97. Surah Al-Qadr
القدرThe Power, Fate · 5 ayahsتفسیرِ حقانی
اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِۚۖ Open ayah 97:1 in the Quran reader
ہم نے اتارا ہے اس کو شب قدر میں
وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِؕ Open ayah 97:2 in the Quran reader
اور تو کیا جانے کیا ہے شب قدر۔
لَیْلَةُ الْقَدْرِ١ۙ۬ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ Open ayah 97:3 in the Quran reader
شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے
تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍۙۛ Open ayah 97:4 in the Quran reader
اس میں فرشتے اور روح نازل ہوتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہر کام پر
سَلٰمٌ١ۛ۫ هِیَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ۠ Open ayah 97:5 in the Quran reader
سلامتی کی رات ہے وہ صبح روشن ہونے تک۔
ترکیب ¦ انا مبتداء انزلناہ الضمیر یرجع الی القرآن وان لم یتقدم ذکرہ لکونہ معھودا معلومًا فی متعلق بانزلنا والجملۃ خبر المبتدء۔ وما ادراک الجملۃ استفہامیۃ لبیان عظم شان لیلۃ القدر۔ لیلۃ القدر مبتدء خبر من الف شہر خبرہ والجملۃ التامۃ جواب الاستفھام۔ تنزل بحذف احدی التائین من الاصل۔ الملائکۃ فاعلہ و تانیث الفعل لا عتبار جمعیۃ الفاعل ای متلبسین والروح معطوف علی الملائکۃ۔ فیھا ای فی لیلۃ القدر والجار متعلق بتنزل باذن ربہم متعلق تنزل او بمحذوف ھو حال من فاعلہ ای متلبسین باذن ربہم ای بامرہ۔ من کل امر ای من اجل کل امر وقیل من بمعنی اللام ای لکل امرو قیل بمعنی الباء ای بکل امر۔ متعلق بالفعل السابق۔ والفعل مع متعلقاتہ جملۃ مستانفۃ مبنیۃ لوجہ فضیلۃ لیلۃ القدر و تم الکلام عند من کل امر۔ ثم ابتداء فقال سلامھی فی سلام و جہان الاول بمعنی مسلمۃ ای تسلیم الملائکہ علی المومنین اوتسلیم بعضھم علی بعض فعلی ھذاھی مبتداء مؤخر وسلام خبرمقدم و حتی متعلقۃ بسلام ای الملائکۃ مسلمۃ ای مطلع الفجر و الثانی بمعنی سلامۃ ویجوز الوقف علیھا ویکون المعنی سلام من کل امرہی حتی مطلع الفجر۔ یجوزان تتعلق حتی بسلام اور بتنزل مطلع بکسر اللام و فتحھا لغتان وقیل الفتح اولیٰ ۔
تفسیر ¦ اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ سورة کہاں نازل ہوئی ! ماوردی کہتے ہیں کہ اکثرعلماء کے نزدیک یہ مکہ میں نازل ہوئی ہے اور ابن عباس و ابن زبیر و عائشہ صدیقہ ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ ثعلبی کہتے ہیں کہ اکثر کے نزدیک یہ مدینہ میں نازل ہوئی ہے اور واقد بھی یہی کہتے ہیں۔ قول اول زیادہ معتبر اور قرین قیاس ہے۔ اس کی پانچ آیت ہیں۔
مناسبت اس سورة کو سورة اقراء سے یہ ہے کہ سورة اقراء میں بشر پر الطاف اور اس کے تر قیات کا اور پھر اس کی سرکشی اور سرکشی سے باز نہ آنے پر سزا کا ذکر تھا اس سورة میں یہ بتلایا جاتا ہے کہ ان تر قیات و الطاف کے سوا ہم نے انسان پر دو اور بےانتہاء عنایت کی ہیں (1) یہ کہ اس کی تہذیب اور دارین کی سعادت کے لیے ہم نے قرآن نازل کیا یعنی اس کو اس علم پر نہیں چھوڑا بلکہ علم الانسان مالم یعلم کے پورا کرنے کے لیے آپ اس سے بواسطہ جبرئیل اور پیغمبر (علیہما السلام) کے کلام کیا اور خود اس کو آئندہ سعادت کی باتیں سکھائیں اور ہاویہ میں گرانے والی باتوں سے بچایا (2) یہ کہ جس طرح دنیاوی شہنشاہوں کے ہاں ایک روز ایسا ہوتا ہے کہ جس میں الطاف و عنایت خسروانہ بیشمار ہوتی ہیں ‘ انعامات بٹتے ہیں ‘ فرمانبرداروں کے لیے ترقی درجات ہوتی ہے۔ اسی طرح ہم نے بھی انسان کے لیے ایک رات سال بھر میں ایسی رکھی ہے اگر یہ اس میں ہماری طرف توجہ کرلے اور عبادت و استغفار کرے تو اس کو بےانتہا انعامات ملیں ‘ دعائیں قبول ہوں ‘ اس کے گناہوں سے درگزر ہو اور برسوں کی عبادت سے یہ عبادت افضل ہے اور وہ لیلۃ القدر کا وقت ہے۔ ان دونوں باتوں کا اس سورة مبارکہ میں ذکر ہے اور یہ رحمت خاص نبی آخر الزماں ﷺ اور اس کے پیرؤوں کے لیے ہے اور سر اس میں یہ ہے کہ پہلی امتوں کی عمریں دراز اور قوٰی تیز تھے اس لیے ان کے لیے عمل اور احکام کی پابندی کی بھی مشقت زیادہ تھی کئی کئی سو برسوں کی عمریں ہوا کرتی تھیں اور ان میں وہ کیا کیا ریاضات شاقہ کرتے تھے اور اسی بات کی طرف نبی کریم ﷺ نے اشارہ کیا ہے کہ میری امت اور اگلی امتوں کی مثال ایسی ہے کہ جیسا کسی نے نصف دن تک ایک معین اجرت پر کسی کو کام پر لگایا اور پھر نصف دن سے لے کر عصر تک اسی کام اور اسی اجرت پر دوسرے کو معین کیا اور پھر عصر سے لے کر غروب تک دوگنی اجرت پر تیسرے شخص کو معین فرمایا۔ پہلے نے کہا میرا وقت اتنا اور مزدوری اسی قدر کہ جس قدر نصف دن سے لے کر عصر تک والے کی ہے اور اس کا وقت مجھ سے نصف۔ پھر دوسرے نے بھی تیسرے کی نسبت یہی شکایت کی ہے کہ اس کا وقت مجھ سے کم اور اجرت دو چند۔ مالک نے فرمایا کہ یہ میری عنایت ہے جس پر چاہوں کروں مگر تمہارے حق میں سے تو میں نے کوئی کمی نہیں کی ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ وہ پہلا شخص یہود حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی امت اور دوسرا عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی امت اور تیسرا میری امت ہے تمہارے لیے وقت کم اور اجرت دو چند ہے۔ (اس کو امام مالک وغیرہ محدثین نے بسند صحیح نقل کیا ہے) اور مقتضائے رحمت تامہ (کہ جس کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے التماس کی تھی اور جواب میں ارشادہوا تھا کہ فساکب تھا للنبی الامی الخ کہ میں اس کو نبی امی کے حصہ میں لکھے دیتا ہوں اور کتب سابقہ سے بھی یہی پایا جاتا ہے کہ میں ایک نئی قوم پیدا کروں گا اور وہ میری قوم کہلاوے گی اور وہ ابد تک مبارک ہوگی میں اپنے دست شفقت کو ان سے نہ اٹھائوں گا الخ یہی تھا کہ اس امت اور اسم بارک قوم کے لیے ایک رات تقریبِ الٰہی میں ہزار راتوں سے بڑھ کر بنائی جائے گی تاکہ یہ لوگ تھوڑی عمر اور تھوڑے زمانہ میں وہ تقریب ہاصل کریں جو اوروں کو سیکڑوں برسوں میں بھی حاصل نہ ہوتا تھا۔ گویا وصل الی اللہ کے پہلے بیل گاڑی تھی پھر حضرت مسیح (علیہ السلام) کے عہد میں گھوڑا گاڑی بنی اور آخر الزمان نبی کے عہد میں ریل یا اس سے بھی جو کوئی تیز اور آرام کی سواری ہو وہ بنی۔ جلد شہر مقصود تک تھوڑی سی دیر میں پہنچتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جو گی اور گشائیں اور پادریوں میں راہب کیا کیا مشقتیں اٹھاتے ہیں اور کیسی کیسی سخت ریاضتیں کرتے ہیں مگر ان پر تقریب الٰہی کا دروازہ نہیں کھلتا۔ باطن میں وہی تاریکی باقی رہتی ہے جو کبھی کسی جھری یا سوراخ میں سے کچھ چمک پڑگئی تو کس حساب میں ہے۔ برخلاف طریقہ محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے یہاں تھوڑی دیر میں اور بہت آسانی سے کشود کار ہوتا ہے پھر جو کوئی اب بھی ادھر نہ آئے تو بڑا ہی بدنصیب ہے ذرا اس مے کو پی کر تو دیکھے۔ ان سب باتوں کا ذکر اس سورة مبارکہ میں ہے گویا یہ شوق دلانے کے لیے اعلان شاہی فرماتا ہے انا انزلنہ فی لیلۃ القدر کہ خاص ہم نے نہ کسی اور نے اس کو یعنی قران کو جس کا چرچا ہو رہا ہے اور مکہ میں غلغلہ مچا ہوا ہے کسی ایسے ویسے وقت نازل نہیں کیا بلکہ اس خاص وقت میں یعنی لیلۃ القدر میں۔
