فِیْهَا كُتُبٌ قَیِّمَةٌ ۟ؕفِيۡهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ
جن میں (مستحکم) آیتیں لکھی ہوئی ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Within which are correct writings.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 23 of juz
فِیْهَا كُتُبٌ قَیِّمَةٌ ۟ؕفِيۡهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ
جن میں (مستحکم) آیتیں لکھی ہوئی ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Within which are correct writings.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 23 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Bayyina
جن میں بالکل راست اور درست تحریریں لکھی ہوئی ہوں
جن میں (مستحکم) آیتیں لکھی ہوئی ہیں
جن میں صحیح اور درست احکام ہوں
جن میں سیدھی تحریریں لکھی ہوں۔
ان میں سیدھی باتیں لکھی ہیں
جن میں درست اور مستحکم احکام (درج) ہیں،
جن میں لکھے ہوئے مضبوط احکام ہوں۔
جس میں مستحکم کتابیں موجود ہیں
جس میں صاف احکام لکھے ہوئے ہوں
جن میں (ثبت و مندرج) ہوں عظیم الشان سیدھے اور درست مضامین
جن میں درست مضامین درج ہوں۔
ان میں بڑے مضبوط احکام (تحریر) ہیں۔
جن میں مستحکم آیات لکھی ہوئی ہیں
in writings wherein are scriptures, absolutely true and unerring.
containing (right and) straight writings.
containing (right and) straight writings.
Wherein are upright Books.
Containing correct scriptures.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Within which are correct writings.
holy Book which contain eternal laws of guidance.
Wherein are all the right ordinances.
Wherein are discourses eternal.
Wherein are laws (or decrees) right and straight.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–5
پاک و شفاف اوراق کی زینت قرآن حکیم : اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور مشرکین سے مراد بت پوجنے والے عرب اور آتش پرست عجمی ہیں فرماتا ہے کہ یہ لوگ بغیر دلیل حاصل کیے باز رہنے والے نہ تھے پھر بتایا کہ وہ دلیل اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ جو پاک صحیفے یعنی قرآن کریم پڑھ سناتے ہیں جو اعلیٰ فرشتوں نے پاک اوراق میں لکھا ہوا ہے جیسے اور جگہ ہے فی صحف مکرمتہ، الخ کہ وہ نامی گرامی بلندو بالا پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکو کار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں پھر فرمایا کہ ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں نہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
سورة البینہ 4 یہاں رسول اللہ ﷺ کی بذات خود ایک دلیل روشن کہا گیا ہے، اس لیے کہ آپ کی نبوت سے پہلے کی اور بعد کی زندگی آپ کا امی ہونے کے باوجود قرآن جیسی کتاب پیش کرنا، آپ کی تعلیم اور صحبت کے اثر سے ایمان لانے والوں کی زندگیوں میں غیر معمولی انقلاب رونما ہوجانا، آپ کا بالکل معقول عقائد، نہایت ستھری عبادات، کمال درجہ کے پاکیزہ اخلاق، اور انسانی زندگی کے لیے بہترین اصول و احکام کی تعلیم دینا، آپ کے قول اور عمل میں پوری پوری مطابقت کا پایا جاتا، اور آپ کا ہر قسم کی مزاحمتوں اور مخالفتوں کے مقابلے میں انتہائی اولو العزمی کے ساتھ اپنی دعوت پر ثابت قدم رہنا، یہ ساری باتیں اس بات کی کھلی علامات تھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
