Ayahs 101:1–11نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة القارعتہ ہے اس کی پہلی آیت میں قارعہ کا لفظ مذکور ہے۔ اسی سے سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی گیارہ آیتیں ہیں اور یہ چھتیس الفاظ اور ایک سو پچاس حروف پر مشتمل ہے۔
موضوع
پہلی سورة کی طرح یہ سورة بھی جزائے عمل سے تعلق رکھتی ہے۔ اس سے پہلی سورة میں بھی یہی مضمون تھا۔ اس سورة میں بتایا گیا ہے کہ بعض انسانوں کے اعمال وزنی ہوں گے اور بعض کے ہلکے ہوں گے۔ دونوں ق سم کے لوگوں کو ان کے اعمال کی حیثیت کے مطابق بدلہ ملے گا۔ گویا یہ سورة بھی جزائے عمل کو بیان کرنے والی سورتوں میں سے ہے۔
قیامت کے مختلف نام
قرآن پاک میں قیامت کے مختلف نام آئے ہیں۔ القارعۃ کا معنی ہے کھٹکھٹا دینے والی۔ قیامت کا ایک معنی الطآمۃ بھی ہے۔ جس کا معنی ہے سب چیزوں پر چھا جانے والی اسی طرح غاشیہ بھی قیامت کا نام ہے اور معنی اور ڈھانپ لینے والی ہے۔ قرآن پاک میں الحاقہ کا نام بھی آیا ہے۔ یعنی ٹھیک طور پر واقع ہونے والی ۔ الغرض مختلف ناموں سے قیامت کی صفت اور حالت کو بیان کرنا مقصود ہے۔
قرع کا معنی کھٹکھٹا دینا اور قارعہ کا معنی کھٹکھٹا دینے والی ۔ یہاں پر قارعہ کا لفظ تین مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ اس سے مخاطب کی توجہ مبذول کرانا مقصود ہے کہ متعلقہ مضمون بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ کھٹکھٹا دینے والی اور کیا ہے کھٹکھٹا دینے والی اور آپ کو کس نے بتلایا کہ کیا ہے کھٹکھٹا دینے والی۔ امام سفیان بن عینیہ کا قول 1 ؎ ہے کہ قرآن کریم میں جہاں جہاں ” ادرئک “ لفظ آیا ہے ، اس کے بعد اس کی حقیقت کو واضح کردیا گیا ہے۔ اور جہاں پر ” مایدریک کا لفظ وارد ہوا ہے ۔ وہاں بات کو واضح نہیں کیا گیا۔ جیسے ” ومایدریک لعل الساعۃ قریب آپ کو کیا معلوم ہے شاید کہ قیامت قریب ہو۔ یہاں پر وقوع قیامت کے وقت کو ظاہر نہیں کیا گیا۔
قیامت کا نقشہ
جس طرح سورة حاقہ میں آیا تھا ” الحآقۃ ما الحآقۃ وما ادرئک ما الحآقۃ “ اس سورة میں بھی وہی اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ القارعۃ ما القارعۃ وما ادرئک ما القارعۃ القارعہ یعنی کھٹکھٹا دینوالی اور کیا ہے۔ قارعہ اور آپ کو کس نے بتلایا کہ وہ قارعہ کیا چیز ہے۔ قیامت کو کھٹکھٹانے والی اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ اس روز اللہ تعالیٰ کی قہری تجلی نازل ہوگی ، جس کا اثر ہر چیز پر پڑے گا۔ کوئی چیز اپنے ٹھکانے پر قائم نہیں رہے گی۔ سب کچھ درہم برہم ہوجائے گا۔ اس کے بعد جب
1 ؎ تفسیر کبیر ص 127/ج 32
صور پھونکا جائے گا۔ تو ہر چیز آپس میں ٹکڑا جائے گی۔ جس کی وجہ سے کوئی بھی شے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گی۔ ایک اور بنیادیا ثر یہ ہوگا کہ ہر چیز سے ثقل ختم ہوگا اور آپس میں جڑنے کی صلاحیت باقی نہیں رہے گی۔ تمام چیزیں ٹوٹ پھوٹ جائیں گی۔
عام تصور