اب اس جگہ ایک یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ باتفاق مؤرخین قرآن مجید تئیس برس میں تھوڑا تھوڑا نازل ہوا ہے۔
اور سب سے اول جو سورة اقراء مالم یعلم تک نازل غار حرا میں ہوئی تو شوال کا مہینہ تھا اور غالباً اول عشرہ تھا پھر یہ کیونکر صحیح مان لیا جاوے کہ قرآن مجید کو ہم نے شب قدر میں نازل کیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ انزال 1 ؎ اور تنزیل میں فرق ہے۔ تنزیل ٹکڑے ٹکڑے کرکے نازل کرنا اور انزال ایک بار۔ سو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تنزیل تیئس برس میں ہوئی اور ابتدائے تنزیل ماہ شوال میں ہوئی مگر اس آیت میں انزال کا ذکر ہے نہ تنزیل کا۔ بات یہ ہے کہ قرآن مجید کل ایک بارگی شب قدر میں جو رمضان کے مہینے میں واقع تھی (جیسا کہ اسی لحاظ سے فرمایا گیا۔ شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن کہ رمضان کا وہ مہینہ ہے کہ جس میں قرآن نازل کیا گیا) ۔ لوح محفوظ سے بیت العزۃ میں جو آسمان پر ایک جگہ ہے نازل کیا گیا اور پھر وہاں سے حسب حاجت جبرئیل (علیہ السلام) آنحضرت ﷺ کے پاس لاتے تھے اور آپ ہر کلام کو اس کے اصلی موقع پر جمع کرا دیتے تھے اور ترتیب اصلی قرآن مجید کی یہی ہے جواب موجود ہے اور اسی ترتیب سے لوح محفوظ سے بیت العزۃ میں اوپر سے لا کر رکھا گیا تھا۔
1 ؎ ایک سوال انا انزلناہ پر یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ جملہ بھی تو قرآن کا جز ہے۔ پھر جب انزلناہ کی ضمیر قرآن کی طرف پھرتی ہے تو اس میں یہ جملہ داخل نہیں ہوسکتا ورنہ حکایت و محکی عنہ کا اتحاد لازم آجائے گا۔ اس کا جواب بچند وجوہ ہے کہ گو انزلناء میں ضمیر قرآن کی طرف پھرتی ہے مگر قرآن کا اطلاق جزء اور کل سب پر ہوتا ہے ایک آیت یا سورة کو بھی قرآن کہتے ہیں جیسا کہ مجموعہ کو پس ضمیر قران کے ان اجزا کی طرف پھرے گی جو سب سے اول لیلۃ القدر میں نازل ہوئے اور بھی جواب ہیں۔ 11 منہ
پھر یہ بات دریافت طلب ہے کہ لوح محفوظ کیا ہے اور بیت العزۃ کیا ہے اور کیا قرآن کاغذوں پر معمولی سیاہی سے لکھا ہوا مجلدبیت العزۃ میں آیا تھا ؟ اس کی تشریح ہم مقدمہ تفسیر میں کرچکے ہیں۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ لوح محفوظ کوئی لوہے یا چاندی یا سونے یا لکڑی کی تختی نہیں۔ بلکہ وہ علم الٰہی کا تعین اور مرتبہ اثبات ہے جس میں ہر ایک چیز کا علم دوسری چیز کے علم سے متعین و ممیز ہے بامتیاز خاص ورنہ ذات بحت کے مرتبہ میں بھی اس کے علوم ناقص اور غیر متمیز نہیں۔ اس مرتبہ کو لوح سے تشبیہ دی گئی کہ جہاں ایک مطلب کو دوسرے مطلب سے امتیاز خاص ہوتا ہے اور یہ امتیاز اس سے جدا ہے جو لکھنے والے کے ذہن میں پہلے تھا کس لیے کہ وہ مرتبہ مکفی و مکنون تھا یہ لوح کے دیکھنے والوں پر ظاہر ہے وہ خود پڑھ سکتے ہیں اور ممکن ہے کہ عالم شہود میں یہ مرتبہ اپنے اپنے مناسب کسی شکل نورانی میں متمثل بھی ہو جس کو عالم جسمانی میں لوح سے کمال مشابہت ہو اور بیت العزۃ اس کے بعد اور دوسرا مرتبہ علم و امتیاز کا ہے کہ جو اعلیٰ طبقہ کے ملائکہ کے اوپر ظاہر و منکشف ہے اور ممکن ہے کہ اس مرتبہ میں قرآن کی حقیقت اپنے مناسب صورت میں مشتمل ہو جس کو نوشتہ کتاب سے نہایت مشابہت ہو۔ واللہ اعلم۔
