Ayahs 100:1–11ترکیب ¦ وللقسم العادیات جمع عادیۃ من العدود ھوالمشی بسرعۃٍ فقلبت الواؤ یائً لکسرۃ ما قبلھا کا لغازیات من الغزو۔ والمراد بھا الخیل الجھادیۃ دقیل بعیر الحجاج ضبحا الضبح صوت اجواف الخیل اذا عدت وقیل السیر و نوع من العد و یقال ضبح الفرس اذا عد ابشدۃ من الضبح بمعنی الدفع وکان الحاء بدل من العین علی الاول منصوب علی الحال ای ضابحات وعلی الثانی مفعول مطلق موکد لاسم الفاعل و یجوزان یکون مصدر الفعل محدوف ای یضیح ضبحا۔ فالمو ریات قدحًا عطف العادیات من الایراء و ھوا اخراج النار جمع موریۃ والقدح الصک فجعل ضرب الخیل بحوا فرھا کالقدح بالزنا دوالکلام فی نصب قدحا کا لکالم ضبحا فالمغیرات ای التی تغیر علی العدو جمع مغیرۃ من الاغارۃ صبحا منصوب علی الظرفیۃ عطف علی السابق فاثرن بہ نقعا عطف علی الفعل الذی دل علیہ اسم الفاعل اذا المعنی واللاتی غدون فاثرن۔ او علی اسم الفاعل نفسہ لکونہ فی تاویل الفعل لوقوعہ صلۃً للموصول۔ لان الا لف واللام فی الصفات اسماء موصولۃ فالتقدیر واللاتی غدون فاورین فاثرن۔ من الاثارۃ اے سبحن۔ والضمیر فی اثرن ای المغیرات ہو فاعلہ بہ الضمیر یعود ای الضبح اوالی مکان العد المدلول علیہ۔ نقعا مفعول بہ والنقع الغبار وقرء الجمھور فاثرن بتخفیف الثاء وقرئ بتشدیدھا ایضاً ۔ فوسطن ای المغیرات بہ النقع الباء زائدہۃ ای وسطن ذلک الغبار جمعا مفعول بہ وقیل الباء للتعدیہ او الظرفیۃ ای فی ذلک الوقت او بسبب اثارۃ الغبار جمعا حال وکل موضع صلح فیہ بین فھو وسط بالسکون وان لم یصلح فھو وسط بالتحریک یقال جلست وسط القوم بالتسکین لانہ ظرف و جلست وسط الدار بالتحریک لانہ اسم لما یحویہ غیرہ من جھاتہ۔ من باب وسط یسط کو عدیعد۔ والاسم الفاعل واسط۔ والفارات الاربع للد لالۃ علی ترتیب مابعدالواحد علی ما قبلہ ان الانسان الخ ھذا لجملۃ وما بعدھا جواب القسم افلا یعلم الاستفھام للانکار والفاء للعطف علی مقدر ای یفعل ما یفعل من القبائخ فلا یعلم اذا العامل فیھا یعلم بعثر و حصل شرط ان ربھم الخ الجملۃ جواب الشرط والمجموع یدل علی مفعول یعلم یومئذ وبھم متعلق بخبیر۔
تفسیر ¦ یہ سورة اکثر کے نزدیک مکہ میں نازل ہوئی اور ابن مسعود و جابر و حسن و عکرمہ کا بھی یہی قول ہے اور ابن عباس و انس بن مالک و قتادہ ؓ کہتے ہیں مدینہ میں نازل ہوئی۔ حسن سے روایت ہے کہ یہ سورة نصف قرآن کی برابر ہے۔ نقل کیا اس کو ابو عبیدہ نے فضائل میں اور ابن عباس ؓ سے بھی یہی منقول ہے۔ نقل کیا اسکو محمد بن نصر نے بسند عطاء بن ابی رباح۔
