100. Surah Al-Aadiyaat

العادياتThe Chargers · 11 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 100:1–11

وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًاۙ Open ayah 100:1 in the Quran reader

قسم ہے دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپتے ہوئے

فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًاۙ Open ayah 100:2 in the Quran reader

پس آگ سدگان والوں کی پائوں جھٹک کر

فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًاۙ Open ayah 100:3 in the Quran reader

پھر ان کی جو غارت ڈالنے والے ہیں صبح کے وقت

فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًاۙ Open ayah 100:4 in the Quran reader

پس ابھارتے ہیں وہ اس مقام میں گرد و غبار

فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًاۙ Open ayah 100:5 in the Quran reader

پس وہ دشمن کی جماعت میں گھس جاتے ہیں

اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ Open ayah 100:6 in the Quran reader

بیشک انسان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکر گذار ہے

وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌۚ Open ayah 100:7 in the Quran reader

اور بیشک وہ خود اس بات پر گواہ ہے

وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌؕ Open ayah 100:8 in the Quran reader

اور بیشک وہ انسان مال کی محبت میں بڑا پکا ہے

اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِۙ Open ayah 100:9 in the Quran reader

کیا انسان نہیں جانتا ، جس وقت کریدا جائے گا ان کو جو قبروں میں پڑے ہوئے ہیں

وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِۙ Open ayah 100:10 in the Quran reader

اور سینے کے رازوں کو ظاہر کردیا جائے گا

اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۠ Open ayah 100:11 in the Quran reader