دنیا میں زیادہ وزنی اور ثقیل چیز پہاڑوں کو سمجھا جاتا ہے۔ ویسے بھی یہ ہے کہ پہاڑ ایک نہایت ہی مضبوط چیز ہے۔ مگر قیامت کو پہاڑوں کی جو کیفیت ہوگی ، اس کا نقشہ آگے آ رہا ہے کہ ان کے ذرات رنگین دھنی ہوئی اون کی مانند منتشر ہوجائیں گے آسمان بھی ایک مضبوط چیز ہے۔ اس کے متعلق سورة الرحمٰن میں آتا ہے۔ “ فاذا انشقت السمآء فکانت وردۃ کالدھان “ آسمان پھٹ کر سرخ ہوجائے گا۔ پھر یہ بھی آتا ہے کہ ٹوٹ کر دریچے دریچے ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے فرشتے بھی گھبرا کر کناروں پر چلے جائیں گے ” فہی یومئذ واھیۃ “ اس دن یہ مضبوط چھت بالکل کمزور ہوجائے گی۔ یہ آسمان ٹوٹ پھوٹ جائے گا۔ اس کی جگہ دوسرا آسمان تبدیل کردیا جائے گا۔ یہ زمین جو ساری چیزوں کا ثقل برداشت کرتی ہے ، یہ بھی قائم نہیں رہے گی۔ اسے بھی تبدیل کردیا جائے گا۔ اسی دن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ان ربھم بھم یومئذ لخیر “ اللہ تعالیٰ اس دن کے حالات سے بخوبی واقف ہے۔ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ معاذ اللہ غافل ہے۔ وہ آج بھی اسی طرح جانتا ہے جس طرح ہمیشہ جانتا تھا اور آئندہ بھی اس کے علم میں ہوگا۔ ” و حصل مافی الصدور “ سینوں کے راز ظاہر کردیئے جائیں گے۔ ” بعثر ما فی القبور “ قبروں کو اکھیڑکر مردوں کو باہر نکال دیا جائیگا۔ آج انسان اپنی خود غرضیوں کو چھپاتا پھرتا ہے ، قیامت کو سب ظاہر کردی جائیں گی۔ بڑی رسوائی ہوگی۔
لوگ انتشار کا شکار ہو جائینگے
فرمایا جس قیامت کا ذکر کیا گیا ہے ، وہ اس وقت واقع ہوگی یوم یکون الناس کالفراش المبثوث جس دن لوگ بکھرے ہوئے پتنگوں (پروانوں) کی طرح ہوجائیں گے جب آگ جلائی جاتی ہے۔ تو کیڑے مکوڑے ، پتنگے وغیرہ اردگرد بھاگنے لگتے ہیں۔ پتنگوں میں فطری طور پر انتشار اور بدنظمی کا مادہ پایا جاتا ہے۔ ان میں افراتفری پائی جاتی ہے۔ بلا سوچے سمجھے اور منزل کے تعین کے بغیر بھاگتے پھرتے ہیں۔ فرمایا قیامت کے روز انسان کی حالت ان پتنگوں سے مختلف نہیں ہوگی۔ آج یہ بڑے وزنی اور صاحب تدبیر بنے پھرتے ہیں۔ مگر قیامت والے دن یہ بھی افراتفری کا شکار ہوجائیں گے اور پتنگوں کی طرح دوڑنے لگیں گے۔ ان میں انتشار کی کیفیت پیدا ہوجائے گی۔ نظم و نسق ختم ہوجائے گا۔ حدیث شریف 1 ؎ میں آتا ہے۔ یموج بعضھم فی بعض لوگ ایک دوسرے کے اندر گھسیں گے۔ انہیں پتہ نہیں چلے گا کہ ان کے عزیز و اقارب اور برادری کہاں ہے۔ فرمایا لوگوں کا یہ حال ضعف ، بیتابی اور بدنظمی کی وجہ سے ہوگا۔
انسان کا حقیقی وزن
یہاں پر انسان کے باوقار اور وزنی ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ انسان میں ظاہری طور پر وزن ہوتا ہے۔ مگر انسان کا حقیقی وزن وہ ہے۔ جو اس کے باطن کے اعتبار سے ہوتا ہے اور اس باطنی ثقل کا مدار اس کے اخلاق پر ہوتا ہے۔ جس قدر کسی کا اخلاق اعلیٰ درجے کا ہوگا ، اسی قدر اس کا حقیقی وزن زیادہ ہوگا جیسا کہ عرب لوگ کہا کرتے ہیں۔ ع
علی المیزان ذوزنۃ رزین (ترازو پر وزن والا اور بھاری ہے)
حضرت حسان نے ام الممنین حضرت عائشہ صدیقہ کی تعریف میں جو شعر کہا 1 ؎ ہے
حسان رزان ماتزن بریبۃ وتضبح غرثی من لحوم الغوافل