ربط : سورة اذا زلزلت الارض میں نیکی اور بدی کا انجام اس خوبی کے ساتھ بیاں فرمایا گیا تھا کہ سلیم الطبع کو سننے کے بعد پھر قبول کرنے میں کوئی تردد نہیں رہتا مگر کج طبع اور ہٹ دھرم کب مانتے ہیں ان کے سمجھانے کے لیے تو آسمانی کوڑا درکار ہے۔ اس لیے اس سورة میں لشکر جہاد اور اس کے گھوڑوں کے جو ان مردانہ اوصاف کی قسم کھا کر بد انسان کا مقتضائے طبع بیان فرماتا ہے کہ بدنصیب بڑا ہی ناشکر اور احساسن فراموش ہے اور اس پر بھی خدا کی طرف سے بہتری کی قوی امید رکھتا ہے اور مال کا لالچ اس کے دل میں راسخ ہے جس لیے ابواب سعادات کی طرف نہیں آتا چند روزہ زیست کے لیے مارا مارا پھرتا ہے الخ اس میں اشارہ ہے کہ ایک دن وہ بھی آنے والا ہے کہ آسمانی سیاست ان کو ادب سکھا وے گی چناچہ چند روز بعد ایسا ہی ہوا۔
یا یوں کہو کہ پہلی سورة میں کفار و بدکردار لوگوں پر آخرت کی سرزنش بیان کی تھی جو ان تیرہ باطنوں کے دل پر مؤثر نہیں ہوتی وہ تو دنیا کے خسارے سے ڈرتے ہیں اس لیے ان پر جو دنیا میں عذاب آنے والا ہے اس کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ فقال
(1) والعادیات ضبحًا کہ ہم کو قسم ہے غازیوں کے ان گھوڑوں کی جو دشمن پر حملہ کرنے کے لیے دوڑتے ہیں اور دوڑتے ہیں اخ اُخ کی ان کے پیٹ سے آواز پیدا ہوتی ہے۔
(2) فالموریات قدحًا پھر ان کی کہ جو رات میں اپنی ٹاپوں سے پتھروں میں سے چقماق کی طرح آگ جھاڑتے جاتے ہیں۔ یہ دوسرا وصف انہیں جہادی گھوڑوں کا ہے جو ان کی قوت اور تیز روی ظاہر کرتا ہے قوی گھوڑوں کے نعل رات میں جب تیزی سے چلتے ہیں پتھروں پر کھٹا کھٹ پڑتے ہیں تو پتھروں میں سے آگ چمکا کرتی ہے۔ یہ گھوڑے اعدائِ دین پر قہر الٰہی ہیں اور یہ آگ قہر الٰہی کی آگ ہے اور ان کے سواروں کی اس حرارت و شجاعت دینی کا اثر ہے جو مبدء فیاض نے ان کے دلوں میں رکھی ہے جو بدکاروں کے خر من عیش کامرانی کے جلانے کو کافی ہے۔
(3) تیسرا وصف اور بیان کرتا ہے فالمغیرات صبحًا پھر ان کی جو صبح ہوتے جبکہ اعدائِ دین خواب غفلت میں سر شار ہوتے ہیں دھاوا کرتے ہیں راتوں چلے اور چلتے میں ٹاپوں سے آگ کے شرارے جھڑتے تھے صبح ہوتے ہی بدکرداروں اور آسمانی مجرموں پر دھاوا کردیا۔
(4) اور چوتھا وصف یہ ہے فاثرن بہ نقعًا پھر ان کی قسم جو صبح میں دھاوے کے وقت بڑے زور سے دوڑنے میں گردو غبار اٹھاتے ہیں اور دشمنوں کے مونہوں کو گرد آلود کرتے ہیں۔ یہ صبح کے وقت گرد اڑنا زیادہ قوت و زور پر دلالت کرتا ہے اس لیے کہ شبنم سے زمین تر ہوتی ہے بر خلاف شام کے کہ خشکی ہوتی ہے۔ ذرا سی حرکت میں بھی گرد اڑنے لگتی ہے۔ اور فاثرن اسم فاعل کی جگہ فعل اس لیے استعمال ہوا تاکہ معلوم ہو کہ یہ گرد اٹھانا اور ان کے انبوہ میں گھس جانا جو آئندہ آتا ہے۔ تھوڑی دیر کا فعل ہوتا ہے برخلاف جہاد کی تیاری کے وہ ہمیشہ رہتی ہے اس لیے وہاں اسم فاعل کا صیغہ استعمال ہوا تاکہ دوام و ثبوت پر دلالت کرے۔
(5) پانچواں وصف فوسطن بہ جمعا پھر ان کی قسم جو صبح کے وقت دھا وا کرنے اور غبار اٹھانے کے بعد مخالفوں کے انبوہ میں گھس جاتے ہیں یہ نہیں کہ دھمکی دے کر رہ جاتے ہیں اور وقت پر نامردی کرتے ہیں۔ یہ پانچ وصف جنگی گھوڑوں کے ہیں بالترتیب لیکن بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ حج میں جانے والے اونٹوں کے اوصاف ہیں اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ اس بارے میں ایک روایت بھی کرتے ہیں صوفیہ کرام فرماتے ہیں کہ عادیات سے نفوس انسانیہ کی طرف بھی اشارہ ہے جن کو ریاضت کے میدان میں دوڑنے سے دوڑنے والے گھوڑوں کے ساتھ تعبیر کیا ہے اور یہی اپنی ریاضت و مجاہدات کے نعلوں سے آگ چمکاتے ہیں جس سے اشتیاق و تجلی کے شرارے مراد ہیں اور یہی بوقت تجلی جو صبح سے مشابہ ہے اس میدان میں دھاوا کرکے جسمانی خواہشوں کی گرد اڑاتے اور مقام وصل و قرب میں جا گتے ہیں۔ یہ ظاہر الفاظ کے معنی نہیں مگر اشارہ ہوسکتا ہے اور یہ قرآن کا کمال اعجاز ہے کہ اس کے ہر پہلو میں ایک معنی ہیں۔
پھر ان چیزوں کی قسم کھا کر فرماتا ہے ان الانسان لربہ لکنوو کہ بیشک انسان اپنے رب کا ناشکر اور احسان نہ ماننے والا ہے۔ اول تو اس کی نعمتوں کو اسباب یا خیالی معبودوں اور اپنی کوشش کی طرف منسوب کرتا ہے دوم یہ کہ ان نعمتوں کو اسباب یا خیالی معبودوں اور اپنی کوشش کی طرف منسوب کرتا ہے دوم یہ کہ ان نعمتوں کو بےموقع صرف کرتا ہے۔ سوم اپنے محسن و مربی کی طرف نہیں جھکتا۔ لذات و شہوات میں مستغرق رہتا ہے۔ وانہ علی ذلک لشہید اور وہ اس بات پر گواہی دیتا ہے۔ اس کا حال اور اس کی بناوٹ اور رات دن کے تغیرات میں اس کے دست قدرت کی امیدواری کہہ رہی ہے کہ انسان بڑا ناشکر ہے اور یہ بھی ہے کہ ہر ایک دوسرے کو کہتا ہے کہ فلاں شخص فلاں نعمت کا شکر نہیں کرتا سو وہ اس کی نسبت بھی یہی کہتا ہے گویا دوسرے کو یہ کہنا اور آپ اسی حالت میں مبتلا ہونا اپنے لیے آپ اقرار کرنا اور گواہی دینا ہے کہ میں ناشکر ہوں یہ اس کی دوسری بات تھی اب تیسری یہ ہے کہ وانہ لحب الخیر الشدید وہ مال کا بڑا دوست اور سخت لالچی بھی ہے۔ یہ انسان کے تین افعالِ بد تھے جو اس کو ہاویہ کی طرف لے جاتے ہیں۔ اب ناسپاس کے مقابلہ میں ان حیوانات کو دیکھنا چاہیے جو ماملک کے مطیع ہیں جیسا کہ گھوڑا جس کے اوصاف کی قسم کھائی جس سے تعریض ہے کہ ایسا انسان حیوانوں سے بھی بدتر ہے جس میں مالک کی اطاعت کا مادہ نہیں اور نیز اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ایسے ناسپاس ‘ نافرمان ‘ شہوات و لذات کے بندے ‘ مال و زر کے عاشق ایک روز ایسے جہادی گھوڑوں کے پائوں میں روندے جاتے ہیں جن کی ٹاپوں سے آگ نکلتی ہے اور جو دشمنوں کے خرمن آرام کو جلاتی ہے۔ ان الفاظ میں اس بشارت کی طرف بھی اشارہ ہے جس کا انجیل متی کے تیسرے باب میں ذکر ہے کہ یوحنا یعنی یحییٰ (علیہ السلام) پاس جب یہود کے لوگ فریسی اور صدوقی فرقے اصطلباغ پانے آئے تو آپ نے فرمایا۔ قولہ۔ میں تو تمہیں توبہ کے لیے پانی سے بپٹسمہ دیتا ہوں لیکن وہ میرے بعد آتا ہے (یعنی محمد ﷺ کس لیے کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) تو ان کے بعد نہیں آئے بلکہ روبرو آئے تھے اور نیز بعد کے اوصاف بھی ان میں نہیں پائے جاتے) مجھ سے زور آور ہے کہ میں اس کی جوتیاں اٹھانے کے لائق نہیں وہ تمہیں روح اور آگ سے وپتشمہ دے گا اس کا چھاج اس کے ہاتھ میں ہے وہ اپنی کھلیان کو پھٹکے گا اور گیہوں کو کھتے میں جمع کرے گا اور بھوسی کو اس آگ میں جلائے گا جو کبھی نہیں بجھتی۔ وہ آگ جہاد کی آگ ہے جو گھوڑوں کی ٹاپوں سے نکلتی ہے اور جو قیامت تک نہ بجھے گی۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہے۔ لن یبرج ھذا الدین قائما یقاتل علیہ عصابۃ من المسلمین حتیٰ تقوم الساعۃ رواہ مسلم کہ یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا قیامت تک مسلمانوں کی ایک نہ ایک جماعت اس پر لڑتی رہے گی۔
فتح مکہ کے روز آپ نے فرمایا کہ اب ہجرت نہیں رہی لیکن جہاد اور نیت باقی ہے اور جب تم کو لڑنے کے لیے حکم دیا جاوے تو نکلو۔ متفق علیہ اور فرمایا کہ میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر جہاد کرتا رہے گا اپنے مخالف پر فتح پاوے گا۔ یہاں تک کہ آخر کے لوگ دجال سے لڑیں گے (رواہ ابو دائود) نبی ﷺ نے فرمایا البرکۃ فی نواصی الخیل (متفق علیہ) کہ برکت گھوڑوں کی پیشانی میں رکھی ہوئی ہے اور یہ بھی فرما دیا کہ الخیل معقود بنوا صیہا الخیر ای یوم القیامۃ الاجر والغنیمۃ (رواہ مسلم) کہ گھوڑوں کی پیشانی یا چوٹی میں قیامت تک بہتری باندھی گئی ہے اور وہ بہتری کیا آخرت کا اجر اور دنیا کی غنیمت ہے۔