ف۔ لیلۃ القدر کیا ہے۔ قدر مصدر ہے قدرت القدر کا اور قَدَر اور قَدْر سکون دال اور اس کی حرکت سے دونوں کے ایک ہی معنی ہیں مگر یہ فرق ہے کہ بالسکون مصدر و بالفتح اسم ہے۔ واقدی کہتے ہیں قدر کے لغت میں معنی ہیں اندازہ کرنا اور قدر شرف و منزلت کو بھی کہتے ہیں لفلان قدر عند فلان کہ فلاں شخص کے نزدیک قدر یعنی عزت ہو (کبیر)
اب دونوں کے معنی کے لحاظ سے اس رات کو لیلۃ القدر کہتے ہیں کہنے کی علما نے کئی وجہ بیان فرمائی ہیں : (1) ابن عباس فرماتے ہیں اس رات کو اس لیے لیلۃ القدر کہتے ہیں کہ اس رات میں برس بھر کی آنے والی بلائیں عالم بالا میں مقدر و معین کی جاتی ہیں کسی کا مرنا ‘ بیمار ہونا ‘ رزق کی فراغدستی ‘ عزت و ذلت جو کچھ سال بھر میں اس جہاں میں ظاہر ہوگا وہ سب اس رات میں عالم بالا میں مشہور کردیا جاتا ہے اور ہر ایک کام پر ملائکہ معین کردیے جاتے ہیں۔ (2) یہ کہ اس رات عالم بالا کے روحانیات اس قدر زمین پر آتے ہیں کہ گویا زمین میں تنگی ہوجاتی ہے گنجائش نہیں رہتی اور تنگی کے معنی میں بھی یہ لفظ قران مجید میں مستعمل ہوا ہے ومن قدر علیہ رزقہ۔ (3) زہری فرماتے ہیں اس لیے اس رات کو لیلۃ القدر کہتے ہیں کہ اس رات نیک بندوں کی خدا تعالیٰ اور عالم بالا کے لوگوں کے نزدیک نہایت قدر و منزلت ہوتی ہے بلکہ اہل صفا سے مصافحہ بھی کرتے ہیں اور عام ایمانداروں کو بھی چھوتے ہیں گو ان کو محسوس نہ ہو جس کا اثر ان کے دل میں رقت اور گناہوں پر رونا اور دعا کرنا ہوتا ہے اور ان کے اعمال حسنہ کی بڑی قدرو منزلت ہوتی ہے۔ (4) ابوبکر وراق کہتے ہیں اس لیے اس کو لیلۃ القدر کہتے ہیں کہ اس میں خدا تعالیٰ نے کتاب قابل قدر امت قابل قدر کے لیے رسول صاحب قدر کی معرفت نازل فرمائی اور اسی لیے یہ لفظ تین بار آیا اور اس لیے بھی کہ اس رات کی قدر کرنا چاہیے۔
یہ رات کب آتی ہے ؟ ¦ اس میں علماء کے متعدد اقوال میں۔ بعض کہتے ہیں کہ سال بھر میں ایک بار مہینے کا کوئی تعین نہیں۔ اکثر کا قول یہ ہے کہ رمضان میں یہ رات ہوتی ہے۔ پھر اکثر اسی پر متفق ہیں کہ رمضان کے اخیر عشرہ میں بالخصوص 21‘ 23‘ 25‘ 27‘ 29 راتوں میں تلاش کرنا چاہیے اور بعض نے خاص ستائیسویں رات کی بابت زور دیا ہے اور احادیث بھی بکثرت اسی پر دلالت کرتی ہیں کہ رمضان کے اخیر عشرہ میں ہوتی ہے۔
اس کے اخفاء کی حکمت :
اور حکمت اس کے اخفاء میں یہ ہے کہ اس کا طالب سال بھر عبادت میں گزارے ‘ گناہوں سے بچے ورنہ خیر رمضان شریف اور خصوصاً عشرہ اخیرہ میں تو بڑی کوشش کرے۔ نیکی کرنا تو اس رات میں بڑی قبولیت کا باعث ہے مگر اس رات گناہ کرنا بھی قہر الٰہی کا سبب ہے جیسا کہ کوئی خاص بادشاہ کے دربار میں بغاوت اور نافرمانی ظاہر کرتا ہے بہ نسبت اور کے وہ زیادہ سزا کا مستحق ہوتا ہے۔ اس لیے اس بات کی زیادہ احتیاط چاہیے کہ بالخصوص اس رات گناہ سے بچے اور غفلت و عیش میں اس رات کو نہ گنوائے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو اس کی برکت سے محروم رہا وہ سب بھلائیوں سے محروم رہا یعنی بڑا ہی بدنصیب ہے اور یہ ظاہر ہے کہ جس کو دربار کے روز بھی حضوری نصیب نہیں ہوئی تو پھر اسے خلوت میں کیا مل سکتا ہے اور پھر معلوم نہیں کہ اس کی زندگی میں یہ رات اس کو نصیب بھی ہوتی ہے کہ نہیں۔ زندگی کا بھروسا کیا۔ اس لیے ہر رات کی قدر کرنے والے کو وہ رات بھی نصیب ہوجاتی ہے۔ اسی لیے ہمیشہ سے صلحا کا رات کو جاگنا ‘ عبادت کرنا ‘ نماز تہجد پڑھنا دستور رہا ہے۔
