Ayahs 101:1–11ترکیب ¦ القارعۃ مبتدء ما القارعۃ خبر۔ قرء الجہور بالرفع والقرع الصوت الشدید و منہ قوارع الدھر والمراد بھا القیامۃ وانھا من اسماء القیامۃ کا لحاقۃ وانما سمیت بھا لا نھا تقرع قلوب الانسان وتقرع اعداء اللہ بالعذاب والعرب تقول قرعتھم القارعۃ اذا وقع بھم امر قطیع وما الاسفتھامیۃ مبتداء ادراک خبر ما القارعۃ مبتدء و خبر والجملۃ مفعول ثانی لا دراک ای وای شیء اعلمک ماشان القارعۃ۔ ثم ھو سبحانہ بین بعض شیونھا فقال یوم یکون والناصب فی یوم القارعۃ ای تقرعھم یوم یکون الخ وقیل اذکر وقیل خبر مبتداء محذوف وانما نصب لا ضافۃ الی الفعل فانفتحۃ بناء لا نصب اعراب۔ والفراش جمع فراشتہ وھی الطیور التی تتساقط فی النار والسراج و بھا یضرب المثل فی الطیش والھوج یقال اطیش من فراشتہ المبثوث المتفرق ویجوز مبثوث کما یجوز مبثوثۃ کما فی قولہ تعالیٰ کا نھم جراو منتشراہ و اعجاز نخل منقعر و اعجاز نخل حاویہ ویکون الجبال عطف الجملۃ علی الجملۃ والعھن الصوف المصبوغ بالا لوان المختلفۃ المنفوش المندوف الذی نقش بالندف۔ فاما من شرط فھو فی الخ جو ابہ موازینہ جمع موزون وھوالعمل الذی لہ وزن و خطر عنداللہ وھذا قول الفراء وغیرہ وقیل جمع میزان وقیل المراد بھا الجج والدلائل عیشۃ راخیتہ اسناد مجازی اور استعارہ تکنیۃ وتخئیلۃ فامہ ای مسکنہ و سماہ بالام لانہ یاوی الیہ کما یاوی الی امہ ہاویۃ من اسماء جہنم وسمیت بھالانہ یہوی فیھا مع بعد قعرھاوا المھواۃ مابین الجبلین ماھیۃ اصلہ ماھی الضمیر یعود والی الھاویۃ و زیدت الھار بعد الیاء للسکت۔
تفسیر ¦ یہ سوئہ بلا خلاف مکہ میں نازل ہوئی ابن عباس ؓ بھی یہی کہتے ہیں۔ اس سورة کا نام قارعہ ہے اور قرعہ لغت میں ٹھونکنے کھڑا کھڑانے کو کہتے ہیں اور اسی لیے ایسے حوادث دہر کو جو عاقل کو دہلاتے اور دل کو ہلاتے ہیں قوارع الدہر کہتے ہیں اور قرآن مجید کی اس قسم کی آیات کو جو طبع بشری کو جنبش دینے والی ہیں قوارع القران کہتے ہیں۔ اور اس سورة میں بھی وہ مضامین ہیں جو انسان کو خواب غفلت سے جگاتے اور اس کے دل کو ہلاتے ہیں یا اس میں اس حادثہ کا ذکر ہے جو دنیا کو زیر و زبر کر دے گا یعنی قیامت اس لیے اس کا نام القارعۃ ہوا۔
