98. Surah Al-Bayyina

البينةThe Evidence · 8 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 98:1–5

لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ مُنْفَكِّیْنَ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ الْبَیِّنَةُۙ Open ayah 98:1 in the Quran reader

کافر اہل کتاب اور مشترکین تو بغیر اس کے ٹلنے والے نہیں تھے کہ ان پاس کہلی دلیل پہنچے

رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةًۙ Open ayah 98:2 in the Quran reader

(وہ کیا) کوئی خدا کی طرف سے رسول آوے اور پاک صحیفے سناوے

فِیْهَا كُتُبٌ قَیِّمَةٌؕ Open ayah 98:3 in the Quran reader

جن میں مضبوط احکام ہوں۔

وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنَةُؕ Open ayah 98:4 in the Quran reader

اور اہل کتاب نے جو اختلاف کیا تو بینہ آنے کے بعد۔

وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۙ۬ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ Open ayah 98:5 in the Quran reader

اور ان کو حکم (بھی کوئی ایسا نہیں) دیا گیا تھا صرف یہی کہ اللہ کی عبادت کیا کریں۔ خالص اسی کی اطاعت کی نیت سے یک رخے ہو کر اور نماز پڑھا کریں اور زکوٰۃ دیا کریں اور یہی وہ مستحکم دین ہے۔