اور سر اس لیلۃ القدر کا ¦ یہ ہے کہ یہ اس کی تجلی کی رات ہے اور منجملہ شیون باری تعالیٰ کے ایک شان مواصلت و تقریب و تدلی بھی ہے مخلوق کی طرف جیسا کہ فرماتا ہے کل یوم ہو فی شان ہر روز اس کی ایک شان ہوتی ہے۔ اس رات یہ ہوتی ہے جس سے مدارک و اذہان بندگان میں اس کی طرف کا اشتیاق پیدا ہوتا ہے اور قوت خیالیہ مدرکہ کے تابع ہوجاتی ہے اور تمام عالم سفلی میں عالم بالا کی طرف جنبش ہوجاتی ہی اور عالم بالا اور وہاں کے لوگ ملائکہ و ارواح کو بھی اس تجلی کے ساتھ عالم سفلی کی طرف جھکاؤ ہوجاتا ہے۔ جس کو اتر آنے سے تعبیر کیا جاتا ہے اور عالم غیب کے عالم شہادت سے ملنے سے ایک نئی کیفیت اور لمعات پیدا ہوتے ہیں اور ایک عجیب حالت پیدا ہوتی ہے جس کی تشبیہ نہیں دی جاتی۔ مگر ایک تشبیہ ناقص سی یہ ہے کہ جس طرح بارش کے برسنے اور آفتاب کے ایک موقع خاص میں آنے سے ہر تخم اور ہر جڑی بوتی میں ایک نئی جان پڑجاتی ہے۔ پیڑ اور بوٹیاں نشوونما کرتی ہیں درختوں میں پتے اور شگوفے اور رنگا رنگ کے پھول آتے ہیں اور فرحت و انبساط کی کیفیت ہوجاتی ہے اسی طرح عالم بالا اور حق سبحانہ کی تجلی سے ارواح بشر یہ بلکہ تمام عالم محسوس پر ایک نئی کیفیت بہار کی پیدا ہوتی ہے۔
فائدہ : قرآن مجید میں ایک جگہ یوں بھی آیا ہے انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ انا کنا منذرین کہ ہم نے قرآن مجید کو لیلۃ مبارکۃ میں نازل کیا ہے۔ پھر کیا اور کوئی رات ہے جیسا کہ بعض علماء شب برات کہتے ہیں جو شعبان کے نصف میں واقع ہوتی ہے ؟ امام نووی شرح صحیح مسلم باب صوم التطوع میں کہتے ہیں کہ لیلۃ مبارکہ سے لیلۃ القدر مراد ہے اور جو نصف رمضان کی رات کہتے ہیں وہ بڑی غلطی کرتے ہیں۔ اس تقدیر پر کوئی اشکال باقی نہیں رہتا۔ مگر عکرمہ کہتے ہیں کہ یہ نصف شعبان کی رات ہے۔ اس صورت میں ایک تعارض سا واقع ہوتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ شب برات میں حکم ہوا تھا کہ قران کو لوح محفوظ سے نقل کرکے بیت العزۃ میں لے جاؤ یہ ہے لیلۃ مبارک میں نازل کرنا اور پھر جب فرشتوں نے نقل کر کے بیت العزۃ میں پہنچایا تو لیلۃ القدر تھی اور جب دنیا میں نازل ہوا تو شوال یا ربیع الاول کا مہینہ تھا۔
فائدہ : اب ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تجلی کا وقت رات میں کیوں مقرر ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دن میں ہر چیز ظاہر ہوتی ہے اس لیے دن عالم شہادت سے مناسبت رکھتا ہے اور رات میں اخفاء و پوشیدگی ہوتی ہے اس لیے یہ عالم غیب سے مشابہ ہے اور عالم غیب کے اسرار منکشف ہونے کے لیے نہایت مناسبت رکھتی ہے۔
فائدہ : بعض عرفاء انا انزلناہ فی لیلۃ القدر سے اس طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ رات سے مراد آنحضرت ﷺ کی وہ حالت ہے جو شہود ذاتی کے بعد پیدا ہوئی تھی یعنی مقام خلت میں مستجب ہونا کس لیے کہ قرآن مجید کا نازل ہونا آنحضرت ﷺ پر بغیر ایسی حالت کے ممکن نہ تھا اور اس کو لیلۃ القدر اس لیے کہا کہ یہ حالت قابل قدر و تعظیم ہے۔
اب آپ ہی حق سبحانہ لیلۃ القدر کے مراتب بیان فرماتا ہے فقال وما ادراک ما لیلۃ القدر کہ اے نبی یا اے مخاطب ! تو کیا جانے کہ کیا حقیقت ہے لیلۃ القدر کی۔ کس لیے کہ عارف وسیع المعرفت ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن حقیقت اس تجلی کی کہ جو گوناں گوں عالم کو ساتھ لاتی ہے اور قابلیت و استعداد کے موافق ہر ایک میں رنگا رنگ تاثیرات پیدا کرتی ہے بغیر اس کے معلوم نہیں کرسکتا کہ تمام عالم اور جمیع قابلیت و استعدد عالم سفلی پر احاطہ ہو اور یہ مقدور بشر سے باہر ہے۔ اس لیے خود ہی کسی قدر اس کے مراتب بیان فرماتا ہے۔ لیلۃ القدر خیر من الف شہر کہ لیلۃ القدر ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ خلاصہ یہ کہ گوہر مہینہ میں رات اور دن ہوتے ہیں اور ہر رات دن میں تجلیات غیبہ و شہود یہ ہوا کرتے ہیں لیکن جو تجلی اس رات ہوتی ہے وہ اس سے ہار ہا مرتبہ زیادہ ہے۔ اس رات کی تجلی سے اس تجلی کو وہ نسبت ہے جو قطرہ کو دریا سے اور عدد ہزار سے حصر مراد نہیں کہ ہزار ہی مہینوں سے بہتر ہے زائدہ ہی نہیں بلکہ لفظ الف یعنی ہزار سے کثرت مراد ہے۔ کس لیے کہ عرب میں اس سے اوپر کوئی عدد نہیں اس سے زیادہ جو گنتی کرنی ہوتی ہے تو اسی عدد کے ساتھ اضافہ کرنے سے کرتے ہیں۔
اور برسوں کی جگہ مہینوں کا نام اس لیے آیا کہ عرب کے سالوں کی بنیاد محض قمری مہینوں پر ہے اور قمر کو رات سے تعلق ہے برخلاف شمسی مہینوں کے کہ ان کا مدار دنوں پر ہے اور قمر کو اس تجلی سے نہایت مناسبت ہے یعنی جس طرح قمر اندھیری رات کو روشن کرتا ہے اسی طرح یہ تجلی دنیا کے ظلمت کدہ کو جو رات سے مشابہ ہے روشن کرتی ہے۔
فائدہ : اس رات کے ہزار مہینوں سے بہتر ہونے کے کیا معنی ہیں ؟ ایک یہ کہ اس رات کی عبادت ایک خصوصیت خاصہ ہے ایسے ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے کہ جن میں یہ رات نہ ہو۔
اور اسی لیے یہ فضیلت امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کو عطا ہوئی کہ ان کی عمریں بہ نسبت امم سابقہ کے بہت کم ہیں۔ اگر کسی نے یہ ایک بھی پائی تو گویا اس نے کچھ اوپر تراسی برس عبادت کی اور جو کسی نے عمر میں کئی بار دس بیس پچاس بار پا لیا (کس لیے کہ ہر سال ایک بار یہ رات آتی ہے) تو گویا سینکڑوں برس عبادت کرلی اور لطف یہ کہ ہزار مہینے سے بہتر فرمایا نہ برابر۔ اب بہتری کس درجہ تک ہوگی اس کی حقیقت وہی جانتا ہے۔
فائدہ : بعض مفسرین نے بیان کیا ہے کہ اس میں بنی امیہ کی سلطنت کی عمر کی طرف بھی اشارہ ہے۔ بلکہ قاسم بن فضل نے ایک روایت بھی کردی کہ رسول کریم ﷺ نے خواب میں دیکھا تھا کہ میرے منبر پر بندر چڑھتے اور اترتے ہیں (یعنی بنی امیہ کے بادشاہ کس لیے کہ اس عہد میں خلیفہ منبر نبوی پر چڑھ کر خطبہ پڑھا کرتا تھا ‘ یہ بات آنحضرت ﷺ کو بری معلوم ہوئی۔ تب آپ کے اطمینان کے لیے یہ آیت نازل ہوئی اول تو یہ روایت ضعیف ہے جیسا کہ ترمذی نے کہا ہے۔ مزی کہتے ہیں کہ یہ روایت غیر معروف ہے اور قاسم جو کہتا ہے کہ ہم نے بنی امیہ کی سلطنت کے برس جو گنے تو پورے پورے ہزار مہینے ہوتے ہیں نہ کم نہ زیادہ محض غلط ہے۔ کس لیے کہ بنی امیہ کی سلطنت سن چالیسویں ہجری میں قائم ہوئی معاویہ ؓ سے اور سن ایک سو بتیس میں مروان الحمار پر ختم ہوگئی جس کی مدت بانوے برس ہوتے ہیں اور ہزار مہینوں کے کچھ اوپر تراسی برس ہوتے ہیں۔ اس سے قطع نظر الف شہر سے خیر کہنے میں یہ اشارہ یا بیان کیونکر ہوگیا کہ بنی امیہ کی سلطنت ہزار برس رہے گی۔ ایسے ہی بےتک راویوں نے قرآن مجید کے مطالب میں ایسی گڑ بڑ کردی ہے کہ اصل کلام کو اس کے اسلوب سے ہٹا کر محض پھیکا بنا دینے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔
اب اس رات کی دوسری فضیلت بیان فرماتا ہے تنزل الملائکۃ والروح فیہا باذن ربھم کہ اس رات فرشتے اور روح اپنے رب کے حکم سے نازل ہوتے ہیں۔
