Ayahs 100:1–11سرگرمی بہائم در اطاعت مالک ونافرمانی وناشکری انسان بآقاء رب العالمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والعدیت ضبحا ...... الی ........ ان ربھم بھم یومئذ لخبیر “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں مجازات اعمال کا قانون بیان کیا گیا تھا اور یہ کہ انسان اپنی زندگی میں جو بھی نیکی یا بدی کا عمل کرے گا روز قیامت قیامت کا اس بدلہ پاکر رہے گا، اب اس سورت میں انسان کی غفلت و لاپرواہی اور اپنے رب کی ناشکری کی مذموم خصلت بیان کی جارہی ہے اور یہ کہ دراصل اس روش کا منشاء حرص مال، لالچ اور نفس کی خواہش ہے، اس کے پیچھے پڑکر انسان اپنے رب کو بھلا دیتا ہے اور اس سے غافل ہوجاتا ہے کہ مرنے کے بعد اس کو دوبارہ زندہ ہونا اور قیامت کا دن حساب و کتاب اور اعمال کے بدلہ کا دن ہے تو ارشاد فرمایا۔
قسم ہے ان گھوڑوں کی جو دوڑتے ہیں ہانپتے ہوئے اپنے مالک کی اطاعت و محبت میں اور اس کے دشمنوں کو شکست دینے کے لئے میدان معرکہ میں اس شدت وقوت سے دوڑتے ہیں کہ ہانپتے ہوتے ہیں پھر کہیں پتھروں اور پہاڑوں پر ٹاپیں مار کر آگ چمکاتے ہوئے ہوتے ہیں، اور پہاڑوں پر ان کی دوڑ اور تیز رفتاری سے ان کے نعل آگ جھاڑتے ہوتے ہیں، پھر تاخت و تاراج ڈالنے والے ہوتے صبح کے وقت کہ علی الصباح دشمن پر حملہ آور ہوتے ہیں جیسا کہ اکثر قوموں کا یہ دستور ہے کہ دشمن پر یلغار وحملہ صبح ہی کے وقت کیا جاتا ہے پھر اڑانے والے یا اٹھانے والے ہوتے ہیں، اس سے گرد و غبار پھر گھس جاتے ہیں، اسی کے ساتھ ایک فوج میں ان پر حملہ کرتے ہوئے اس بات سے بےپرواہ ہوتے ہوئے کہ دشمنوں کی فوج پر حملہ کرکے وہ زندہ بھی بچیں گے یا نہیں، غرض اس طرح یہ گھوڑے اپنے آقا کی اطاعت اور اس کی وفاداری میں سرگرم محنت ومشقت ہیں۔ شدائد اور مہالک میں اپنے آپ کو ڈال رہے ہیں، میدانوں اور چٹانوں پر ٹاپیں مارتے ہیں، جس سے گردو غبار کے ڈھیر اڑ رہے ہیں اور ٹاپ کی رگڑ سے پتھروں سے آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور ان تمام شدائد کو برداشت کرتے ہوئے صبح ہی صبح دشمن پر حملہ آور ہوتے ہیں، اور بےدریغ دشمن کی فوجوں کے اندر گھس جاتے ہیں تو یہ کردار ایک حیوان کا ہے جو اپنے آقا اور مالک کے لئے اس کی زندگی کے آخری سانس تک قائم و باقی ہے لیکن اس کے بالمقابل اگر یہ دیکھو کہ انسان اپنی تمام عقلی اور فکری صلاحیتوں کے ساتھ اپنے مالک کا، اپنے خالق کا اور اپنے منعم و محسن اور پروردگار کا کیا حق ادا کرتا ہے، اس کی اطاعت وفرمانبرداری میں اس کی کیا سرگرمی اور جدوجہد ہے تو اس کا عمل یہ بتائے گا کہ بیشک انسان اپنے رب کا بہت ہی ناشکرا ہے اور وہ خود اس بات پر مطلع ہے 1
حاشہ (یہ کلمات اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ہیں کہ لفظ (آیت) ” علی ذلک لشھید “ کے ایک معنی مطلع اور باخبر کے ہیں اور دوسرے معنی گواہی اور شہادت کے ہیں۔
اور جانتا ہے کہ میں اپنے رب کے انعامات کا کوئی حق اور شکر نہیں ادا کر رہا ہوں اور اس کا علم طرز زندگی اس کی شہادت بھی دیتا ہے۔
ذرا بھی اگر وہ اپنے ضمیر کی طرف توجہ کرے تو خود اندر سے اپنے ضمیر کی یہ آواز سن لے گا کہ وہ بہت ہی ناشکرا ہے۔
اور۔ 2