ترکیب ¦ وما تفرق الخ الجملہ مستانفۃ لتوبیخ اھل الکتاب والتخصیص بذکرھم للد لالۃ علی ان المشرکین مع جھلھم اولیٰ بالتفرق الا الا ستثناء مفرغ من اعم الاحوال والا وقات۔ وما امرو الجملۃ فی محل النصب علی انھا حال من اھل الکتاب والحال انھم ما امرو ابشیء یخالف اصول دینھم بل بشیء یطابقھا مخلصین قراء الجمھور بکسر اللام وقرا الحسن بفتحھا۔ وھی حال من الضمیر فی یعبدو احنفاء حال من الضمیر فی مخلصین فیکون من باب التداخل ویمکن ان یکون من یعبدوا جمع حنیف۔ والحنیف المائل عن الباطل ای الحق وقیل المتبع بطریقۃ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) ویقیموا ویوتوا معطوفان علی لیعبدوا سقطت النون لتقدر ان ای ان لیعبدوا للہ الخ دین القیمۃ قال الفراء ھذا من باب اضافۃ النعت ای المنعوت کقولہ ان ھذا لھوا لحق الیقین والھاء للمبالغۃ کما فی قولہ کتب قیمۃ۔ تفسیر ¦ اب یہ ظاہر فرماتا ہے کہ جس بینہ کے انتظار میں اہل کتاب اور مشرک بیٹھے ہوئے تھے اور اس کی آرزو کیا کرتے تھے اس کے آنے کے بعد کیا کیا ؟ آپ ہی ارشاد فرماتا ہے وما تفرق الذین اوتو الکتاب لا من بعد ماجاء تہم البینہ کہ افسوس اہل کتاب جو علم اور فہم رکھتے تھے ہدایت انبیاء (علیہم السلام) سے واقف تھے وہی بینہ پہنچنے کے بعد اس سے مخالف ہوگئے اور مشرکین عرب کا تو کیا ذکر ہے وہ تو جاہل ہی تھے۔ یہ ان کی کمال بےنصیبی پر افسوس ظاہر کیا جاتا ہے کہ جس کا زمانہ درازی انتظار تھا اور شدید انتظار تھا مگر جب وہ وقت آیا تو جو ازلی بدنصیب تھے ان کی آنکھوں پر پردے پڑگئے اور عنا دو ضد کے نشہ نے انہیں بیخبر کردیا ؎ آئے بھی لوگ بیٹھے بھی اٹھ کھڑے ہوئے میں جا ہی ڈھونڈتا تیری محفل میں رہ گیا جس طرح لیلۃ القدر کی تجلی کے انتظار میں کوئی راتوں نہ سوئے پر جب وہ رات آئے تو سو جاوے۔ یہی حال آنحضرت ﷺ کی بعثت پر اہل کتاب کا ہوا (اور یہ بھی ایک وجہ مناسبت اس سورة کی لیلۃ القدر سے ہے۔ یہی حال حضرت مسیح ( علیہ السلام) کی بعثت پر یہود کا ہوا جس کا افسوس حضرت مسیح (علیہ السلام) عجیب عجیب تمثیلوں اور دل ہلانے والوں نے فقروں میں کرتے تھے وما امروا اور وہ جو مخالف ہوئے اور بہت جلد اس رسول سے بگڑ بیٹھے ان کو کوئی حکم بھی تو ایسا سخت یا توریت انجیل کے مخالف نہیں دیا گیا تھا الا لیعبدو اللہ مگر یہی کہ اللہ کی عبادت کیا کریں مگر نہ شرک کی آمیزش کے ساتھ بلکہ ان شرائط سے۔ (2) مخلصین لہ الدین اول یہ کہ خاص اسی کی اطاعت کی نیت سے اس میں تثلیث کی آمیزش نہ ہو نہ اور کسی معبود کی شرکت ہو اور دل سے پورا اخلاص بھی ہو ریا کاری اور نمود کی گرد بھی نہ لگی ہو۔ اب کہو یہ کون سی بری بات تھی جس سے وہ بینہ سے پھرگئے بلکہ یہ تو وہی بات ہے کہ جس کی توریت و انجیل میں بھی جا بجا تاکید ہے۔ (2) حنفائیک طرفہ ہو کر کسی باطل اور غلط طریق کی طرف میلان نہ ہو جس کے اصول جہل اور خیالات فاسدہ پر مبنی ہوں اور حنیف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اسی وجہ سے لقب بھی ہے جس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو رئیس الموحدین اور خدا پرست فرقوں نے بزرگ بلکہ اکثر کے جد امجد ہیں اور تمام فریق یہود و نصاریٰ ابراہیمیت کا دعویٰ بھی کرتے ہیں ان کے طریق کی پابندی اس عبادت میں ملحوظ رہے۔ سو یہ بھی کوئی ایسی بات نہ تھی کہ جس سے وہ بھاگتے۔ اس حکم عبادت کے بعد جو ہر قسم کی عبادت کو شامل تھا ایک خاص عبادت کے لیے دوسرا یہ حکم بھی دیا گیا تھا (2) یقیموا الصلوٰۃ کہ نماز قائم کیا کریں۔ یہود و نصاریٰ نے وہ نماز بھی ترک کردی تھی کہ جو ان کے مذہب میں تھی سجدہ اور دعا یا رکوع سبت یعنی ہفتہ کے روز۔ یہ حکم بھی کوئی ایسی بات نہ تھی کہ جس سے وہ انکار کرتے بلکہ سچے مذہب کا عطر یہی ہے۔ تیسرا حکم یہ تھا (3) ویوتوا الزکوٰۃ اور زکوٰۃ بھی دیا کریں یعنی خیرات کیا کریں۔ خیرات کرنا بھی وہ بات ہے کہ جس کو تمام مذاہب بالاتفاق اچھا جانتے ہیں پھر وہ کونسی بات ایسی تھی کہ جس کے سبب اہل کتاب کو آنحضرت ﷺ کے انکار کا حیلہ ملا ہاں اس قدر تو ضرور ہوا کہ نماز اور زکوٰۃ کے طریقے میں اصلاح کی گئی جو عقل سلیم کے سرِ مو خلاف نہیں پھر ان سے خلاف و انحراف اگر شقاوت ازلی نہیں تو اور کیا ہے۔ کوئی عیسائی ‘ کوئی ہندو ‘ کوئی یہودی ‘ کوئی مجوسی انصاف سے کہہ تو دے کہ اس بینہ یعنی نبی کریم ﷺ کی تکذیب کے لیے ان کے پاس کوئی دلیل ہے اور جب آپ کے مذہب کے یہ اصول ہیں تو ذلک دین القیمۃ تو اس دین کے محکم اور مضبوط ہونے میں کیا شبہ ہے۔ بیشک یہ دین قیم ہے اور یہی مذہب اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو آسمانی مذہب قرار دیا جائے اور یہ تمام بنی آدم میں شائع ہو اور سب ایک دین اور ایک مذہب ہوجاویں اختلاف کا نام باقی نہ رہے اور یہ ایک روز ہو کر رہے گا۔ خلاصہ یہ کہ بینہ آنے کے بعد اہل کتاب نے اختلاف کیا حالانکہ ان کو جو حکم دیا گیا تھا نہ بلحاظ مشقت عمل کے سخت تھا اور نہ توریت و انجیل کے برخلاف تھا مگر وہ اس پر بھی مخالف ہوگئے اور حکم جو ان کو دیے تھے اور رسول نے ان کو سنائے تھے صرف یہ تین حکم تھے۔ (1) خالص اللہ کی عبادت کرنا (2) بالخصوص نماز پڑھنا (3) مالی عبادت کرنا زکوٰۃ خیرات دینا اور دین قیم یہی ہے۔ تعظیم خدا جو دو پہلے حکموں میں ہے اور ترحم برخلق جو تیسرے حکم سے متعلق ہے۔
Ayahs 98:6–8