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پاکدامن ہے ، باوقار ہے۔ اس پر کسی قسم کا اتہام نہیں لگایا جاسکتا۔ مقصد یہ کہ باوقار ہوتا اخلاق کی وجہ سے ہوتا ہے اگر انسان میں اعلیٰ اخلاق اور عقیدے کی پاکیزگی موجود ہے تو وہ بڑا باوقار اور وزنی ہے۔ الغرض قیامت کے روز انسانوں کی حالت منتشر پتنگوں سے مختلف نہیں ہوگی۔ اس قدر افراتفری کا عالم ہوگا۔
پہاڑوں کے ذرات بکھر جائیں گے
اپنی ذات ، وزن اور کلانی کے اعتبار سے پہاڑ بڑی مضبوط چیز ہے۔ پہاڑوں کی مضبوطی کو ضرب المثل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ، عربی زبان میں کہتے ہیں تزول الجبال الراسیات و قلبنا مضبوط پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل سکتے ہیں۔ مگر ہمارا عہد و پیمان پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔ یہ نہیں ٹوٹ سکتا پہاڑوں کی ایک دوسری صفت
1 ؎ معالم التنزیل ص 249/ج 4 ، بخاری ص 741/ج 3 ، 2 ؎ بخاری ص 299/ج 2
یہ ہے کہ یہ قدیم ترین چیزوں میں سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جب زمین کو پیدا کیا تو اس میں اضطراب پایا جاتا تھا۔ اس اضطراب سے بچانے کے لئے اللہ نے اس پر پہاڑوں کو مختلف جگہوں پر ٹھونک دیا۔ ” ان تمیدکم “ تکاہ زمین ڈولنے نہ پائے۔ مقصد یہ کہ پہاڑ بڑی مضبوط چیز ہے ، علامہ اقبال مرحوم نے بھی کہا 1 ؎ ہے۔ بخود خزیدہ و محکم چوں کہساراں زی یعنی اپنی جگہ پر مستقل مزاج بن کر پہاڑوں کی طرح زندہ رہو۔ طوفان آئیں تو ٹکرا کر چلے جائیں تم اپنی جگہ قائم رہو۔ اصل مضبوطی اعتقاد اور اخلاق کی مضبوطی ہے۔ جب یہ مضبوط ہوں تو انسان ہر قسم کے حوادثات کو برداشت کرسکتا ہے۔
فرمایا قیامت والے دن اس قدر مضبوط اور وزنی پہاڑوں کی یہ حالت ہوگی کہ وتکون الجبال کا لعھن المنفوش رنگین دھنی ہوئی اون کی طرح بکھر جائیں گے ” عہن “ رنگین اون کو کہتے ہیں۔ دوسری جگہ آتا ہے کہ مختلف علاقوں میں مختلف رنگوں کے پہاڑ پائے جاتے ہیں کسی جگہ کے پتھر اور مٹی کالی ہے۔ کہیں خاکستری ہے۔ کہیں سفید ہے اور کہیں سیاہ ہے۔ اسی طرح پختگی کے لحاظ سے بھی مختلف نوعیت کے پتھر ہوتے ہیں۔ کوئی بڑے سخت ، کوئی سنگخارہ ، کوئی سماق ، کوئی بھربھرا اور کوئی کسی قسم کا۔ فرمان الٰہی کے مطابق جب ان تمام پہاڑوں کو دھنا جائے گا اور ان کے ذرات اڑیں گے ، تو مختلف رنگ مل کر یا ایسے محسوس ہوگا۔ جیسے رنگین دھنی ہوئی اون ہوتی ہے۔
پسندیدہ جزائے عمل
قیامت کا مذکورہ نقشہ کھینچنے کے بعد خطاب کا رخ اصل موضوع کی طرفہ وتا ہے کہ جب یہ حالات پیدا ہوں گے ، تو پھر دوسرا مرحلہ شروع ہوگا۔ لوگوں کے اعمال تو لے جائیں گے۔ تمام اعمال نیک و بد کو حاضر کیا جائے گا۔ جیسا کہ پہلی سورة میں گذر چکا ہے۔ فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ ومن یعمل مثقال ذرہ شرایرہ پھر ان تمام اعمال کا وزن کیا جائے گا۔ اور اس کے نتیجے میں فاما من ثقلت موازینہ ، بہرحال جس کے اعمال وزنی ہوں گے فھو فی عیشۃ راضیۃ وہ بہت ہی پسندیدہ
1 ؎ پیام مشرق ص 108
عیش میں ہوگا۔ ” عیشۃ “ کے معنی عیش کی زندگی ، گزران اور ” راضیۃ “ کے معنی نہایت ہی پسندیدہ اسی طرح مرضیہ کا معنی ہوتا ہے۔ خواہش کے مطابق من مانی زندگی مقصد یہ کہ جس انسان کے اعمال وزن دار نکلیں گے ، اسے وہاں عیش و آرام کی زندگی نصیب ہوگی۔ کہ اب جزائے عمل کی زندگی شروع ہوجائے گی۔