واضح ہو کہ اجسام میں خدا تعالیٰ نے ایک قسم کا ثقل یعنی بوجھ یا بھاری پن رکھا ہے جیسا کہ روحانیات میں تجرد اور سبکائی اور یہ ایک قدرتی بات ہے اور یہی ثقل اس کو سکون وقرار پر مجبور کرتا ہے اور یہی اس کو اس کے حیز طبعی کی طرف جھکاتا ہے پھر ایک تو یہی ثقل جسمانی ہے جس سے اعلیٰ قدر مراتب کوئی جسم بھی خالی نہیں اور ایک معنوی ثقل بھی ہے جس کو وقار کہتے ہیں یہ ادراک و حواس والے اجسام کے ساتھ مخصوص ہے اور یہ ان کے لیے خوبی ہے بالخصوص انسان میں جو اس کے مردانہ پن اور تحمل و برداشت کا باعث ہے پھر جس میں یہ وصف نہیں اور تر پھر کرتا ہے۔ بیٹھنے میں بھی کہیں ہاتھ ہلتے ہیں کہیں پائوں ‘ کبھی آنکھیں پھڑکتی ہیں تو کبھی جلد جلد بات چیت کرتا ہے اس کو معیوب سمجھتے ہیں اور بندر اور اس قسم کے جانوروں سے تشبیہ دیتے ہیں۔ جوانمردوں کو اپنے استقلال اور قائم مزاجی پر بڑا ناز ہوا کرتا ہے اور وہ کہتے ہیں ہم پہاڑ ہیں حوادثِ و ہر ہم کو جنبش بھی نہیں دے سکتے۔ کفار قریش اپنے اس وصف پر بڑے نازاں تھے اور یہاں تک دعویٰ تھا کہ اگر کوئی ہمارے جسم میں زخم بھی لگائے تو ہم جس وضع پر بیٹھے ہوں اس میں کچھ بھی فرق نہ آوے اور اس کی وہ مشاقی بھی کیا کرتے تھے اور اسی کو میدان جنگ اور دشمنوں کے مقابلہ میں ثابت قدمی کا سبب جانتے تھے۔ سو اول قسم کا ثقل زیادہ تر پہاڑوں میں ہے کہ جب سے ان کو قدرت نے جہاں بٹھایا ہے وہیں بیٹھے ہیں ہلتے ہی نہیں اور اسی لیے اس امر میں ثابت قدموں کو پہاڑ سے تشبیہ دی جایا کرتی ہے اور دوسری قسم کا ثقل انسان میں ہے۔ مگر انسان کی اس ثقل سے عالم بالا کا مقصود اخلاق حمیدہ اور ملکات کاملہ میں ثابت قدم رہنا ہے جو حسنات حاصل کرنے کا سبب اور معاصی اور لذات و شہوات کے جھونکوں میں اڑنے سے بچنے کا باعث ہے اور دنیا میں اس کے آنے سے یہی مقصد ہے کہ وہ اس ثقل کو حاصل کرلے جاوے اور جس میں یہ ثقل جس قدر ہے اسی قدر وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک گرامی اور بھاری ہے اور جس میں یہ ثقل نہیں وہ بےوقار اور ہلکا ہے اور اس کا ان نیک باتوں سے ہلکا ہونا بہیمیت اور جسمانیت کا بھاری پن ہے جس کا حیز طبعی ہاویہ یعنی مقام اسفل ہے ان باتوں کی طرف خدا پاک اس سورة میں ایماء کرکے انسان کو ابواب خیرات کی رغبت دلاتا اور اس کے ثمرات و نتائج عیشہ راضیۃ ظاہر فرماتا ہے اور بدوں کو ہاویہ میں لے جانے والے بوجھ سے سبکی حاصل کرنے اور ثقل مقصود حاصل کرنے کی طرف ابھارتا ہے اور نبوت کبریٰ کا یہی مقصد اصلی ہے اس لیے فرماتا ہے القارعۃ ما القارعۃ دما ادراک ما القارعۃ کہ قارعہ کھڑ کھڑانے والی کیا ہے وہ کھڑکھڑانے والی۔ اور اے مخاطب تو کیا جانے کیا ہے کھڑ کھڑانے والی چیز اس لیے کہ وہ اس عالم کی فنا اور فنا کے اثرات ہیں جو بغیر دلیل سمعی کے سمجھ میں نہیں آتے۔ کس لیے کہ انسان ہمیشہ سے آسمان و زمین پہاڑوں اور دریائوں اور چاند و ستاروں کو دیکھتے سیکھتے یہ سمجھ گیا ہے یہ ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے ان کو فنا نہیں صرف عناصر سے مرکب چیزوں کو فنا ہے وہ یہی کہ ایک وقت کے بعد اس ترکیب کی گرہ کھل جاتی ہے پھر اپنے خیال کو مستحکم کرنے کے لیے اس نے سیکڑوں دلیلیں بنا لی ہیں۔ اس لیے اس کوتاہ فہم کے حق میں یہ فرمایا کہ تو کیا جانے کیا وہ کھڑ کھڑانے والی چیز بہت درست ہے۔ پھر آپ ہی اس کی کسی قدر کیفیت بیان فرماتا ہے یوم یکون الناس کالفراش المبثوث جس دن کہ آدمی بکھرے ہوئے پتنگے اور پروانوں جیسے ہوجاویں گے یعنی ان کا وہ ثقل کہ جس پر ناز تھا اس روز کی ناقابل برداشت مصائب دیکھ کر بالکل جاتا رہے گا اور ایسی بےقراری اور بےتابی ہوگی کہ ادھر کے ادھر ‘ ادھر کے ادھر مارے مارے پھریں گے۔ فراش فراشتہ کی جمع جس کے معنی پتنگا ‘ پروانہ ‘ بُھنگا ‘ جو رات میں روشنی یا آگ میں گرا کرتا ہے۔ جبکہ صور پھنکے گا اور لوگ قبروں سے اٹھیں گے اور ایک خدا کی طرف کا پکارنے والا عدالت کی طرف بلائے گا اور جلال کبریائی کی تجلی ہوگی تو دہشت کے مارے لوگ پتنگوں کی طرح یا ٹڈیوں کی طرح بےقرار و مضطرب ہو کر دوڑے آویں گے۔ اور ممکن ہے کہ یہ نفخ صور اول کا واقعہ ہو کہ جب آواز تیز ہوگی اور کڑک اور زلزلہ زیادہ ہوگا تو گھبراہٹ میں پتنگوں کی طرح ادھر ادھر مارے مارے پھریں گے اور بےقراری ہوگی سب ثقل و ثبات جاتا رہے گا تشبیہ میں چار باتیں ہیں (1) طیش و بےقراری اور ایک دوسرے پر بدحواسی میں گرنا (2) کثرت وضعف کہ ان کی بھنگوں جیسی کثرت ہوگی اور آج کے بڑے قوی ہیکل … اور دلیر اس روز ملائکہ کے آگے بھنگے معلوم ہوں گے (3) ہر جانب اور ہر سمت سے بلانے والے کی طرف ایسا آنا کہ جیسا پتنگے چراغ کی طرف آیا کرتے ہیں (4) آگ میں گرنا جیسا کہ پتنگے گرتے ہیں اس طرح وہ آتش جہنم میں گریں گے اور یہ اس لیے کہ وہ روز ظہور کلی ہے یعنی دنیا کا پردہ الٹ کر ہر ایک چیز کی حقیقت اصلیہ دکھا دی جائے گی پھر جس طرح آج پتنگوں کی طرح شہوت و لذات کی آگ کی طرف دوڑے چلے جاتے ہیں جہاں طبلہ پر تھاپ پڑی اور سارنگی کی آواز آئی لوگ دوڑ پڑے۔ سو اس روز یہ خواہش آتش جہنم کی صورت میں ظہور کرے گی اور یہ اسی طرح اس کی طرف مجبورا نہ جائیں گے وہ رغبت اور اختیار ‘ جبر و اضطرار کی صورت میں جلوہ گر ہوگا دنیا کے خواب کی یہ تعبیر ہوگی۔