حاشیہ 2 (والعدیت “۔ سے مجاہدین کے گھوڑوں یا مطلق گھوڑوں کی قسم کھا کر ان کی سرگرمی عمل اور اپنے آقا کی فرمانبرداری میں مہالک وشدائد میں گھس جانا بطور قسم بیان کرکے جواب قسم (آیت) ” ان الانسان لربہ لکنود “۔ فرمایا گیا، اس جواب قسم کے مناسبت ولطافت قسم اور مقسم بہ کے مطلقات سے بڑی ہی خوبی سے ظاہر ہے۔ )
یہ سب کچھ صرف اس بناء پر ہے کہ بیشک وہ مال کی محبت میں بہت ہی مضبوط ہے، حرص مال نے اس کو فکر آخرت سے بھی بیگانہ بنادیا اور اپنے آقا ومالک سے بھی بےرخی اور بےتعلقی اختیار کرلی ہے، حالانکہ ایسا نہیں چاہئے تھا، تو کیا یہ انسان نہیں جانتا ہے کہ جس وقت باہر نکال لئے جائیں گے وہ تمام مردے جو قبروں میں ہیں اور ان کو نفخ صور کے بعد زندہ کرکے میدان حشر میں جمع کردیا جائے گا اور پھر کھول کر رکھ دیئے جائیں گے وہ تمام راز جو سینوں میں ہیں تو اس وقت انسان دیکھ لے گا کہ یہ کیسا ہیبت ناک دن ہے جس سے وہ غافل بنا رہا اور انکار کرتار ہا اور اس وقت وہ دیکھ لے گا جس مال کی محبت میں وہ خدا کا ناشکرا اور نافرمان رہا وہ مال اس کے قطعا بھی کام نہ آیا، تو کاش اگر انسان کو اس بات کا علم ہوتا ہرگز یہ روش نہ اختیار کرتا۔
بیشک ان کا رب ان کے حال سے اس روز بڑا ہی باخبر ہے۔ 3
حاشیہ 3 (استاد محترم شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) اپنے فوائد میں فرماتے ہیں ” ممکن ہے کہ گھوڑوں کی قسم کھانا مراد ہو جیسا کہ ظاہر ہے اور ممکن ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے سواروں کی قسم ہو جن کی سرفروشی اور جانبازی بتاتی ہے کہ وفادار اور شکر گزار بندے ایسے ہوتے ہیں۔ ظاہر عنوان سے یہی بات راجح معلوم ہوتی ہے کہ گھوڑوں ہی کی قسم کھائی ہے اور غرض یہ ہے کہ غور کرو تو معلوم ہوجائے گا کہ خودگھوڑا زبان حال سے یہ شہادت دے رہا ہے کہ جو لوگ مالک حقیقی کی دی ہوئی روزی کھاتے ہیں اور اس کی بیشمار نعمتوں سے شب وروز متمتع ہوتے ہوئے بھی اس کی فرمانبرداری نہیں کرتے وہ جانوروں سے بھی زیادہ ذلیل و حقیر ہیں، ایک شائستہ گھوڑے کو مالک گھاس کے تنکے اور تھوڑا سادانہ کھلاتا ہے وہ اتنی سی تربیت پر اپنے مالک کی وفاداری میں جان لڑا دیتا ہے جدھر سوار اشارہ کرتا ہے ادھر چلتا ہے دوڑتا اور ہانپتا ہوا ٹاپیں مارتا ہوا اور غبار اٹھاتا ہوا گھمسان کے معرکوں میں بےتکلف گھس جاتا ہے گولیوں کی بارش میں تلواروں اور سنگینوں کے سامنے پڑ کر سینہ نہیں پھیرتا بلکہ بسا اوقات وفادار گھوڑا اپنے سوار کو بچانے کے لئے اپنی جان خطرہ میں ڈال دیتا ہے۔ کیا انسان نے ایسے گھوڑوں سے کچھ سبق سیکھا ہے کہ اس کا کوئی پالنے والا ہے مالک ہے جس کی وفاداری کے لئے اسے جان ومال خرچ کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے، بیشک انسان بڑا ہی ناشکرا اور نالائق ہے کہ ایک گھوڑے بلکہ کتے کے برابر بھی وفاداری نہیں دکھلاسکتا، فوائد عثمانیہ۔ )
کہ انسانوں کے تمام احوال و اعمال کا جیسا دنیا میں احاطہ کئے ہوئے تھا اور زندگی میں کیا ہوا ہر کام اس کی نظروں کے سامنے رہا ہے آج اس کا بدلہ دیا جارہا ہے تو اس روز یہ بات ہر ایک پر ظاہر وعیاں ہوگی اور کسی کو انکار کی گنجائش نہ رہے گی تو اس طرح اس دن یہ چیز۔ 1
حاشہ 1 (ان الفاظ کا اضافہ اس اشکال کو دور کرنے کے لئے ہے جو یہاں خداوند عالم کے باخبر ہونے کو اس روز کی خصوصیت سے بیان کیا گیا۔ )