Al-Bayyina 98:2

Al-Bayyina · from ayah 2

98:2

رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً ۟ۙرَسُوۡلٌ مِّنَ اللّٰهِ يَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً ۙ‏

(یعنی) خدا کے پیغمبر جو پاک اوراق پڑھتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

A Messenger from Allah, reciting purified scriptures

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 23 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Bayyina

All translations of 98:2

(یعنی) اللہ کی طرف سے ایک رسول جو پاک صحیفے پڑھ کر سنائے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یعنی) خدا کے پیغمبر جو پاک اوراق پڑھتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ کا ایک رسول جو پاک صحیفے پڑھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یعنی ایک اللہ کا رسول جو پاک صحیفے پڑھ کر سنائے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ کون وہ اللہ کا رسول کہ پاک صحیفے پڑھتا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(وہ دلیل) اﷲ کی طرف سے رسول (آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں جو (ان پر) پاکیزہ اوراقِ (قرآن) کی تلاوت فرماتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ کی طرف سے ایک رسول، جو پاک صحیفے پڑھ کر سنائے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(یعنی) اللہ کی طرف سے ایک رسول جو انہیں پاکیزہ صحیفے پڑھ کر سناتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یعنی اللہ کی طرف سے ایک فرستادہ، پاکیزہ اوراق پڑھتا ہوا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یعنی اللہ کی طرف سے ایک ایسا عظیم الشان رسول جو کہ پڑھ کر سنائے (ان کو) ایسے عظیم الشان صحیفے جن کو پاک (و صاف) کردیا گیا ہو (ہر طرح کے غل و غش سے)

— مولانا اسحاق مدنی

(یعنی) اللہ کا ایک رسول جو انہیں پاک صحیفے پڑھ کر سنائے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ایک رسول ﷺ اللہ کی جانب سے جو تلاوت کرتے ہیں پاکیزہ اوراق کی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یعنی اللہ کے پیغمبر جو پاک اوراق پڑھتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

a Messenger from Allah, reciting from Purified Scrolls;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

a messenger from Allah who recites the purified scrolls

— Muhammad Taqi Usmani

a messenger from Allah who recites the purified scrolls

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

A Messenger from Allah reciting purified pages.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

A messenger from Allah, reading purified pages

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

A Messenger from Allah, reciting purified scriptures

— Saheeh International

a Messenger (Muhammad) from God, reciting to them parts of the purified,

— Muhammad Sarwar

An apostle from Allah, reciting pure pages,

— Muhammad Habib Shakir

An apostle from Allah rehearsing Writs cleansed.

— Abdul Majid Daryabadi

An messenger from Allah, rehearsing scriptures kept pure and holy:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 98:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

پاک و شفاف اوراق کی زینت قرآن حکیم : اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور مشرکین سے مراد بت پوجنے والے عرب اور آتش پرست عجمی ہیں فرماتا ہے کہ یہ لوگ بغیر دلیل حاصل کیے باز رہنے والے نہ تھے پھر بتایا کہ وہ دلیل اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ جو پاک صحیفے یعنی قرآن کریم پڑھ سناتے ہیں جو اعلیٰ فرشتوں نے پاک اوراق میں لکھا ہوا ہے جیسے اور جگہ ہے فی صحف مکرمتہ، الخ کہ وہ نامی گرامی بلندو بالا پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکو کار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں پھر فرمایا کہ ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں نہ ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 2–3

سورة البینہ 4 یہاں رسول اللہ ﷺ کی بذات خود ایک دلیل روشن کہا گیا ہے، اس لیے کہ آپ کی نبوت سے پہلے کی اور بعد کی زندگی آپ کا امی ہونے کے باوجود قرآن جیسی کتاب پیش کرنا، آپ کی تعلیم اور صحبت کے اثر سے ایمان لانے والوں کی زندگیوں میں غیر معمولی انقلاب رونما ہوجانا، آپ کا بالکل معقول عقائد، نہایت ستھری عبادات، کمال درجہ کے پاکیزہ اخلاق، اور انسانی زندگی کے لیے بہترین اصول و احکام کی تعلیم دینا، آپ کے قول اور عمل میں پوری پوری مطابقت کا پایا جاتا، اور آپ کا ہر قسم کی مزاحمتوں اور مخالفتوں کے مقابلے میں انتہائی اولو العزمی کے ساتھ اپنی دعوت پر ثابت قدم رہنا، یہ ساری باتیں اس بات کی کھلی علامات تھیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–3