جہنم کا گڑھا
مفسرین کرام فرماتے 1 ؎ ہیں کہ اعمال کا تولنا دو طریقے پر ہوگا۔ پہلے مرحلے میں کفار اور اہل ایمان کے اعمال الگ الگ تولے جائیں گے۔ ظاہر ہے کہ کافروں کے اعمال نامے ان کے کفر کی وجہ سے بالکل بےوزن ہوں گے۔ لہٰذا انہیں الگ کردیا جائے گا۔ یہ بالکل ہلکے ہوں گے۔ انہیں کے متعلق فرمایا واما من خفت موازینہ یعنی جن کے اعمال ہلکے ہوں گے۔ فامہ ھاویۃ ان کا ٹھکانہ جہنم کا گڑھا ہوگا۔ حقیقت میں ثقل تو ایمان اور توحید کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور جو اعمال ان بنیادی چیزوں سے خالی ہوں گے ، وہ لامحالہ بےحقیقت اور وزن سے خالی ہوں گے۔ لہٰذا ایسے لوگ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔
اعمال تولے جائیں گے
جب کفار کے اعمالنامے الگ کردیئے جائیں گے تو اب اہل ایمان کے اعمال کا وزن شروع ہوگا ۔ تاکہ ان کی نیکیوں اور بدیوں کا مقابلہ کیا جاسکے ، کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتا رہا ہے۔ اگر نیکیوں کا وزن زیادہ ہوگا تو وہ شخ صکامیاب ہوجائے گا اور اگر بدیاں وزن میں زیادہ نکلیں ، تو ایسا شخص سزا کا مستحق ہوگا ، مگر کفار کی طرح یہ سزا دائمی نہیں ہوگی۔ بلکہ گناہوں کی مقدار کے مطابق سزا بھگت کر رہائی حاصل کرلے گا۔
بعض فرماتے ہیں 2 ؎ کہ سورة کہف کی آیت ” فلا نقیم لھم یوم القیمۃ وزناً “ کفار کے حق میں ہے۔ چونکہ ان کے اعمال میں وزن ہی نہیں ہوگا۔ لہٰذا انہیں تولنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ بلکہ ایسے لوگ سیدھے جہنم میں جائیں گے بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ آیت عام ہے۔ بعض لوگوں کے اعمال اس قسم کے ہوں گے کہ انہیں
1 ؎ تفسیر کبیر ص 73/ج 32 ، تفسیر خازن ص 284/ج 7 ، 2 ؎ تفسیر خازن ص 284/ج 7
قابل اعتبار نہیں سمجھا جائے گا۔ تاہم تولے جانے کا عمل برحق ہے۔ میزان بھی برحق ہے اور اس پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ یہاں پر یہ غلط فہمی پیدا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اعمال کو اس لئے تولیں گے کہ اسے ان کی حقیقت کا علم نہیں۔ بلکہ وہ تو علیم کل ہے۔ بغیر تولے بھی ہر چیز سے واقف ہے۔ تاہم یہ وزن مخلوق کے سامنے اتمام حجت کے لئے ہوگا۔ اب جو شخص دنیا میں صراط مستقیم پر چلے گا۔ اسے پل صراط پر چلنا بھی آسان ہوگا اور جو دنیا میں راہ راست پر گامزن نہیں ہوا وہ وہاں بھی نہیں چل سکے گا۔ بہرحال وزن اعمال کے سارے ضابطے طے کرنا ہوں گے۔
ایمان ، اخلاق اور اتباع سنت