اب دوسرے ثقل کی کیفیت بیان فرماتا ہے جو پہاڑوں میں رکھا ہوا ہے فقال وتکون الجبال کالعہن المنفوش اور پہاڑ دھنی ہوئی اون جیسے ہو کر اڑتے پھریں گے عہن رنگین پشم کو کہتے ہیں اور رنگین پشم سے تشبیہ اس لیے دی کہ اب جو دنیا میں مختلف رنگوں کے پہاڑ ہیں سنگ مرمر سنگ سرخ ‘ سنگ سیاہ وگیرہ۔ زلزلہ پے در پے آنے سے چورا چورا ہوجاویں گے اور باہم اڑا کرتے ہیں اسی طرح جب عالم بالا کے دھننے والے اس پہاڑوں کی اون کو دھنیں گے تو یہ اڑتے پھریں گے۔ اب اس سے زیادہ کیا کھڑ کھڑانے والا وقت ہوگا۔ یہ ہے القارعہ جس کی حقیقت سے یہ مست بادہ غفلت بیخبر ہیں۔
یہاں تک تو ایک مصیبت تھی اب اور دوسری سنئے وہ یہ کہ اس روز جب یہ سب کچھ ہوچکے گا بار دگر لوگ اصلی حیات میں آویں گے اور میزان عدالت کھڑی ہوگی تو فاما من ثقلت موازینہ فہو فی عیشہ راضیۃ اس روز جس نے اس چند روزہ حیات دنیا میں اپنے اس ثقل خداداد کو اچھے کاموں میں صرف کیا اور ایماں و حسنات کا ثقل پید اکر لیا تو پھر اس کی تولیں بھاری نکلیں گے ایمان کی تول ہے تو ویسی ہی بھاری ہے اور نماز کی ہے تو ویسی ہی گرانبار ہے اور روزے کی ہے تو ویسی ہے اور صدقات و خیرات کی ہے تو ایسی ہے۔ شہوات ولذات سے صبر کی ہے تو ایسی ہے اور محبت الٰہی کی ہے تو سب سے بڑھ کر ہے تو وہ لوگ دل پسند زندگانی میں ہوں گے جس کو حیات جاودانی اور زندگانی با کامرانی کہنا چاہیے یہ لفظ عیشۃ راضیۃ بڑا وسیع المعنی لفظ ہے۔ آخرت کی جس قدر خوبیاں ہیں ‘ جنت اور وہاں کے نعیم اور فرح و سرور اور دیدارِ الٰہی سب کو حاوی ہے۔
واما من خفت موازیہ فامہ ھاویہ اور جس کی تولیں ہلکی ہوں گی۔ اعمال حسنہ و ایمان میں اس ثقل خدا داد کو کام میں نہ لایا بلکہ شہوات ولذات حبِّ دنیا وغیرہ میں صرف کیا اور اپنی نالائق باتوں پر ثابت قدمی دکھائی۔ کفر پر اڑے رہے۔ ایمان لاتے شرم آئی بدوضعی کو وضع داری سمجھے۔ دنیا پر فریفتہ رہے اور اس عشق میں بڑی ثابت قدمی دکھائی۔ رسم و رواجِ بد کے پابند رہے ‘ بڑے استقلال سے اس کو تھامے رہے اور بڑا ثقل ان باتوں میں پیدا کیا۔ تو یہ بھاری لنگر ان کو جہنم کے گڑھے کی طرف اس طرح کھینچے ہوئے لے جاوے گا جیسا اجسام کا ثقل طبعی پستی کی طرف لے جاتا ہے اور اسی رمز کی طرف اشارہ کرنے کے لیے لفظ ام کا استعمال کیا۔ کیونکہ ام کے اصلی معنی ہیں اصل اور رجوع ہونے کی جگہ کے اور اسی لیے ماں کو ام کہتے ہیں کہ وہ بچہ کی اصل ہے اور اس کی طرف رجوع کرتا ہے مراد یہ کہ اس کا اصل ٹھکانا ہاویہ ہوگا اور ھاویۃ گڑھے کو کہتے ہیں اور یہ جہنم کا ہے۔ اس لیے اس کے بعد فرماتا ہے وما ادراک ماھیہ کہ اے مخاطب تو کیا جانے کیا ہے ہاویہ کوئی دنیا کا عمیق گڑھا یا کسی بلند پہاڑی کی کھو نہیں ہے کس لیے کہ اس کی اصل حقیقت بھی بغیر ملہم غیب کے سمجھائے سمجھ میں نہیں آتی پھر آپ ہی بتاتا ہے نار حامیۃ کہ وہ دہکتی آگ ہے یہ آگ حبِّ شہوات و لذات کی اور غضب و حسد کی ‘ بغض و عداوت کی اور تعصب کفر و بدراہی کی آگ دنیا میں دل میں تھی آج وہ جہنم کی آگ بن کر سامنے آگئی اور آگ بھی کیسی آگ حامیۃ بہت گرم کہ جس کی گرمی کے مقابلے میں دنیا کی آگ گرم نہیں یہ آگ اس آگ کی بہ نسبت کچھ بھی نہیں اس لیے یہ لفظ استعمال ہو اور نہ آگ کے لیے تو ہر وقت حرارت لازم ہے