یتلوا صحفاً مطھرة، فیھا کتب قیمة یتلو، تلاوت سے مشتق ہے جس کے معنے پڑھنے کے ہیں، مگر ہر پڑھنے کو تلاوت نہیں کہا جاتا بلکہ وہ پڑھنا جو پڑھانے والے کی تلقین کے بالکل مطابق ہو اس کو تلاوت کہتے ہیں اسی لئے عرف میں عموماً لفظ تلاوت صرف قرآن پڑھنے کے لئے بولا جاتا ہے۔ صحف صحیفہ کی جمع ہے جن کاغذات میں کوئی مضمون تحریر ہو ان کو صحیفہ کہتے ہیں۔ کتب، کتاب کی جمع ہے اس کے ایک معنی تو لکھی ہوئی چیز کے ہیں اس اعتبار سے کتاب اور صحیفہ تقریباً ہم معنی لفظ ہیں اور کبھی لفظ کتاب مبعنے حکم بھی بولا جاتا ہے جیسا کہ قرآن کی آیت لولاکتب من اللہ سبق میں لفظ کتاب بمعنے حکم ہی مستععمل ہوا ہے۔ اس جگہ بھی یہی دوسرے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ ’اَلْبَیِّنَۃُ‘ کی وضاحت ہے کہ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ ہم سے منوانا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرشتہ براہ راست پاک اور اچھوتے اوراق پڑھتا ہوا اترے جس میں نہایت واضح اور قطعی احکام مرقوم ہیں۔ ’رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰہِ‘ کے الفاظ سے واضح ہے کہ ان کا منشا یہ تھا کہ انسانوں میں سے اٹھا ہوا کوئی رسول جو مدعی ہو کہ اس پر وحی آتی ہے، ان کو مطلوب نہیں ہے، بلکہ وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا کوئی فرشتہ چاہتے ہیں جو پاک اور اچھوتے اوراق پڑھتا ہوا اترے۔ ’صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً‘۔ ’صَحِیْفَۃٌ‘ ورق کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ فرشتہ کی بات بھی اس صورت میں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–3

1: ان آیتوں میں حضور اقدس ﷺ کو پیغمبر بناکر بھیجنے کی وجہ بتائی جارہی ہے، اور وہ یہ کہ جاہلیت کے زمانے میں جو کافر لوگ تھے، چاہے وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا بت پرستوں میں سے، وہ اس وقت تک اپنے کفر سے باز نہیں آسکتے تھے جب تک آنحضرت ﷺ کی شکل میں ایک روشن دلیل ان کے سامنے نہ آجاتی، چنانچہ جن لوگوں نے آنحضرت ﷺ کی باتوں پر کھلے دل سے غور کیا، وہ واقعی اپنے کفر سے توبہ کرکے ایمان لے آئے، البتہ جن کی طبیعت میں ضد تھی وہ اس نعمت سے محروم رہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

رسول ................................ مطھرة (2:98) ”(یعنی) اللہ کی طرف سے ایک رسول جو پاک صحیفے پڑھ کر سنائے “۔ یہ صحیفے شرک اور کفر سے پاک ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے سب دین والے بگڑ چکے تھے۔ اور ہر ایک اپنی غلطی پر مغرور تھا۔ اب چاہیے کسی حکیم یا ولی یا بادشاہ عادل کے سمجھانے سے راہ پر آجائیں تو یہ ممکن نہ تھا جب تک ایک ایسا عظیم القدر رسول نہ آئے جس کے ساتھ اللہ کی پاک کتاب اس کی قوی مدد ہو کہ چند سال میں ایک ایک ملک کو ایمان کی روشنی سے بھر دے اور اپنی زبردست تعلیم اور ہمت و عزیمت سے دنیا کی کایا پلٹ کر دے۔ چناچہ وہ رسول ﷺ ، اللہ کی کتاب پڑھتا ہوا آیا جو پاک ورقوں میں لکھی ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 آپ کی رسالت کے دلائل :۔ وہ روشن اور واضح دلیل اللہ تعالیٰ کا جلیل القدر رسول ہے۔ جو اپنی رسالت پر خود دلیل ہے۔ اس کے لیے کسی دوسری دلیل کی ضرورت نہیں۔ اس کی پوری زندگی، اس کی صداقت اور دیانت ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اگر وہ کہتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو فی الواقع وہ اللہ کا رسول ہے۔ نیز جو قرآن وہ ان اہل کتاب اور مشرکین کو پڑھ کر سناتا ہے اور امی ہونے کے باوجود سناتا اور ایسا معجز نما کلام پیش کرتا ہے۔ تو ایسے قرآن کی آیات پڑھ کر سنانا ہی اس کی رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ ایک امی ہونے کے باوجود وہ ایسا کلام پیش کر رہا ہے جس کی مثال پیش کرنے سے عرب کے فصحاء اور بلغاء سب عاجز آگئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–3