مفسرین کرام فرماتے 1 ؎ ہیں کہ اعمال میں وزن تین چیزوں کا ہوتا ہے۔ یعنی ایمان ، اخلاق اور اتباع سنت جس شخص میں ایمان ہوگا۔ اس کا عمل وزنی ہوگا اور جس میں جس قدر اخلاص ہوگا ، اسی قدر اس کے اعمال میں ثقل ہوگا اور جس شخص کے اعمال زیادہ سے زیادہ سنت کے مطابق ہوں گے۔ ان میں وزن اور ثقل بھی زیادہ ہوگا۔ دوسری طرف جس آدمی میں ایمان ہی نہیں ، اس کا عمل بالکل بےوزن ہوگا اور اگر ایمان موجود ہے تو پھر دیکھا جائے گا کہ اس کے اندر اخلاص کس ڈگری کا ہے اور اتباع سنت کس درجے کا ہے اسی کے مطابق اعمال میں وزن ہوگا۔ اعمال میں وزن کا مدار اخلاق اور اتباع سنت پر ہوگا۔ اور اس کے لئے عقیدے کی درستگی لازم ہے۔ اگر عقیدے میں ذرہ برابر بھی کہیں رخنہ آجائے ، انسان کے ایمان میں فرق آجائے۔ کفر ، شرک یا نفاق پیدا ہوجائے ، الحاد یا دہریت میں مبتلا ہوجائے تو اعمال میں قطعاً کوئی وزن نہیں رہے گا۔
بعض ایسے لوگ ہوں گے جن کے اعمال مقدار میں تھوڑے ہوں گے۔ مگر وزن میں بھاری ہوں گے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت 2 ؎ میں آتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا اخلص دینک یکفک القلیل من العمل یعنی اپنے دین میں اخلاص پیدا کرو ، تھوڑا عمل بھی کفایت کرے گا۔ مثال کے طور پر ایک شخص ایک ہزار نفل پڑھتا ہے اور دوسرا شخص صرف دس ، مگر دس نفل نہایت خلوص کے ساتھ ادا کئے گئے ہیں۔ تو ان کا وزن ہزار کی نسبت زیادہ
1 ؎ تفسیر مظہری ص 332/ج 10 ، تفسیر خازن ص 284/ج 7 ، 2 ؎ فیض القدیر شرح جامع صغیر ص 216/ج 1 عن معاذ ؓ
ہو گا۔ کیونکہ ان میں اخلاص کی کمی تھی۔ اسی طرح کوئی شخص دو رکعت سنت نبوی کے عین مطابق ادا کرتا ہے۔ مگر دوسرا شخص لاپرواہی کے ساتھ ہزار رکعت بھی ادا کرتا ہے تو ان کا وزن دو رکعت کے برابر نہیں ہوگا۔
آگ کا گڑھا
بہرحال جن کے اعمال نامے خفیف ہوں گے یعنی ہلکے ہوں گے ، ان کا ٹھکانا ھاویہ ہوگا۔ فرمایا وما ادرئک ماھیہ آپ کو کیا معلوم کہ وہ گڑھا کیا ہے ، پھر خود ہی جواب ارشاد فرمایا نار حامیۃ وہ کوئی خولی گڑھا نہیں ہے۔ بلکہ بھڑکتی ہوئی آگ کا گڑھا ہے۔ وہ آگ جس کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا 1 ؎ اس کی تپش دنیا کی آگ سے انہتر گناہ زیادہ ہوگی۔ صحابہ نے عرض کیا حضور ! جلانے کے لئے تو یہ آگ بھی کافی ہے۔ فرمایا ٹھیک ہے۔ مگر دوزخ کی آگ اس آگ سے اتنی ہی زیادہ تیز ہوگی تو گو یا اللہ تعالیٰ نے جزائے عمل کا مسئلہ واضح کردیا کہ ایماندار اپنی پسندیدہ عیش میں ہوں گے کیونکہ ان کے اعمال وزنی ہوں گے۔ برخلاف اس کے جن کے اعمال ہلکے ہوں گے ، وہ بھڑکتی ہوئی آگ کے گڑھے میں پھینکے جائیں گے۔
حاصل کلام
اس سے پہلی سورة میں انسان کی دو بیماریوں یعنی ناشکرگزاری اور مال کی محبت کا ذکر کیا گیا تھا اور پھر نصیحت کی گئی تھی کہ ان بیماریوں کا علاج کرو۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرو اور مال کی محبت میں اس قدر منہمک نہ ہو جائو کہ فرائض سے ہی غافل ہو جائو۔
اس سورة میں اس بات کی تلقین کی گئی ہے کہ اپنے اعمال میں ثقل پیدا کرو۔ ایسا نہ ہو کہ قیامت والے دن اعمال بےوزن نکلیں اور ہم پسندیدہ عیش کی بجائے آگ کے گڑھے میں جا گریں۔ جزائے عمل کی منزل قطعی طور پر آنے والی ہے۔ لہٰذا انسانوں کا فرض ہے کہ اپنے عقیدے کی اصلاح کریں۔ ایمان کی فکر کریں اور اعمال میں وزن پیدا کرنے کی سعی کریں۔ اعمال میں اخلاص پید ا کریں اور سنت نبوی کے مطابق ادائیگی کریں تاکہ قیامت کے دن خفت اور رسوائی سے بچ جائیں۔
1 ؎ مسند احمد ص 478/ج 2 ، مسلم ص 281/ج 2