Ayahs 98:1–8ذات رسول کریم ﷺ وآیات قرآن شرچشمہ علوم وبرہان ہدایت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لم یکن الذین کفروا ....... الی .......... ذلک لمن خشی ربہ “۔
(ربط) گزشتہ سورت القدر میں شب قدر کی عظمت وفضیلت کا ذکر تھا، اس مناسبت سے اب اس سورت میں قبولیت عبادت کی اساس بیان کی جارہی ہے کہ وہ بندہ کا اخلاص اور قلب کی طہارت ہے اور اسی کو نام حنیفیت ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا شعار تھا، نیز یہ کہ سورة قدر میں لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کی گئی تھی تو اب اس سورت میں سعادت وشقاوت کے اصول بیان کئے گئے تاکہ ایمان وکفر اور ہدایت وگمراہی میں کسی کو التباس نہ رہے، تو ارشاد فرمایا۔
نہیں تھے باز آنے والے وہ لوگ جو کافر ہیں اہل کتاب میں اور مشرکین یہاں تک کہ نہ آجائے انکے پاس واضح دلیل وحجت، وہ واضح دلیل وحجت اللہ کا رسول جو ان کے سامنے تلاوت کرتا ہے، ایسے صحیفے جو پاکیزہ ہیں جن میں ایسے مضامین ہیں لکھے ہوئے جو نہایت ہی درست اور مضبوط ہیں وہ صحیفے اور مکتوب مضامین قرآن کریم کی آیات ہیں، جن کی مضبوطی اور دلائل وبراہین کی رو سے استقامت میں ذرہ برابر فرق نہیں فلاح وسعادت کے اصول ایسے روشن ہیں کہ کسی قسم کا ابہام وخفا نہیں، تو اللہ کی طرف سے ایسے رسول کی آمد بذات خود ایک بینہ اور کھلا ثبوت ہے، پھر اس رسول خدا کا قرآن کریم جیسی پاکیزہ کتاب اور بلند پایہ مضامین رشد و فلاح کی عظمت وبلندی کی بھی کوئی حد نہیں، اللہ کے اسی رسول کی اور ان کی طرف سے تلاوت آیات ہی کی یہ برکت تھی کہ دور جاہلیت کے وہعرب جو کفر کی ظلمتوں میں غرق تھے نور ہدیت سے مشرف ہوئے، ورنہ توقع نہ تھی کہ اس طرح کی گمراہیوں میں مبتلا ہونے والی قوم راہ راست پر آتی۔
بہرکیف اس واضح دلیل اور کتاب ہدایت کے بعد چاہئے تو یہ تھا کہ کم از کم اہل کتاب جو کہ اہل علم وفہم تھے وہ ایمان لاتے اور اس سعادت کی طرف دوڑتے لیکن عجیب بات کہ ایسا نہ ہوا اور اس کے برعکس نہیں مختلف ومتفرق ہوئے اہل کتاب مگر بعد اس کے کہ ان کے پاس واضح ثبوت آچکا خود انکی کتابوں اور ان کے انبیاء کے ذریعے کو یہی رسول خدا اللہ کے آخری سچے رسول ہیں اور ان پر نازل ہونے والی کتاب قرآن کریم اللہ کا کلام ہے۔
حاشیہ (حضرت شاہ عبدالعزیز (رح) نے یہاں البینہ کا مصداق حضرت مسیح (علیہ السلام) کو قرار دیا ہے جو کھلی نشانیاں لے کر آئے اور فارقلیط کی بشارت سے آنحضرت ﷺ کی بعثت کی بشارت سنائی اور ان پر ایمان لائے۔ )
تو اس طرح اہل کتاب میں سے کچھ ایمان لائے جیسے کعب احبار ؓ عبداللہ بن سلام ؓ اور سلمان فارسی ؓ وغیرہ اور کچھ نہ انکار کیا محض عناد اور تعصب کی وجہ سے جب اہل کتاب ہی علم اور دلائل کی معرفت کے باوجود اللہ کے رسول اور قرآن کریم پر ایمان لانے کے بجائے مختلف ومتفرق ہوگئے تو مشرکین کا کیا کہنا وہ نہ کتاب والے تھے اور نہ ان کے پاس کسی نبی کی کوئی شہادت اور بشارت تھی، بہرکیف ایسے رسول عظیم اور کتاب بلند پایہ کا تقاضا تو یہ تھا کہ سب مل کر حق کو عبادت کریں اسی کیلئے اپنی عبادت کو خالص کرتے ہوئے کہ غیر اللہ کا کوئی شائبہ بھی نہ ہو یکسو ہو کر ہر باطل سے اپنا منہ موڑ کر اور احکام خداوندی کی اطاعت کرتے ہوئے نماز قائم کرتے رہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں، بس یہی طریقہ ہے مضبوط اور صحیح ملت و شریعت کی پیروی کا اسی کی اتباع وپیروی میں ہدایت اور نجات مضمر ہے۔