یتلوا صحفاً مطھرة، فیھا کتب قیمة یتلو، تلاوت سے مشتق ہے جس کے معنے پڑھنے کے ہیں، مگر ہر پڑھنے کو تلاوت نہیں کہا جاتا بلکہ وہ پڑھنا جو پڑھانے والے کی تلقین کے بالکل مطابق ہو اس کو تلاوت کہتے ہیں اسی لئے عرف میں عموماً لفظ تلاوت صرف قرآن پڑھنے کے لئے بولا جاتا ہے۔ صحف صحیفہ کی جمع ہے جن کاغذات میں کوئی مضمون تحریر ہو ان کو صحیفہ کہتے ہیں۔ کتب، کتاب کی جمع ہے اس کے ایک معنی تو لکھی ہوئی چیز کے ہیں اس اعتبار سے کتاب اور صحیفہ تقریباً ہم معنی لفظ ہیں اور کبھی لفظ کتاب مبعنے حکم بھی بولا جاتا ہے جیسا کہ قرآن کی آیت لولاکتب من اللہ سبق میں لفظ کتاب بمعنے حکم ہی مستععمل ہوا ہے۔ اس جگہ بھی یہی دوسرے…
Read the full tafseer →’فِیْہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ‘۔ مذکورہ شرائط کے اوپر ایک مزید شرط یہ بھی کہ ان اوراق میں ادھر ادھر کی بہت سی سرگزشتیں اور حکایتیں نہ ہوں بلکہ سیدھے سیدھے قطعی اور واضح احکام ہوں کہ وہ ان کو سن کر بے تکلف جان لیں کہ ان کا رب ان کو کن باتوں کا حکم دیتا ہے اور کن باتوں سے روکتا ہے۔ ’کُتُبٌ‘ جمع ہے ’کِتَابٌ‘ کی۔ سورۂ بقرہ کی تفسیر میں اس کی وضاحت ہو چکی ہے۔۱ وہاں ہم نے بتایا ہے کہ یہ لفظ قرآن میں شریعت کے احکام کے معنی میں بھی آیا ہے۔ یہاں یہ اسی معنی میں ہے۔ ’قَیِّمَۃٌ‘ کے معنی سیدھے، واضح اور قطعی کے ہیں۔ یعنی ہمیں قطعی احکام بتائے جائیں، غیر متعلق باتیں سننے کے خواہش مند ہم نہیں ہیں۔ اس لفظ میں…
Read the full tafseer →3۔ 1 یہاں کتب سے مراد احکام دینیہ، قیمہ، معتدل اور سیدھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1: ان آیتوں میں حضور اقدس ﷺ کو پیغمبر بناکر بھیجنے کی وجہ بتائی جارہی ہے، اور وہ یہ کہ جاہلیت کے زمانے میں جو کافر لوگ تھے، چاہے وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا بت پرستوں میں سے، وہ اس وقت تک اپنے کفر سے باز نہیں آسکتے تھے جب تک آنحضرت ﷺ کی شکل میں ایک روشن دلیل ان کے سامنے نہ آجاتی، چنانچہ جن لوگوں نے آنحضرت ﷺ کی باتوں پر کھلے دل سے غور کیا، وہ واقعی اپنے کفر سے توبہ کرکے ایمان لے آئے، البتہ جن کی طبیعت میں ضد تھی وہ اس نعمت سے محروم رہے۔
Read the full tafseer →فیھا کتب قیمة (3:98) ” جن میں بالکل راست اور درست تحریریں لکھی ہوئی ہوں “۔ ” کتاب “ کا لفظ موضوع اور مضمون پر بھی بولا جاتا ہے۔ مثلاً کتاب الطہارہ ، کتاب الصلوٰة اور کتاب القدر ۔ کتاب القیامہ ، صحف مطہرہ سے مراد یہ قرآن ہے۔ جس میں راست اور درست کتابیں ہیں یعنی موضوعات ومسائل ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ رسالت اور یہ رسول نہایت وقت پر آئے۔ اور یہ صحیفے یہ سورتیں اور یہ موضوعات سخن اور مسائل آئے تاکہ زمین کے اندر ایسی انقلابی اصلاح کریں جس کے سوا اصلاح کی کوئی اور ٹورت ممکن ہی نہ تھی۔ اس دور میں دنیا کو اس رسول اور اس پیغام اور اس کتاب کی ضرورت کیونکر تھی ؟ اس کا جواب میں ایک عظیم اسلامی مفکر سید…
Read the full tafseer →3 یعنی قرآن کی ہر سورت گویا ایک مستقل کتاب ہے۔ یا یہ مطلب ہو کہ جو عمدہ کتابیں پہلے آچکی ہیں ان سب کے ضروری خلاصے اس کتاب میں درج کردیے گئے ہیں یا " کتب قیمۃ " سے علوم و مضامین مراد ہیں۔ یعنی اس کے علوم صحیح و راست اور مضامین نہایت مضبوط و متعدل ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 3{ فِیْہَا کُتُبٌ قَـیِّمَۃٌ۔ } ”ان میں بڑے مضبوط احکام تحریر ہیں۔“ لفظ ”کتاب“ کے بارے میں قبل ازیں بھی متعدد بار واضح کیا جا چکا ہے کہ قرآن مجید میں یہ لفظ عام طور پر احکامِ شریعت کے لیے آتا ہے۔ تو پتا چلا کہ اللہ کے رسول ﷺ اور اللہ کی کتاب کا اکٹھا نام البیِّنہ ہے۔ یہ وہی بات ہے جو قبل ازیں ہم لفظ ”ذِکْرًا“ کے حوالے سے سورة الطلاق میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ وہاں اہل ایمان کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے : { قَدْ اَنْزَلَ اللّٰہُ اِلَـیْکُمْ ذِکْرًا - رَّسُوْلًا یَّـتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ مُـبَـیِّنٰتٍ …} ”اللہ نے تمہاری طرف ذکر نازل کردیا ہے۔ ایک رسول ﷺ جو اللہ کی آیات بینات تم لوگوں…