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِیَّةِؕ Open ayah 98:6 in the Quran reader

بیشک جنہوں نے انکار کیا یعنی اہل کتاب اور مشرک وہ جہنم کی آگ میں سدا رہا کریں گے وہی سب مخلوق سے بدتر ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِؕ Open ayah 98:7 in the Quran reader

وہ جو ایمان لائے اور نیک کام کئے۔ وہی سب خلق سے بہتر ہیں

جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ۠ Open ayah 98:8 in the Quran reader

ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس باغ ہیں بسنے کے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہا کریں گے اللہ ان سے راضی ہوا وہ اس سے راضی ہوئے۔ یہ اس کو ملتا ہے جو اپنے رب سے ڈرا کرتا ہے۔

ترکیب ¦ الذین موصول کفر واصل تھا من اھل کتاب والمشرکین بیان الکفر وا اسم ان فی نار جہنم خبرھا ای یصیرون الیھا بعد الموت خالدین فیھا حال من المستکن فی الجز۔ اولئک مبتدا ھم شرالبریۃ الجملۃ خبر قرء الجمھور فی الموضعین البریۃ بغیر ھمزۃ و قرئ بالھمزۃ وقیل الاصل بالھمزۃ لانہ یقال برء اللہ الخلق بالھمز ای ابتدعہ واخترعہ ومنہ قولہ من قبل ان نبراھا ولکنھا خففت عند عامۃ العرب والبریۃ ن الخلیفۃ والباری الخالق الذین آمنوا الخ اسم ان ھم خیر البریۃ خبر ھاجزا ھم مبتداء عند ربہم صفۃ جنات عدن خبر یقال عدن بالمکان یعدن عدنا ای اقام ومعدن الشیء مرکزہ و مستقرہ تجری الخ الجملۃ صفۃ جنات خالدین حال العامل محذوف ای ادخلوھا خالدین ولا یجوزان یکون حالا من الضمیر المجرور فی جزاؤھم لو قوع الفصل بین المصدرو معمولہ بالخبر واجاز قوم ابدا تاکید للخالدین ؓ الخ الجملۃ خبر ثان و یجوزان تکون فی محل نصب علی الحال باضمار قد۔ ذلک مبتداء لمن خشی ربہ الجملۃ خبر۔ تفسیر ¦ اب ان اختلاف کرنے والوں کا جو اپنے آپ کو دنیا سے بہتر سمجھتے ہیں انجام کار بیان فرماتا ہے فقال ان الذین کفروا کہ وہ جو منکر ہوگئے ہیں بینۃ کے خواہ اہل کتاب ہوں خواہ مشرکین ہوں وہ جہنم کی دہکتی آگ میں جلیں گے پھر جس طرح یہ انکا کفر کبھی ان سے دور نہیں ہوتا تھا بلکہ ہمیشہ ان کے ساتھ رہتا تھا اسی طرح وہ بھی ہمیشہ اس آگ میں پڑے جلا کریں گے۔ کبھی رستگاری نہ ہوگی جن عقائد و اعمال و رسول کو وہ موجب نجات جانتے ہیں کچھ کام نہ آئیں گے۔ کس لیے کہ وہ سب بباطل کوششیں ہیں اور وہ جو اپنے آپ کو دنیا سے بہتر جانتے ہیں یہ بھی غلط خیال ہے بلکہ اولئک ہم شرالبریۃ وہ تمام مخلوق سے بدتر ہیں کس لیے کہ مخلوق میں مومن اور فرشتے تو بالا تفاق بہتر ہیں اب رہے حیوانات خواہ وہ کیسے ہی کریہہ کیوں نہ ہوں سور ‘ کتا یہ ان سے بھی بدتر ہیں۔ کس لیے کہ وہ اپنے آقا کی نا شکری تو نہیں کرتے اور یہ بدنصیب باوجود عقل و ادراک ‘ ہوش و حواس کے ناشکری کرتے ہیں۔ اس کے احکام اور اس کے رسول اور اس کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں اور حیوانات کو مرنے کے بعد عذاب وثواب کچھ نہیں پر ان کے گلے میں تو رنج و حزن دائمی کی مستحکم رسی پڑی ہوئی ہے۔ یہود کو دعویٰ تھا کہ نحن انباء اللہ واحبائہ کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے دوست ہیں۔ ہم ابراہیم و اسحاق و یعقوب (علیہم السلام) کے اجزائِ بدن ہیں اور ان کے لیے برکت و مغفرت کا وعدہ ہوچکا ہے پھر ہم کو کسی طرح بھی جہنم میں نہ ڈالے گا اور بڑے بڑے گناہوں کی باز پرس ہوئی بھی تو یہ ہوگی کہ دو چار روز جہنم کی طپش دکھا کر پھر ہم کو ہمارے باپ دادا کے مرتبہ میں پہنچا دیا جاوے گا۔ الغرض مغفرت و جنت ہمارا موروثی حصہ ہے۔ اس لیے ہم سب مخلوق سے بہتر اور اشرف ہیں ہمارے برابر کوئی کوئی نہیں ہوسکتا۔ عیسائی کہتے ہیں کہ جب ہم حضرت مسیح ( علیہ السلام) پر ایمان لائے اور ان کو خدا اور خدا کا بیٹا جان لیا تو وہ ہمارے لیے آپ کفارہ ہوگئے سولی چڑھے ملعون ہوئے اور تین روز جہنم میں رہے اب ہم کو کوئی گناہ مضرت نہیں پہنچا سکتا۔ حوض میں غوطہ لگانے سے اگلے اور پچھلے تمام گناہ صاف ہوگئے۔ بہر حال ہماری نجات ہے آسمانی بادشاہت ہمارے لیے ‘ حیات جاودانی کے ہم مالک ‘ ہم باپ کے برابر کرسی پر بیٹھیں گے ہم سے بہتر اور افضل کوئی قوم نہیں اور دن کے ہاں جسمانی عبادات ہمارے ہاں روحانی یعنی ناپاک اعتقاد۔ ہنود کی بت پرست قومیں جو ہزاروں ہیں اخلاقی اور روحانی نجاستوں میں آلودہ ہیں اور تمام مذہب توہمات و خیالات فاسد پر مبنی ہے ہرچند ان کے گروہ آریہ نے اس کی اصلاح کرنی چاہی ہے وید کی تاویلات کرکے اس کو لوگوں سے مخفی کہہ کر (تاکہ ظاہر ہوجانے پر قلعی نہ کھل جائے) اس میں اسلامی توحید و اخلاق ملانے کی کوشش کی ہے مگر پھر کہاں تک تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم۔ کا مضمون ہے اس پر وہ اپنے آپ کو پوتر (پاک) جانتے ہیں اوروں کو ملچھ (ملکش یعنی کمینہ ‘ ناپاک) بتلاتے ہیں اور ان کے سایہ تک سے بچتے ہیں ہاتھ اور کپڑا چھو جانے سے تو دھرم برہشٹ ہوجاتا ہے سوائے پہر دن چڑھے تک دھر ماتما ہندو وغیرہ کی صورت دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے۔ پھر سرگ یعنی جنت تو ان کا زر خرید ہے یا برہمن کا عطیہ اور ان کے تمام کاروبار تو ان کے بت چلاتے ہیں۔ پھر جو کوئی پاپ یعنی گناہ ہوجاتا ہے تو گنگا جی میں اشنان کرنے سے دھل جاتا ہے بالخصوص ان میں سے فرقہ برہمن تو نوری بندے ہیں وہ جو چاہیں کریں ان کو کوئی گناہ ہی نہیں کس لیے کہ برہما جی کے پوتر یعنی پسر ہیں وہ کسی کو ماریں گالی دیں اس کے مقابلہ میں دھرماتما مہاراجوں کو سزا دینے کا اختیار نہیں نسل میں برکت حاصل کرنے کے لیے ان سے نطفہ حاصل کرنا قدمائِ ہنود کا قدیم دستور تھا اور ہندو قومیں تو تناسخ کے میدان میں ٹھوکریں کھا کر اور کیا کیا جنم لے کر مکتی حاصل کرتی ہیں۔ مگر برہمن جی مہاراج تو کھڑے سرگ میں چلے جاتے ہیں ان کے سوا اوراقوام ہند کو دینی کتابوں کے پڑھنے کی اجازت تک نہیں (تاکہ راز نہ کھل جائے) جو کچھ خیرات کرنا ہو تو برہمن کو دو اگرچہ وہ بڑا مالدار ہی کیوں نہ ہو اس کا دیا مردوں کے پاس پہنچتا ہے پھر ہنود کی بیاہ شادی ‘ مرنے جینے کے رسوم ‘ بتوں کی عبادت کرانا برہمن ہی کے ہاتھ میں ہے پھر قانون بھی جو بنایا ہے جس کو دھرم استر کہتے ہیں وہ منو جی برہمن کا بنایا ہوا ہے کہ جو کسی طرح سے ان کے پچھلے اوتاروں رشیوں سے اس کی ترمیم بھی نہ ہوسکی الغرض یہ بھی اپنی فضیلت اور نجات کو موروثی حصہ جانتے ہیں اور اسی کے قریب قریب عرب اور دیگر بلاد کی بت پرست قوموں کا خیال تھا جس کا ابطال کردیا گیا اور بتلا دیا گیا ان الذین امنو وعملوا الصلحت اولئک ھم خیر البریۃ انسان کی فضیلت کا دارومدار ایمان اور عمل نیک پر ہے یا ہنود کے سمجھانے کو یوں کہو کہ کمال انسانی قوت نظریہ و عملیہ کی تکمیل پر موقوف ہے قوت نظریہ کی تکمیل ایمان سے ہے۔ کس لیے کہ علوم آلٰہیات کو واقعی طور پر جاننا ایمان شرعی میں داخل ہے اور عملیہ قوت کی تکمیل نیک کاموں کے بجا لانے میں ہے اور نیک وہی کام ہیں جن کو طبائع سلیمہ نیک کہتی ہوں جیسا کہ خدا کی عبادت کرنا ‘ بندگان خدا سے بھلائی کرنا۔ سو اول بات کو لفظ آمنوا حاوی ہے اور دوسری کو عملوا الصالحات۔ الغرض یہ کہ رب سب کا سب رب ہے تمام بندے اور گل بنی آدم اس کے نزدیک ایک ہی قطرہ کی پیدائش ہیں اگر کسی کو فضیلت ہے تو ایمان و اعمال صالحہ سے ہے اور یہی مضمون اس آیت میں ہے۔ ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم کہ اللہ کے نزدیک تم میں سے وہ افضل و اشرف ہے جو پرہیز گار ہے اور پرہیزگاری ایمان و اعمال صالحہ سے حاصل ہوتی ہے۔ الغرض یہ لوگ مخلوق میں بہتر ہیں۔ اور دراصل وہی بہتر ہے جو ایمان و اعمال صالحہ کے لباس سے آراستہ ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اس لیے آخرت کے درجات بیان فرماتا ہے جہاں سدا رہنا ہے اگر وہاں عزت ہے تو دراصل عزت ہے ورنہ دنیا کی چند روزہ عزت مال و زر ‘ حسن و جمال ‘ حسب و نسب کی عزت ایک خواب و خیال ہے فقال جزاء ھم عند ربہم جنت عدن کہ ان کا بدلہ ان کے مہربان رب کے پاس رہنے کے باغ یعنی عالم قدس کے باغ ہیں جن میں تمام راحت کے سامان مہیا ہیں جن کو کبھی خزاں نہیں چھو سکتی یہ ان کے ایمان و اعمال صالحہ کا مظہرہ ہے تجری من تحتہا الانہار ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ ان کے اعمال صالحہ عرفانِ الٰہی کی نہریں ہیں جو دنیا میں ان کے اندر رات دن بہا کرتی تھیں کبھی بند نہ ہوتی تھیں۔ پھر جس طرح یہ ایمان و معارف و اعمال صالحہ ان کے ساتھ ہمیشہ رہا کرتے تھے اسی طرح یہ بھی اس عالم میں ان باغوں خالدین فیہا ابدا میں ہمیشہ ہمیشہ رہا کریں گے نہ ان کو کبھی موت آوے گی نہ وہاں سے نکالے جاویں گے نہ ان کی عمر میں فتور ہوگا یہ خلود اس نیت کا ثمرہ ہے جو ایمانداروں ‘ نیک بختوں کے دل میں تھی وہ یہ کہ گو ان کی عمریں تھوڑی تھیں مگر نیت اور قصد یہی تھا کہ ہمیشہ ہمیشہ اسی اطاعت و بندگی میں رہیں گے کبھی اس نیک رویہ کو نہ چھوڑیں گے ؎ خلاصہ حافظ ازان زلف تابدار مباد۔ کہ بستگان کمند تور ستگا رانند اور یہی قصد کفار کا تھا اس لیے وہ بھی خلود کے مستحق ہوئے مگر جہنم کے خلود کے۔ ان سب نعمتوں سے بڑھ کر ایک بڑی نعمت ان کو یہ نصیب ہوگی ؓ کہ اللہ ان سے راضی اور خوشنود ہوگا ورضوا عنہ اور یہ اس سے راضی اور خوشنود رہیں گے۔ پھر اب اور کسی نعمت کی کیا اصل ہے۔ محبوب کی رضامندی کی لذت عاشق صادق سے اور بادشاہ کی خوشنودی کی فرحت ملازم سے پوچھنی چاہیے اور لفظ ماضی سے تعبیر کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ اب دنیا میں بھی انکار رب ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے۔ کوئی حسرت و ارمان دل میں باقی نہیں رہا۔ ایمانداروں نیک کام کرنے والوں کو یہ تمغہ پہنایا گیا جس کا اثر نیک مومن کے دل پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ دنیا ومافیہا کو اس کے آگے ہیچ جانتا ہے۔ تنگدستی ‘ بیماری کی ناکامی میں بھی اس کے دل میں ایک ایسی فرحت ہوتی ہے کہ جس کے سبب وہ تنگدستی بیماری کو کچھ بھی نہیں جانتا۔ یہ تمغہ صحابہ خصوصاً خلفائِ اربعہ کو بخوبی حاصل ہوگیا تھا۔ کس لیے کہ ان کے ایمان لانے اور نیک کام کرنے کی بھی گواہی خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کریم ﷺ نے دے دی تھی اور کیوں نہ ہو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کو یہ کچھ فضیلت حضرت مسیح (علیہ السلام) کی برکت سے عطا ہوئی تھی پھر کیا خاتم المرسلین ﷺ کے حواریوں اور قدیم جان نثاروں کو یہ رتبہ نصیب نہ ہوتا ؟ اس لیے نیک مسلمانوں کا عام دستور ٹھہر گیا ہے کہ جب کبھی ان بزرگواروں کا نام لیا جاوے تو اس تمغہ ؓ سے لیا جاوے اور ایک یہ ایک ادب ہے اور جو لوگ ان کی تنقیص کرتے جیسا کہ شیعہ و خوارج وہ گویا پیغمبر خدا ﷺ کی تعلیم اور اثر کی تنقیص کرتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ نعمت کس کو نصیب ہوتی ہے فقال لمن خشی (بہ یہ اس کو نصیب ہوتی ہے جو اپنے رب سے ڈرا کرتا ہے خواہش نفسانی اور پابندی رسم و رواج قوم کو اس کے احکام کے مقابلہ میں کچھ نہیں سمجھتا۔ یہ حصہ کسی شخص کو اس کے مال و جمال ‘ حسب و نسب سے نہیں ملتا بلکہ خدا کے ڈرنے سے سب کا اصل الاصول خوف خدا ہے یہ نہیں تو کچھ نہیں یہی بڑی دولت ہے۔ (اللہ اکبر)