Ayahs 101:1–11حوادث زمان وقوارع دہربروز محشر وتنبیہ برائے بیداری از خواب غفلت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” القارعۃ ما القارعۃ ............. الی ......... نار حامیۃ “۔
حاشیہ (حافظ عماد الدین ابن کثیر (رح) بیان کرتے ہیں کہ القارعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے اسماء قیامت میں القاریہ۔ الحاقہ ،۔ الطامہ۔ الصاخہ۔ اور الغاشیہ وغیرہ کلمات قرآن کریم نے استعمال کئے ہیں۔ 12)
(ربط) گزشتہ سورت میں انسانی فطرت میں رچی ہوئی تین بنیادی خرابیوں کا بیان تھا، ناشکری مال و دولت کا حرص اور غفلت و لاپرواہی از منعم ومالک حقیقی، اب اس سورت میں روز محشر برپا ہونے والے ہولناک واقعات کا ذکر ہے تاکہ انسان اپنی غفلت سے باز آئے، اپنے رب کی نعمتوں کا شکر گذار ہو اور وہ مرض خبیث جو تمام ترخرابیوں کی اساس ہے یعنی حرص و لالچ اس سے بچے تو فرمایا۔
کھڑکھڑادینے والی چیز کیا ہی عظیم الشان کھڑکھڑا دینے والی چیز ہے، جس کی عظمت وہیبت کو انسان اپنی قوت فکریہ یا عقلی کاوش سے نہیں سمجھ سکتا، اس کی ہیبت انسانی تصور سے بالا و برتر ہے اس لئے اے مخاطب بتا اور تو جانتا بھی ہے کیا ہے اور کیسی ہے وہ کھڑکھڑانے والی چیز ؟ یقیناً کوئی نہیں بتا سکتا کہ وہ کیا اور کیسی ہے، اس لئے ہم ہی تجھ کو بتاتے ہیں وہ اس دن ہوگی جب کہ آدمی ہوں گے بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح پریشانی اور بدحواسی میں جن کو نہ تو کسی طرح قرار ہوتا ہے، اور نہ ہی کوئی تمکن اور ٹھیراؤ، اور پہاڑ ہوجائیں گے دھنی ہوئی روئی کے گالوں کی طرح یا بکھری ہواون کے ذرات، جو نہایت ہلکی اور کمزور ہوتی ہے، اور فضا میں ہوا کے ساتھ بکھری ہوئی ہوتی ہے، اسی بدحواسی کے عالم میں جب کہ انسان پروانوں کی طرح بکھرے ہوئے ہوں گے اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح فضا میں اڑ رہے ہوں گے، میدان حشر میں انسانوں کے اعمال کا حساب ہوگا اور ان کے اعمال تو لے جائیں گے تو جس شخص کا ترازوئے اعمال میں نیکیوں کا پلہ بھاری ہوگا تو وہ بہت ہی راحت و خوشی کی زندگی میں ہوگا، اس کو ہر پسندیدہ اور مطلوب چیز وہاں ملے گی، اور جس شخص کا نیکیوں کا پلہ ہلکا ہوگا تو بس اس کا ٹھکانا ہاویہ ہوگا، اور اے مخاطب تجھے معلوم بھی ہے کیا ہے ہاویہ۔ ؟ وہ ایک دہکتی ہوئی آگ ہے جس کے شعلے سمندر کی موجوں کی طرح ایک طوفانی شکل میں نظر آتے ہونگے۔ یہ جہنم ان بدنصیبوں کے لئے ہوگی جن کے پاس نہ ایمان اور نہ عمل صالح اور نہ اس میں اخلاص اور قیامت کے روز میزان اعمال میں وزن تو ایمان واخلاص ہی کا ہوتا ہے کیونکہ وہ آخرت کی ترازو ہے اس میں مادی وزن اور ثقل نہیں بلکہ روحانی عظمت تولی جاتی ہے، اس وجہ سے ان کے پلے ہلکے ہوں گے جیسا کہ ارشاد ہے۔
(آیت) ” فلانقیم لھم یوم القیمۃ وزنا “۔ اس کے برعکس اہل ایمان اور نیکوکاروں کے اعمال کا وزن اس ترازو میں بھاری ہوگا اور ان کے پلے بھاری ہونے کی وجہ سے نجات و کامیابی حاصل ہوگی اور جنت میں ان کو پسندیدہ اور محبوب زندگی نصیب ہوگی اور یہی فوز و فلاح ہے۔
مادی اجسام کا ثقل اور روحانیات کی لطافت :