Read the full tafseer →5 اس آیت کے دو مطلب ہیں اور وہ دونوں ہی درست ہیں۔ ایک یہ کہ قرآن کی ہر سورت ایک مستقل کتاب ہے اور یہ قرآن ایسی ہی 114 مستقل کتابوں کا مجموعہ ہے۔ اس کی ایک ایک سورت اپنے موضوع و مضمون کے لحاظ سے مکمل ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس میں سابقہ تمام کتب سماویہ کا خلاصہ یا جو باتیں دین کی اصل بنیاد رہی ہیں سب ذکر کردی گئی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ ظہور اسلام سے قبل دنیا اتنی شدید جہالتوں اور ضلالتوں اور ایسے گہرے کفر میں مبتلا تھی کہ بغیر اس کے کہ ایک مصلح اعظم آئے، او اپنے ہمراہ ایک مکمل نظام نامہ لائے، کوئی توقع اصلاح کی نہ تھی، چناچہ مشیت الہی نے اپنی حجت کو واضح طور پر پورا کرنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کو قرآن کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ (آیت) ” لم ..... منفکین “۔ ذکر زمانہ قبل ظہور اسلام کا ہورہا ہے۔ (آیت) ” منفکین “۔ یعنی کفر کو چھوڑنے والے، کفر سے ہٹنے والے۔ (آیت) ” البینۃ ..... اللہ “۔ یہاں رسول اللہ ﷺ کو صراحت کے ساتھ ایک دلیل واضح قرار دیا ہے۔ (آیت) ” رسول من اللہ “۔ بدل ہے (آیت) ” البینۃ “۔ کا اے الحجۃ الواضحۃ والمراد محمد ﷺ (مدارک)…
Read the full tafseer →فیھا کتب قیمۃ یہاں کتب سے مراد احکام دینیہ ہیں اور قیمۃ سیدھے اور معتدل راستہ کو کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →فیھا کتب قیمۃ . ان صحیفوں میں درست اور راست تحریریں ہیں جن (کے مضمون و احکام) میں کوئی کجی (اور غلطی) نہیں ہے۔ جب رسول آگیا تو اس نے لوگوں کی گمراہی کھول کر بیان کردی ‘ جہالت کو دور کردیا اور ایمان کی طرف بلایا ‘ پس جس شخص کو اللہ نے توفیق ایمان دے دی اور سعادت مقرر کردی ‘ وہ کفر سے ہٹ گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(1۔ 4) یہود و نصاری اور مشرکین عرب یہ رسول اکرم صلی اللہ اور قرآن کریم اور اسلام کے انکار پر قائم رہتے جب تک کہ ان کے پاس توریت و انجیل میں اس چیز کا ذکر نہ آتا کہ حضرت محمد ﷺ کی طرف سے رسول ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ بعثت نبوی سے پہلے یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب کفر سے باز نہ آتے جب تک کہ ان کے پاس واضح دلیل نہ آتی یعنی حضرت محمد ﷺ جو ان کو پاک صحیفے پڑھ کر سنا دے جس میں دین مستقیم کے مضامین لکھے ہوں۔ اور یہودی یعنی کعب بن اشرف وغیرہ اپنی کتاب توریت میں رسول اکرم ﷺ کی نعت و صفت آنے ہی کے بعد حضور اور قرآن اور دین اسلام کے بارے میں مختلف ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(رسول من ال لہ یتلوا صحفاً مطھرۃ…: قرآن مجید کو ”صحفاً مطھرۃ“ اور اس میں موجود احکام اور سوتروں کو ”قیمۃ“ (نہایت مضبوط) قرار دیا ہے کہ ان میں کسی قسم کی ناپاک بات یا کمزور اور بےبنیاد قصہ یا حکم نہیں۔ اگر کسی شخص کو رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے پاک صحیفوں اور ان میں لکھے ہوئے مضبوط احکام کی پاکیزگی اور مضبوطی معلوم کرنے کا شوق ہو تو وہ قرآن مجید کا بائبل کے مجموعے میں موجود پہلے صحیفوں کے ساتھ موازنہ کرلے، جن میں صحیح باتوں کے ساتھ عقل و اخلاق سے گری ہوئی باتیں، واضح تحریف شدہ احکام اور اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی اور انبیائے کرام کی توہین اور ان پر تہمتوں کی نجاست صاف نظر آتی ہے، مثلاً لوط اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
