98. Surah Al-Bayyina

البينةThe Evidence · 8 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 98:1–4

لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ مُنْفَكِّیْنَ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ الْبَیِّنَةُۙ Open ayah 98:1 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں (یعنی) اہل کتاب اور مشرک وہ (کفر سے) باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس کھلی دلیل (نہ) آتی

رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةًۙ Open ayah 98:2 in the Quran reader

(یعنی) خدا کے پیغمبر جو پاک اوراق پڑھتے ہیں

فِیْهَا كُتُبٌ قَیِّمَةٌؕ Open ayah 98:3 in the Quran reader

جن میں مستحکم (آیتیں) لکھی ہوئی ہیں

وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنَةُؕ Open ayah 98:4 in the Quran reader

اور اہل کتاب جو متفرق (و مختلف) ہوئے ہیں تو دلیل واضح کے آجانے کے بعد ہوئے ہیں

(1۔ 4) یہود و نصاری اور مشرکین عرب یہ رسول اکرم صلی اللہ اور قرآن کریم اور اسلام کے انکار پر قائم رہتے جب تک کہ ان کے پاس توریت و انجیل میں اس چیز کا ذکر نہ آتا کہ حضرت محمد ﷺ کی طرف سے رسول ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ بعثت نبوی سے پہلے یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب کفر سے باز نہ آتے جب تک کہ ان کے پاس واضح دلیل نہ آتی یعنی حضرت محمد ﷺ جو ان کو پاک صحیفے پڑھ کر سنا دے جس میں دین مستقیم کے مضامین لکھے ہوں۔ اور یہودی یعنی کعب بن اشرف وغیرہ اپنی کتاب توریت میں رسول اکرم ﷺ کی نعت و صفت آنے ہی کے بعد حضور اور قرآن اور دین اسلام کے بارے میں مختلف ہوگئے۔
Ayahs 98:5–6

وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۙ۬ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ Open ayah 98:5 in the Quran reader

اور ان کو حکم تو یہی ہوا تھا کہ اخلاص کے ساتھ خدا کی عبادت کریں (اور) یکسو ہو کر اور نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں اور یہی سچا دین ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِیَّةِؕ Open ayah 98:6 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں (یعنی) اہل کتاب اور مشرک وہ دوزخ کی آگ میں پڑیں گے (اور) ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ یہ لوگ سب مخلوق سے بدتر ہیں

(5۔ 6) حالاں کہ ان لوگوں کو سابقہ کتب میں حکم ہوا تھا کہ اللہ کی خلوص کے ساتھ یک سو ہو کر وحدانیت کے قائل ہوجائیں اور توحید کے بعد پانچوں نمازوں کی پابندی کیا کرو اور اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا کریں اور توحید سچا دین ہے، یا یہ کہ توحید فرشتوں کا دین ہے، یا یہ کہ دین حنفیہ ہے، یا یہ کہ ملت ابراہیمی ہے۔ مشرکین اہل کتاب اور مکہ کے کافر ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور یہ لوگ بدترین مخلوق ہیں۔
Ayahs 98:7–8

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِؕ Open ayah 98:7 in the Quran reader

(اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ تمام مخلوق سے بہتر ہیں

جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ۠ Open ayah 98:8 in the Quran reader

ان کا صلہ ان کے پروردگار کے ہاں ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ ابدالآباد ان میں رہیں گے خدا ان سے خوش اور وہ اس سے خوش۔ یہ (صلہ) اس کے لئے ہے جو اپنے پروردگار سے ڈرتا رہا

(7۔ 8) ایمان لانے والے اور نیک اعمال کرنے والے حضرات جیسا کہ حضرت عبداللہ بن سلام اور حضرت ابوبکر صدیق یہ لوگ بہترین مخلوق ہیں ان کا ثواب ان کے پروردگار کے نزدیک انبیاء کرام اور مقربین کے رہنے کی بہشت میں ہے جن کے نیچے بہتی ہوں گی جہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کے ایمان و اعمال سے خوش رہے گے اور یہ اللہ کے عطا کردہ ثواب اور فضل سے خوش رہیں گے یہ جنت اور خوشنودیا اس کے لیے ہیں جو اپنے پروردگار کی وحدانیت کا قائل ہو جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور دوسرے صحابہ کرام۔