98. Surah Al-Bayyina

البينةThe Evidence · 8 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 98:1–4

لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ مُنْفَكِّیْنَ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ الْبَیِّنَةُۙ Open ayah 98:1 in the Quran reader

جن لوگوں نے اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا باز آنے والے نہیں تھے یہاں تک کہ ان کے پاس واضح بات آجائے

رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةًۙ Open ayah 98:2 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کا وہ (عظیم الشان) رسول ہے جو کہ پاکیزہ صحیفے پڑھتا ہے

فِیْهَا كُتُبٌ قَیِّمَةٌؕ Open ayah 98:3 in the Quran reader

ان میں مضبوط باتیں لکھی ہوئی ہیں

وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنَةُؕ Open ayah 98:4 in the Quran reader

اور نہیں پھوٹ ڈلای ان لوگوں نے جن کو کتاب دی گئی مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس وہ واضح بات آگئی۔

مفسرین کرام اس کا نام سورة قیامت بھی ذکر کرتے ہیں۔ جیسا کہ تفسیر روح المعانی میں ہے اور سورة بریہ بھی اور منفکین ، سورة بینہ بھی۔ لیکن بینہ زیادہ مشہور ہے۔ اس لئے کہ اس سورة میں دو دفعہ بینہ کا لفظ مذکور ہے۔ اور بینہ واضح چیز کو کہتے ہیں۔ واضح دلیل یا واضح بات بینہ کہلاتی ہے جیسا کہ قرآن کریم کی آیات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بینات کا لفظ استعمال کیا۔ ” من البینت والھدی “ واضح واضح باتیں اور ہدایت کی باتیں۔ “ ان الذین یکتمون ما انزلنا من البینت والھدی “ یہ بینات کا لفظ آتا ہے۔ اس سے مراد وہ واضح اصول ہیں جو بالکل واضح ہوں آسانی سے معلوم ہو سکتے ہوں۔ ہدایت واضح باتیں واضح قانون ، واضح دلائل ان سب پر بینات کا اطلاق ہوتا ہے اور معجزات پر بھی بینات کا اطلاق ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بینہ کا لفظ معجزہ پر بھی بولا ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے جب دنیا میں تشریف لائے تو انہوں نے کہا ” قد جئتکم بیبنۃ من ربکم ۔ اے لوگو میں تمہارے پاس واضح نشانی لے کر آیا ہوں۔ واضح نشانی سے وہی معجزات مراد ہیں۔ اس کے علاوہ حضرت صالح (علیہ السلام) کے واقعہ میں بینۃ من ربکم ھذہ “ مذکور ہے کہ انہوں نے لوگوں سے کہا تھا۔ اے لوگو ! یہ اللہ کی اونٹنی ایک واضح نشانی ہے۔ اس سے تعرص نہ کرنا۔ اس کو اذیت نہ پہنچانا ورنہ تم نقصان اٹھائو گے۔ معجزہ بھی ایک واضح چیز ہوتی ہے اس لئے بینہ کا اطلاق معجزات پر بھی ہوتا ہے اور جو دلائل ہوتے ہیں ان پر بھی بنیات کا اطلاق ہوتا ہے اور احکام پر بھی بینات کے لفظ کا اطلاق کیا گیا ہے لیکن اس مقام میں بینہ کا لفظ جو بولا گیا ہے۔ اس کی تشریح اور تفصیل خاص طور پر خود اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے۔ اس سورة میں بینہ اور واضح چیز سے مراد پیغمبر (علیہ السلام) کی ذات مبارک ہے۔ یہاں بینہ کا لفظ پیغمبر کی ذات کے اوپر بولا گیا ہے۔ پیغمبر کی ذات بھی اللہ تعالیٰ کی ایک واضح نشانی ہوتی ہے اور پھر خاتم الانبیاء (علیہ السلام) اور آپ کی ذات مبا کہ تو یہاں پر جود و دفعہ بینہ کے لفظ کا اطلاق کیا گیا ہے اس سے مراد پیغمبر ع لیہ السلام کا وجود مبارک اور آپ کی ہستی ہے۔ فضائل سورة حدیث شریف میں اس سورة کی بڑی فضیلت آئی ہے یہ بڑی جامع اور مانع سورة ہے ، اس میں باطل فرقوں کا رد بھی ہے اور اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ بھی ۔ ویسے بھی سورة اقرا کے بعد آخر قرآن تک تمام سورتیں قرآن پاک کا مختصر طریقہ پر خلاصہ ہیں حضور ﷺ نے اپنے صحابی حضرت ابی بن کعب سے فرمایا ان ربی عزوجل امرنی ان اقرئک ھذہ السورۃ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں لم یکن الذین کفروا پڑھا دوں۔ ابی بن کعب نے عرض کیا۔ حضور ! کیا اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی میرے متعلق فرمایا ہے آپ نے اثبات میں جواب دیا تو ابی بن کعب آبدیدہ ہوگئے کہ مجھ جیسے معمولی ہستی کے آدمی پر اللہ تعالیٰ نے اتنا بڑا احسان فرمایا۔ یہ ذکر حضرت ابی بن کعب کے فضائل کے سلسلے میں آتا ہے۔ بعض صحابہ کی خصوصیات اب رہا یہ سوال کہ حضرت ابی بن کعب کو اس منصب کے لئے کیوں منتخب کیا گیا۔ ظاہر ہے کہ حضو نبی کریم ﷺ نے آپ کے بارے میں فرمایا تھا۔ اقرائھم ابی بن کعب یعنی میری امت میں سب سے بڑا قاری ابی بن کعب ہے۔ گویا آپ تمام قاریوں کے سردار ہیں ۔ اسی طرح مفسرین کے سردار عبداللہ بن عباس ، سب سے بڑے قاضی حضرت علی ہیں امت میں سب سے زیادہ حیا دار حضرت عثمان ہیں۔ خدا کے معاملے میں سب سے زیادہ سختی کرنے والے عمر بن خطاب ہیں۔ سب سے زیادہ رحیم اور کریم حضرت ابوبکر صدیق ہیں۔ حلال و حرام کو سب سے زیادہ بہتر جاننے والے حضرت معاذ بن جبل ہیں اور علم فرائض اور وراثت کو سب سے زیادہ جاننے والے حضرت زید ہیں۔ جس طرح ان صحابہ کرام کو مختلف امور میں خصوصیت حاصل تھی ، اسی طرح حضرت ابی بن کعب کو قرأت میں خصوصی مقام حاصل تھا۔ چناچہ بذریعہ وحی اللہ تعالیٰ نے سور ۃ لم یکن الذین کفروا آپ کو پڑھانے کا حکم دیا۔ گزشتہ سورتوں کے ساتھ ربط سابقہ سورت میں فرمایا تھا کہ اس قرآن پاک کو ہم نے لیلتہ القدر میں نازل فرمایا۔ اناانزلنہ فی لیلۃ القدر “ ایک ایسی رات میں نازل کیا جو بڑی برکتوں والی اور عظیم رات ہے ۔ اس ایک رات کی عبادت ہزار مہینے کی عبادت سے بڑھ کر ہے۔ اسی رات میں وحی الٰہی نازل ہوئی جس کی انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اس سے پہلی سورة علق میں انسان کی پیدائش کا ذکر کیا کہ انسان کو لہو کے لوتھڑے جیسی معمولی چیز سے پیدا کیا ” خلق الانسان من علق “ اور پھر اسے زیور تعلیم سے آراستہ کیا۔ ” وعلم بالقلم “ اور ذریعہ تعلیم قلم کو بنایا۔ پھر اسی تعلیم کی وجہ سے انسان کو بلند مراتب عطا کئے۔ انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک مومن جو کامل طریقے پر اللہ کی اطاعت کرتے ہیں۔ اس کی وحدانیت کو مانتے ہیں۔ قیامت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ اسلام کے اساسی عقائد ہیں اور سورة والتین میں بیان ہوچکے ہیں۔ چونکہ قرآن پاک کا موضوع ہی انسان ہے اس لئے انسان سے ہی شروع کیا۔ اس کی بہترین کے لئے ہدایت کا سامان مہیا کیا۔ یہ قرآن پاک ” ھدی للناس “ یعنی نبی نوع انسان کی ہدایت کے لئے ہی نازل ہوا ہے۔ انسانوں کی دوسری قسم وہ ہے جو طاغی کہلاتے ہیں یہ لوگ خدا کی وحدانیت کو نہیں مانتے۔ ان کے اندر نہ ایمان ہے اور نہ یہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں بلکہ وہ مومن کی اس حد تک مخالفت کرتے ہیں کہ اسے نماز بھی نہیں پڑھنے دیتے۔ وہ لوگ تو قرآن پاک کی آواز تک سننا نہیں چاہتے۔ اسی لئے وہ مخالفت کرتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے یہ بات بالکل ترتیب کے ساتھ بیان فرما دی کہ اس نے انسان کو پیدا کیا اس کی راہنمائی کے لئے وحی کا سلسلہ جاری کیا ، کیونکہ انسان وحی الٰہی کا محتاج ہے۔ اس کے بغیر اس کی راہنمائی نہیں ہو سکتی۔ وہ علم کا محتاج ہے۔ اور علم کا حقیقی سرچشمہ بھی وحی الٰہی ہے باقی جتنے بھی ذرائع ہیں ، حواس ہوں یا عقل ، کوئی بھی یقینی اور قطعی نہیں ہے۔ قطعی ذریعہ علم صرف وحی ہے۔ اس طرح گویا ترتیب کے ساتھ وحی الٰہی کا ذکر آ گیا ہے۔ اسوئہ حسنہ کی ضرورت اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے ایک خصا بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ کوئی تعلیم کتنی ہی اعلیٰ کیوں نہ ہو جب تک اس کا نمونہ سامنے نہ ہو کامیابی ممکن نہیں عام بزرگان دین ، حضرت دقاق اور شیخ عبدالقادر جیلانی وغیرہ فرماتے ہیں ان الرجل لایفلح الا اذ رای المفلحین من لایری مفلحاً لایفلح جو کسی کامیاب کو نہیں دیکھتا۔ وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ یعنی جب کوئی شخص اپنے سامنے نمونہ دیکھتا ہے۔ تو اس کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس وحی کے ذریعے قرآن پاک کو لیلتہ القادر میں نازل فرمایا۔ اس کی تعلیمات کے عملی نمونے کے لئے حضور رسول مقبول صلی اللہ لعیہ وسلم کو بھی مبعوث فرمایا۔ حضور ﷺ کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ” لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوہ حسنۃ “ یعنی حضور ﷺ کی ذات مبارکہ امت کے لئے بہترین نمونہ ہے۔ صحابہ کرام نے اسی نمونہ کو اپنایا۔ ان کو دیکھ کر تابعین نے اپنے آپ کو ڈھالا اور پھر سلسلہ آگے تک چلا آ رہا ہے۔ الغرض اس آیت میں بینہ کا جو لفظ آیا ہے اس سے مراد حضو نبی کریم ﷺ ہیں۔ ٹیگور کا اعتراف حقیقت سید سلیمان ندوی ہمارے دور کے مئورخ اور بڑے عالم گذرے ہیں۔ آپ شاہ اشرف علی تھانوی سے بیعت تھے۔ آخر میں آپ کا کا بھی بڑا فیض جاری ہوا۔ آپ نے سیرۃ النبی جیسی کتاب چار جلدوں میں مکمل کی۔ اصل میں اس کتاب کی ابتداء علامہ شبلی نے کی تھی۔ وہ اپنی زندگی میں صرف دو جلدیں مکمل کرسکے باقی چار جلدیں سید سلیمان ندوی نے لکھیں۔ سیرت نبوی پر اعلیٰ درجے کی ضخیم کتاب ہے تو سید صاحب فرماتے ہیں کہ ہم یورپ کے سفر سے آ رہے تھے۔ مصر یا کسی اور جگہ کا واقعہ ہے۔ ہم جہاز میں سوار تھے۔ نوبل انعام یافتہ بنگالی ہندو فلاسفر ٹیگور بھی اسی جہاز میں سفر کر رہا تھا۔ اس سے بات چیت کا موقع مل گیا ۔ تو سید سلیمان ندوی نے پوچھا کہ آپ نے مختلف مذاہب کی اچھی اچھی باتیں چن چن کر برہمو سماجی مذہب بنایا ہوا ہے۔ مگر یہ مذہب دنیا میں پھیلا کیوں نہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے ؟ ٹیگور نے بڑا معقول جواب دیا۔ کہنے لگا ہمارے مذہب کے اصول تو بڑے اچھے ہیں ۔ مگر اس کے پیچھے کوئی نمونہ نہیں ہے اور مذہب ہمیشہ نمونے سے پھیلا کرتے ہیں۔ یہ وہی ٹیگور ہے۔ جسے ڈاکٹر اقبال کے مقابلے میں نوبل پر ائز ملا تھا۔ علامہ اقبال کی پیش کردہ نظم زمان اور تخیل کے اعتبار سے اعلیٰ درجے کی نظم ہے۔ جو آج بھی بانگ درا کی پہلی نظم کے طور پر موجود ہے۔ مگر اس کے مقابلے میں ہندو اور انگریز کی ملی بھگت کی وجہ سے علامہ اقبال کو محروم کیا گیا۔ ہندو نے انگریز کے ساتھ سازش کر کے ٹیگور کو انعام دلایا تھا۔ انگریز اسلام کے ساتھ نفرت رکھتا ہے اور باطنی طور پر ہمیشہ نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ ہر نبی اپنے دور کا بینہ ہوتا ہے اس وقت دنیا میں اسلام ہی واحد مذہب ہے جس کے پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا نمونہ موجود ہے۔ دیگر مذاہب والوں نے تو اپنے انبیاء کے نمونے بھی بگاڑ ویسے ہیں ۔ عیسائیوں نے مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بنا کر انسانیت سے خارج کردیا۔ لہٰذا انہوں نے اپنا نمونہ بگاڑ دیا۔ اسی طرح یہودیوں نے بھی اپنے نبی کا نمونہ باقی نہ رکھا ، مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ نمونے کے بغیر کوئی چیز ترقی نہیں کرتی ، ہر دور کا نبی اپنے زمانے کا نمونہ ہوتا ہے ۔ جسے دیکھ کر انقلاب برپا کیا جاتا ہے۔ یہی بینہ ہے۔ حضرت حائشہ صدیقہ سے کسی نے پوچھا کہ حضو رعلیہ السلام کا اخلاق مبارک کیسا تھا۔ تو ام المومنین نے جواب دیا فان خلق نبی اللہ ﷺ کان القرآن کیا تم قرآن نہیں پڑھتے۔ عرض کیا پڑھتا ہوں تو فرمایا قرآن ہی حضور ﷺ کا اخلاق تھا۔ یعنی جو کچھ قرآن پاک میں مذکور ہے۔ اس کا عملی نمونہ حضو رعلیہ السلام کی ذات مباک ہے۔ مقصد یہ کہ کوئی تعلیم خواہ کتنی بھی اچھی کیوں نہ ہو۔ جب تک اس کا عملی نمونہ سامنے نہ ہو ، اس تعلیم کے مطابق انقلاب برپا کرنا ممکن نہیں۔ حضور ﷺ کے زمانہ میں مذاہب عالم حضور ﷺ پر جب یہ سورة نازل ہوئی۔ اس زمانے میں جو مذاہب دنیا میں موجود تھے۔ ان میں یہود ، نصاریٰ اور صابی تھے۔ صابی ستارہ پرست تھے اور تعداد میں نسبتاً کم تھے۔ صابیوں کو بعض اہل کتاب میں شمار کرتے ہیں اور بعض مشرکوں میں۔ ان کے علاوہ مجوسیوں کا مذہب تھا۔ یہ لوگ ایران کے آتش پرست تھے اس زمانے میں آدھی دنیا ان کے زیر نگیں تھی۔ باقی آدھی دنیا قیصر کے زیر اثر تھی۔ قیصر عیسائی اور کسریٰ مجوسی تھا۔ مجوسی آگ میں کرشمہ مانتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں۔ پانچواں فرقہ مشرکین عرب کا تھا۔ یہ لوگ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا متبع کہتے تھے کہ ہم ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرۃ اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں اور ان کا اتباع کرتے ہیں۔ یہ پانچوں کے پانچوں باطل فرقے تھے۔ قرآن پاک میں ان پانچوں کا ذکر موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تمام کے تمام جس جس باطل عقیدے پر چل رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان قیامت کے روز قطعی فیصلہ کر دے گا۔ اب اس سورة مبارکہ کی ابتداء میں یہ بتلا گیا گیا ہے کہ ان لوگوں کے حالات اتنے بگڑ چکے تھے۔ ان کے عقائد اتنے فاسد ہوچکے۔ تھے کہ کوئی بڑے سے بڑا بادشاہ ، کوئی حکیم ، کوئی فلاسفر بھی ان کی اصلاح کی کوشش کرتا تو کامیاب نہیں ہو سکتا تھا۔ چناچہ ضرورت تھی کہ کوئی عظیم المرتبت رسول آئے جو ان کی اصلاح کرے۔ اتمام حجت اور اہل کتاب ان باطل فرقوں میں مشرکین عبر ایسے لوگ تھے ۔ جنہوں نے کفر و شرک کو ملت ابراہیمی بنایا ہوا تھا۔ ان کی اصلاح کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔ جب تک کہ ان میں ایک بینہ نہ آئے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان کو بطور بینہ بھیج کر حجت تمام کردی۔ ان میں سے اہل کتاب بڑے متعصب ثابت ہوئے۔ یہ بدبخت حضور ﷺ کی بعثت سے قبل آپ کی آمد کے منتظر تھے کہ وہ آخری نبی آنے والا ہے جس کی پیش گوئی ابراہیم (علیہ السلام) نے کی۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) نے کی۔ بلکہ سارے نبیوں نے کی یہ لوگ اس نبی کے انتظار میں دعائیں مانگتے تھے کہ وہ آئے اور ہم اس کا ساتھ دیں۔ اس کی برکت سے ہمیں دوسرے لوگوں پر غلبہ حاصل ہو۔ ” وکانوا یستفتحون علی الذین کفروا صلے “ ہم کافروں پر فتح حاصل کریں۔ مگر اللہ تعالیٰ کا وہ رسول آ گیا ، تو ان بدبختوں نے انکار کردیا۔ مشرکین کا حشر تو یہ ہو ا کہ کچھ مارے گئے ، کچھ چلے گئے اور باقیوں نے اسلام قبول کرلیا۔ مگر مدینہ طیبہ اور اس کے اطراف میں یہودی اسی طرح ڈٹے رہے۔ یہودیوں کے دس بڑے عالم تھے ایک موقع پر حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ دس آدمی مسلمان ہوجائیں ، تو کوئی یہودی باقی نہ رہے سارے کے سارے اسلام قبول کرلیں۔ مگر ان دس اشخصا میں سے صرف ایک نے اسلام قبول کیا باقی تو یہودیت پر قائم رہے اور اسی باطل عقیدہ پر ان کا خاتمہ ہوا۔ اہل کتاب کی ضد اور عناد اللہ تعالیٰ نے شکوے کے انداز میں فرمایا ہے کہ ان کے حالات اس قدر خراب تھے کہ کوئی بڑے سے بڑا آدمی بھی ان کی اصلاح نہ کرسکتا۔ یہ عظیم المرتبت رسول کے منتظر تھے مگر جب وہ نبی آخر الزمان آ گیا تو انہوں نے انکار کردیا۔ اہل کتاب کا یہ اناکر کسی شبہ کی بنا پر نہیں تھا انہیں اس امر میں کوئی شبہ نہیں تھا کہ یہ وہی رسول برحق ہیں جن کا اتنظار تھا بلکہ ان کا انکار اور مخالفت محض ضد اور عناد کی بنا پر تھا۔ قرآن پاک نے اس بات کی تصدیق فرمائی ہے۔ ” حسدا من عند انفسھم من بعد ماتبین لھم الحق “ کہ یہ محض حسد کی وجہ سے تھا کہ نبی ہماری قوم نبی اسرائیل میں سے کیوں نہیں آیا۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ” واللہ یخص برحمتہ من یشآء ط “ اللہ تعالیٰ جسے چاتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص کرتا ہے۔ یہ نعمت اللہ تعالیٰ نے بنی اسمعیل کے حق میں ودیعت کی تھی۔ صرف بنی اسرائیل ہی اس کے ٹھیکیدار نہ تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو تو پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ تیرے بھائیوں یعنی بنی اسمعیل میں سے ایک ہستی کو پیدا کروں گا ، اس کے منہ میں اپنا کلام ڈالوں گا۔ وہ فاران کی چوٹیوں سے ظاہر ہوگا ، اس کے ہاتھ میں آتشیں شریعت ہوگی ، وہ دنیا کی قوموں سے محبت کرنے والا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ سارے اوصاف بتا دیئے تھے مگر ان لوگوں نے محض حسد اور سرکشی کی بناء پر انکار کیا ان یہودیوں کو چودہ سو سال کا عرصہ گذرنے کے بعد بھی یقین نہیں آیا۔ لہٰذا یہ آج بھی اسی طرح مخالفت پر کمربستہ ہیں۔ بینہ سے مراد رسول آخر الزمان ہیں یہ بات قاعدہ کلیہ کے طور پر بتا دی کہ تعلیم خواہ کتنی بھی اچھی ہو ، جب تک اس کے ساتھ عملی نمونہ موجود نہ ہو ، صحیح نتیجہ پیدا نہیں ہو سکتا ، قرآن پاک وحی کے ذریعے نازل ہوا یہ ایسی تعلیم ہے۔ جس کی بنی نوع انسان کو اشد ضرورت ہے۔ مگر ایسی اعلیٰ وارفع تعلیم سے بطور احسن مستفید ہونے کے لئے نمونہ کی ضرورت تھی۔ جو نبی آخر الزامان کی شکل میں آ گیا تو فرمایا لم یکن الذین کفروا من اھل الکتب والمشرکین جن لوگوں نے اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا منفکین باز آنے والے نہیں تھے حتی تاتھم البینۃ یہاں تک کہ ان کے پاس واضح چیز آجائے۔ اس وقت تمام گروہ اپنی اپنی غلطی پر مغرور تھے۔ کوئی بڑے سے بڑا حکیم یا ولی یا عادل بھی آتا تو انہیں راہ راست پر نہ لاسکتا انہیں ایک ایسی واضح چیز کی ضروتر تھی جو انہیں راہ راست پر لے آتی اور یہ واضح چیز یا بینہ کیا ہے رسول من اللہ اللہ کا وہ عظیم الشان اور عالی مرتبہ رسول ہے۔ یتلوا صحفاً مطھرۃ پاکیزہ صحیفے پڑھتا ہے۔ قرآن پاک کی ہر سورت ایک صحیفہ ہے۔ کل ایک سو چودہ میں سے ہر سورة میں ایک ایسا پروگرام ہے جس پر عمل کرنے سے فلا ح نصیب ہوجاتی ہے۔ ان میں ایسی پاکیزہ تعلیمات موجود ہیں۔ پھر ان صحیفوں میں کیا ہے فیھا کتب قیمۃ ان میں مضبوط باتیں لکھی ہوئی ہیں یعنی ایسے ایسے مضبوط قوانین ان میں درج ہیں جو کبھی نہیں ٹوٹتے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ اصول ہیں۔ ازلی اور ابدی اصول ہیں۔ وہ ٹوٹنے والے اصول نہیں ہیں۔ اہل کتاب کی فرقہ بندی یہ بات بیان کرنے کے بعد کہ اہل کتاب اور مشرکین باز آنے والے نہ تھے یہاں تک کہ ان کے پاس بینہ آجائے۔ ان کے متعلق مزید تفصیل میں فرمایا وما تفرق الذین اوتوا الکتب نہیں تفرقہ کیا یا نہیں پھوٹ ڈالی ان لوگوں نے جن کو کتاب دی گئی الا من بعدما جآء تہم البینۃ مگر واضح بات آجانے کے بعد جب ان کے پاس بینہ یعنی اللہ کا رسول آ گیا تو ان میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا۔ بعض نے تسلیم کرلیا اور باقیوں نے انکار کیا ۔ مگر اے اہل کتاب ” ان اکثرکم فسقون “ تم میں سے اکثر فاسق ہیں۔ جنہوں نے تفرقہ کیا۔ چناچہ حضو ر (علیہ السلام) نے یہ بات اشارۃ سمجھا دی کہ پہلے یہود و نصاریٰ کے بہتر فرقے بنے اور میری امت کے تہتر فرقے ہوں گے۔ جن میں سے صرف ایک ناجی ہوگا ، باقی سب آگ میں جائیں گے۔ صحابہ نے پوچھا کہ ناجی فرقہ کون ہوگا۔ آپ نے ارشاد فرمایا ما انا علیہ و اصحابی ناجی فرقہ وہ ہوگا جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقہ پر ہوگا۔ باقی سب دوزخی ہوں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے انکار کے وجوہ بیان فرمائے ہیں کہ ان کا انکار غلط تھا کیونکہ نبی کسی نئی بات کی تعلیم نہیں دیتا ، بلکہ ہر نبی کی تعلیم وہی ہوتی ہے ، جو اس سے پہلے انبیاء کرام (علیہم السلام) دیتے آئے ہیں۔
Ayahs 98:5–8

وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۙ۬ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ Open ayah 98:5 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو صرف اسی بات کا حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اس حالت میں کہ اس کے لئے اطاعت کو خالص کرنے والے ہوں حنیف بن جائیں اور نماز قائم کریں اور زکواۃ ادا کریں اور دین قیم یہی ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِیَّةِؕ Open ayah 98:6 in the Quran reader

بیشک جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا خواہ وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکوں میں سے ان کا ٹھکانا دوزخ کی آگ ہے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس میں رہیں گے یہ لوگ بدترین مخلوق ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِؕ Open ayah 98:7 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال انجام دیئے یہ لوگ بہترین مخلوق ہیں

جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ۠ Open ayah 98:8 in the Quran reader

ان کے پروردگار کے ہاں ان کا بدلہ رہنے کے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں وہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان میں رہیں گے اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوئے یہ سب کچھ اس کے لئے ہے جو اپنے پروردگار سے ڈرتا ہے

گزشتہ سے پیوستہ اس سورة مبارکہ کے ابتدائی حصے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بینہ کے لقب سے ملقب حضور خاتم النبین ﷺ کی بعثت سے پہلے اہل کتاب اور مشرکوں کی حالت بہت خراب ہوچکی تھی۔ وہ اپنے فاسد عقائد اور باطل مذاہب سے باز آنے والے نہیں تھے۔ یہاں تک کہ ان کے پاس بینہ یعنی اللہ کا وہ عظیم الشان رسول آجائے جو پاک صحیفوں کی تلاوت کرتا ہے قرآن کریم کی ہر سورة ایک مقدس صحیفہ ہے۔ جس میں مضبوط اصول لکھے ہوئے ہیں مگر جب وہ بینہ آ گیا اور خدا تعالیٰ کی حجت تمام ہوگئی تو اہل کتاب تفرقہ میں پڑگئے۔ روح المعانی والے مفسر فرماتے ہیں کہ تفرقے کا مطلب یہ ہے ۔ بہت تھوڑے لوگ ایمان لائے ، جب کہ ان کی اکثریت باطل عقیدے پر قائم رہی۔ یہ لوگ آج تک اپنی اسی ہٹ دھرمی پر اڑے ہوئے ہیں۔ برخلاف اس کے مشرکین کی ایک قلیل تک اپنی اسی ہٹ دھرمی پر اڑے ہوئے ہیں۔ برخلاف اس کے مشرکین کی ایک قلیل تعداد نے مقابلہ کیا اور خت مہو گئے ، مگر ان کی اکثریت نے ایمان قبول کرلیا۔ اہل کتاب کی بلاوجہ مخالفت یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ نے قرآن پاک کے پروگرام کی کیوں مخالفت کی۔ کیا نبی آخر الزمان نے کوئی نیا پروگرام پیش کیا تھا۔ جو انہیں راس نہ آیا۔ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ تو وہی مشترکہ بات پیش کرتے ہیں جو سارے نبیوں کا مشترک نقطہ نگاہ رہا ہے ۔ اصل بات یہ ہے ومآ امروآ الا لیعبدوا اللہ ان لوگوں کو تو صرف اسی بات کا حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں مخلصین لہ الدین اس حالت میں کہ اس کے لئے اطاعت اور بندگی کو خلاص کرنے والے ہوں اور حنفآء اور حنیف بن جائیں۔ حنیف ابراہیم (علیہ السلام) کا لقب تھا۔ مطلب یہ کہ حضرت ابرایم (علیہ السلام) کی طرح خلاص اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کریں ویقیموالصلوۃ اور نماز قائم کریں ویوتوا الزکوۃ اور زکوۃ ادا کریں وذلک دین القیمۃ دین قیم کے اصول یہی ہیں کہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے۔ حنیف بن جائیں ، نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں تمام سابقہ انبیاء کرام یہی دین پیش کرتے آئے ہیں۔ چناچہ اہل کتاب کی مخالفت ان اصولوں میں کسی شبہ کی بناء پر نہیں بلکہ محض ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہے اور جس کا کوئی علاج نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف مقامات پر اس ضد کے لئے ” ’ بغیا “ کا لفظ استعمال کیا ہے یعنی اہل کتاب سرکشی اور حسد کی وجہ سے حق کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ورنہ مخالفت کی کوئی اور معقول وجہ نہیں ہے۔ اخلاص فی العبادت حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) نے جو پروگرام پیش کیا ، وہ ملت ابراہیمی کا پروگرام ہے اور اس پروگرام کی بنیادی بات یہ ہے کہ خلاص اللہ کی عبادت کی جائے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ ہسکتے ہیں کہ غلامی صرف خدا تعالیٰ کی اختیار کرو کسی دوسرے کی غلامی روا نہیں۔ غلامی عبادت ہی کا دوسرا نام ہے جو صرف اللہ ہی کی ہو سکتی ہے۔ امام ابوبکر جصاص فرماتے ہیں کہ اخلاص فی العبادت اس وقت حاصل ہوتا ہے۔ جب انسان کا عقیدہ شرک سے پاک ہو۔ اگر عقیدے میں شرک کی ملاوٹ ہوگی تو عبادت خالص نہیں ہوگی۔ شرک سے پاکیزگی ضروی رہے۔ مخلصین لہ الدین کا یہی مطلب ہے۔ حنیف کا معنی اس آیت میں حنفآء کا جو لفظ آیا ہے۔ اس کا معنی یہ ہے۔ حنفآء للہ غیر مشرکین یعنی خالص اللہ کی عبادت کرنے والے بن جائو ، شرک کرنے والے نہ بنو۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم سے فرمایا تھا اور حضور ﷺ بھی یہی ارشاد فرما رہے ہیں کہ حنیف بن جائو۔ حنیف دراصل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا لقب تھا اور معنی اس کا یہ ہے کہ ہر طرف سے توجہ ہٹا کر صرف ایک خدا کی طرف متوجہ ہونا۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ حنیف اسے کہا اجتا ہے۔ جو اللہ کی توحید کا قائل ہو۔ بیت اللہ شریف کا حج کرنے والا ہو۔ نماز میں بیت اللہ کی طرف رخ کرنے والا ہو ، ختنہ کرنے والا ہو ، اور نماز پڑھنے والا ہو۔ یہی توحید کا مقام ہے اور ایسے ہی انسان کو حنیف کہا جاتا ہے۔ نماز اور زکوۃ جب کوئی انسان حنیف بن جائے اسے اخلاص فی العبادت نصیب ہوجائے ، تو اس کے بعد حکم ہے ویقیموا الصلوۃ نماز قائم کرو۔ بدنی عبدات میں نماز سرفہرست ہے اور یہ ام العبادات المقربہ یعنی قرب الٰہی دلانے والی عبادتوں میں نماز پہلے نمبر پر ہے نماز خدا پرستی کی نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة توبہ میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ” فان تابوا و اقاموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ فاخوان کم فی الدین “ یعنی اگر یہ لوگ تائب ہوجائیں۔ نماز ادا کرنے لگیں ، زکواۃ کی ادائیگی شروع کردیں تو یہ تمہارے بھائی ہیں دوسری جگہ فرمایا ” فخلوا سبیلھم “ یعنی ایمان کا راستہ پکڑ لیں تو ان سے جھگڑا ختم ہو گیا ، ان کے ساتھ کوئی جنگ نہیں۔ یہ تمہارے دینی بھائی بن گئے۔ تم سب کا عقیدہ ایک ہوگیا۔ یہاں پر نماز اور زکوۃ کا بطور خاص ذکر فرمایا ہے۔ ان میں سے نماز مدنی عبادت ہے اور زکواۃ مالی عبادت ہے۔ گویا اخلاص فی العبادت کے بعد ملای اور مدنی عبادتوں میں سب سے اہم نماز اور زکواۃ ہیں۔ انہیں عبادات سے آدمی کی پہچان ہوتی ہے۔ اگر نماز پڑھتا ہے اور زکواۃ دیتا ہے تو یہ ہماری جماعت کا آدمی ہے ۔ ہماری پارٹی کا ممبر ہے۔ اگر کسی میں نماز و زکوۃ کی علامات میں پائی جاتیں ، تو وہ جماعت المسلمین کا ممبر نہیں سمجھا جائیگا۔ عقیدے کی پاکیزگی الغرض ! فرمایا کہ اہل کتاب کی مخالفت کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے ۔ کیونکہ اللہ کے رسول نے تو انہیں تمام انبیاء (علیہم السلام) کے پیش کردہ مشترکہ اصول بتائے ہیں کہ حنیف بن جائو۔ تمامہارے اعمال اور اعتقاد میں کسی قسم کی شرک کی ملاوٹ نہیں ہونی چاہئے۔ کیونکہ عقیدے کی پاکیزگی فلاح کی اولین شرط ہے۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ جب تک شرک کی گندگی دور نہ ہو ، قرآن پاک کی تعلیمات اور پیغمبر حلیہ السلام کی ذات مبارکہ سے استفادہ نہیں کیا جاسکتا فرماتے ہیں کہ اس کی مثال یوں سمجھو کہ جس شخص کو کوئی شدید بیماری لاحق ہو ، اسے اچھی سے اچھی غذا بھی مفید نہیں ہوگی اور اگر صحت اچھی ہے تو صالح غذا سے بڑے اچھے نتائج مرتب ہوں گے۔ توانائی آئے گی۔ افعال ٹھیک ہوں گے ، فرماتے ہیں کہ اسی طرح قرآن پاک اور نبی (علیہ السلام) کی ذات اس وقت تک مفید نہیں ہوگی ، جب تک انسان کی روحانی بیماری دور نہ ہو ، قرآن پاک اور پیغمبر (علیہ السلام) سے فیض حاصل کرنے کے لئے عقیدے کی درستگی ضروری ہے۔ اہل کتاب بدترین مخلوق ہیں ارشاد ہوتا ہے ان الذین کفروا من اھل الکتب والمشرکین یاد رکھو ! جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ، خواہ وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکوں میں سے ، یہودی ہوں یا نصاریٰ ، عرب کے مشرک ہوں یا کسی دوسرے علاقے کے مشرک فی نار جھنم ان کا ٹھکانا دوزخ کی آگ ہے۔ اور وہاں کسی خاص عرصہ کے لئے داخل نہیں کئے جائیں گے بلکہ خلدین فیھا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دوزخ میں رہیں گے اور اس لحاظ سے اولئک ھم شرالبریۃ وہ خدا کی مخلوق میں سے بدترین مخلوق ہیں انہی لوگوں کے متعلق دوسرے مقام پر فرمایا ” ان شرالدواب عند اللہ “ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین جانور ہیں بہرے اور گونگے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کے بدترین مخلوق ہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی خواہشات کو اللہ کے حکم پر مقدم رکھتے ہیں۔ ان میں حسد ، خود غرضی اور سرکشی پائی جاتی ہے۔ یہ لوگ لیعبدو اللہ مخلصین لہ الدین کی کوئی پروا نہیں کرتے۔ ادھر حکم ہو رہا ہے کہ حنیف بن جائو ، مگر یہ اپنی خواہشات کو اس حکم پر مقدم رکھتے ہیں حالانکہ کوئی جانور یا موذی درندہ بھی خواہش نفسانی کو حکم الٰہی پر مقدم نہیں رکھتا۔ لہٰذا یہ انسان ہوتے ہوئے بھی دیگر مخلوق سے بدتر ہیں۔ مومنین بہترین مخلوق ہیں اس کے مقابل فرمایا ان الذین امنوا جو لوگ ایمان لائے کہ ایمان سب سے پہلی منزل ہے اور اس کے بعد وعملوا الصلحت نیک اعمال انجام دیئے۔ ایمان کے ساتھ نیک اعمال کی شرط لگائی گئی ہے۔ دوسرے مقام پر فرمایا ” ومن یعمل من الصلحت وھو مومن “ جو شخص نیک اعمال انجام دے۔ بشرطیکہ وہ ایماندار ہو کیونکہ نیکی ایمان پر معتبر ہوگی۔ جو لوگ ایمان سے خالی ہوں گے ، قیامت کے دن ان کی پہاڑ جتنی نیکیاں بھی رائیگاں جائیں گی۔ کچھ فائدہ نہیں دیں گی۔ تو فرمایا کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے اولئک ھم خیر البریۃ وہ ساری مخلوق میں بہترین گروہ ہے وجہ یہ ہے کہ انہوں نے نفسانی خواہشات کو حکم الٰہی کے تابع بنایا۔ اس کی وحدانیت کو دل و جان سے تسلیم کیا اور حنیف بن گئے ، انہوں نے خدا تعالیٰ کی اطاعت کی لہٰذا اللہ کی بہترین مخلوق ٹھہرے۔ یہاں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے ، تاکہ دنیوی اعتبار سے کافر اور مشرک خواہ کتنے بھی عروج پر ہوں ، قرآن پاک کہتا ہے کہ یہ جہنم کے کندئہ ناتراش ہیں۔ خدا کی مخلوق میں سے بدترین مخلوق ہیں۔ روسی ہوں یا امریکی ، جرمن ہوں یا چینی ، انگریز ہوں یا ہندو قرآن پاک کے نزدیک شرا البریۃ ہیں۔ یعنی جانوروں ، درندوں حتی کہ کیڑے مکوڑوں تک سے بدتر ہیں۔ یہ لوگ خواہ آسمان پر چلے جائیں ، چاند کی تسخیر کرلیں۔ دنیوی ترقی کے بام عروج پر پہنچ جائیں۔ مگر ایمان سے بےبہرہ ہونے کی بنا پر بدترین مخلوق ہی رہیں گے۔ رضائے الٰہی برخلاف اس کے مئومنین کے متعلق فرمایا جزآء ھم عندربھم جنت عدن خدا تعالیٰ کے ہاں ان کا بدلہ جنت ہے۔ تجری من تحتھا الانھر جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ خلدین فیھا ابداً وہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس جنت میں رہیں گے کیونکہ ؓ عنھم اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگیا۔ اس نے ان کے ایمان اور اعمال صالحہ سے خوش ہو کر جنت عطا کی ہے۔ قرآن پاک میں دوسرے مقام پر موجود ہے۔ ” وان تشکروا یرضہ لکم “ اگر تم ایمان لے آئو ، تو خدا تعالیٰ راضی ہوتے ہیں۔ ولا یرضی لعبادہ الکفرہ “ اللہ تعالیٰ تو ایمان پر راضی ہوتا ہے ، معصیت ، شرک اور بغاوت سے ناراض ہوجاتا ہے۔ بندوں کی رضا فرمایا ایمان والوں کو جنت میں داخل کر کے صرف اللہ ہی ان سے راضی نہیں ہوگا۔ بلکہ ورضواعنہ وہ بھی اللہ سے راضی ہوجائیں گے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے راضی ہوجانا تو سمجھ میں آتا ہے ، مگر بندوں کا اللہ کریم سے راضی ہونے کا کیا مطلب ہے۔ بخاری اور مسلم شریف کی حدیث میں آتا ہے کہ جب مومن لوگ بہشت میں پہنچ جائیں گے ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ اے جنت والو ! کیا تم راضی ہو ؟ بندے تعجب سے عرض کریں گے مولا کریم ! کیا وجہ ہے کہ ہم راضی نہ ہوں تو نے ہم پر بڑے احسان کئے بیشمار نعمتوں سے نوازا ، ہمارے چہرے روشن بنائے ، ہم راضی کیوں نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ میرے بندو ! میں تمہیں کچھ اور بھی دینا چاہتا ہوں۔ لوگ تعجب کریں گے کہ اور کیا چیز ملنے والی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ احل علیکم رضوانی فلا اسخط علیکم بعدہ ابداً میں تمہیں اس بات کی گارنٹی دیتا ہوں کہ آئندہ میں تم سے کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔ لہٰذا اس موقع پر بندے بہت زیادہ خوش ہوجائیں گے ، اسی کو کہا گیا ہے ورضوا عنہ کہ بندے بھی اپنے پروردگار سے راضی ہوجائیں گے۔ انہیں تمام تر انعامات کے علاوہ خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہوجائے گی جس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی۔ ” ورضوان من اللہ اکبر “ اللہ کی تو چھوٹی سی رضا مندی بھی ہر چیز سے بڑی ہے۔ چہ جائیکہ اتنی بڑی رضا مندی …… حاصل ہوجائے کہ۔ اللہ تعالیٰ خود فرمائے میں آئندہ تم سے کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔ اللہ تعالیٰ سے بندوں کی رضا کا یہی مطلب ہے ، ورنہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی توحید پر راضی ہونا تو بندے پر فرض ہے۔ جو بندہ ناراض ہوگا وہ مردود ہوجائے گا۔ خیر البریۃ کون ہیں مسند احمد کی حدیث میں آتا ہے کہ کفر اور شرک والے شرالبریۃ ہیں ایمان اور نیکی والے خیر البریہ ہیں۔ ایک موقع پر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کیا میں تم کو نہ بتائوں کو خیر البریہ کون ہیں ؟ فرمایا دیکھو ! جو آدمی ہر وقت مستعد رہتا ہے۔ کہ جہاد کا موقع آئے تو جہاد میں شریک ہو جائوں۔ وہ پہلے نمبر کا خیر البریہ ہے۔ جوں ہی کوئی خطرہ محسوس کیا۔ فوراً جنگ کے لئے کمربستہ ہوگیا۔ فرمایا دوسرے نمبر کا خیر البریہ وہ شخص ہے کہ اگر وہ کہیں جنگل میں ہے ، یا بکریوں کے ریوڑ میں ہے۔ مگر نماز کا وقت آتا ہے تو وقت پر نماز ادا کرتا ہے اور زکوۃ بھی دیتا ہے اللہ کے نزدیک یہ بھی خیر البریہ ہے۔ شرالبریہ کون ہیں پھر نبی (علیہ السلام) نے فرمایا ، آئو میں تم کو نہ بتلائوں کہ شرالبریہ کون ہیں ؟ فرمایا شرالبریہ میں بہت سے لوگ شامل ہیں جن میں کافر اور مشرک ہیں اور مخلوق خدا میں اور لوگ بھی ہیں تاہم وہ شخص بھی شرالبریہ ہے۔ جو اللہ کا نام لے کر مانگتا ہے۔ مگر اس کو ملتا کچھ نہیں۔ خدا کے نام کی بھی کوئی عزت اور قدر نہیں کرتا۔ یہ شخص اس لئے شرالبریہ میں داخل ہے کہ اس نے خدا کے نام کی خود بےقدری کی۔ کیونکہ اس کے نام کو ایسے موقع پر پیش کیا ، جس کسی نے پرواہ نہ کی اسی لئے خدا کا نام لے کر مانگنے سے منع کیا گیا ہے۔ خشیت الٰہی فرمایا خیر ا لبریہ ایمان اور نیکی والے لوگ ہیں۔ ان کے لئے ان کے رب کے پاس باغات ہیں۔ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ خدا ان سے راضی ہوگا ، اور وہ اپنے رب سے راضی ہوں گے۔ جو انہیں بیحد و بیشمار انعامات سے نوازے گا ذلک لمن خشی ربہ یہ سب کچھ اس شخص کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے جس کے اندر خشی الٰہی ہوگی۔ حقیقت میں یہی تریاق ہے اور یہی کامیابی کی نشانی ہے کہ اس کے دل میں خوف خدا پیدا ہوجائے۔ جب خوف پیدا ہوگا ، تو ایسا شخص ایمان بھی درست کرے گا اور نیک کام بھی انجام دے گا۔ وہ ہمیشہ اس خوف میں مبتلا رہے گا کہ اس کے ایمان میں کوئی خرابی نہ آجائے ، کہیں وہ گرفت میں نہ آجائے کہیں وہ خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی سے محروم نہ جائے۔ یہی وہ خشیت الٰہی ہے جس کی طرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی توجہ مبذول کرائی تھی اور کہا تھا۔ ” واھدلک الی ربک فتخشی “ آئو میں تمہارے رب کی طرف تمہاری راہنمائی کروں تاکہ تمہارے اندر اس کی خشیت پیدا ہوجائے۔ خشیت الٰہی کا پیدا ہونا بہت بڑی بات ہے۔ برائی سے بچنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