لم یکن الذین۔۔۔ تا۔۔۔ قیمہ۔ عام قرات یہی ہے اور مصحف کا خط بھی ایسا ہی ہے حضرت ابن مسعود اسے لم یکن المشرکون واھل الکتاب پڑھتے یہ قرات تفسیر کے طریقہ پر ہے ابن عربی نے کہا، یہ بیان وضاحت کے انداز میں تو جائز ہے لیکن تلاوت میں جائز نہیں، صحیح روایت میں نبی کریم ﷺ سے فطلقوھن لقبل عدتھن۔ قرات ثابت ہے مگر یہ بھی تفسیر کے طور پر ہے کیونکہ تلاوت وہ ہے جو مصحف کے خط میں ہے۔ اہل کتاب سے مراد یہود ونصاری ہیں المشرکین محل جر میں ہے کیونکہ اس کا عطف اہل کتاب پر ہے، حضرت ابن عباس نے کہا، اھل الکتاب سے مراد وہ یہودی ہیں جو یثرب میں تھے وہ بنوقریظہ، بنونضیر اور بنو قینقاع تھے۔ مشرکین سے مراد جو مکہ مکرمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة لم یکن مدینہ میں نازل ہوئی 2۔ ابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ سورة لم یکن مکہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ ابو نعیم نے المعرفہ میں اسماعیل بن ابی حکیم المزنی ؓ جو بنو فضیل میں سے ایک تھے سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بیشک اللہ تعالیٰ لم یکن کی قراءت کو سنتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میرے بندے کو بشارت دے دو پس میری عزت اور میرے جلال کی قسم ! میں تجھے اتنا اختیار دوں گا جنت میں یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے گا۔ 4۔ ابوموسی المدینی نے المعرفہ میں اسماعیل بن ابی حکیم سے روایت کیا اور انہوں نے مطر المزنی یا المدنی (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →[فِيْهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ: جن میں پختہ لکھی ہوئی باتیں (احکام) ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
یہاں سے سورة البینہ شروع ہو رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے دنیا میں مشرکین بھی بہت تھے اور اہل کتاب یہود و نصاریٰ بھی تھے۔ یہ سب جماعتیں اپنے اپنے دین پر مضبوطی سے جمی ہوئی تھیں ان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ شانہ نے خاتم الانبیاء سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ یہ لوگ اتنے اڑیل تھے کہ اپنے کفر کو اس وقت تک چھوڑنے والے نہ تھے جب تک کوئی مضبوط واضح دلیل سامنے نہ آجائے، اللہ تعالیٰ جل شانہ نے مضبوط واضح دلیل بھیجی۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے آپ پر قرآن نازل ہوا، لوگوں نے اپنی آنکھوں سے آپ کے معجزات دیکھے اور برکات کا ظہور ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن لوگوں نے کفر کیا یعنی اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ذات رسول کریم ﷺ وآیات قرآن شرچشمہ علوم وبرہان ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لم یکن الذین کفروا ....... الی .......... ذلک لمن خشی ربہ “۔ (ربط) گزشتہ سورت القدر میں شب قدر کی عظمت وفضیلت کا ذکر تھا، اس مناسبت سے اب اس سورت میں قبولیت عبادت کی اساس بیان کی جارہی ہے کہ وہ بندہ کا اخلاص اور قلب کی طہارت ہے اور اسی کو نام حنیفیت ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا شعار تھا، نیز یہ کہ سورة قدر میں لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کی گئی تھی تو اب اس سورت میں سعادت وشقاوت کے اصول بیان کئے گئے تاکہ ایمان وکفر اور ہدایت وگمراہی میں کسی کو التباس نہ رہے، تو ارشاد فرمایا۔ نہیں تھے باز آنے والے وہ لوگ جو کافر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