مادیت کثافت کا نام ہے اور روحانیت میں لطافت ہے، اجسام میں خدا تعالیٰ نے ایک قسم کا ثقل اور بوجھ رکھا ہے، جب کہ روحانیت میں تجرد اور لطافت ہے اور یہ کہ ایک قدرتی امر ہے جس کا ہر ایک مشاہدہ کرتا ہے اور یہی ثقل اور وزن اس کو سکون وقرار کی طرف مائل کرتا ہے اور اسی کی وجہ سے اس کو حیز طبعی کی طرف جھکاؤ ہوتا ہے تو مادیت میں جھکاؤ ثقل جسمانی کے باعث ہوگا لیکن روحانیت میں ثقل بھی روحانی ہوگا اور اسی کے باعث جھکاؤ ہوگا تو دنیا کے ترازؤیں مادی اثقال واوزان تولنے کے لئے ہوتی ہیں تو ان ترازوؤں کا پلہ اس وزن کی وجہ سے جھکتا ہے تو آخرت کی ترازوجس میں روحانیات کا وزن ہوگا، اس کا پلہ لامحالہ روحانی اوزان کے باعث جھکے گا اس بناء پر یہاں (آیت) ” فاما من ثقلت موازینہ “ اور (آیت) ” واما من خفت موازینہ “۔ کا عنوان اختیار فرمایا گیا، ایمان و اعمال کا ثقل اس طرح سمجھ لیا جائے جیسے دنیا میں معنوی ثقل میں وقار، استقامۃ صبر وحلم جیسے اوصاف بیان کیے جاتے ہیں کہا جاتا ہے یہ انسان اپنے عزم اور حوصلہ میں پہاڑ واقع ہوا ہے اور بالعموم صبر و استقامت میں حوصلہ مند اور باوقار انسانوں کو پہاڑوں سے تشبیہ دی جاتی ہے اس طرح دنیا میں ایک ثقل و استقامت پہاڑوں کی ہے جو حسی اور ظاہری ہے اور ایک وزن و استقامت معنوی ہے جو انسانوں میں ہوتا ہے تو قیامت کے وقت عالم میں برپا ہونے والے انتشار و اضطراب کو ظاہر کرنے کے لئے قرآن کریم نے پہاڑوں کو تو روئی کے اڑتے ہوئے گالوں کی طرح بتایا کہ وہ سب کچھ وزن وقوت سے عاری ہو کر اڑنے والے روئی کے گالوں کی طرح ہوجائیں گے اور وہ اولوالعزم اور باعزم لوگ جو پہاڑوں سے زیادہ طاقت ور سمجھے جاتے ہیں، وہ بکھرے پروانوں کی طرح ہوجائیں گے اور وہ اس روز دیکھ لیاجائے گا دنیا کے اثقال واوزان خواہ وہ حسی ہوں یا معنوی ان کا یہ حشر ہورہا ہے اس روز جو ثقل و وزن ہوگا وہ صرف اعمال صالحہ اور ایمان کا ہوگا اور قیامت کے روز میزان اعمال ایسے ہی ثقل کو تولنے کے لئے ہوگی۔
میزان اعمال اور وزن اعمال کی بحث گذر چکی اور تفصیل سے معتزلہ کے اس باطل قول کا رد بھی کردیا گیا، جو میزان اعمال کا انکار کرتے ہیں اہل سنت اور جمہور متکلمین کے نزدیک وزن اعمال ثابت ہیں اور اعمال کے تولنے کی ترازو برحق ہے جیسے کہ ارشاد ہے۔ (آیت) ” ونضع الموازین القسط لیوم القیمۃ “۔ الخ)
یہ بھی تفصیل کے ساتھ گذر چکا کہ میزان اعمال میں وزن کے بارے میں یہ تینوں باتیں از روئے نصوص و احادیث ممکن ہیں کہ نفس اعمال وزن ہو، یا نامہ اعمال کا وزن ہو یا صاحب اعمال کا وزن ہو۔
نفس اعمال کا وزن تو اس حقیقت پر مبنی ہے کہ دنیا میں کئے اعمال وافعال قیامت کے روز حقائق موجودہ کی شکل ہوں گے، اور ان کا وزن ہوگا، نامہ اعمال کے وزن کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں ہے کہ قیامت کے روز ایک شخص لایا جائے گا اور اس کے نناوے دفتر ہوں گے گناہوں کے جو پیش کئے جائیں گے، اس کے مقابلہ میں جب اس کی ایک نیکی جو کاغذ کے ایک پرزے پر لکھی ہوگی تو وہ کہے گا، اے پروردگار ان گناہوں کے ڈھیر کے مقابلہ میں اس ایک کاغذ کے پرزے کی کیا حقیقت ہے ؟ لیکن جب وہ تو لاجائے گا تو ان ننانوے دستاویزوں پر بھاری ہوگا تو اس سے معلوم ہوا کہ نامہ اعمال تو لے جائیں گے، اور صاحب اعمال کے تو لنے کی تائید جامع ترمذی کی اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں ہے کہ قیامت کے روز ایک نہایت ہی بھاری بھر کم موٹا تازہ شخص پیش کیا جائے گا تاکہ اس کو میزان عمل میں تولا جائے لیکن چونکہ اس میں ایمان اور عمل صالح کا کوئی روحانی وزن نہ ہوگا تو اس ترازو میں رکھے جانے کے بعد کا کا کوئی وزن نہیں ظاہر ہوگا۔
اور آنحضرت ﷺ نے یہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا، اگر تمہارا دل چاہے تو یہ آیت پڑھ لو، (آیت) ” فلانقیم لھم یوم القیمۃ وزنا “۔
تم بحمد اللہ تفسیر سورة القاریۃ :