1۔ ظہور اسلام سے قبل دنیا اتنی شدید جہالتوں اور ضلالتوں اور ایسے گہرے کفر میں مبتلا تھی کہ بغیر اس کے کہ ایک مصلح اعظم آئے، او اپنے ہمراہ ایک مکمل نظام نامہ لائے، کوئی توقع اصلاح کی نہ تھی، چناچہ مشیت الہی نے اپنی حجت کو واضح طور پر پورا کرنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کو قرآن کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ (آیت) ” لم ..... منفکین “۔ ذکر زمانہ قبل ظہور اسلام کا ہورہا ہے۔ (آیت) ” منفکین “۔ یعنی کفر کو چھوڑنے والے، کفر سے ہٹنے والے۔ (آیت) ” البینۃ ..... اللہ “۔ یہاں رسول اللہ ﷺ کو صراحت کے ساتھ ایک دلیل واضح قرار دیا ہے۔ (آیت) ” رسول من اللہ “۔ بدل ہے (آیت) ” البینۃ “۔ کا اے الحجۃ الواضحۃ والمراد محمد ﷺ (مدارک)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–2

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کافر تھے یعنی بت پرست تھے (والمشرکین) کا عطف اھل پر ہے اور من اھل الکتاب میں من بیانیہ ہے، وہ (اپنے کفر سے) باز آنے والے نہیں تھے (منفکین) یکن کی خبر ہے، یعنی جس (کفر) پر وہ تھے اس کو چھوڑنے والے نہیں تھے تاآنکہ ان کے پاس واضح دلیل آجائے، یعنی اللہ کی طرف سے ایک رسول (رسول من اللہ) البینۃ سے بدل ہے اور وہ نبی ﷺ ہیں، جو ان کو باطل سے پاک صحیفے پڑھ کر سنائے، جن میں صحیح احکام مکتوب ہوں یعنی اس کے مضمون کو پڑھ کر سنائے اور وہ قرآن ہے، چناچہ ان میں سے بعض اس پر ایمان لائے اور ان میں سے بعض نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

رسول من اللہ . یعنی اللہ کی طرف سے رسول ﷺ آگیا۔ یہفقرہ البیّنۃ سے بدل ہے۔ یتلو صحفا . یہ رسول کی صفت ہے ‘ رسول ایسا ہے جو صحیفے پڑھتا ہے یعنی امّی ہونے کے باوجود وہ ان چیزوں کی تلاوت کرتا ہے جو صحیفوں میں لکھی ہوئی ہیں تو گویا صحیفوں کی تلاوت کرتا ہے۔ مطھرۃ . وہ صحف باطل (کی آمیزش) اور شیاطین کے تصرف سے پاک رکھے گئے ہیں۔ اللہ نے فرمایا : لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہٖ ‘ یا بےوضو اور ناپاک اور حائضہ کے چھونے سے محفوظ ہیں۔ اللہ نے فرمایا : لا یمسہ الا المطھرون۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–4

(1۔ 4) یہود و نصاری اور مشرکین عرب یہ رسول اکرم صلی اللہ اور قرآن کریم اور اسلام کے انکار پر قائم رہتے جب تک کہ ان کے پاس توریت و انجیل میں اس چیز کا ذکر نہ آتا کہ حضرت محمد ﷺ کی طرف سے رسول ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ بعثت نبوی سے پہلے یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب کفر سے باز نہ آتے جب تک کہ ان کے پاس واضح دلیل نہ آتی یعنی حضرت محمد ﷺ جو ان کو پاک صحیفے پڑھ کر سنا دے جس میں دین مستقیم کے مضامین لکھے ہوں۔ اور یہودی یعنی کعب بن اشرف وغیرہ اپنی کتاب توریت میں رسول اکرم ﷺ کی نعت و صفت آنے ہی کے بعد حضور اور قرآن اور دین اسلام کے بارے میں مختلف ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 2–3

(رسول من ال لہ یتلوا صحفاً مطھرۃ…: قرآن مجید کو ”صحفاً مطھرۃ“ اور اس میں موجود احکام اور سوتروں کو ”قیمۃ“ (نہایت مضبوط) قرار دیا ہے کہ ان میں کسی قسم کی ناپاک بات یا کمزور اور بےبنیاد قصہ یا حکم نہیں۔ اگر کسی شخص کو رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے پاک صحیفوں اور ان میں لکھے ہوئے مضبوط احکام کی پاکیزگی اور مضبوطی معلوم کرنے کا شوق ہو تو وہ قرآن مجید کا بائبل کے مجموعے میں موجود پہلے صحیفوں کے ساتھ موازنہ کرلے، جن میں صحیح باتوں کے ساتھ عقل و اخلاق سے گری ہوئی باتیں، واضح تحریف شدہ احکام اور اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی اور انبیائے کرام کی توہین اور ان پر تہمتوں کی نجاست صاف نظر آتی ہے، مثلاً لوط اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–3