2:۔” لم یکن “ اہل کتاب سے یہود و نصاری مراد ہیں۔ ” منفکین “ یہاں تامہ ہے بمعنی منتھین عن کفرہم (قرطبی) ۔ یہاں ایک اشکال ہے وہ یہ ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین کے کفر و شرک سے باز آنے کی انتہاء پیغمبر (علیہ السلام) کی آمد بیان فرمائی ہے اور حتی چونکہ انتہاء غایت کے لیے ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ رسول کی آمد پر ان کی پہلی حالت یعنی کفر و شرک پر قیام ختم ہوجائے، لیکن اس کے بعد والی آیت ” وما تفرق الذین اوتوا الکتاب “ کا مقتضی یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی آمد کے بعد ان کے کفر میں اضافہ ہوگیا۔ اس طرح دونوں آیتوں میں بظاہر تضاد معلوم ہوتا ہے۔ اس کے متعدد جوابات ہیں۔ اول۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے اہل کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
مفسرین کرام اس کا نام سورة قیامت بھی ذکر کرتے ہیں۔ جیسا کہ تفسیر روح المعانی میں ہے اور سورة بریہ بھی اور منفکین ، سورة بینہ بھی۔ لیکن بینہ زیادہ مشہور ہے۔ اس لئے کہ اس سورة میں دو دفعہ بینہ کا لفظ مذکور ہے۔ اور بینہ واضح چیز کو کہتے ہیں۔ واضح دلیل یا واضح بات بینہ کہلاتی ہے جیسا کہ قرآن کریم کی آیات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بینات کا لفظ استعمال کیا۔ ” من البینت والھدی “ واضح واضح باتیں اور ہدایت کی باتیں۔ “ ان الذین یکتمون ما انزلنا من البینت والھدی “ یہ بینات کا لفظ آتا ہے۔ اس سے مراد وہ واضح اصول ہیں جو بالکل واضح ہوں آسانی سے معلوم ہو سکتے ہوں۔ ہدایت واضح باتیں واضح قانون ، واضح دلائل…
Read the full tafseer →فِيْہَا كُتُبٌ قَيِّمَۃٌ 3 ۭ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب ¦ وما تفرق الخ الجملہ مستانفۃ لتوبیخ اھل الکتاب والتخصیص بذکرھم للد لالۃ علی ان المشرکین مع جھلھم اولیٰ بالتفرق الا الا ستثناء مفرغ من اعم الاحوال والا وقات۔ وما امرو الجملۃ فی محل النصب علی انھا حال من اھل الکتاب والحال انھم ما امرو ابشیء یخالف اصول دینھم بل بشیء یطابقھا مخلصین قراء الجمھور بکسر اللام وقرا الحسن بفتحھا۔ وھی حال من الضمیر فی یعبدو احنفاء حال من الضمیر فی مخلصین فیکون من باب التداخل ویمکن ان یکون من یعبدوا جمع حنیف۔ والحنیف المائل عن الباطل ای الحق وقیل المتبع بطریقۃ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) ویقیموا ویوتوا معطوفان علی لیعبدوا سقطت النون لتقدر ان ای ان لیعبدوا للہ الخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰہِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَھَّرَۃً ۔ فِیْھَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ۔ (البینۃ : 2، 3) (یعنی اللہ کی طرف سے ایک رسول جو پاک صحیفے پڑھ کر سنائے۔ جس میں لکھی ہوں سچی اور درست تحریریں۔ ) رَسُوْلٌ، الْبَیِّنَۃُ سے بدل ہے۔ الْبَیِّنَـۃُکی وضاحت انسانی ہدایت کے لیے جس الْبَیِّنَـۃُیعنی روشن دلیل کی ضرورت تھی وہ روشن دلیل نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ اور آپ ﷺ کی ذات کو ہدایت کی روشن دلیل اور بلند مینار دو چیزوں نے بنایا ہے۔ ایک آپ کی نبوت سے پہلے کی زندگی اور آپ کا حُسنِ کردار۔ اور دوسرا آپ کا امی ہونے کے باوجود ایک ایسی کتاب کو پیش کرنا جو اپنے اندر ہمہ جہتی اعجاز رکھتی ہے۔ جس کے الفاظ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن ربط سورت : لیلۃ القدر میں نازل ہونے والا قرآن مجید کسی ایک فرقہ اور قوم کے لیے نازل نہیں ہوا، یہ بلا تخصیص ہر دور کے لوگوں کے لیے نازل ہوا جس میں اہل کتاب اور مشرکین بھی شامل ہیں۔ اس سورة مبارکہ میں اہل کتاب اور مشرکین کو الگ، الگ مخاطب کیا گیا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ اہل کتاب مشرک نہیں تھے۔ یہ قرآن مجید کا مخصوص انداز ہے کہ وہ اہل کتاب کو بنی اسرائیل اور ان کے معروف نام اہل کتاب سے مخاطب کرتا ہے، جہاں تک ان کے شرک کا تعلق ہے یہ اسی طرح ہی شرک میں ملوّث تھے جس طرح عرب کے مشرکین شرک میں مبتلا تھے۔ فرق صرف اتنا تھا اور ہے کہ عرب کے مشرکین بتوں کے واسطے سے عبادت اور دعا کرتے تھے۔…
