Ayahs 99:1–6ترکیب ¦ اذا شرطیۃ کان والفرق بینھا ان اذا تستعمل فی المقطوع ای اذا اردت التعلیق بما یوجد قطعا تقول اذا بخلاف ان فانھا کان لزلزال یقیناً قال اذا زلزلت فعل مجہول الارض مفعول ما لم یسم فاعلہ زلزالھا زلزال مفعول مطلق مضاف الی الضمیر الراجع الی الارض۔ قال الفراء الزلزال بالکسر مصدر و بالفتح اسم و قال القرطبی بالفتح مصدر کا لو سو اس والقلقا وقیل ھما مصدران وقد قری بھما۔ فالمصدر مضاف الی فاعلہ والمعنی ای حرکت الارض حرکۃ شدیدۃ کما قال اذا رجت الارض رجاً واخرجت الخ الجملۃ معطوفہ علی زلزلت الارض والاثقال جمع ثقل والمراد بہ الد فائن وقال الخ ایضا معطوف ما مبتداء لھا خبر والجملۃ الا ستفھامیۃ مفعول قال والمعنی یتعجب الانسان من افعال الارض۔ وھذہ الجمل کلھا شرط والجواب یومئذ تحدث الخ قال ابو السعود یومئذ بدل من اذا والعامل فیھا تحدث اخبار ھا مفعول ثان والاول محذوف ای تحدث الناس اخبارھا امابلسان المقال و قیل یجوزان یکون اذا منتصبا بمضمر ای اذکرا اذا زلزلت الارض بان ربک الخ متعلق بتحدث فالباء سییۃ اے تحدث بسبب ایحاء اللہ الیھا۔ وقیل زائدۃ فیکون ان ربک اوحیٰ لہا بدلامن اخبارھا لھا بمعنی الیھا لان اوحی یتعدی تازۃً بالیٰ و تارۃً باللام وانما او ثرت اللام ایحاء الی انما فعلنا ذلک لاجلھا حتی تتوسل الارض بذلک الی الانتقام من العصاۃ یومئذا ما بدل من یومئذ قبلہ واما منصوب بمقدر ای اذکر واما منصوب بما بعدہ یصدر الناس ای یرجع والصد رالرجوع ضدا لورو و ای من موقف الحساب الی منازلہم اشتاتا جمع شت بمعنی متفرق وھو حال من فاعل یصدر ای یرجعون متفرقین بعضھم بیض الوجوہ وبعضھم سود الوجہ بحسب اعمالھم لیرو وا للام متعلق بیصدر قرء الجمھور مبنیًا للمفعول من رؤیۃ البصر ای لیربھم اللہ اعمالھم و قریٔ مبنیا للفاعل والمعنی لیرو اجزائِ اعمالھم۔
تفسیر ¦ یہ سورة ابن عباس و قتادہ ؓ کے نزدیک مدنی ہے اور جمہور کا بھی یہی قول ہے مگر ابن مسعود ؓ عطا و جابر کہتے ہیں مکہ میں نازل ہوئی اس سورة کی آٹھ آیات ہیں بعض کہتے ہیں نو اس لیے کہ وہ ایک جملہ کو دو سمجھتے ہیں۔ مناسبت : مناسبت اس کی پہلی سورة سے یہ ہے کہ پہلی سورة میں تھا جزائھم عند ربھم کہ ایمانداروں کی جزا ان کے رب کے نزدیک جنات عدن ہیں۔ یہ سن کر ایمانداروں کا دل مشتاق تھا کہ یہ پوچھے کہ کب یہ جزاء ملے گی اس لیے اس کا وقت بتلا دیا کہ اذا ذلزلت الارض الخ کہ جب زمین ہلائی جاوے گی یعنی قیامت میں یا یوں کہو کہ مسئلہ معاد کا پہلی سورة میں اخیر میں ذکر تھا کہ مشرکین اور کافر جہنم کی آگ میں اور ایماندار ابرار جنات عدن میں ہمیشہ رہا کریں گے اس سورة میں مسئلہ معاد کی ابتدائی حالت بیان فرمائی کہ زمین ہلے گی اور اپنے دفائن و اموات اگل دے گی۔ کافر تعجب کریں گے اور یہ عالم کہ جس پر یہ منکرین مبتلا ہیں زیر و زبر ہوجاوے گا۔ فقال اذا زلزلت الارض زلزالہا کہ جس وقت ہلائی جاوے۔ زمین جیسا کہ اس کو ہلانا چاہیے اور جتنی کہ ہل سکے یعنی بہت زیادہ۔ یہ شروع قیامت کا ہوگا کہ اسرافیل کے صور پھونکنے سے زمین میں سخت زلزلہ آوے گا جس سے کوئی پہاڑ اور عمارت باقی نہ رہے گی اور سمندر جوش مار کر ادھر ادھر پھیل پڑیں گے واذالبحار سجرت مجاہد کہتے ہیں یہ اول بار صور پھونکنے میں ہوگا۔ بعض کہتے ہیں بار دوم صور پھنکنے کے وقت ہوگا۔
فائدہ : عرب کے کسی بڑے فصیح وبلیغ نے یہ فقرہ بنایا تھا۔ اذا زلزلت الارض زلزالا اور اس پر اس کو بڑا ناز تھا پھر جب یہ آیت نازل ہوئی اور اس میں زلزالا کی جگہ زلزالہا آیا مصدر کو مضاف کردیا تو فقرہ میں جان پڑگئی وہ عرب سن کر وجد میں آگیا اور بول اٹھا کہ میں اس کلام کی فصاحت پر ایمان لایا۔ اس کا لطف اٹھانا اہل زبان ہی کا حصہ ہے۔ اور اس زلزلہ سے کیا ہوگا ؟ منجملہ ان کے یہ ہوگا واخرجت الارض اثقالہا کہ زمین اپنے بوجھے نکال ڈالے گی۔
ثقل و بوجھ 1 ؎ جس سے مراد ہے زمین کے اندر کی چیزیں۔ خزانے اور کانیں اور مردے گڑے ہوئے اور طرح طرح کے پتھر اور قدیم عمارات کی بنیادیں اور جو کچھ زمین کے طبقات میں زلزلہ عظیم سے باہر نکل پڑے گا۔ مسلم اور ترمذی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن زمین اپنے جگر کے ٹکڑے قے کر دے گی چاندی سونے کے ستونوں جیسے ٹکڑے باہر پڑے ہوں گے۔ قاتل دیکھ کر کہے گا ہائے میں نے اس کے لیے قتل کیا تھا اور قطع رحم کرنے والا کہے گا ہائے میں نے اس کے لیے عزیزوں کو چھوڑا تھا اور چور دیکھ کر کہے گا ہائے اس کے لیے میرے ہاتھ کاٹے گئے پھر کہا جائے گا اٹھا لو مگر وہ کچھ بھی نہ لیں گے۔ وقال الانسان مالہا اور کہے گا انسان اس زمین کو کیا ہوگیا ؟ وہ اس کے باغ اور وہ اس کے عمدہ عمارات کیا ہوئے۔ اس کی وہ رونق کیا ہوگئی جس پر بنی آدم فریفتہ تھے اور کٹے مرتے تھے۔ گز گز بھر زمین کے لیے تلواریں چلتی تھیں ہائے ہائے یہ زر بھی پڑا ہے اور یہ زمین بھی پڑی ہے آج کوئی نہیں پوچھتا۔ بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ زمین کاد فائن باہر پھینکنا اور انسان کا یہ کہنا دوسری بار صور پھونکنے کے بعد کا معاملہ ہے۔ جب مرنے کے بعد سب زندہ ہوجاویں گے اور زمین و زرکو یوں خراب و مبتذل دیکھیں گے۔ مگر یہ بھی ممکن ہے کہ قریب قیامت کا معاملہ ہو جبکہ ایک زلزلہ آوے اور دنیا کو درہم برہم کر دے پھر جو کچھ انسان اس وقت زندہ ہوں یہ کہیں اور پھر نفخ صور اول شروع ہوجاوے۔ یومئذ تحدث اخبارھا اس روز زمین اپنے اخبار و حالات بیان کرے گی۔ کہ فلاں نے مجھ پر زنا کیا اور فلاں نے قتل کیا تھا اور فلاں نے فلاں گناہ اور فلاں نے نماز پڑھی تھی۔ فلاں نے فلاں نیک کام کیا تھا سب حالات بتلائے گی اور یہ کیوں بان ربک اوحیٰ لہا اس لیے کہ تیرے رب نے اس کو وحی کی ہوگی یعنی وحی اور حکم رب سے بندوں پر نیکی بدی کی گواہی دے گی۔ یہ معاملہ بالا تفاق نفخ صور ثانیہ کے بعد ہوگا۔
1 ؎ اور اس لیے جن و انس کو ثقلین کہتے ہیں۔ 12 منہ
فائدہ : بعض علماء فرماتے ہیں کہ تحدث اخبارھا کے جملہ کا مطلب یہ ہے کہ زبان حال سے اپنی گزشتہ خبریں بتا دے گی عبرت کرنے والوں کے لیے۔
فائدہ : شبہ کرنا کہ زمین جسمِ لا یعقل کیونکر کلام کرسکتا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مخلوقِ الٰہی میں سے ہر ایک چیز روح رکھتی ہے صرف اس قدر فرق ہے کہ حیوانات کی روح بدن کی تدبیر و تصرف اور حس و ادراک اختیاری کا شرف رکھتی ہے بر خلاف اور اجسام کی روح کے کہ اس کا ادراک و حس محسوس نہیں مگر کبھی محسوس بھی ہوجایا کرتا ہے بطریق خرق عادات و معجزات کے اور اسی لیے بعض دفعہ پتھروں نے حضرت انبیاء (علیہم السلام) سے کلام کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کو شروع نبوت کے وقت پتھر سلام کیا کرتے تھے اور ستون حنانہ حضرت ﷺ کی مفارقت میں رویا ہے اور اسی لیے ہر شے خدا کی تسبیح و تقدیس کیا کرتی ہے کما قال وان من شئ الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقہون تسبیہم اور نفوس ملکیہ کے حکماء بھی قائل ہیں اور قیامت کے روز جب ظہور کلی ہوگا ان چیزوں کی گویائی بھی سب کے نزدیک محسوس ہوجاوے گی اور اسی طرف اس آیت میں اشارہ ہے بیدہ ملکوت کل شیء زمین بھی گواہی دے گی انسان کے اعضاء بھی گواہی دیں گے اور حدیث میں آیا ہے کہ جہاں تک مؤذن کی آواز جاتی ہے وہاں کے حجرو شجر گواہی دیں گے مگر سوائے حیوانات کے دیگر اجسام کی حیات فلسفہ جدید کی سمجھ سے باہر ہے اور اسی لیے وہ اس کو محال 1 ؎ خیال کرتے ہیں مولانا روم اپنی مثنوی میں اس حیات کی کن دلکش الفاظ میں تصویر کھینچتے ہیں ؎
1 ؎ مر یہ نہیں سمجھتے کہ انسان کی زبان جو گویائی کا ایک آلہ ہے اور گوشت کا ٹکڑا اس میں کون سے اسباب گویائی کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں ؟ کچھ نہیں صرف ایک قادر مطلق نے اس میں قوت رکھ دی ہے اگر وہ چاہے تو یہی قوت انسان کے کسی دوسرے عضو میں رکھ دے وہ بھی اسی طرح بولنے لگے دیکھنے کی قوت آنکھ میں رکھ دی ہے۔ سونگھنے کی ناک میں ٹٹولنے کی تمام جسم میں اگر وہ چاہے تو ایک قوت کو دوسری جگہ رکھ دے یا کل بدن کو جمیع قوتوں کا محل کردے ہر جگہ سے دیکھنے سننے بولنے سونگھنے ٹٹولنے لگے اور کبھی کبھی خاصان خدا پر یہ حالت دنیا میں ہی طاری ہوجاتی ہے جبکہ بہیمیت پست اور روحانیت غالب آجاتی ہے۔ اسی لیے رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ میں نماز میں پس پشت سے بھی دیکھتا ہوں ارکان صلوٰۃ میں فرق نہ کیا کرو۔ 12 منہ
ہستی کوہ است مخفی از خرد
بادرا بےچشم گر بینش نداد
آتش نمرود گر چشم نیست
ہستی بیچوں خرد کے پے برد
فرق چوں میکرد اندر قوم عاد
با خلیلش چوں ترحم گرد ایست
گر نبودے نیل را آں نوردید
گر نہ کوہ وسنگ با دیدار شد
ایں زمین ر اگر نبودی چشم جاں
ازچہ کافر را مومن برگزید
پس چرا دائود را او یارشد
ازچہ قارون را فراخورد آنچناں
گر نبو ودے چشم دل حنانہ را
در قیامت ایں زمین از نیک و بد
چوں بدیدی ہجر آں فرزانہ را
کہ زما دیدہ گواہی ہا دہد
پھر اور کیا ہوگا ؟ یومئذ یصدر الناس اشتاتا لیروا اعمالہم کہ اس روز دربار عدالت سے اپنے اپنے منازل پر مختلف حالات میں لوگ لوٹ کر آویں گے جو ایماندار و نیک ہیں ان کے منہ چاند سے روشن ہوں گے جنت کی طرف خوشی میں دوڑتے آویں گے اور کافر و مشرک اور بدکار جہنم کی قید کا حکم سن کر سیاہ رو غمگین جہنم کی طرف جائیں گے۔ یہ اس لیے کہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دکھا یا جاوے نیکوں کو نیک بدوں کو بد۔
Ayahs 99:7–8ترکیب ¦ الفاء للتفسیر من موصولۃ مبتدء خبر منصوب علی انہ تمیز من مثقال ذرۃ یرہ خبرہ ویمکن ان تکون من شرطیۃ یرہ جواب الشرط و قیل خیرا بدل من مثقال ذرۃ قراء الجمھوریرہ فی الموضعین بضم الھاء وصلاً و سکونھا وقفاً وقرء ہشام بسکونھا وقفًا و قرء ہشام بسکونھا وقفًا ود صلاً و قز المجھور ہر فی الموضعین مبینا للفاعل وقریٔ مبینا للمفعول ای یریہ اللہ ایاہ وقرئیراہ علی تو ھم ان من موصولۃ او علی تقدیر الجزم بخدف الحرکۃ المقدرۃ فی الفعل۔ مثقال بالکسر سنگ زرودینار صراح ای زنۃ ذرۃ۔ والذرۃ ھوان یضرب الرجل بیدہ علی الارض فما علق من التراب فھو ذرہّ وقیل ما یریٰ فی شعاع الشمس من الھباء۔
تفسیر ¦ اب اعمال دیکھنے کی تفصیل کرتا ہے فقال فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ اور جو ذرہ کے برابر بھی یعنی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کرے گا ضرور اس کو یعنی اس کے نیک بدلہ کو دیکھ لے گا وہ نیکی رائیگاں نہ جاوے گی ومن یعمل مثقال ذرہ شرایرہ اور جو ذرہ بھر بدی کرے گا وہ اس کے بد نتیجہ کو دیکھ لے گا۔
فائدہ 1: علماء کا اتفاق ہے کہ کافروں کی نیکیاں ان کے کفر کے سبب سے مل یا میٹ ہوجاتی ہیں پھر وہ اپنی نیکی بڑی بھی نہ دیکھیں گے ذرہ بھر کا تو کیا ذکر۔ اسی طرح ایمانداروں کی بدیاں مٹا دی جاتی ہیں یا معاف کردی جاتی ہیں پھر ان کو بھی ذرہ بھر بدی دیکھنے کا موقع نہیں ملتا۔
پھر آیت کے معنی کیونکر صحیح ہوں گے ! جواب : دیکھنے کا موقع بیان نہیں فرمایا اس لیے عام ہے پس کافر کی نیکیوں کا نتیجہ اس کو دنیا میں مل جاتا ہے افزائشِ مال و کثرت اولاد ‘ تندرستی وغیرہ۔ ہاں آخرت میں کچھ ثواب نہ ہوگا پس یہ کہنا صحیح ہوگیا کہ کافر کی بھی کوئی نیکی خواہ ذرہ برابر ہو رائیگاں نہ جاوے گی۔ آخرت میں نہ سہی دنیا میں تو ضرور اس کا بدلہ دیکھ لے گا۔ اسی طرح مومن کو اس کے گناہوں کے سبب دنیا میں بدنتیجہ کوئی مصیبت ‘ بیماری ‘ تنگ دستی ‘ رنج و غم دیکھنا پڑتا ہے گو آخرت میں نہ سہی۔ بعض یہ جواب دیتے ہیں کہ دونوں جگہ من عام نہیں اول سے مراد ایماندار ہے کہ جو ایمان لا کر نیکی کرے گا وہ ضرور اپنی نیکی کا بدلہ دیکھے گا اور نیکی کے لیے ایمان مقدم ہونا شرط ہے اور اسی طرح دوسرے من سے مرد کافر ہے کہ کافرہ کو ہر بدی کا بدلہ دکھایا جاوے گا خواہ ذرہ بھر ہی کیوں نہ ہو۔ یہ بھی جواب ہے کہ جب کافر کی نیکیاں ہی نہ رہیں اس کے کفر نے مل یا میٹ کردیں اور اسی طرح مومن کے گناہ ہی نہ رہے تو بہ و استغفار سے معاف ہوگئے پھر ان کا بدلہ کیا یہ تو موجود نیکی و بدی کے بدلہ کا ذکر ہے۔
فائدہ 2: بخاری و مسلم نے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ آیت جامعہ اور یکتا ہے۔ کعب احبار کہتے ہیں کہ نبی کریم صلعم پر یہ دو آیت ایسی نازل ہوئی ہیں جو توریت و زبور و انجیل کا خلاصہ اور لب لباب ہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو آنحضرت ﷺ نے ایک شخص کے لیے قرآن تعلیم کرنے کو فرمایا پھر جب اس کو یہ سورة تعلیم فرمائی اور ان آیتوں تک پہنچا تو اس نے کہا بس کیجئے مجھے بھی دو آیت عمل کرنے کے لیے کافی ہیں اس کی حضرت نبی کریم ﷺ کو خبر پہنچی آپ نے فرمایا وہ فہمیدہ شخص ہے جانے دو ۔ کیونکہ ہر ایک گناہ سے بچنا چاہیے خواہ ذرہ بھر ہی کیوں نہ ہو اور ہر ایک نیکی پر مستعدی کرنی چاہیے ‘ خواہ چھوٹی سے چھوٹی ہی کیوں نہ ہو۔
فائدہ 3: نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے یہ سورة پڑھی اس کو نصف قرآن پڑھنے کا ثواب ہوگا اور جس نے قل ہو اللہ پڑھی اس کو تہائی قرآن کا اور جس نے قل یا ایھا الکافرون پڑھی اس کو چوتھائی قرآن کا ثواب ہے۔ رواہ الترمذی و ابن مردودیہ والبیہقی۔
(اللہ اکبر)