فائدہ : کیا کل ملائکہ نازل ہوتے ہیں ؟ بعض علماء فرماتے ہیں کہ کل نازل ہوتے ہیں یکے بعد دیگرے ایمانداروں کے دیکھنے اور ملنے کے لیے آتے ہیں پھر بعض آسمان دنیا ہی تک اتر کر رہ جاتے ہیں یہ اس لیے کہ ایک وقت فرشتوں نے انسان کی حالت ابتدائی دیکھ کر یہ کہا تھا طنز سے اتجعل فیہا من یفسد فیہا الخ کہ یارب زمین پر آپ ایسی قوم پیدا کرتے ہیں جو وہاں فساد کرے اور اس کو اپنے گناہوں سے ناپاک بنا دے۔ مگر حق سبحانہ نے اس انسان پر یہ انعام کئے اور اس کی بتدریج ایسی ترقی کی کہ اب اس کے کمالات کے مشتاق بن کر اوپر سے وہی فرشتے آتے ہیں اور ایک وقت یہ تھا کہ جب منی کا قطرہ اور خون کا لوتھڑا تھا تو اس کے ماں باپ کو بھی اسے گھن آتی پھر اس کو صورت جمیلہ عطا فرمائی اور ماں کے پیٹ سے باہر تشریف لائے تو ماں باپ اور خویش اقارب اس پر شیدا ہوئے اس کے بعد جو کمالات روحانیہ میں ترقی کی تو آج عالم بالا کے لوگ اپنی مناسبت سے اس کو دیکھنے آئے۔ بعض فرماتے ہیں کہ سب نہیں بلکہ ایک گروہ خاص جن کا جبرئیل (علیہ السلام) سے تعلق ہے۔ پھر جب یہ اوپر جاتے ہیں تو اوپر کے ملائک اور جنت کے کارکن ان سے حالت دریافت کرتے ہیں پھر وہ ایک ایک مرد اور عورت کا نام لے لے کر حال بیان کرتے ہیں۔ کہتے ہیں فلاں شخص کو اب اس کے سال عبادت میں پایا فلاں کو خراب و خستہ۔ اول کے لیے دعا اور دوسرے کے لیے استغفار کرتے ہیں اور افسوس بھی۔ پھر روح سے کیا مراد ہے ؟ جمہور مفسرین کہتے ہیں روح سے مراد جبرئیل (علیہ السلام) ہیں۔ جو اس گروہ ملائکہ کے سردار ہیں۔ اسی لیے خاص کر ان کا ذکر بھی کیا ورنہ ملائکہ میں یہ بھی داخل تھے۔ بعض کہتے ہیں روح ایک اور فرشتے کا نام ہے جس کو روح القدس کہتے ہیں اور اس کو انسانی ترقی میں جو کمالات روحانیہ میں ہو کمال دخل ہے گویا وہ معلم روحانی ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں پر تو روح القدس ایک بار نازل ہوا تھا جب وہ ایک گھر میں بیٹھے ہوئے تھے جس کی برکت سے مختلف زبانیں بولنے لگے تھے (کتاب اعمال) مگر امت محمدیہ کے صلحاء کے پاس ہر سال تشریف لاتے ہیں جس کا اثر اس کے اوپر کہ جس کے پاس آتے ہیں یہ ہوتا ہے کہ اس کے دل میں رقت پیدا ہوتی ہے ‘ آنکھوں میں آنسو بھر آتے ہیں ‘ بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور یہی سبب ہے کہ کرامات و برکات کا کارخانہ حواریوں تک چل کر ختم ہوگیا برخلاف اس امت مکرمہ کے کہ اس پر روح القدس کی برکت و تاثیر سے قیامت تک جاری رہے گا اور جو چاہے اب بھی مشاہدہ کرلے کہ ہر زمانہ میں اسی امت میں ایسے اولیاء و صلحاء پائے جاتے ہیں کہ ان سے عجائب وغرائب ‘ کرامات و برکات سر زد ہوتے ہیں جو اس دین کے برحق ہونے کی کھلی ہوئی نشانی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ کسی زمانہ اور کسی جگہ میں ایسے لوگ بہت تھے کہیں تھوڑے مگر زمانہ خالی نہیں رہتا۔
بعض علماء فرماتے ہیں کہ روح سے ایمانداروں کی روحیں مراد ہیں جو مفارقت بدن کے بعد ملائکہ میں مل گئی ہیں وہ بھی اپنے بھائیوں سے ملنے اور ان کے حالات دیکھنے اور اس عالم سفلی کی کہ جہان سے یہ گئی ہیں سیر کرنے آتی ہیں ہیں نیکی میں دیکھتی ہیں تو خوش ہوتی ہیں اور دعا کرتی ہیں اور جو برے کاموں میں مبتلا ہیں تو ناراض ہوتی ہیں اور دل میں فرشتوں سے شرماتی ہیں۔ جن کی ناراضگی کا اس بدنصیب پر یہ اثر پڑا ہے۔ خسارت مال وزوال اقبال ‘ دنیاوی مصائب تاکہ تنبیہ ہو کر رجوع الی اللہ کرے۔ وہ اس کی معمولی درود و فاتحہ اور خالی نام کی تعظیم اور انتساب نسبی اور سببی سلسلہ بیعت وغیرہ سے کبھی خوش نہیں ہوتیں بلکہ اپنی طرف نسبت کرنے سے شرم کرتی ہیں۔ بہرطور اس رات ایک عجیب بابرکت اجتماع عالم سفلی پر ہوتا ہے اور عالم بالا اور عالم سفلی کے اجتماع سے بطور تعاکس ایک عجیب ہیئتِ مرکبہ انوار کی پیدا ہوتی ہے جس کا سرور عالم سفلی والوں اور عالم علوی والوں دونوں کو ہوتا ہے جیسا کہ اجزائِ مختلفۃ المزاج کے ملنے سے معجون مرکب میں ایک کیفیت متشابہ پیدا ہوتی ہے جو جداگانہ ہر ہر جز کی کیفیت سے ایک جدی چیز ہے اور یہی سر ہے کہ دنیا میں خاص عبادات کے لیے مجمع کرنا افضل ٹھہرایا گیا جیسا کہ نماز جماعت اور جمعہ وعیدین و حج۔ تاکہ باہم ملنے سے انوار کا تعاکس ہو اور ناقصوں کو کاملوں کے فیض سے حصہ ملے اور اسی لیے جس قدر جماعت زیادہ ہو ثواب زیادہ ہے۔ الغرض یہ نزول ملائکہ و روح ایک طلسم الٰہی ہے کہ ناقصوں کو اس طریق سے کاملوں میں حساب کرلیا جاتا ہے اور یہ نازل ہونا ان کا اختیاری نہیں بلکہ ان کے رب کے اذن و اجازت سے ہے گو عالم بالا کے ملائکہ اور ارواح طیبہ کو دنیا کے صلحا اور ابرار سے ملنے کا شوق ہو مگر وہ بےاجازت نہیں آسکتے۔ یہ خیال کرلینا کہ جب ہم چاہیں اور ان کے بلانے کا کوئی سامان …… کریں وہ فوراً آویں گے گویا کہ ہمارے حکم کے تابع ہیں جیسا کہ جاہلوں کا خیال ہے غلط اور باطل خیال ہے اسی کے رد کرنے کو باذن ربھم کا جملہ ساتھ لگا دیا ہے۔
اب تیسری صفت اس مبارک رات کی یہ بیان فرماتا ہے من کل امر سلام ہے کہ ہر چیز یعنی ہر آفت و بلا سے یہ رات سلامتی کی رات ہے۔ شیطانی آفات اور اس کے مکرو زور کے مصائب جو ابن آدم کے لیے تیار رہتے ہیں اس رات نیک ایمانداروں کے لیے ان سے سلامتی اور امن ہوتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ کس لیے کہ ملکیت کا غلبہ ہوتا ہے پھر بہیمیت کیونکر ضرر پہنچا سکتی ہے بعض علماء من کل امر کو ایک جملہ اور سلام ہی کو دوسرا جملہ قرار دیتے ہیں۔ تب یہ ملائکہ اور روح کے متعلق ہوگا پھر اگر من کو بیان کے لیے کہیں گے تو یہ معنی ہوں گے کہ ہر کام کے اور ہر قسم کے فرشتے اترتے ہیں کیونکہ ملائکہ اور روحانیات ایک خاص خاص کام میں مشغول ہیں۔ کوئی رکوع میں ‘ تو کوئی سجود میں ‘ کوئی تجلی جمال کے مشاہدے میں ‘ کوئی ایمانداروں کے لیے دعاء و استغفار میں ‘ کوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیاوی کارخانہ کے سر انجام دینے میں ‘ پھر یہ اس رات اپنے اپنے کاموں کو چھوڑ کر دنیا پر ایمانداروں سے ملنے ‘ دیکھنے ‘ اپنا فیض پہنچانے آتے ہیں۔ آج کی رات جشن شاہانہ اس دنیا پر ہوتا ہے ہر کارخانہ کے لوگوں کو اس میں شریک ہونے کے لیے چھٹی مل جاتی ہے اور جو من کو اجل یا واسطہ کے معنی میں لیں گے تو یہ معنی ہوں گے کہ ہر کام کی تدبیر کرنے کو نازل ہوتے ہیں جو کچھ دنیا میں سال بھر تک ہوتا ہے اس کا حکم تو شعبان کی پندرہویں رات ہوتا ہے جس کو شب برات کہتے ہیں اور اس کے جائزہ لینے کے لیے لیلۃ القدر میں فرشتے دنیا پر نازل ہوتے ہیں پھر سال بھر تک اس کے مطابق کارروائی کرتے رہتے ہیں۔ یہی مدبر امور منجانب اللہ ہیں بعض قراء نے من کل امری پڑھا ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ وہ ہر ایک آدمی یعنی مؤمن کے لیے نازل ہوتے ہیں اور یہ روایت بھی ہے کہ جب وہ کسی ایماندار مرد یا عورت سے ملتے ہیں تو سلام کہتے ہیں جس میں سلامتی کی دعا ہے۔ پھر سلام ہی کے یہ معنی کہ یہ رات سلامتی کی ہے جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔ یا یہ کہ اس میں ملائکہ باہم اور نیز مومنوں کو سلام کرتے ہیں اور یہ ایک قرآن مجید کی کمال بلاغت ہے کہ ایک لفظ کو خواہ آخر سے کلام سے ملا لو یا اول سے ہر حال میں معنی عجیب پیدا ہوتے ہیں۔ ولہ الحمد حمدا کثیرا۔ پھر یہ تجلی کب تک رہتی ہے آپ ہی فرماتا ہے حتی مطلع الفجر کہ صبح صادق کے طلوع تک۔ پھر ملائکہ اوپر چلے جاتے ہیں۔