اور یہ سچ ہے جس قوم میں ترفہ اور نزاکت اور عیش پسندی آجاتی ہے خواہ کتنی ہی ہنر مند ‘ صناع ‘ ہوشیار ہو ایک روز اس قوم کا مال ہوجاتی ہے جو گھوڑوں پر چڑھنے والے سپاہی اور موٹا پہننے والے اور موٹا کھانے والے اور بہادر اور جفاکش ہوتے ہیں۔ مسلمانوں میں جب سلطنت اور دولت نے ( جو ان کے باپ دادا نے کہ جوانمرد اور جفاکش سپاہی تھے حاصل کی تھی) کئی صدیوں تک مقام کیا تو نزاکت اور عیش پسندی آگئی پھر تو امراء کی یہ حالت ہوگئی کہ دھوپ کی برداشت اور گھڑی بھر بھوک اور پیاس اور شہوت کی برداشت کا تو کیا ذکر ہے پائخانہ میں لوٹا بھی خادم ہی دھرے تو دھرے تو پائخانہ پھریں کپڑے بھی کوئی دوسرا پہنائے تو پہنیں۔ رات میں چار قدم باہر جاتے ڈر لگتا ہے ذرا چلیں اور اچھل کر گھوڑے پر چڑھیں تو ناف ٹل جائے ‘ کسی کام میں دل توڑ کر محنت کرنا کیسا ‘ رات دن داستان گو اور فواحش اور مسخروں کے جلسے ‘ کھانوں اور عمدہ مکانوں اور آرائشِ تن کے چرچے اور پھر گنجفہ اور شطرنج اور مرغبازی ‘ پتنگ بازی ‘ بٹیر بازی ‘ کبوتر بازی اور کون بازی اور کون بازی اور شراب خواری اور عیاشی اور بستر راحت پر پہروں چڑھے تک سونا اور جاگنا تو گھنٹوں جمائیاں اور انگرائیاں لینا اور گھنٹے پیخانے میں بیٹھنا ‘ پہر دن منہ دھونا ‘ سنگار کرنا ‘ مسی کی دھڑی جمانا ‘ آئینہ سامنے رکھ کر اپنے جمال کا جلوہ دیکھنا وغیرہ بدعادات آئیں جن کو ان کے رسول کریم ﷺ سے منع کیا تھا اس کے ساتھ علم بھی رخصت ہوا دانانی بھی گئی۔ دل کی جوانمردی بھی گئی۔ بندوق کی آواز سے دل دھڑکنے لگا اور اس پر بیجا مصارف کار خیر سے ہاتھ بند قومی حمیت رخصت ہوئی رہ گئی تو خود پسندی آبائی مفاخر پر لاف زنی ‘ کمینہ پروری رذالوں ‘ کمینوں ‘ سفلوں سے رغبت ‘ باہمی نفاق حسد و بغض کمینہ تدبیریں۔ پس سلطنت و دولت و عزت و شوکت بھی جلدی بھیک مانگنے کی نوبت آگئی اپنے آبائی خدمت نگاروں کی چل میں بھرنے کی نوکری رہ گئی عورتوں کے ننگ و ناموس بھی گئے۔ الغرض دین بھی گیا ‘ دنیا بھی گئی۔ یہ اس لحب الخیر الشدید وانہ الکنود کی تفسیر ہے۔ عبرت عبرت !
خبر دنیا تو گئی تھی سو گئی تھی اب تو افلاس یا بقیہ گندہ دولت کے خمار میں حق سبحانہ سے لڑائی کی ٹھہرا دی۔ لگے کفر بکنے ‘ احکام ربانی کو ٹالنے۔ اب دین اور عقبیٰ بھی چلے اس لیے فرماتا ہے افلا یعلم اذا بعثر مافی القبور وحصل ما فی الصدوران ربہم بہم یومئذ لخبیر کہ کیا یہ ناشکر انسان جو ایسے کام کرتا ہے یہ نہیں جانتا کہ جب قبروں میں سے مردے اٹھائے جاویں گے اور جو سینوں میں خیالات فاسدہ مخفی ہیں حب شہوات وغیرہ ہاوہ ظاہر کئے جاویں گے بلکہ متشکل کرکے سامنے لائے جاویں گے تو اس دن کا رب ان سے خبردار ہے بات دنیا میں جو کی تھی اس کو معلوم ہے پھر وہ وہاں کیسا ان اعمالِ بد اور عقائدِ فاسدہ کی سزا نہ دے گا ؟ ضرور دے گا ؟ اگرچہ اب بھی خبیر ہے کوئی بات اس سے مخفی نہیں مگر یہ کہنا کہ اس روز جو سزاء و جزا کا دن ہے خبردار ہے عقلمند کو پوری تہدید ہے جلد توبہ کرنا چاہیے۔ اللہم تبت الیک۔