99. Surah Az-Zalzala

الزلزلةThe Earthquake · 8 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 99:1–8

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ Open ayah 99:1 in the Quran reader

جب ہلا دی جائے گی زمین اس کو ہلانا

وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ Open ayah 99:2 in the Quran reader

اور زمین اپنے بوجھ باہر نکال دے گی

وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ Open ayah 99:3 in the Quran reader

اور انسان کہے گا کہ اس زمین کو کیا ہوگیا ہے

یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ Open ayah 99:4 in the Quran reader

اس دن زمین اپنی خبریں ظاہر کرے گی

بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَاؕ Open ayah 99:5 in the Quran reader

اس وجہ سے کہ بیشک تیرے رب نے اس کو اشارہ کردیا ہے

یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا١ۙ۬ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ Open ayah 99:6 in the Quran reader

اس دن لوگ گروہ گروہ ہوجائیں گے تاکہ ان لوگوں کو ان کے اعمال (کے نتائج) دکھلائے جائیں

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ Open ayah 99:7 in the Quran reader

جس کسی نے ایک ذرے کے برابر بھی نیکی کا کام کیا ہوگا وہ اسے دیکھ لے گا

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠ Open ayah 99:8 in the Quran reader

اور جس نے ایک ذرہ کے برابر بھی نیکی کا کام کیا ہوگا وہ اسے دیکھ لے گا

موضوع اس سورة کا موضوع جزائے عمل ہے اگرچہ سورة تو مختصر ہے تاہم موضوع کے لحاظ سے جامع اور مانع سورة ہے۔ اس سورة میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو بھی اعمال اس دنیا میں کرتا ہے ان کی جزاء لازم ہے۔ جس طرح انسان کوئی چیز کھاتا ہے تو اس کے نتیجے میں بدہضمی پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح انسان جو عمل کرتا ہے۔ اس کے ساتھ اس کی جزاء بھی لازم ہے ، جس طرح پیدائش کے ساتھ موت لازم ہے اور جس طرح طلوع کے ساتھ غروب لازم ہے۔ ایسے ہی عمل کے ساتھ جزائے عمل کا ہونا ضروری ہے۔ اس سورة مبارکہ میں یہی بات سمجھائی گئی ہے۔ فضیلت حدیث پاک میں اس سورة کی بہت فضیلت آئی ہے۔ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ حضور ! مجھے قرآن کریم کا کچھ حصہ پڑھائیں آپ نے صحابہ سے فرمایا ، اس شخص کو ذوات الرا سورتوں میں سے کوئی سورة پڑھا دیں ، اس نے عرض کیا ، حضور ! میں بوڑھا ہوگیا ہوں ، زبان ٹھیک نہیں چلتی ، حافظہ بھی کمزور ہے آپ نے فرمایا ذوات حم سورتوں میں سے اس کو پڑھا دو اس نے پھر عرض کیا حضرت ! یہ بھی لمبی سورتیں ہیں۔ چناچہ آپ نے آٹھ آیات والی یہ سورة مبارکہ اس کو پڑھائی۔ وہ شخص کہنے لگا بخدا میں اس پر کاربند رہوں گا اور اس پر عمل کرتا رہوں گا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ آدمی سمجھدار ہوگیا ہے۔ بات اس کی سمجھ میں آگئی ہے۔ جب سورة کے آخر پر پہنچے تو اس شخص نے پھر کہا کہ میں اس کے مطابق عمل کروں گا تو حضور ﷺ نے دوبارہ ارشاد فرمایا کہ اس کو دین میں سمجھ حاصل ہوچکی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے ہے اذا زلزلت تعدل نصف القرآن یعنی سورة زلزال نصف قرآن کے برابر ہے۔ یعنی آٹھ آیتوں کی یہ چھوٹی سی سورة اجر وثواب کے لحاظ سے نصف قرآن کے برابر ہے۔ فرمایا انسان کی زندگی کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ دنیوی زندگی اور اس کے متعلقات پر مشتمل ہے اور دوسرا حصہ آخرت اور اس کے متعلقات پر اس سورة مبارکہ میں آخرت کا حصہ سمجھایا گیا ہے۔ لہٰذا یہ نصف قرآن کے برابر ہے۔ اسی طرح بعض دیگر سورتوں کے فضائل بھی آئے ہیں۔ مثلاً سورة کافرون کو ربع قرآن کے برابر کہا گیا سورة قل ھو اللہ احد کو ثلث قرآن کے برابر کہا گیا ہے قرآن پاک کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک حصہ احکام ہیں ، دوسرا حصہ واقعات اور تیسرا حصہ اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔ سورة اخلاص میں اللہ تعالیٰ کی صفات بیان ہوئی ہیں۔ لہٰذا اسے قرآن پاک کے تیسرے حصے کے برابر قرار دیا گیا ہے ۔ موضوع کے لحاظ سے سورة زلزال کو اگرچہ نصف قرآن کہا گیا ہے۔ تاہم اس سورة کی آخری آیت نہایت ہی جامع اور مانع ہے اور انسان کے تمام اعمال پر محیط ہے۔ کوئی چیز اس سے باہر نہیں۔ فمن یعمل مثقال ذرۃ خیر یرہ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرایرہ۔ سابقہ سورتوں کے ساتھ ربط پہلی سورتوں میں بتایا گیا ہے کہ قرآن کا موضوع انسان ہے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے سورة اقرا میں انسان کی تخلیق کا ذکر کیا۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ دنیا میں انسان دو قسم کے ہیں ایک مومن ہیں ، دوسرے طاغی ہیں۔ یہ بھی ارشاد ہوا کہ دنیا میں انسان محض عقل کے بل بوتے پر کامیاب زندگی نہیں بسر کرسکتے بلکہ وہ سب وحی الٰہی کے محتاج ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے سورة قدر میں قرآن کریم اور وحی الٰہی کا ذکر فرمایا ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے تاکہ اس سے انسان راہنمائی حاصل کرسکیں اس کے بعد سورة لم یکن الذین کفروا میں یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ تعلیم کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو جب تک اس کا عملی نمونہ موجود نہ ہو۔ انسان کامیاب نہیں ہو سکتے۔ عملی نمونے کا اتباع کر کے ہی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ چناچہ خداوند کریم نے قرآن پاک کے خلاصہ اور نچوڑ کو نبی کریم (علیہ السلام) کی ذات مبارکہ میں جمع کر کے البینۃ یعنی ایک واضح نشانی کی شکل میں مبعوث فرمایا کہ اس نمونے کو اختیار کر کے حنیف بن جائیں۔ کفر و شرک سے باز رہیں ۔ بدنی اور مالی عبادت انجام دیتے رہیں اور خدا کا خوف اپنے دل میں رکھیں تکاہ تمہیں فلاح نصیب ہوجائے۔ الٰہی نظام کی برکات سورۃ البینہ میں بیان کردہ الٰہی نظام قرآن پاک کا نظام ہے۔ اس کی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبین ﷺ کو عملی نمونہ کے طور پر بھیجا ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نظام آج سے چودہ سو سال قبل متعین کیا۔ بلکہ حضور ﷺ کی مکی زندگی کے تیرہ سال بھی شمار کئے جائیں تو چودہ سو تیرہ سال قبل اللہ تعالیٰ نے نظام متشکل کر کے دنیا میں جاری کردیا۔ ایک ایسا نظام ہے کہ جو شخص بھی اسے سمجھتا ہے۔ اس کی کوشش یہ ہوگی کہ اس نظام کو آگے چلایا جائے اور اس کام کے لئے وہ جماعت تیار کرے گا۔ ایسا شخص کسی گائوں میں ہو یا شہر میں جماعت قائم کر نیکی کوشش کے گا۔ تاکہ یہ کام جماعتی طور پر انجام دیا جاسکے۔ انہی چیزوں کی بجا آوری کے لئے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا علیکم بالجماعۃ جماعت کو لازم پکڑو ، اس سے علیحدگی اختیار نہ کرو کیونکہ جو شخص جماعت سے علیحدہ ہوگیا ، اس بکری کی ہے۔ جو اپنے ریوڑ سے الگ ہوجائے اور اسے بھیڑیا کھا جائے۔ اس لئے فرمایا کہ اگر جماعت سے الگ ہو جائو گے تو شیطان تمہیں گمراہ کر دے گا۔ اگر جماعت کے ساتھ وابستہ رہو گے تو بچے رہو گے۔ اب دیکھیے اگر کوئی شہر میں رہتا ہے۔ تو وہ نظام الٰہی کے مطابق جماعت بنا کر سب سے پہلے اپنے محلے کی اصلاح کا بیڑا اٹھائے گا۔ جب اس میں کامیابی حاصل کرلے گا ، تو اس کی خواہش ہوگی ، کہ سارے شہر کی اصلاح ہوجائے۔ الٰہی نظام کا یہ خاصہ ہے کہ کوئی شخص انفرادی طور پر ٹھیک نہیں رہ سکتا۔ لہٰذا اس کی کوشش ہوگی کہ اس کے ساتھی بھی ٹھیک ہوں ، لہٰذا وہ اپنے ماحول کی اصلاح کی کوشش کرے گا۔ ان اجتماعی مساعی کی بدولت جب شہر کا ماحول درست ہوگا۔ تو پھر اس کی خواہش ہوگی کہ پورے ملک کی حالت درست ہو۔ اگر شہر سے باہر کا ماحول درست نہیں ہوگا ، تو وہ شہر کی فضا کو بھی مکدر کر دے گا۔ لہٰذا وہ پورے ملک کی اصلاح کی کوشش کے گا۔ اسی طر جب پورا ملک صحیح ہوجائے گا۔ تو لامحالہ یہ خیال پیدا ہوگا کہ بیرون ملک کے برے اثرات کہیں ملکی فضا کو خراب نہ کردیں۔ لہٰذا دو سے ممالک بھی ٹھیک ہونے چاہئیں۔ لہٰذا وہ دوسرے ملکوں کی اصلاح کے پروگرام بنائے گا اور اس طرح یہ الٰہی نظام پوری دنیا میں رائج ہوجائے گا۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ مختلف ممالک کے اثرات دوسرے ملکوں میں کس طرح پڑتے ہیں۔ آج کی دنیا کا غالب نظام خواہ وہ امریکی ہو یا برطانوی یا روسی ، وہ دوسرے ممالک کو متاثر کئے بغیر نہیں رہتا۔ امریکی اور برطانوی نظام دو سو یا چار سو سال سے غالب ہیں۔ اب روسی نظام بھی غالب آ رہا ہے۔ یہ نظام جاں بھی جائیں گے ، تباہی کا سبب بنیں گے ۔ برخلاف اس کے جب الٰہی نظام قائم ہوا تو لوگ اسے لے کر پوری مستعدی کے ساتھ آگے بڑھے۔ تاکہ لوگ اس اجتماعی پروگرام سے فیض یاب ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس پروگرام میں خاص برکت رکھی ہے کہ اس کو ماننے والے اس کی ترویج کی پوری پوری کوشش کرتے ہیں۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اس دور میں اس نظام کو ماننے والے کمزور ہیں ، ان کو سمجھ ہی نہیں کہ یہ نظام کیا ہے۔ انہیں اس نظام کی تعلیم ہی نہیں دی جاتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان پر بیرونی اثرات حاوی ہیں جو ان کی اصلاح میں حائل ہیں۔ حقیقت میں ہم نے اس نظام کو ترک کردیا ہے۔ پہلے لوگ سمجھتے تھے کہ صرف عرب کی اصلاح کافی نہیں جب تک دوسرے ملک بھی درست نہ ہوں۔ اگر دوسرے ممالک کی اصلاح نہ ہوئی ، تو عرب بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ لہٰذا وہ نظام الٰہی کو لے کر آگے بڑھے اور اس میں کامیاب ہوئے۔ جزائے عمل کب واقع ہو گی درحقیقت یہ علت اور معلول کا سلسلہ ہے۔ قرآن پاک نے جزائے عمل کے مسئلے کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ تاکہ لوگ اپنے عامال سے خبردار رہیں کہ ان کے عمل کے ایک ایک ذرے کا نتیجہ سامنے آئے گا۔ پچھلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا ” جزآء ھم عند ربھم جنت عدن تجری من تحتھا الانھر “ دنیا میں انقلاب برپا کرنیوالے ایماندار لوگوں کے لئے ان کے رب کے پاس آخرت میں بہشت ہے ، جو انہیں نصیب ہوگی اور اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی رضا نصیب ہوگی۔ جو بہت بڑی چیز ہے۔ جب زمین ہلا دی جائے گی اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جزائے عمل کب واقع ہوگی تو فرمایا اذا زلزلت الارض زلزالھا جب ہلا دی جائے گی زمین ، اس کا ہلایا جانا۔ مطلب یہ کہ جزائے عمل اس وقت واقع ہوگی ، جب زمین کو زور سے ہلا دیا جائے گا۔ اس پر زلزلہ طاری کردیا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ اس زمین پر رہائش ایک خاص وقت تک کے لئے ہے اور یہ اس وقت تک ہے ، جب تک انسانوں میں صلاحیت موجود ہے۔ جب صلاحیت کمزور ہوجائے گی ، تو انسان زمین پر نہیں رہ سکے گا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب زمین پر خدا کا نام لینے والا کوئی نہیں رہے گا تو پھر یہ زمین بھی نہیں رہے گی۔ پھر سارا نظام بدل جائے گا۔ جس طرح مکان جب بوسیدہ ہوجاتا ہے۔ اس میں قائم رہنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔ تو وہ گرنے لگتا ہے یا جس طرح خیمہ کی طنابیں ڈھیلی ہوجائیں تو وہ گر جاتا ہے۔ اسی طرح جب انسانوں میں صلاحیت باقی نہیں رہے گی۔ تو یہ زمین بھی باقی نہیں رہے گی۔ اس کی بجائے دوسرا نظام قائم ہوگا۔ جو جزائے عمل کا نظام ہے۔ لہٰذا فرمایا کہ جزائے عمل اس وقت ہوگی جب زمین کو زلزلہ دیا جائے گا۔ جیسا کہ قرآن پکا اور حدیث شریف میں آتا ہے۔ سب سے پہلے خدا تعالیٰ کی ایک عظیم اور بزرگ تجلی پڑے گی۔ اس کے متعلق فرمایا ” واشرقت الارض بنور ربھا “ گویا زمین چمک اٹھے گی۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ کی قہری تجلی نازل ہوگی۔ جسے کوئی چیز برداشت نہیں کرسکے گی۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ تمام چیزیں درہم برہم ہوجائیں گی۔ اس کے بعد تیسرا واقعہ یہ ہوگا کہ صور پھونکا جائے گا ، جو کہ جزائے عمل کے لئے اٹھانے والا صور ہوگا۔ زمین ہر چیز اگل دیگی جب زلزلہ ارض سے کوئی چیز اپنے مستقر پر قائم نہیں ہے گی تو واخرجت الارض اثقالھا زمین اپنے بوجھ باہر نکال دیگی۔ یعنی جو بھی چیز زمین کے اندر ہے خزائن ہیں یا دفائن ، سونا ہے یا چاندی حتی کہ مردے بھی باہر نکال دے گی۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ قرب قیامت میں بعض مقامات پر اس قسم کی نشانیاں ظاہر ہوں گی۔ زمین کو حکم ہوگا ۔ تمہارے اندر سونے کے جو خزانے ہیں۔ انہیں باہر نکال دو ۔ تعمیل حکم میں زمین سونے کے ستون باہر پھینک دیگی۔ دنیا میں فساد پھیلانے والے سونے کی یہ بےقدری دیکھ کر افسوس کا اظہار کریں گے۔ کہ اس کی خاطر ہم لڑتے جھگڑتے رہے۔ قاتل کہے گا کہ اس سونے کی خاطر میں نیق تل ناحق کیا۔ چور کہے گا کہ اس کی خاطر میں میرا ہاتھ کاٹا گیا۔ اب یہ ستونوں کی صورت میں پڑا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ نہر فرات کے متعلق فرمایا کہ وہ بھی اپنے خزانے باہر نکال دے گی۔ الغرض قیامت کو متام چیزیں باہر نکالی جائیں گی۔ واخرجت الارض اثقالھا کا یہی مطلب ہے۔ فرمایا وقال الانسان مالھا انسان حیرت اور دہشت کے مارے کہے گا۔ یہ زمین کو کیا ہوگیا ہے۔ اس دن انسانوں کے اعمال بھی برہنہ ہوجائیں گے۔ ” یوم تبلی السرآئر “ تمام راز فاش ہوجائیں گے۔ شاہ ولی اللہ کی تشریح کے مطابق انسان دیکھے گا کہ اس کے اعمال اس کو چمٹ رہے ہیں۔ ہر عمل خواہ برا ہے یا اچھا ، انسان کے ساتھ چمٹ جائے گا۔ اور انسان کہے گا یہ کیا ہوگیا ہے۔ راز فاش ہوجائیں گے فرمایا یومئذ تحدث اخبارھا اس دن زمین اپنی خبریں ظاہر کر دے گی۔ حدیث شریف میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ زمین کا خبریں ظاہر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس زمین پر اللہ کے کسی بندے یا بندی نے جو بھی کام کیا ہے زمین اسے ظاہر کر دے گی جس جس جگہ پر کسی نے عبادت کی ہے یا نیکی کا کوئی کام کیا ہے۔ وہ سارے راز فاش کردیئے جائیں گے۔ زمین کے اندر کی متام چیزیں باہر آجائیں گی۔ انسان سخت دہشت میں ہوگا۔ اور حیرت واستعجاب کے ساتھ کہے گا وقال الانسان مالھا کہ زمین کو کیا ہوگیا ہے کہ ساری خبریں بتلا رہی ہے۔ سارے راز ظاہر کر رہی ہے اور یہ سب کچھ اس لئے ہوگا کہ بان ربک اوحی لھا تیرے رب نے زمین کو اشارہ کردیا ہے اور وہ اس کے حکم کی تعمیل میں اپنے اندر پوشیدہ ہر چیز باہر نکال رہی ہے۔ ہر چیز اس میں محفوظ تھی ، کوئی چیز ضائع نہیں ہوئی۔ لہٰذا اب ظاہر ہو رہی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے۔ جیسے گرامو فون ریکارڈ میں کوئی چیز محفوظ ہوتی ہے ۔ جب سوئی لگا دی جاتی ہے۔ تو وہ بات ظاہر ہنے لگتی ہے۔ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا۔ تمام پوشیدہ اعمال ظاہر ہوجائیں گے۔ زمین ہر چیز نکال باہر کرے گی۔ لوگ گروہ گروہ ہوجائیں گے فرمایا یومئذ یصدر الناس اشتاتاً اس دن لوگ گروہ گروہ ہوجائیں گے مطلب یہ کہ اپنے اعمال کے اعتبار سے مختلف گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ زانیوں کا گروپ الگ ہوگا ، چوروں کا الگ ، مشرکوں کا الگ اور بدعتیوں کا الگ ٹولہ ہوگا۔ اسی طرح مومنوں کا گروہ الگ ہ گا۔ ایک موٹی سی تقسیم یہ کہ ایماندار الگ ہوجائیں گے اور کفر والے الگ یعنی نیک و بدمتفرق ہوجائیں گے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں دوسری جگہ آتا ہے ” فرق فی الجنۃ و فریق فی السعیر ‘ ایک گروہ بہشت کی طرف روانہ ہوگا جب کہ دوسرا گروہ دوزخ کی طرف جائے گا۔ پھر یہ سب اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچ جائیں گے۔ اعمال سامنے رکھ لئے جائیں گے فرمایا یہ گروہ بندی اس لئے ہوگی لیرواعمالھم تاکہ وہ سب اپنے اپنے اعمال کو دیکھ سکیں۔ یہی دراصل اس سورة کا مرکزی مضمون ہے کہ لوگوں کے اعمال ان کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے۔ تاکہ وہ ان اعمال کا بھگتان کرسکیں۔ چناچہ فمن یعمل مثقال ذرۃ خیراً یرہ جس کسی نے ایک ذرے کے برابر بھی نیکی کا کام کیا ہوگا ، وہ اسے دیکھ لے گا۔ خدا تعالیٰ کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرتے ، ہر چیز محفوظ ہے اور وقت پر ظاہر ہوگی۔ حدیث شریف میں آتا ہے۔ اتقوا النار ولو بشق تمرۃ “ دوزخ سے بچو۔ خواہ کھجور کے آدھے دانے کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔ کجھور کے ایک ٹکڑے کی کیا حیثیت ہے۔ مگر یہ معمولی سی نیکی بھی وہاں موجود ہوگی۔ اس لئے حضور ﷺ نے Zafar فرمایا 2 ؎ ہے لاتحقرن من المعروف شیئاً نیکی کی کسی چیز کو حقیر نہ سمجھو۔ یہی چھوٹی چھوٹی نیکیاں مل کر بڑے بڑے ڈھیر بن جائیں گی۔ کعب احبار کی روایت میں 3 ؎ ہے۔ اس نے بیان کیا کہ پہلی کتابوں کے علوم میں آتا ہے کہ نیکی کی کسی بات کو حقیر نہ جانو لاتحقرواشیعاً من المعروف کیونکہ سابقہ صحیفوں میں منقول ہے کہ ایک شخص نے خدا کے راستے میں جاتے ہوئے کسی شخص کو مانگے کی سوئی دی تھی تاکہ وہ کپڑے میں ٹانگا لگا لے۔ اللہ تعالیٰ نے اس معمولی عمل کے بدلے میں جنت میں پہنچا دیا۔ 1 ؎ بخاری ص 190 ج 1 ، ص 890/ج 2 ، مسلم ص 327/ج 1 ، 2 ؎ مسلم ص 329/ج 2 ، 3 ؎ تفسیر کبیر ص 61/ج 32 اور یہ بھی فرمایا 1 ؎ کہ ایک عورت نے بیت المقدس کی تعمیر کے سلسلہ میں گندم کا صرف ایک دانہ دیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے اسے جنت عطا کردی ، حالانکہ ایک دانے کی کیا حیثیت ہے۔ تفسیر کبیر 2 ؎ میں آتا ہے کہ کسی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی حقیر نہ سمجھو۔ فرمایا جس طرح چھوٹی سے چھوٹی نیکی ضائع نہیں ہوگی۔ اسی طرح چھوٹی سے چھوٹی برائی بھی یقینا اپنا اثر دکھائے گی ، اس لئے فرمایا ومن یعمل مثقال ذرۃ شرایرہ ، اگر ذرہ برابر کسی سے زیادتی کی ہے ، بدسلوکی کی ہے کسی کو برا بھلا کہا ہے یا کوئی اور برائی کا کام کیا ہے تو وہ سب ظاہر کردیا جائے گا اور اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ ایمان کے بغیر کوئی نیکی قابل قبول نہیں مفسرین کرام 3 ؎ فرماتے ہیں کہ نیکی اور بدی کی معافی کا قانون بھی موجود ہے۔ کسی کافر کی نیکی قیامت کو کچھ کام نہیں آئے گی۔ اس کے کفر کی وجہ سے اس کی تمام نیکیاں اڑ جائیں گی ، کیونکہ خدا تعالیٰ کا فرمان ہے ، کفر کی وجہ سے نیکی قبول ہی نہیں ہوتی۔ برخلاف اس کے نیکی اور ایمان کی بدولت برائیاں بھی معاف ہوتی رہتی ہیں۔ انسان کے صغائر اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان 4 ؎ ہے۔ جب آدمی وضو کرتا ہے تو ہاتھ ، پائوں اور منہ کے صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں ” ان الحسنت یذھبن السیات نیکوں کی وجہ سے برائیاں معاف ہوجاتی ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ قیامت کو کفار کے پلے میں برائیاں ہی برائیاں ہوں گی۔ جب کہ ایمانداروں کے بہت سے گناہ معاف ہو کر نیکیوں میں اضافہ ہوچکا ہوگا۔ خلاصہ کلام بہرحال اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں جزائے کا مسئلہ سمجھا دیا ہے اور اس سورة کو نصف قرآن کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ انسان کا تعلق دو چیزوں سے ہے یعنی عمل اور جزائے عمل ، اس سورة میں چونکہ جزائے عمل کا ذکر ہے اس لئے اسے نصف قرآن کے برابر کہا گیا ہے۔ پہلی سورة کی ساتھ اس سورة کا ربط یہ ہے کہ جزائے عمل اس وقت واقع ہوگا جب پہلی سورة میں مذکورہ نظام نہیں رہیگا۔ یہ نظام ایک خاص وقت تک ہے۔ جب تک کہ انسان میں صلاحیت موجود ہے ج بیہ صلاحیت ختم ہو جائیگی۔ تو یہ نظام بھی ختم ہوجائیگا۔ اس کے بعد دوسرا دوسرا نظام قائم ہوگا جس میں جزائے عمل واقع ہوگا۔ 1 ؎ تفسیر کبیر ص 63/ج 32 ، 2 ؎ تفسیر کبیر 62 , 61/ج 33 ، 3 ؎ تفسیر کبیر ص 61/ج 32 ، 4 ؎ مسلم ص 125 , 121/ج 1