Read the full tafseer →3 : فِیْھَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ (جن میں درست مضامین لکھے ہوں) ھاء کی ضمیر صحف کی طرف راجع ہے۔ کتبؔ مکتوبات (لکھے ہوئے کے معنی میں ہے قیمہؔ درست جو حق و عدل کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
Read the full tafseer →3 ۔” فیھا “ یعنی صحیفوں میں۔ ” کتب “ یعنی آیات و احکام جو ان میں لکھے ہوئے ہیں۔ ” قیمۃ “ معتدل درست کجی والی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ 8۔ شروع سورة سے حتیٰ تاتھیم البینۃ تک کی آیت کا مطلب اس طرح کا مشکل ہے کہ جس کے بیان کرنے میں اکثر مفسروں نے غلطی کی ہے لیکن صحیح قول یہ ہے کہ بینہ 1 ؎ سے مراد نبی آخر الزمان ہیں۔ اور یہ آیت ان لوگوں کی شان میں ہے جو اہل مکہ اور اہل کتاب میں سے راہ راست پر آگئے اور اسلام لے آئے اور حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ اگر قرآن جیسی کتاب نازل نہ ہوتی اور نبی آخر الزمان جیسے رسول نہ آتے تو اہل مکہ اور اہل کتاب سب کے سب اسی کفر کی حالت پر رہتے اور کوئی ان میں سے راہ راست پر نہ آتا۔ پھر فرمایا کہ یہ اہل کتاب جو متفرق ہو رہے ہیں کہ کوئی ان میں سے اسلام لے آیا اور کوئی بدستور حالت کفر پر اڑا ہوا ہے اس کا…
Read the full tafseer →اس لیے صحیفوں کے بارے میں فرمایا ان صحیفوں میں ( كُتُبٌ قَيِّمَةٌ) سچی خبریں اور عدل پر مبنی احکام ہیں جو حق اور راہ راست کی طرف راہ نمائی کرتے ہیں جب ان کے پاس یہ واضح دلیل آجاتی ہے تب اس وقت طالب حق اور وہ شخص جس کا مقصد طلب حق نہیں ہے دونوں واضح ہوجاتے ہیں پس جو کوئی ہلاک ہوتا ہے تو دلیل ہے ہلاک ہوتا ہے اور جو کوئی زندہ رہتا ہے تو دلیل سے زندہ رہتا ہے۔
Read the full tafseer →4 ۔ صحف ہدایت کی عظمت شان کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے پاکیزہ صحیفے جن میں ثبت و مندرج ہوں نہایت عمدہ و درست مضامین جن کی راستگی و درستگی اور صداقت و پختگی پر نہ آج تک کسی کو کہیں بھی اور کسی بھی اعتبار سے کسی طرح کی حرف گیری اور انشت نمائی کا کوئی موقع مل سکا ہے، اور نہ قیامت تک کبھی مل سکے گا، کیونکہ یہ اللہ پاک کا وہ کلام صدق نظام ہے اس میں کسی قسم کی کنجی اور زیغ و انحراف کی کوئی گنجائش نہیں، جیسا کہ دوسرے مقام جس پر اس کی صٖت میں فرمایا گیا " ولم یجعل لہ عوجا " نیز فرمایا گیا " قیما " یعنی یہ سراسر درست اور سیدھی بات کہنے والی کتاب ہے سو اس میں کجی وہی تلاش کرسکتا ہے جس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
اہل کتاب کی مخالفت اور رسول ﷺ کی ضرورت تشریح : ایک ہی پیغام ہے جو ہمیشہ تمام پیغمبر دیتے رہے ہیں۔ کہ اللہ ایک ہے اسی کی عبادت کرو جس کا بہترین طریقہ ہے نماز۔ کیونکہ اس سے طہارت ملتی ہے۔ دل کو سکون ملتا ہے وقت کی پابندی کی عادت پڑتی ہے۔ سستی اور کاہلی دور ہوتی ہے۔ اللہ سے ملاقات کا اور دعا کا موقعہ ملتا ہے انسان کے اندر اللہ کا خوف پیدا ہوتا ہے۔ اس کی محبت اور فرمانبرداری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ دنیا سے بےنیازی ' خودداری اور کردار میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ نماز پورے خلوص ' توجہ اور خشوع و خضوع کے ساتھ صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے اور اللہ کے غضب سے ڈرتے ہوئے پڑھی جائے۔ اسی طرح زکوۃٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة البینہ۔ آیات 1 تا 8 اسرار ومعارف۔ دنیا میں کافر ، اہل کتاب اور مشرک سب ہی بہت زیادہ گمراہی میں مبتلا تھے ہر سمت کفر وشرک کے ساتھ جوروستم چھایا ہوا تھا دنیا کا حال اس قدر برا تھا کہ تاریخ انسانی میں کبھی اس سے پہلے ایسا نہ ہوا تھا اور نہ آئندہ کبھی اتنی گمراہی اکٹھی ہوگی کہ اس کو دور کرنے کے لیے ایسی روشنی اور اتنی طاقتور ہدایت کی ضرورت تھی کہ جس طرح ظلم وجور بےمثال تھا اسی طرح رسول اللہ بھی لاثانی ہو اور جتنی گہری ظلمت تھی اتنی اور اس سے زیادہ طاقتور نورانیت ہو تب اللہ نے آپ کو ایسے رسول کی شان سے مبعوث فرمایا جس نے سارے عالم کو ہمیشہ کے لیے منور کردیا اور اللہ کی طرف سے اللہ کی کتاب اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 6 یعنی پیغمبر آخر الزمان اور قرآن بھیجنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) اور مشرکین عرب کو راہ حق پر لایا جائے، کیونکہ یہ لوگ اس قدر بگڑے ہوئے تھے کہ ان کا راہ حق پر آنا اس کے بغیر ممکن نہ تھا کہ ایک پیغمبر آئے جو ایک مقدس آسمانی کتاب جس میں عمدہ و دلنشیں مضامین ہوں، انہیں پڑھ کر سنائے۔ کسی حکیم یا صوفی یا بادشاہ عادل کے بس کی بات نہ ت ھی کہ انہیں راہ راست پر لے آتا۔
Read the full tafseer →(98:3) فیہا کتب قیمۃ : ھا ضمیر واحد مؤنث غائب صحفا کی طرف راجع ہے کتب قیمۃ موصوف صفت۔ قیمۃ صیغہ صفت مرفوع ۔ مؤنث۔ نکرہ ہے۔ بمعنی درست ، سچی، یا معاش اور معاد کو ٹھیک کرنے والی۔ مطلب یہ کہ :۔ گزشتہ آسمانی صحیفے اور کتابیں درست تھیں مستقیم اور انسانی زندگی کی اصلاح کرنے والی تھیں۔ قرآن مجید ان کا نچوڑ ہے اور ان کے مضامین کو حاوی ہے۔ جملہ صحفا کی صفت ہے یا ضمیر ھا سے حال ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن۔ لم یکن۔ نہیں ہے۔ منفکین۔ باز آنے والے۔ البینۃ۔ صاف اور کھلی باتیں۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ صاف ستھرا۔ کتب قیمۃ۔ لکھی ہوئی مضبوط کتابیں۔ ما تفرق۔ الگ الگ نہ ہوئے۔ امروا۔ حکم دیا گی ا ہے۔ مخلصین۔ خالص کرنے والے۔ حنفائ۔ سب سے منہ موڑنے والے ( ایک اللہ کے ہوجانے والے) ۔ شر البریۃ۔ بدترین مخلوق۔ خیر البریۃ۔ بہترین مخلوق۔ ؓ اللہ خوش ہوگیا۔ خشی۔ جو ڈرا۔ تشریح : قرآن کریم میں اہل کتاب ان لوگوں کو کہا گیا ہے جن کے پاس گذشتہ رسول کوئی کتاب لے کر آئے۔ بعد میں آنے والوں نے اپنے بعض دنیاوی مقاصد کے لئے ان میں بتدیلیاں کرلیں وہ ان کو اللہ کی کتاب ماننے کے باوجود شرک بھی کرتے تھے۔ اللہ نے ان کو یہود،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
حضور ﷺ کی تشریف آوری کا ذکر۔ (ف 1) اہل کتاب یہود ونصاری اور مشرکین جو بت پرستی یا آتش پرستی وغیرہ میں مبتلا تھے اور کوئی کتاب سماوی ان کے ہاتھ مین نہ تھی اور نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے سب دین والے بگڑ چکے تھے اور سیدنا انبیاء محمد ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے یہ تمام یہی کہتے تھے کہ ہم اپنا دین چھوڑنے والے نہیں ، جب تک کہ وہ نبی موعود تشریف فرما نہ ہوں یعنی سید عالم جلوہ افروز نہ ہوں جن کا ذکر توریت وانجیل میں ہے ، چناچہ وہ رسول یعنی محمد ﷺ حق وعدل کی کتاب یعنی قرآن مجید پڑھتے ہوئے جلوہ افروز ہوئے آگے فرمایا کہ یہ اہل کتاب اب جو متفرق ہورہے ہیں کہ کوئی ان میں سے اسلام لے آیا اور کوئی بدستور حال تکفر پر…
Read the full tafseer →[2] یعنی ایسے صحیفے جو باطل عقائد، گمراہ کن خیالات اور اخلاقی گندگی سے پاک ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
نفسِ بینہ 2: اہل کتاب اور مشرکین مکہ دونوں حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے یہ کہا کرتے تھے کہ ہم اس وقت تک اپنے عقائد مزمومہ کو نہیں چھوڑ سکتے جب تک کہ وہ شخصیت موعودہ نہ آجائے ۔ جس کا ذکر کتب مقدسہ میں ہے ۔ وہ ہمارے لئے زبردست دلیل اور برہان ہے ۔ وہ آئے اور پاک اوراق اس پیغام کے ہم کو سنائے ۔ جن میں تمام کتابوں کا نچوڑ اور عطر ہے ۔ ہم اس کو تسلیم کرلیں گے اور اس کے کہنے سے تمام خرافات کو ترک کردیں گے ۔ مگر یہ کتنی عجیب بات ہے کہ یہی اہل کتاب صاف مکر گئے ۔ جبکہ ان کے پاس وہ حجت حق آگئی اور دلائل وبراہین سے اس نے ثابت کردیا کہ میں وہی ہوں ۔ جس کا ذکر پہلی کتابوں میں ہے اور جس کے انتظار میں تم نے اب تک…