لم یکن الذین۔۔۔ تا۔۔۔ قیمہ۔ عام قرات یہی ہے اور مصحف کا خط بھی ایسا ہی ہے حضرت ابن مسعود اسے لم یکن المشرکون واھل الکتاب پڑھتے یہ قرات تفسیر کے طریقہ پر ہے ابن عربی نے کہا، یہ بیان وضاحت کے انداز میں تو جائز ہے لیکن تلاوت میں جائز نہیں، صحیح روایت میں نبی کریم ﷺ سے فطلقوھن لقبل عدتھن۔ قرات ثابت ہے مگر یہ بھی تفسیر کے طور پر ہے کیونکہ تلاوت وہ ہے جو مصحف کے خط میں ہے۔ اہل کتاب سے مراد یہود ونصاری ہیں المشرکین محل جر میں ہے کیونکہ اس کا عطف اہل کتاب پر ہے، حضرت ابن عباس نے کہا، اھل الکتاب سے مراد وہ یہودی ہیں جو یثرب میں تھے وہ بنوقریظہ، بنونضیر اور بنو قینقاع تھے۔ مشرکین سے مراد جو مکہ مکرمہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–8

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة لم یکن مدینہ میں نازل ہوئی 2۔ ابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ سورة لم یکن مکہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ ابو نعیم نے المعرفہ میں اسماعیل بن ابی حکیم المزنی ؓ جو بنو فضیل میں سے ایک تھے سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بیشک اللہ تعالیٰ لم یکن کی قراءت کو سنتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میرے بندے کو بشارت دے دو پس میری عزت اور میرے جلال کی قسم ! میں تجھے اتنا اختیار دوں گا جنت میں یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے گا۔ 4۔ ابوموسی المدینی نے المعرفہ میں اسماعیل بن ابی حکیم سے روایت کیا اور انہوں نے مطر المزنی یا المدنی (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ : (تو آچکا ہے) ایک رسول اللہ کی طرف سے ][ يَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً : پڑھتا ہوا ایسے پاکیزہ صحیفے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–4

یہاں سے سورة البینہ شروع ہو رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے دنیا میں مشرکین بھی بہت تھے اور اہل کتاب یہود و نصاریٰ بھی تھے۔ یہ سب جماعتیں اپنے اپنے دین پر مضبوطی سے جمی ہوئی تھیں ان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ شانہ نے خاتم الانبیاء سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ یہ لوگ اتنے اڑیل تھے کہ اپنے کفر کو اس وقت تک چھوڑنے والے نہ تھے جب تک کوئی مضبوط واضح دلیل سامنے نہ آجائے، اللہ تعالیٰ جل شانہ نے مضبوط واضح دلیل بھیجی۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے آپ پر قرآن نازل ہوا، لوگوں نے اپنی آنکھوں سے آپ کے معجزات دیکھے اور برکات کا ظہور ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن لوگوں نے کفر کیا یعنی اہل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

ذات رسول کریم ﷺ وآیات قرآن شرچشمہ علوم وبرہان ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لم یکن الذین کفروا ....... الی .......... ذلک لمن خشی ربہ “۔ (ربط) گزشتہ سورت القدر میں شب قدر کی عظمت وفضیلت کا ذکر تھا، اس مناسبت سے اب اس سورت میں قبولیت عبادت کی اساس بیان کی جارہی ہے کہ وہ بندہ کا اخلاص اور قلب کی طہارت ہے اور اسی کو نام حنیفیت ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا شعار تھا، نیز یہ کہ سورة قدر میں لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کی گئی تھی تو اب اس سورت میں سعادت وشقاوت کے اصول بیان کئے گئے تاکہ ایمان وکفر اور ہدایت وگمراہی میں کسی کو التباس نہ رہے، تو ارشاد فرمایا۔ نہیں تھے باز آنے والے وہ لوگ جو کافر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–3

2:۔” لم یکن “ اہل کتاب سے یہود و نصاری مراد ہیں۔ ” منفکین “ یہاں تامہ ہے بمعنی منتھین عن کفرہم (قرطبی) ۔ یہاں ایک اشکال ہے وہ یہ ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین کے کفر و شرک سے باز آنے کی انتہاء پیغمبر (علیہ السلام) کی آمد بیان فرمائی ہے اور حتی چونکہ انتہاء غایت کے لیے ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ رسول کی آمد پر ان کی پہلی حالت یعنی کفر و شرک پر قیام ختم ہوجائے، لیکن اس کے بعد والی آیت ” وما تفرق الذین اوتوا الکتاب “ کا مقتضی یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی آمد کے بعد ان کے کفر میں اضافہ ہوگیا۔ اس طرح دونوں آیتوں میں بظاہر تضاد معلوم ہوتا ہے۔ اس کے متعدد جوابات ہیں۔ اول۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے اہل کتاب…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

