Ayahs 99:1–8حوادث وزلازل بوقت وقوع قیامت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا زلزلت الارض زلزالھا ........ الی ........ ذرۃ شرایرہ “۔
(ربط) گزشتہ سورت کا مضمون اہل سعادت وشقاوت کے اعمال وافعال اور ان کے انجام پر مشتمل تھا اور اصول سعادت اور حق تعالیٰ کے انعامات کے استحقاق کی بنیاد یہ بیان کی گئی تھی کہ وہ خشیت خداوندی ہے اور (آیت) ” ذلک لمن خشی ربہ “۔ فرما کر اس حقیقت کو واضح کردیا گیا تھا، اب اس سورت میں سعادت وشقاوت کے ثمرات مرتب ہونے کا وقت بتایا جارہا ہے کہ وہ قیامت ہے اور قیامت کا قائم ہونا، نظام عالم کا درہم برہم ہوجانا ہے اور وہی دن زندگی کے اعمال کا محاسبہ کرتا رہے اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں حاضری سے ڈرتا رہے کس طرح میں احکم الحاکمین کے روبرو کھڑا ہوں گا تو ارشاد فرمایا۔
جس وقت کو ہلادی جائے گی زمین جیسا کہ اس کو ہلانا چاہئے اور جس قدر بھی اسکو ہلایا جاسکے۔
حاشیہ (بعض مفسرین نے بیان کیا کہ عرب کے کسی فصیح وبلیغ شاعر نے نہ فقرہ بنایا تھا۔ اذازلزلت الارض زلزالا “۔ تو جب یہ آیت نازل ہوئی اور لفظ زلزالا کے بجائے زلزالھا “۔ ہوا تو وہ اس کو سن کر وجد میں آگیا کیونکہ زلزالا محض مصدر زلزلہ کی عظمت وہیبت بیان کرنے سے قاصر تھا، قرآن نے جب اس کو مصدر اضافت الی الارض کی صورت میں بیان کیا تو معنوی عظمت وبلندی کی حد نہ رہی اور بےساختہ بول اٹھا میں اس کلام کی فصاحت پر ایمان لایا۔
اس کی عظمت کے لحاظ سے اس نوعیت سے کہ اب نفخ صور کے بعد قیامت برپا ہونی ہے تو ایسا سخت زلزلہ ہوگا کہ جس سے پہاڑ اور بڑی سے بڑی بلند وبالا عمارتیں گر کر چورا چورا ہوجائیں گی اور سمندر ابلنے لگیں گے جیسا کہ فرمایا گیا (آیت) ” واذا البحار سجرت “۔
اور نکال ڈالے گی زمین اپنے اندر کے بوجھ خزانے، دفینے اور گڑے ہوئے مردے اور جو بھی کوئی چیز اس کی تہوں میں دبی ہوئی ہو۔ 1
حاشیہ (امام مسلم (رح) اور ترمذی (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن زمین اپنے جگر کے ٹکڑے قے کردے گی اور چاندی سونے کے ستونوں جیسے ٹکڑے نکل باہر آجائیں گے قاتل انکودیکھ کر حسرت سے کہے گا ہائے میں نے اسی کے لئے قتل کیا تھا قطع رحمی کرنے والا کہے گا ہائے اسی کیلئے میں نے قطع رحمی کی اور چور دیکھ کر کہے گا ہائے اسی کی وجہ سے (چوری میں) میرا ہاتھ کاٹا گیا پھر آواز دی جائے گی اٹھا لواس کو مگر وہ کچھ بھی نہ لے سکیں گے اور اسی آواز اور حالت میں قیامت برپا ہوجائیگی۔ 12)
اس ہیبت ناک زلزلہ سے سب کچھ باہر آجائے گا اور انسان کہے گا کیا ہوگیا ہے اس زمین کو اس کے باغات عمارتیں کہاں گئیں، اور اس کی وہ رونق جس پر لوگ فریفتہ تھے کہاں چلی گئی، مال ودلت پر انسان ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے قتل وغارتگری پر آمادہ رہتے تھے لیکن ہائے اب اس زمین کے اندر سے یہ سارے خزائن باہر اگلے پڑے ہیں اور منکر لوگ کہتے تھے کہ مرنے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا تو یہ سب مردے باہرنکل پڑیں گے یہ دن وہ ہوگا کہ زمین بیان کرے گی اپنے واقعات کو اور ان حالات وافعال کو جو اس پر کئے گئے زمین کے جس ٹکڑے پر گناہ ہوا تو وہ بتائے گی کہ فلاں نے فلاں جگہ زنا کیا، جہاں قتل ہوا وہ جگہ بتائے گی کہ یہاں فلان نے فلاں کو قتل کیا اور جس جگہ کسی نے نماز پڑھی ہوگی یا جو بھی عمل عبادت کا کیا ہوگا وہ گواہی دے گی کہ فلاں نے یہاں مجھ پر نماز پڑھی ہے، غرض نیک وبد ہر کام اور عمل کی خبر دیتی ہوگی، اس وجہ سے کہ اے مخاطب تیرے رب نے اس کو اس امر کی وحی کی ہے کہ وہ اپنے اوپر کئے ہوئے کام کی خبر کردے تو جس طرح زمین اپنے جگر کے ٹکڑوں کو اگل دے گی اسی طرح اس پر پیش آنے والے احوال وافعال کو بھی اگل دے گی اور ظاہر کردے گی۔
حاشیہ (حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ایک روز یہ (آیت) ” یومئذ تحدث اخبارھا “۔ تلاوت کر کے فرمایا جانتے ہو کہ زمین کا خبر دینا کیا ہے، لوگوں نے عرض کیا اللہ ورسولہ اعلم، خدا اور اس کا رسول ہی بہتر اور خوب جانتا ہے۔ فرمایا اس کا خبر دینا یہ ہے کہ وہ گواہی دے گی فلاں نے مجھ پر یہ عمل کیا، فلاں نے مجھ پر یہ کام کیا تو بس یہی اس کا خبر دینا ہے۔
ابن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے (آیت) ” اوحی لھا “۔ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ زمین کو حکم دے گا کہا اے زمین بول وہ اس حکم کو سنتے ہی سارے راز اگلنے لگے گی جیسے کہ اس نے اپنے اندر کے سارے خزانے اگلے اور نکالے۔ 12)
یہ دن وہ ہوگا کہ لوگ لوٹتے ہوں گے مختلف ٹولیوں کی صورت میں، دربار عدالت اور پیشی کے مقام سے اپنے مختلف منازل اور جگہوں کی طرف تاکہ ان کو دکھائے جائیں ان کے اعمال اور اعمال کا بدلہ جو میدان حشر میں حساب و کتاب کے بعد طے کردیا گیا، یہ دن یوم جزاء ہے تو جو شخص ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا ضرور اس کو دیکھ لے گا، خواہ وہ عمل اور نیکی کتنی ہی معمولی اور چھوٹی ہو بلاشبہ اس کو کی ہوئی نیکی کا بدلہ مل کررہے گا اور جو شخص ذرہ برابر بدی کرے گا یقیناً وہ اس کو دیکھ لے گا اور اس کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا، کیونکہ انسانوں کو یہ بات پہلے ہی بتا دی گئی تھی اور قانون مجازات کا اعلان کردیا گیا تھا۔ (آیت) ” ان احسنتم احسنتم لانفسکم وان اساتم فلھا “۔ کہ اگر تم نیکی کروگے تو اپنے فائدہ کیلئے کروگے اور اگر بدی کرو گے تو اس کا انجام بھی تمہارے نفسوں کے لئے واقع ہوگا ،
صحیح بخاری ومسلم میں روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا یہ آیت یکتا اور جامع ہے کعب احبار ؓ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ دو آیات ایسی نازل ہوئی ہیں کہ تورات وانجیل کا خلاصہ ہیں اور لب لباب ہیں، ایک روایت میں ہے کہ سورة (آیت) ” اذا زلزلت الارض “۔ کی تلاوت کا ثواب نصف قرآن کا ثواب ہے۔
تم بحمد اللہ العزیز تفسیر سورة الزلزال :