الترمذی ہذا حدیث غریب)
(وَعَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ الْعَبْدَ لَیَتَکَلَّمُ بالْکَلِمَۃِ مِنْ رِضْوَان اللّٰہِ لاَ یُلْقِیْ لَھَا بَالًا یَرْفَعُ اللّٰہُ بِھَا دَرَجَاتٍ وَاِنَّ الْعَبْدَ لَیَتَکَلَّمُ بالْکَلِمَۃِ مِنْ سَخَطِ اللَّہِ لَا یُلْقِی لَھَا بَالًا یَھْوِیْ بِھَا فِیْ جَھَنَّمَ ) (بخاری : باب حفظ اللسان)
” حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا : بلاشبہ جب آدمی اللہ کی رضا کے لیے کوئی کلمہ زبان سے نکالتا ہے حالانکہ وہ اس کو معمولی سمجھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کلمہ کی وجہ سے اس کے درجات بلند فرماتا ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ کی ناراضگی کی بات کرتا ہے اور وہ اسے معمولی سمجھتا ہے تو اس معمولی بات کی وجہ سے وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ “
مسائل
1۔ قیامت کے دن لوگ گروہوں کی شکل میں میں محشر کے میدان میں جمع کیے جائیں گے۔
2۔ لوگوں کو اس لیے محشر کے میدان میں جمع کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے اعمال اور ان کا انجام دیکھ لیں گے۔
3۔ جس نے ذرّہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اپنی نیکی دیکھ لے گا اور جس نے ذرّہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اپنی برائی کو اپنے سامنے پائے گا۔
تفسیر بالقرآن
محشر کے میدان میں لوگوں کی حالت۔
1۔ جب واقعہ ہوگی واقعہ ہونے والی۔ (الواقعہ : 1) 2۔ جب زمین کو ہلا دیا جائے گا پوری طرح ہلا دینا۔ (الزلزال : 1)
3۔ قیامت زمین و آسمانوں پر بھاری ہوگی۔ (الاعراف : 187) (الحج : 1)
4۔ قیامت کے دن لوگ اڑتے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے۔ (القارعہ : 4)