مفسرین کرام اس کا نام سورة قیامت بھی ذکر کرتے ہیں۔ جیسا کہ تفسیر روح المعانی میں ہے اور سورة بریہ بھی اور منفکین ، سورة بینہ بھی۔ لیکن بینہ زیادہ مشہور ہے۔ اس لئے کہ اس سورة میں دو دفعہ بینہ کا لفظ مذکور ہے۔ اور بینہ واضح چیز کو کہتے ہیں۔ واضح دلیل یا واضح بات بینہ کہلاتی ہے جیسا کہ قرآن کریم کی آیات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بینات کا لفظ استعمال کیا۔ ” من البینت والھدی “ واضح واضح باتیں اور ہدایت کی باتیں۔ “ ان الذین یکتمون ما انزلنا من البینت والھدی “ یہ بینات کا لفظ آتا ہے۔ اس سے مراد وہ واضح اصول ہیں جو بالکل واضح ہوں آسانی سے معلوم ہو سکتے ہوں۔ ہدایت واضح باتیں واضح قانون ، واضح دلائل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رَسُوْلٌ مِّنَ اللہِ يَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً۝ 2 ۙ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] وقال : وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفاً [ المرسلات/ 1] ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ وما تفرق الخ الجملہ مستانفۃ لتوبیخ اھل الکتاب والتخصیص بذکرھم للد لالۃ علی ان المشرکین مع جھلھم اولیٰ بالتفرق الا الا ستثناء مفرغ من اعم الاحوال والا وقات۔ وما امرو الجملۃ فی محل النصب علی انھا حال من اھل الکتاب والحال انھم ما امرو ابشیء یخالف اصول دینھم بل بشیء یطابقھا مخلصین قراء الجمھور بکسر اللام وقرا الحسن بفتحھا۔ وھی حال من الضمیر فی یعبدو احنفاء حال من الضمیر فی مخلصین فیکون من باب التداخل ویمکن ان یکون من یعبدوا جمع حنیف۔ والحنیف المائل عن الباطل ای الحق وقیل المتبع بطریقۃ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) ویقیموا ویوتوا معطوفان علی لیعبدوا سقطت النون لتقدر ان ای ان لیعبدوا للہ الخ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 2–3

رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰہِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَھَّرَۃً ۔ فِیْھَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ۔ (البینۃ : 2، 3) (یعنی اللہ کی طرف سے ایک رسول جو پاک صحیفے پڑھ کر سنائے۔ جس میں لکھی ہوں سچی اور درست تحریریں۔ ) رَسُوْلٌ، الْبَیِّنَۃُ سے بدل ہے۔ الْبَیِّنَـۃُکی وضاحت انسانی ہدایت کے لیے جس الْبَیِّنَـۃُیعنی روشن دلیل کی ضرورت تھی وہ روشن دلیل نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ اور آپ ﷺ کی ذات کو ہدایت کی روشن دلیل اور بلند مینار دو چیزوں نے بنایا ہے۔ ایک آپ کی نبوت سے پہلے کی زندگی اور آپ کا حُسنِ کردار۔ اور دوسرا آپ کا امی ہونے کے باوجود ایک ایسی کتاب کو پیش کرنا جو اپنے اندر ہمہ جہتی اعجاز رکھتی ہے۔ جس کے الفاظ،…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–3

فہم القرآن ربط سورت : لیلۃ القدر میں نازل ہونے والا قرآن مجید کسی ایک فرقہ اور قوم کے لیے نازل نہیں ہوا، یہ بلا تخصیص ہر دور کے لوگوں کے لیے نازل ہوا جس میں اہل کتاب اور مشرکین بھی شامل ہیں۔ اس سورة مبارکہ میں اہل کتاب اور مشرکین کو الگ، الگ مخاطب کیا گیا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ اہل کتاب مشرک نہیں تھے۔ یہ قرآن مجید کا مخصوص انداز ہے کہ وہ اہل کتاب کو بنی اسرائیل اور ان کے معروف نام اہل کتاب سے مخاطب کرتا ہے، جہاں تک ان کے شرک کا تعلق ہے یہ اسی طرح ہی شرک میں ملوّث تھے جس طرح عرب کے مشرکین شرک میں مبتلا تھے۔ فرق صرف اتنا تھا اور ہے کہ عرب کے مشرکین بتوں کے واسطے سے عبادت اور دعا کرتے تھے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2 : رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰہِ (ایک اللہ کا رسول) یعنی محمد ﷺ ۔ نحو : یہ البینہ سے بدل ہے۔ یَتْلُوْا (جو پڑھ کر سناتے ہیں) صُحُفًا (صحیفے) مُّطَھَّرَ ۃً (پاک) جو باطل سے پاک ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2 ۔ پھر بینہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ” رسول اللہ من اللہ یتلوا “ پڑھتے ہیں۔ ” صحفا “ کتاب۔ صحیفے (اوراق) جس مکتوب کو متضمن ہوتے ہیں وہ مراد ہے اور وہ قرآن ہے اس لئے کہ آپ (علیہ السلام) قرآن کی تلاوت اپنے دل سے کرتے تھے کسی تحریر وکتاب کو دیکھ کر نہ کرتے تھے۔ ” مطھرۃ “ باطل اور جھوٹ ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ شروع سورة سے حتیٰ تاتھیم البینۃ تک کی آیت کا مطلب اس طرح کا مشکل ہے کہ جس کے بیان کرنے میں اکثر مفسروں نے غلطی کی ہے لیکن صحیح قول یہ ہے کہ بینہ 1 ؎ سے مراد نبی آخر الزمان ہیں۔ اور یہ آیت ان لوگوں کی شان میں ہے جو اہل مکہ اور اہل کتاب میں سے راہ راست پر آگئے اور اسلام لے آئے اور حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ اگر قرآن جیسی کتاب نازل نہ ہوتی اور نبی آخر الزمان جیسے رسول نہ آتے تو اہل مکہ اور اہل کتاب سب کے سب اسی کفر کی حالت پر رہتے اور کوئی ان میں سے راہ راست پر نہ آتا۔ پھر فرمایا کہ یہ اہل کتاب جو متفرق ہو رہے ہیں کہ کوئی ان میں سے اسلام لے آیا اور کوئی بدستور حالت کفر پر اڑا ہوا ہے اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ ) اللہ کے رسول۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو مبعوث کیا جو لوگوں کو حق کی طرف دعوت دیتا ہے اس پر کتاب اتاری جس کی وہ تلاوت کرتا ہے تاکہ لوگوں کو دانائی سکھائے، ان کو پاک کرے اور ان کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائے اس لیے فرمایا (يَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً ) وہ رسول پاک اوراق پڑھتا ہے۔ یعنی وہ شیطان کے قریب ہونے سے محفوظ ہیں۔ اسے صرف پاک فرشتے ہی چھوتے ہیں کیونکہ یہ بلند ترین کلام ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–2

3 ۔ پیغمبر بذات خود ایک عظیم الشان دلیل : سو ارشاد فرمایا گیا اور " بینہ " کی وضاحت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا " رسول من اللہ " یعنی اللہ کی طرف سے آنے والا ایک عظیم الشان رسول، اور رسول کی تنوین تعظیم و تفخیم کے لیے، اور ظاہر ہے کہ جس عظمت شان سے حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے آنجناب ﷺ کو نوازا گیا وہ پوری مخلوق خداوندی میں اور کسی کو نہ ملی ہے، نہ مل سکتی ہے، نہ مل سکے گی، جو ہمہ گیر اور عظیم الشان انقلاب آپ کے ذریعے رونما ہوا اس کی نظر چشم فلک نے نہ اس سے قبل کبھی دیکھی اور نہ آئندہ قیامت تک کبھی دیکھ سکے گی، اور آپ کا وجود اپنے اوصاف و کمالات کے اعتبار سے اور اپنی تعلیمات و ارشادات کے لحاظ سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

اہل کتاب کی مخالفت اور رسول ﷺ کی ضرورت تشریح : ایک ہی پیغام ہے جو ہمیشہ تمام پیغمبر دیتے رہے ہیں۔ کہ اللہ ایک ہے اسی کی عبادت کرو جس کا بہترین طریقہ ہے نماز۔ کیونکہ اس سے طہارت ملتی ہے۔ دل کو سکون ملتا ہے وقت کی پابندی کی عادت پڑتی ہے۔ سستی اور کاہلی دور ہوتی ہے۔ اللہ سے ملاقات کا اور دعا کا موقعہ ملتا ہے انسان کے اندر اللہ کا خوف پیدا ہوتا ہے۔ اس کی محبت اور فرمانبرداری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ دنیا سے بےنیازی ' خودداری اور کردار میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ نماز پورے خلوص ' توجہ اور خشوع و خضوع کے ساتھ صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے اور اللہ کے غضب سے ڈرتے ہوئے پڑھی جائے۔ اسی طرح زکوۃٰ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

سورة البینہ۔ آیات 1 تا 8 اسرار ومعارف۔ دنیا میں کافر ، اہل کتاب اور مشرک سب ہی بہت زیادہ گمراہی میں مبتلا تھے ہر سمت کفر وشرک کے ساتھ جوروستم چھایا ہوا تھا دنیا کا حال اس قدر برا تھا کہ تاریخ انسانی میں کبھی اس سے پہلے ایسا نہ ہوا تھا اور نہ آئندہ کبھی اتنی گمراہی اکٹھی ہوگی کہ اس کو دور کرنے کے لیے ایسی روشنی اور اتنی طاقتور ہدایت کی ضرورت تھی کہ جس طرح ظلم وجور بےمثال تھا اسی طرح رسول اللہ بھی لاثانی ہو اور جتنی گہری ظلمت تھی اتنی اور اس سے زیادہ طاقتور نورانیت ہو تب اللہ نے آپ کو ایسے رسول کی شان سے مبعوث فرمایا جس نے سارے عالم کو ہمیشہ کے لیے منور کردیا اور اللہ کی طرف سے اللہ کی کتاب اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–3

ف 6 یعنی پیغمبر آخر الزمان اور قرآن بھیجنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) اور مشرکین عرب کو راہ حق پر لایا جائے، کیونکہ یہ لوگ اس قدر بگڑے ہوئے تھے کہ ان کا راہ حق پر آنا اس کے بغیر ممکن نہ تھا کہ ایک پیغمبر آئے جو ایک مقدس آسمانی کتاب جس میں عمدہ و دلنشیں مضامین ہوں، انہیں پڑھ کر سنائے۔ کسی حکیم یا صوفی یا بادشاہ عادل کے بس کی بات نہ ت ھی کہ انہیں راہ راست پر لے آتا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(98:2) رسول من اللہ یتلوا صحفا مطھرۃ : رسول بدل ہے البینۃ سے۔ قال الزجاج :۔ رسول : رفع علی البدل من البینۃ : رسول مرفوع ہے کیونکہ البینۃ سے بدل ہے۔ من اللہ صفت ہے رسول کی۔ یتلوا صحفا مطھرۃ۔ یہ رسول کی صفت ثانی ہے رسول کی یارسول سے حال ہے۔ یتلوا : تلاوہ (باب نصر) مصدر سے۔ مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ وہ تلاوت کرتا ہے۔ وہ پڑھتا ہے۔ صحفا مطھرۃ : موصوف و صفت مل کر یتلوا کا مفعول۔ صحف بمعنی صحیفے، کتابیں۔ اور اق۔ نوشتے۔ صحیفۃ کی جمع ہے جو شاذ و نادر ہے۔ کیونکہ فعیلۃ کی جمع فعل پر نہیں آتی۔ قیاس میں اس کی مثال :۔ سفینۃ اور سفن ہے۔ قرآن مجید کی ہر ایک سورت ایک صحیفہ ہے۔ جس طرح توریت کے ابواب…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن۔ لم یکن۔ نہیں ہے۔ منفکین۔ باز آنے والے۔ البینۃ۔ صاف اور کھلی باتیں۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ صاف ستھرا۔ کتب قیمۃ۔ لکھی ہوئی مضبوط کتابیں۔ ما تفرق۔ الگ الگ نہ ہوئے۔ امروا۔ حکم دیا گی ا ہے۔ مخلصین۔ خالص کرنے والے۔ حنفائ۔ سب سے منہ موڑنے والے ( ایک اللہ کے ہوجانے والے) ۔ شر البریۃ۔ بدترین مخلوق۔ خیر البریۃ۔ بہترین مخلوق۔ ؓ اللہ خوش ہوگیا۔ خشی۔ جو ڈرا۔ تشریح : قرآن کریم میں اہل کتاب ان لوگوں کو کہا گیا ہے جن کے پاس گذشتہ رسول کوئی کتاب لے کر آئے۔ بعد میں آنے والوں نے اپنے بعض دنیاوی مقاصد کے لئے ان میں بتدیلیاں کرلیں وہ ان کو اللہ کی کتاب ماننے کے باوجود شرک بھی کرتے تھے۔ اللہ نے ان کو یہود،…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–6

حضور ﷺ کی تشریف آوری کا ذکر۔ (ف 1) اہل کتاب یہود ونصاری اور مشرکین جو بت پرستی یا آتش پرستی وغیرہ میں مبتلا تھے اور کوئی کتاب سماوی ان کے ہاتھ مین نہ تھی اور نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے سب دین والے بگڑ چکے تھے اور سیدنا انبیاء محمد ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے یہ تمام یہی کہتے تھے کہ ہم اپنا دین چھوڑنے والے نہیں ، جب تک کہ وہ نبی موعود تشریف فرما نہ ہوں یعنی سید عالم جلوہ افروز نہ ہوں جن کا ذکر توریت وانجیل میں ہے ، چناچہ وہ رسول یعنی محمد ﷺ حق وعدل کی کتاب یعنی قرآن مجید پڑھتے ہوئے جلوہ افروز ہوئے آگے فرمایا کہ یہ اہل کتاب اب جو متفرق ہورہے ہیں کہ کوئی ان میں سے اسلام لے آیا اور کوئی بدستور حال تکفر پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–2

[1] یعنی ان کفار و مشرکین کا کفر و شرک ایسا شدید تھا اور وہ ایسے جہل میں مبتلا تھے کہ کسی عظیم پیغمبر کی بعثت کے بغیر ان کے راہ پر آنے کی توقع نہ تھی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان پر حجت تمام کرنے کے لئے محمد ﷺ کو قرآن دے کر مبعوث فرمایا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–3

نفسِ بینہ 2: اہل کتاب اور مشرکین مکہ دونوں حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے یہ کہا کرتے تھے کہ ہم اس وقت تک اپنے عقائد مزمومہ کو نہیں چھوڑ سکتے جب تک کہ وہ شخصیت موعودہ نہ آجائے ۔ جس کا ذکر کتب مقدسہ میں ہے ۔ وہ ہمارے لئے زبردست دلیل اور برہان ہے ۔ وہ آئے اور پاک اوراق اس پیغام کے ہم کو سنائے ۔ جن میں تمام کتابوں کا نچوڑ اور عطر ہے ۔ ہم اس کو تسلیم کرلیں گے اور اس کے کہنے سے تمام خرافات کو ترک کردیں گے ۔ مگر یہ کتنی عجیب بات ہے کہ یہی اہل کتاب صاف مکر گئے ۔ جبکہ ان کے پاس وہ حجت حق آگئی اور دلائل وبراہین سے اس نے ثابت کردیا کہ میں وہی ہوں ۔ جس کا ذکر پہلی کتابوں میں ہے اور جس کے انتظار میں تم نے اب تک…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

ف 1۔ مراد قرآن ہے، مطلب یہ ہے کہ ان کفار کا کفر ایسا شدید تھا کہ اور ایسے جہل میں مبتلا تھے کہ بدون رسول عظیم کی بعثت کے ان کے راہ پر آنے کی توقع نہ تھی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے حجت کے اتم و الزم ہونے کے لئے آپ کو قرآن دے کر مبعوث فرمایا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا ایک رسول جو پاکیزہ صحیفے سناتا ہے 2 ؎ ایسی البینہ کون ہو سکتی ہے ؟ فرمایا ایسی بینہ اللہ تعالیٰ کا آخری رسول محمد رسول اللہ ﷺ ہو سکتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے منصب رسالت پر فائز کر کے گمراہیوں کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا ہے ۔ گویا یہ رسول محمد رسول اللہ ﷺ ہی روشنی اور ہدایت کا وہ بلند معیار ہیں جس کی تابنہ شعاعوں سے عالم انسانیت کے نشیب و فراز جگمگا رہے ہیں ، کیوں ؟ فرمایا اس لیے کہ وہ ایسی کتاب کی تلاوت فرماتے ہیں جو ہر قسم کے نقص اور عیب سے پاک ہے اور ہر نقص سے وہ مبرا ہے اور یہ ایسی تعلیمات ہیں کہ جو اس سے پہلے صحائف میں تھا وہ بھی اس میں آگیا اور صرف وہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–3

Verses [ 2-3] يَتْلُو صُحُفًا مُّطَهَّرَ‌ةً فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ (a messenger from Allah who recites the purified scrolls containing [ right and ] straight writings. - 98:2, 3) The verb yatlu is derived from the infinitive tilawah, meaning 'to read out or to recite'. However, not every reading or reciting is tilawah, but only the one that is very closely followed according to the teacher's instruction. Probably, this is the reason why the word tilawah is specifically used, in common idiom, for 'the recitation of the noble Qur'an'. The word suhuf is the plural of sahifah and it refers to 'a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–3

4 Here, the Holy Prophet (upon whom be peace) himself has been called "the clear evidence", for his life before and after Prophethood, his presenting a Book like the Qur'an in spite of being .un-lettered, his bringing about an extraordinary revolution in the lives of the converts to Islam through education and training, his educating the people in rational beliefs, clean and pure forms of worship, excellent morals and the best principles and ,injunctions for human life, perfect harmony and agreement between his word and deed, and his constancy of purpose in respect of his message in spite of…

Read the full tafseer →