Read the full tafseer →(3) ان صحیفوں میں درست و مضبوط مضامین لکھے ہوئے ہوں ۔ یعنی عالم میں روشنی پھیلانے کے لئے جس ضرورت کو محسوس کیا جارہا تھا وہ رسول تشریف لائے اور ایسی کتاب پڑھتے ہوئے آئے جو پاک ورقوں میں لکھی ہوئی ہے مراد صحف مطہرہ سے قرآن ہے کتب سے مراد قرآن کی سورتیں ہیں کیونکہ قرآن کی ہر سورت اپنے مضامین کے اعتبار سے ایک مستقل کتاب ہے یا کتب سابقہ کے مضامین کا خلاصہ اس قرآن میں درج ہے یا عام مضامین مراد ہیں جیسا کہ ہم نے اختیار کیا ہے یعنی اس کے علوم اور مضامین نہایت صحیح اور سیدھے اور نایت مضبوط ومعتدل ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہر سورت ایک کتاب ہے۔ پھر شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت ﷺ سے پہلے سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 1۔ مراد قرآن ہے، مطلب یہ ہے کہ ان کفار کا کفر ایسا شدید تھا کہ اور ایسے جہل میں مبتلا تھے کہ بدون رسول عظیم کی بعثت کے ان کے راہ پر آنے کی توقع نہ تھی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے حجت کے اتم و الزم ہونے کے لئے آپ کو قرآن دے کر مبعوث فرمایا۔
Read the full tafseer →جن میں قائم رہنے والے احکام میں 3 ؎ یہ گزشتہ آیت کے الفاظ (صحفا مطھرۃ) کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ قرآن کریم میں گزشتہ کتابوں کی ہدایات بھی آگئی ہیں اور وہ بھی جو گزشتہ کتب میں نہیں تھیں سب کی وضاحت بیان کردی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں صرف ایسے احکام و ہدایت ہیں جو سراسرحق اور درست ہیں ۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ آیت زیر نظر میں کتب سے مراد احکامات ہیں لیکن صحیح بات یہ ہے کہ کتب سے مراد گزشتہ صحائف ہیں اور مطلب یہ ہے کہ گزشتہ صحائف کی وہ تعلیم جو کسی طرح کی ملاوٹ سے پاک اور صاف تھی وہ بھی سب کی سب اس میں آگئی ہے اس لیے جس طرح خود نبی اعظم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
Verses [ 2-3] يَتْلُو صُحُفًا مُّطَهَّرَةً فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ (a messenger from Allah who recites the purified scrolls containing [ right and ] straight writings. - 98:2, 3) The verb yatlu is derived from the infinitive tilawah, meaning 'to read out or to recite'. However, not every reading or reciting is tilawah, but only the one that is very closely followed according to the teacher's instruction. Probably, this is the reason why the word tilawah is specifically used, in common idiom, for 'the recitation of the noble Qur'an'. The word suhuf is the plural of sahifah and it refers to 'a…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
4 Here, the Holy Prophet (upon whom be peace) himself has been called "the clear evidence", for his life before and after Prophethood, his presenting a Book like the Qur'an in spite of being .un-lettered, his bringing about an extraordinary revolution in the lives of the converts to Islam through education and training, his educating the people in rational beliefs, clean and pure forms of worship, excellent morals and the best principles and ,injunctions for human life, perfect harmony and agreement between his word and deed, and his constancy of purpose in respect of his message in spite of…
Read the full tafseer →