بیشک ان کا پروردگار ان کے ساتھ اس دن خبر رکھنے والا ہے

مکی زندگی میں نازل ہوئی ، تاہم حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت قتادہ اور امام مالک سے منقول ہے کہ یہ مدنی سورة ہے۔ اس کی گیارہ آیات ہیں۔ یہ سورة چالیس الفاظ اور ایک سو تریسٹھ حروف پر مشتمل ہے۔ گزشتہ سورة کے ساتھ ربط سابقہ سورة زلزال میں انسان کے جزائے عمل کا ذکر تھا کہ جزائے عمل کا واقع ہونا لازم ہے۔ اس سے پہلی سورة البینتہ میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے ۔ انسان کو اللہ کی عبادت کرنی چاہئے اور حنیف بن کر رہنا چاہئے۔ بدنی اور مالی عبادات یعنی مال اور زکواۃ پر کاربند ہونا چاہئے۔ خدا کا خوف ہر وقت دل میں جاگزیں ہونا چاہئے۔ اس سورة مبارکہ میں ان بیماریوں کا ذکر ہے جو کہ مذکورہ بالا پروگرم پر عمل درآمد میں مانع بنتی ہیں۔ ان میں سے ایک بیماری ناشکر گزاری ہے اور دوسری مال کی شدید محبت مقصد یہ ہے کہ ان دو بیماریوں کا علاج کرنا چاہئے۔ تاکہ قرآن پاک کے پروگرام پر عملدرآمد میں موجود رکاوٹ کو دور کیا جاسکے۔ شان نزول بعض روایات میں آتا ہے 1 ؎ کہ حضور ﷺ نے ایک موقع پر صحابہ کی ایک جماعت کو بنی کنانہ کے کافروں کا مقابلہ کرنے کے لئے بھیجا۔ بنی کنانہ کے کفار بڑے سخت لوگ تھے آپ نے لشکر کو بعض خصوصی ہدایات دیں کہ یہاں سے فلاں تاریخ کو روانہ ہونا اور فلاں تاریخ تک منزل مقصود تک پہنچ جاتا۔ اس روز رات کے آخری حصے میں یعنی علی الصبح دشمن پر حملہ کرنا اور پھر فلاں تاریخ کو واپس آجانا۔ جب صحابہ کرام کی جماعت سفر پر روانہ ہوگئی ، تو راستے میں ایک ندی میں سیلاب آیا ہوا تھا۔ لہٰذا انہیں ایک دن وہیں رکنا پڑا ، دوسرے روز جب ندی کا پانی اترا تو صحابہ آگے روانہ ہوگئے۔ حضور ﷺ کے ارشاد کے مطابق دشمن پر حملہ کیا اور پھر واپس روانہ ہوگئے۔ چونکہ واپسی میں ایک دن کی تاخیر ہوگئی اور صحابہ مقررہ تاریخ پر نہ پہنچ سکے تو منافقین نے پراپیگنڈا شروع کردیا کہ مسلمان اس مہم میں مارے گئے ہیں۔ چناچہ مسلمانوں میں پریشانی کا پیدا ہونا ایک فطری امر تھا۔ اس موقع پر 2 ؎ روح المعانی 214/ج 30 ، در منشور 383/ج 6 ، تفسیر اتقان ص 14/ج 1 اللہ تعالیٰ نے یہ سورة عادیات نازل فرما کر مسلمانوں کو تسلی دی۔ عادیات کا مفہوم بعض 1 ؎ مفسرین فرماتے ہیں کہ عادیات سے مراد غازیوں کے گھوڑے ہیں جو جہاد میں جاتے ہیں ۔ بعض 2 ؎ دوسرے فرماتے ہیں کہ یہ کمی سورة ہے اور اس وقت جہاد فرض نہیں ہوا تھا۔ لہٰذا یہاں مطلقاً گھوڑوں کے دوڑنے کا ذکر ہے۔ وہ گھوڑے خواہ ڈاکوئوں کے کیوں نہ ہوں۔ تاہم گھوڑوں کی حالت بیان کر کے انسان کی ناشکر گزاری کی بات سمجھائی گئی غازیوں کے گھوڑے جب دشمن پر حملہ آور ہوتے ہیں ، تو یہ خدا تعالیٰ کے قہر کا نمونہ ہوتا ہے۔ دشمن مارے جاتے ہیں۔ ان کا مال و اسباب چھین لیا جاتا ہے ، دشمن ذلیل و خوار ہوجاتا ہے تو یہ بالکل قیامت کا نقشہ ہوتا ہے۔ قیامت کو بھی ایسی ہی حالت ہوگی۔ لوگوں کے پاس مال و اسباب نہیں رہے گا ، جو آج عزیز ہیں ، اس دن ذلیل ہوجائیں گے اور نہایت خطرناک حالات ہوں گے۔ پانچ قسمیں اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی دو بیماریوں کے ذکر سے پہلے پانچ قسمیں اٹھائیں ہیں۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ والعدیت ضبحاً قسم ہے ہانپ کر دوڑنے والے گھوڑوں کی ضبحاً کا معنی سانس کا پھول جانا یا ہانپنا ہے یہاں گھوڑوں کی اس حالت کا ذکر ہے جب وہ دوڑ کر ہانپنے لگتے ہیں۔ فالموریت قدحاً قسم ہے قدم جھٹک کر آگ سلگان یوالے گھوڑوں کی ایرآء کا معنی آگ جلانا ہوتا ہے۔ جب گھوڑا دوڑتا ہے او اس کے سم پتھرے سے ٹکراتے ہیں تو آگ کی چنگاریاں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ اس طرف اشارہ ہے۔ اس زمانے میں آگ چقماق پتھر کو ٹکرا کر حاصل کی جاتی تھی۔ اسی طرح جب گھوڑے کے نعل پتھر سے ٹکراتے تھے تو چنگاریاں پیدا ہوتی تھیں۔ فرمایا فالمغیرت صبحاً قسم ہے ان گھوڑوں کی جو صبح کے وقت غارت ڈالتے ہیں۔ یعنی شب خون مارتے ہیں … شب خون رات کے 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 541/ج 4 ، تفسیر خازن ص 541/ج 4 ، معالم التنزیل ص 248/ج 4 ، روح المعانی 251/ج 30 ، 3 ؎ المقام المحود تفسیر مولانا سندھی 158/پارہ 30 ، تفسیر عزیزی فارسی ص 341/پارہ 30 آخری حصے میں مارا جاتا۔ جب دشمن میٹھی نیند سو رہا ہوتا ہے۔ حدیث شریف 1 ؎ میں آتا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ پر حملہ کا ارادہ فرماتے تو رات کے آخری حصے کا انتظار فرماتے ۔ صبح صادق کے وقتا گر دوسری طرف سے اذان کی آواز سنائی دیتی تو سمجھتے کہ یہ لوگ اہل ایمان ہیں لہٰذا حملہ نہ کرتے۔ اور اگر اذان کی آواز نہ آتی تو حملہ کردیتے۔ اسی کو فرمایا فالمغیرات صبحاً قسم ہے ان گھوڑوں کی جو صبح کی وقت غارت ڈالتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا فاثرن بہ نقعاً قسم ہے ان گھوڑوں کی جو گرد و غابر کو ابھارتے ہیں۔ یعنی جب میدان جہاد میں دوڑتے ہیں ، تو لازم ہے کہ گرد و غبار اڑتا ہے۔ نقع غبار کو کہا جاتا ہے۔ فوسطن بہ جمعاً پس وہ دشمن کی جماعت میں گھس جاتے ہیں۔ جمع کی جمع جموع ہے مطلب یہ ہے کہ دشمن کے قلب پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ عام طور پر لشکر پانچ حصوں میں منقسم ہوتا ہے اور امیر لشکر مرکزی حصہ میں ہوتا ہے تو فرمایا مجاہدوں کے ان گھوڑوں کی قسم ہے ، جو مرکزی جماعت میں گھس جاتے ہیں تاکہ دشمن کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جاسکے۔ گھوڑے کی خصوصیات گھوڑا بڑاوفادار جانور ہے۔ اس کا مالک اس کے ساتھ احسان کرتا ہے۔ اس کو پالتا ہے ، گھاس ، دانہ وغیرہ کھلاتا پلاتا ہے۔ تو گھوڑا بھی مالک کی وفاداری میں سر دھڑ کی بازی لگا دیتا ہے۔ موجودہ مشینی دور سے پہلے گھوڑے سے بہت زیادہ کام لیا جاتا تھا۔ عام سواری کے علاوہ جنگ کے دوران گھوڑے کی اہمیت بہ بڑھ جاتی تھی۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے تک فوج میں رسالہ کو خاص مقام حاصل تھا۔ گھوڑے کی خیر و برکت کے متعلق حدیث میں 2 ؎ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ الخیل مقعود فی نواصیھا الخیر الی یوم القیمۃ یعنی گھوڑا ایک ایسا جانور ہے جس کی پیشانی کے ساتھ اللہ نے قیامت تک بہتری باندھ رکھی ہے۔ یعنی اس کی اہمیت کسی زمانہ میں بھی کم نہیں ہوگی۔ جدید آلات اور سائنس کے دور میں گھوڑا آج بھی بڑے کام کا جانور ہے۔ جنگ کے دوران میں سینے 1 ؎ مسلم ص 166/ج 1 ، 2 ؎ مسلم ص 133/ج 2 پر تیر ، نیزہ اور گولی کھاتا ہے۔ مگر مالک کو ہر صورت بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ انسان ناشکر گزار ہے گھوڑے کے عادات و خصائل میں انسان کے لئے بہت بڑا سبق ہے۔ گھوڑا اپنے مالک کے ساتھ کس قدر وفاداری کا ثبوت دیتا ہے۔ حالانکہ اس کا مالک ، نہ اس کا خالق ہے اور نہ حقیقی مالک بلکہ محض مجازی مالک ہے اور صرف اس کے گھاس دانہ کا ہی بندوبست کرتا ہے۔ برخلاف اس کے انسان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ، وہی اس کا خالق اور حقیقی مالک ہے۔ اس کی متام ضروریات پوری کیں ، انعامات سے نوازا ، مگر انسان کی حالت یہ ہے کہ ان الانسان لربہ لکنود وہ اپنے رب کا بڑا ہی ناشکر گزار ہے۔ کنور کا معنی انتہائی ناشکر گزار۔ انسان کی حالت قابل فسوس ہے کہ اس میں اپنے مالک کے لئے گھوڑے جتنی وفا داری بھی نہیں پائی جاتی۔ کنو د بخیل کو بھی کہتے ہیں۔ حضور نبی کریم (علیہ السلام) نیف رمایا 1 ؎، کنود وہ آدمی ہے جو اکیلا کھاتا ہے خادم کو مارتا ہے۔ کسی کو خیر نہیں دیتا۔ اتنا حریص ہے کہ نہ مہمان کی ممہان نوازی کرتا ہے نہ کسی غریب ، یتیم ، مسکین کا خیال رکھتا ہے۔ محض اپنا پیٹ بھرنے کی فکر میں رہتا ہے ناشکر گزاری ایک شدید بیماری ہے جو اکثر لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ نیز انسان نعمتوں کی قدر نہیں کرتا۔ یعنی اسے صحیح مقصد کے لئے استعمال بھی نہیں کرتا۔ خدا تعالیٰ کی نعمت کی ناقدری کا ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ اسے منجانب اللہ نہیں سمجھتا بلکہ اپنی محنت کا صلہ سمجھتا ہے۔ قرآن پاک میں موجود ہے ” اوتیتہ علی علم عندی طہ یہ مال و دولت تو مجھے میرے علم و ہنر کی وجہ سے حاصل ہوا ہے۔ میں سائنس دان ہوں ، انجینئر ہوں ، ڈاکٹر ہوں ، ہنر مند ہوں اس وجہ سے میں نے مال جمع کیا ہے۔ حالانکہ نادان یہ نہیں سمجھتا کہ اس میں اہلیت پیدا کرنے والی ذات کون سی ہے۔ یہ بھی ناشکر گزاری کی ایک نشانی ہے۔ شکر گزاری کی تلقین اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس قدر نعمتیں عطا کی ہیں کہ وہ ان کا شکریہ ادا کر ہی نہیں سکتا۔ وہ اپنی پیدائش پر ہی غور کرے کہ اللہ نے اسے کس طرح ایک حقیر قطرئہ آب سے پیدا کیا اور پھر اس کی بتدریج پرورش کی۔ اللہ تعالیٰ انسان کا خالق بھی ہے اور رب بھی ہے پرورش اور تربیت کرنے والا بھی اس کے سوا کوئی نہیں۔ لا رب سواہ خدا تعالیٰ ہی انسان کو درجہ کمال تک پہنچانے والا ہے۔ مگر پھر بھی انسان اتنا بخیل واقع ہوا ہے کہ ہر وقت ناشکر گزاری میں رہتا ہے۔ قرآن کریم میں حضرت دائود (علیہ السلام) کو خطاب ہوا ۔ ” اعملوا ال داود شکراً ۔ یعنی اے دائود (علیہ السلام) کے گھر والو ! اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرو۔ نیز فرمایا ” وقلیل من عبادی الشکور “ میرے بندوں میں شکر ادا کرنے والے تھوڑے ہی ہیں۔ انسانوں کی اکثریت کے متعلق فرمایا ” ان الانسان لظلوم کفار “ کو یہ تو ظالم اور خدا کی نعمتوں کے ناقدر دان ہیں۔ ناشکر گزاری کی یہی وہ بیماری ہے ، جس کا شکوہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر کیا ہے۔ اس کی بیماری کی وجہ سے انسان صحیح پروگرام پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔ اگر ان میں شکر گزاری کا مادہ ہو تو قرآن پاک کے پروگرام پر عمل کرنا مشکل نظر نہ آئے۔ مگر اس ی بیماری کی وجہ سے انسان اس پروگرام کو بہت بڑا بوجھ سمجھتا ہے۔ لہٰذا انسانوں کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کریں۔ ” وان تعدوا نعمۃ اللہ لاتحصوھا “ حالانکہ حقیقت یہ ہے۔ انسان خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار تک نہیں کرسکتا۔ انسان کے ایک ایک بال پر اللہ تعالیٰ کی اتنی نعمتیں خرچ ہوتی ہیں کہ ان کا شکر ادا نہیں کیا جاسکتا۔ پانی کا ایک گھونٹ جو انسان پیتا ہے ۔ کتنی بڑی نعمت ہے۔ اس کی قدر اس وقت معلوم ہوتی ہے ، جب یہ میسر نہ ہو۔ یہ تو انسان کی اندرونی نعمتیں ہیں۔ انسان جسم سے باہر اس قدر انعامات ہیں کہ انسان کے شمار سے باہر ہیں۔ مگر پھر بھی وہ ناشکر گزاری کا مرتکب ہوتا ہے۔ وانہ علی ذلک لشھید اور وہ خود اس بات پر گواہ ہے۔ اس کی اپنی حالت بتا رہی ہے کہ وہ ناقدردان ہے۔ گھوڑے کی مثال اس کے سامنے ہے جو معمولی خوراک دینے پر اپنے مالک کا اس قدر مطیع اور فرمانبردار ہے اور یہ انسان ہو کر اپنے حقیقی مالک کا شکر تک ادا نہیں کرتا۔ مال کی محبت فرمایا وانہ لحب الخیر لشدید بیشک انسان مال کی محبت میں بڑا پکا ہے۔ خیر نیکی کو بھی کہا جاتا ہے اور مال کو بھی جیسے قرآن میں آتا ہے۔ ” ان ترک خیر الوصیۃ “ یعنی اگر کسی نے مال چھوڑا ہے اسے چاہئے کہ وصیت کر جائے۔ یہاں بھی خیر سے مراد مال ہے مال کے ساتھ محبت ہونا فطری ہے۔ مگر یہاں شدید کا لفظ استعمال ہوا ہے ، جس کا مطلب ہے کہ وہ مال کی محبت میں اس قدر منہمک ہے کہ اسی کو اپنا منتہائے مقصود سمجھنے لگا ہے۔ سورة فجر میں ذکر چکا ہے۔ ” وتحبون المال حبا جماً “ تمہاری بیماری یہ ہے کہ تم جی بھر کر مال سے محبت کرتے ہو۔ مال کی محبت میں حلال و حرام کی تمیز بھی نہیں کرتے کہ کس ذریعے سے حاصل ہو رہا ہے۔ یہی وہ سٹیج ہے جہاں آ کر انسان حقوق اور فرائض کو بھی بھول جاتا ہے۔ مال کے … اس قدر زیادہ انہماک کی مذمت کی گئی ہے اور اسے شدید محبت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ مومن کے لئے مال اچھی ساتھی ہے ۔ مسلم شریف 1 ؎ کی حدیث میں یوں بھی آتا ہے ونعم صاحب المسلم ھو لمن اعطی الخ جو اللہ کا حق ادا کرتا ہے اس کے لئے مال اچھا ہے۔ ظاہر ہے کہ جو مال میں سے اللہ کا حق ادا کرتا ہے۔ زکوۃ دیتا ہے۔ صدقہ خیرات کرتا ہے۔ وہ اس کی شدید محبت میں مبتلا نہیں ہے۔ خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے۔ جب کوئی مال کی شدید محبت میں پھنس جاتا ہے۔ مال اس کا معبود بن جاتا ہے۔ حلال و حرام کی تمیز اٹھ جاتی ہے اور پھر ساری خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ حضرت علی نے اپنے فرزندان حضرت حسن اور حسین کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا۔ 2 ؎ (آیت) اے بیٹو ! بعض انسان جانوروں کی طرح ہوتے ہیں کہ جب مال میں نقصان ہوجائے تو ذرہ بھر برداشت نہیں کرتے۔ مگر دین سارا بھی بگڑ جائے تو انہیں پرواہ 1 ؎ مسلم ص 336/ج 1 ، 2 ؎ دیوان سیدنا علی ص 45 مطبوعہ کراچی نہیں ہوتی۔ ایسے لوگ اگرچہ انسانی شکل و صورت رکھتے ہیں۔ مگر حقیقت میں وہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ اسی کیفیت کے متعلق فرمایا وانہ لحب الخیر لشدید انسان مال کی محبت میں پکا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ مال کی یہ محبت عام لوگوں کا خاصہ ہے۔ ورنہ انبیاء (علیہم السلام) اولیاء اور بزرگان دین میں مال کی محبت یا ناشکر گزاری کا کوئی شائبہ تک نہیں ہوتا ان کے نزدیک مال کی کوئی حیثیت نہیں ۔ اس سورة میں عام لوگوں کی ذہنیت کا ذکر کیا گیا ہے کہ ان میں مال کی محبت شدید ہوتی ہے نیز وہ شکر گزار ہوتے ہیں اور یہی وہ دو بیماریاں ہیں جن کا ذکر اس مقام پر ہوا ، اور جن کا علاج ضروری ہے۔ جب تک ان بیماریوں کا علاج نہیں ہوگا۔ اسلام کے پروگرام پر عمل درآمد ممکن نہیں۔ تمام راز کھیل جائیں گے فرمایا افلا یعلم اذا بعثر ما فی القبور کیا انسان نہیں جانتا جس وقت کریدا جائے گا ان کو جو قبروں میں پڑے ہوئے ہیں۔ یعنی انہیں قبروں سے باہر نکالا جائے گا۔ گزشتہ سورة میں آیا ہے ” فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ “ انسان اپنے اعمال کا ذرہ ذرہ مشاہدہ کرے گا کیا وہ یہ تصور نہیں رکھتا کہ ان کی قبروں کو کھود کر باہر نکالا جائے گا۔ وحصل ما فی الصدور اور سینے کے رازوں کو ظاہر کردیا جائے گا۔ آج تو انسان مال کی محبت میں اپنے راز چھپاتا ہے۔ دوسروں کو خبر نہیں ہونے دیتا بعض اوقات لوگوں کو دھوکا بھی دیتا ہے۔ بظاہر وہ لوگوں سے احسان کرتا نظر آتا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقت میں استحاصل کر رہا ہوتا ہے۔ قیامت کے دن یہ تمام چیزیں ظاہر کردی جائیں گی۔ اس دن ہر چیز سامنے ہو ی کہ کس شخص نے کیا کیا دھوکا کیا ہے۔ کون سا فراڈ کیا ہے۔ پراپیگنڈا خدمت انسانی کا کرتا تھا۔ مگر درحقیقت اپنا دھندا چلاتا تھا۔ ظاہر کچھ تھا اور باطن کچھ تھا۔ اللہ تعالیٰ اس دن سینوں کے رازوں کو ظاہر کردیں گے۔ کیا انسان کے سامنے یہ حالت نہیں ہے۔ اگر انسان ان حالات پر توجہ کرے تو ناشکر گزاری کا ارتکاب نہ کے۔ مال کی شدید محبت سے بچ جائے۔ حقوق و فرائض کو ادا کرنے لگے تاکہ اس دن شرمندگی نہ اٹھانی پڑے جس دن تمام راز فاش کردیئے جائیں گے۔ ان ربھم بھم یومئذ الخبیر بیشک ان کا پروردگار اس دن ان سے باخبر ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کو تو آج بھی ہر چیز کی خبر ہے۔ مگر اس دن خبردار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سب پر ظاہر ہوجائے گا کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہے گی۔