فائدہ : فرقہ معتزلہ موازین کو دنیاوی ترازو سمجھ کر اور اس میں اعمال و ایمان جو عوارض ہیں محال جان کر یہ تاویل کرتا ہے کہ تولیں بھاری ہونے سے مراد ہے حجت قوی ہونا اور خدا کے نزدیک گرامی اور بھاری ہونا اور کہتے ہیں یہ ایک عرب کا محاورہ ہے اور اسی طرح تولوں کے ہلکے ہونے سے مراد ذلیل ہونا اور ان کی حجتوں کا ضعیف ہوتا ہے۔
مگر یہ ان کا قصور فہم ہے۔ کس لیے کہ وہ ترازو دنیا کی ترازو نہیں بلکہ وہ ہے کہ جس سے اعمال و ایمان کا وزن ہوتا ہے۔ حدیث صحیح میں میزان کا قیامت میں قائم ہونا ثابت ہے اہل سنت اس کے قائل ہیں۔
فائدہ : دو فریق بیان ہوئے اول وہ کہ جن کے ایمان و اعمال حسنہ کی تولیں بھاری ہوں گی دوم وہ کہ جن کی تولین ہلکی ہوں گی اور دونوں کا انجام بھی بیان فرما دیا۔ مگر ایک تیسرا فریق اور بھی ہے یہ وہ کہ جن کی نیکی اور بدی کا وزن برابر ہوگا۔ ان کا کیا انجام ہوگا ؟
منادی فرماتے ہیں کہ ان سے حساب آسان لیا جاوے گا اور آخر وہ بھی بخشے جاویں گے اور ان کا ذکر اس لیے نہیں کیا تاکہ منادی معلوم ہو کہ قابل عذاب وہی ہیں جن کی نیکی کی تول ہلکی رہے گی گناہوں کا پلہ بھاری رہے گا۔ پھر اب اگر ایمان بھی نہیں تو ہمیشہ جہنم میں رہے گا ورنہ شفاعت یا اس کی مخصوص رحمت کے سبب وہ سزا پا کر یا ایمان کی برکت سے بغیر سزا پائے یوں ہی نجات پا جاوے گا مگر خطرہ میں ضرور ہے۔
حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص لایا جاوے گا ننانویں دفتر بڑے بڑے گناہوں کے اس کے پیش ہوں گے پھر حق سبحانہ پوچھے گا تجھے ان میں سے کسی کا انکار ہے کیا میرے فرشتوں کراماً کاتبین نے ناحق لکھ لیے ہیں۔ کہے گا نہیں یا رب ! پھر پوچھے گا تجھے کوئی عذر ہے کہے گا نہیں یا رب ! تب حق سبحانہ فرماوے گا تیری ایک نیکی ہمارے ہاں ہے ہم کسی پر ظلم نہیں کرتے تب ایک ورقہ نکلے گا جس میں کلمہ شہادت ہوگا۔ تب وہ شخص کہے گا بھلا ان دفتروں کے مقابلے میں اس ورقہ کا کیا وزن ہوگا تب وہ ورق ایک پلہ میں اور وہ دفتر دوسرے پلہ میں رکھے جاویں گے تب یہ ورق بھاری نکلے گا اور وہ دفتر ہلکے ہوجاویں گے اللہ کے نام سے کوئی چیز بھاری نہیں ہوگی۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجہ)