98. Surah Al-Bayyina

البينةThe Evidence · 8 ayahsاشرف الحواشی

Ayahs 98:1–3

لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ مُنْفَكِّیْنَ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ الْبَیِّنَةُۙ Open ayah 98:1 in the Quran reader

کتاب والے اور مشرک جو کافر ہیں وہ اپنے کفر سے باز آنے والے نہیں تھے اس وقت تک کہ ایک کھلی دلیل ان کے پاس نہ آجائے

رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةًۙ Open ayah 98:2 in the Quran reader

یعنی اللہ کا رسول جو پاکیزہ مقدس ورق ان کو پڑھ کر سنائے

فِیْهَا كُتُبٌ قَیِّمَةٌؕ Open ayah 98:3 in the Quran reader

ان میں پکی معقول باتیں لکھی ہوں6

ف 6 یعنی پیغمبر آخر الزمان اور قرآن بھیجنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) اور مشرکین عرب کو راہ حق پر لایا جائے، کیونکہ یہ لوگ اس قدر بگڑے ہوئے تھے کہ ان کا راہ حق پر آنا اس کے بغیر ممکن نہ تھا کہ ایک پیغمبر آئے جو ایک مقدس آسمانی کتاب جس میں عمدہ و دلنشیں مضامین ہوں، انہیں پڑھ کر سنائے۔ کسی حکیم یا صوفی یا بادشاہ عادل کے بس کی بات نہ ت ھی کہ انہیں راہ راست پر لے آتا۔
Ayah 98:4

وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنَةُؕ Open ayah 98:4 in the Quran reader

اور کتاب والے جو پھوٹ گئے (کوئی اس پیغمبر پر ایمان لائے کوئی نہ لائے) تو یہ پھوٹ انہوں نے دلیل پہنچ جانے کے بعد7 ضد اور حسد سے کی

ف 7 یعنی ان کے محمد ﷺ پر ایمان نہ لانے کی وجہ ہرگز یہ نہ تھی کہ انہیں آپ کی صداقت میں شک تھا وہ تو سب نشانیاں اور بشارتیں جو پچھلی کتابوں میں آپ کے بارے میں بیان ہوئی تھیں، خوب اچھی طرح جانتے تھے اور انہیں یقین تھا کہ آپ ہی پیغمبر آخر الزماں ہیں لیکن اس کے باوجود محض حسد اور عناد کی وجہ سے آپ کے بارے میں جدا جدا ہوگئے کوئی ایمان لایا اور کوئی اپنے کفر پر ڈٹا رہا۔ حسد اور عناد یہی تھا کہا آپ کی بعثت بنی اسماعیل میں کیوں ہوئی حالانکہ آپ سے پہلے تمام انبیاء بنی اسرائیل میں آتے رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ معمولی درجہ کے مجرم نہیں ہیں بلکہ بڑے درجہ کے مجرم ہیں جو جانتے بوجھتے حق کو جھٹلا رہے ہیں۔
Ayah 98:5

وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۙ۬ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ Open ayah 98:5 in the Quran reader

حالانکہ) اہل کتاب کو خود انکی کتابوں میں یہی حکم ہوا تھا کہ ایک طرف کے ہو کر اللہ کو پوچیں خلاص اس کی بندگی کریں اور نماز کو درستی سے ادا کریں اور زکوا 1 دیا کریں اور یہی دین ٹھیک ہے8

ف 8 جس کی طرف پیغمبر آخر الزمان ﷺ دعوت دیتے ہیں۔ اس لئے یہ لوگ اگر حسد کی بیماری میں مبتلا نہ ہوتے تو ہرگز آپ پر ایمان لانے سے نہ رک سکتے تھے۔
Ayah 98:6

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِیَّةِؕ Open ayah 98:6 in the Quran reader

بیشک کتاب والوں اور مشرکوں میں سے جو کافر رہے انہوں نے اس پیغمبر کو نہ مانا وہ قیامت کے دن دوزخ کی آگ میں ہونگے ہمیشہ اسی میں رہیں گے وہ ساری خلقت میں بدتر ہیں9

ف 9 کیونکہ وہ جان بوجھ کر حق بات کو چھپا رہے ہیں۔
Ayahs 98:7–8

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِؕ Open ayah 98:7 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے انہوں نے سب پیغمبروں کو مانا اور اچھے کام کئے وہ ساری خلقت میں بہتر ہے

جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ۠ Open ayah 98:8 in the Quran reader

ان کا بدلہ ان کے مالک کے پاس بیچا بیچ بہشت کے باغ ہیں جن کیتلے نہریں پڑی بہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اللہ تعالیٰ ان سے خوش اور اللہ تعالیٰ سے خوش جو کوئی اپنے مالک سے دنیا میں ڈرتا رہا اس کو ایسا ہی بدلہ ملے گا۔