جب کہ اس کا میثاق اہل کتاب سے لے لیا گیا تھا جیسے کہ ارشاد ہے (آیت) ” ولقد اخذ اللہ میثاق بنی اسرآء یل وبعثنا منھم اثنی عشر نقیبا ، “۔ وقال اللہ (آیت) ” انی معکم لان اقمتم الصلوۃ واتیتم الزکوۃ وامنتم برسلی۔ الخ “۔ تو اس عہدوپیمان کا تقاضا یہی تھا کہ اخلاص کے ساتھ ایمان لاتے پابندی سے احکام دین کی اطاعت کرتے مگر بہت سے اہل کتاب نے ایسا نہ کیا تو اس طرح نبی کریم ﷺ پر ایمان نہ لانے اور قرآن کریم کو نہ ماننے سے خود اہل کتاب نے اپنی کتاب کا اور خود اپنے رسول ہی کا کفر کیا، اس وجہ سے بیشک جو لوگ اہل کتاب میں سے منکر و کافر ہوئے اور مشرکین وہ جہنم کی آگ میں ہوں گے، جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ لوگ بلاشبہ بدترین خلائق ہیں اور بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیکی کے کام کئے وہ بہترین خلائق ہیں جن کے ایمان و اعمال صالحہ کا صلہ یہ ہوگا کہ ان کے پروردگار کے نزدیک باغات ہوں گے ہمیشہ رہنے والی بہشت کے جن کے محلات کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی جیسے انسان دنیا کی نعمتوں کو چھوڑ کر مفارقت کرجاتا ہے، ان انعامات کی عظمت و برتری اپنی جگہ بہت بڑی چیز ہے جس کا تصور نہیں کیا جاسکتا، مزید ان سب نعمتوں سے بڑھ کر اللہ کی رضاء ایک انعام خاص ہوگا خدا ان سے راضی ہوگا اور یہ خدا کی عنایات ورحمتوں سے خوش ہوں گے اور ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ ایمان اخلاص احکام دین کی پابندی پھر اس پر انعامات خداوندی جنت اور جنت کی بےپایاں نعمتیں اور ان سب سے بڑھ کر اللہ کی رضاء و خوشنودی اس شخص کیلئے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہوخشیت وتقوی۔
حاشیہ (یہ سورت اپنے مضامین کے اعتبار سے نہایت ہی بلند پایہ ہے جیسا کہ ظاہر ہے امام مسلم (رح) اور دیگر ائمہ محدثین نے انس بن مالک ؓ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ابی بن کعب ؓ سے فرمایا اے ابی اللہ نے مجھے اس بات کا امر فرمایا ہے کہ میں تمہارے سامنے سورة (آیت) ” لم یکن الذین کفروا “۔ پڑھوں اور تم کو پڑھ کر سناؤں ابی بن کعب ؓ کہنے لگے کیا اللہ نے میرا نام لے کر آپ سے یہ فرمایا آپ نے فرمایا ہاں اللہ نے تمہارا نام لے کر ہی کہا ہے، انس ؓ بیان کرتے ہیں ابی بن کعب ؓ یہ سن کر روپڑے اور بیقراری کے ساتھ ان پر گریہ طاری ہوا اور زبان سے یہ کلمات جاری ہوئے، وقد ذکرت عند رب العالمین “۔ اچھا میرا نام لیا گیا اور ذکر ہوا رب العالمین کی بارگاہ میں۔ 12)
ہی ان تمام ترکمالات اور فوز و فلاح کی اصل بنیاد ہے۔
تم بحمد اللہ تفسیر سورة البینۃ :