98. Surah Al-Bayyina

البينةThe Evidence · 8 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف : یہ سورت مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ۔ مکہ مکرمہ میں تو اکثریت ان لوگوں کی تھی جنہوں نے اللہ کی ذات اور صفات میں غیر اللہ کو اپنا مشکل کشا مان رکھا تھا۔ وہ پتھروں کے بےجان بتوں کی عبادت و بندگی کرتے تھے کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق ان کے کام بنانے اور بگاڑنے کا اختیار رکھتے تھے۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی تو یہاں ان لوگوں کی اکثریت تھی جن کی ہدایت کے لئے اللہ نے اپنے رسولون کے ذریعہ اپنی کتابیں بھیجی تھیں۔ یہ اہل کتاب کہلاتے تھے۔ انہیں اپنے اہل کتاب ہونے پر بڑا گھمنڈ بھی تھا وہ اپنے عالوہ سب کو جاہل، ان پڑھ اور اجڈ سمجھتے تھے۔ حالانکہ انہوں نے محض دنیا کے لالچ میں اللہ کی بھیجی ہوئی کتابوں میں اس قدر جھوٹ ملا لیا تھا کہ اللہ کی بھیجی ہوئی تعلیمات اور ان میں من گھڑت باتوں کو پہچاننا مشکل تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ مشرک کی گندگیوں میں مبتلا ہیں ان کی کمزوری تو یہ ہے کہ ان کے پاس سوائے رسموں اور من گھڑت بتوں کے نہ کوئی کتاب ہے نہ کسی طرح کی ہدایت کی روشنی مگر اہل کتاب کو کیا ہوگیا، جنہیں اللہ نے اپنی کتابوں سے نواز اتھا مگر وہ قرآن کریم جیسی علم سے بھرپور کتاب آنے کے باوجود اختلاف پیدا کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب اس نے اہل کتاب اور مشرکین کی ہدایت و رہنمائی کیلئے ایک ایسے رسول کو بھیجا ہے جن کی زندگی ہر ایک کے لئے اسوہ حسنہ ہے۔ جن کے اخلاق کریمانہ عظیم ہیں۔ وہ حق وصداقت، دیانت وامانت ، حلم و تحمل کا پیکر اور ایک کھلی ہوئی روشن دلیل ہیں۔ ان کے ساتھ ایک ایسی کتاب ہدایت کو نازل کیا گیا ہے جس کی تعلیمات پر عمل کرنے میں دنیا اور آخرت کی کامیابیاں ہیں۔ لہٰذا اللہ ، اس کے رسول اور قرآن کریم کو مان کر اس کے رسول کی مکمل اطاعت کی جائے۔ نماز کی قائم کیا جائے، زکوٰۃ ادا کی جائے۔ فرمایا کہ اہل کتاب اور مشرکین نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر اگر ایمان اور عمل صالح کا راستہ اختیار کیا تو نہ صرف وہ بہترین مخلوق کہلائیں گے بلکہ ان کو جنت کی وہ راحتیں عطا کی جائیں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ لیکن اگر انہوں نے نافرمانی کے راستے کو اپنایا تو نہ صرف ان کا شمار بدترین مخلوق میں ہوگا بلکہ ان کو ایسی جہنم میں داخل کیا جائے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ سورۃ البینہ میں ان ہی باتوں کو بیان فرمایا گیا ہے جن کا خلاصہ یہ ہے۔ جن اہل کتاب اور مشرکین نے کفر کا طریقہ اختیار کر رکھا تھا وہ ہرگز باز آنے والے نہ تھے جب تک ان کے پاس کوئی واضح اور کھلی ہوئی دلیل نہ آتی یعنی اللہ کا رسول جو ان کو پاک صحیفے پڑھ کر سناتا جن میں بالکل درست اور صحیح مضامین لکھیں ہوں۔ اب اس واضح دلیل یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آنے کے بعد بھی وہ اختلاف کررہے حالانکہ ان کو ان کی کتابوں میں قرآن کی طرح یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ یکسو ہو کر خالص اللہ ہی کی عبادت کریں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ اد اکریں اور یہی طریقہ بالکل درست طریقہ تھا۔ فرمایا کہ اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے کفرو انکار کا طریقہ اپنا رکھا ہے وہ نہ صرف ہمیشہ کی جہنم میں داخل کئے جائیں گے بلکہ وہ بدترین مخلوق میں سے ہوں گے اور جو لوگ ایمان لا کر عمل صالح اختیار کریں گے وہ اللہ کی بہترین مخلوق میں شمار ہوں گے بلکہ ان کا صلہ اور بدلہ ان کے رب کی طرف سے ہمیشہ رہنے کی ایسی جنتیں ہوں گی جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اللہ سے ڈرنے والے ان لوگوں کا بہترین بدلہ یہ ہوگا کہ اللہ ان سے خوش رہے گا اور وہ اللہ سے خوش رہیں گے۔

Ayahs 98:1–8

لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ مُنْفَكِّیْنَ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ الْبَیِّنَةُۙ Open ayah 98:1 in the Quran reader

اہل کتاب کافر اور مشرک اس وقت تک بازآنے والے نہ تھے جب تک کھلی دلیل نہ آجاتی

رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةًۙ Open ayah 98:2 in the Quran reader

(وہ واضح دلیل) اللہ کا رسول ہے جو پاک صحیفے پڑھ کر سناتا ہے

فِیْهَا كُتُبٌ قَیِّمَةٌؕ Open ayah 98:3 in the Quran reader

اس میں درست اور بہترین مضامین ہیں

وَ مَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنَةُؕ Open ayah 98:4 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں کے پاس جن کو کتاب دی گئی تھی کھلی دلیل آگئی تو وہ اختلاف میں پڑ گئے

وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۙ۬ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ Open ayah 98:5 in the Quran reader

حالانکہ ان اہل کتاب کو صرف یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ ایک طرف ہو کر خالص اللہ کی عبادت و بندگی کریں۔ نماز کو قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں اور یہی (سب سے) بہتر دین ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِیَّةِؕ Open ayah 98:6 in the Quran reader

بیشک اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کفر پر قائم رہے وہ ہمیشہ کی جہنم میں جلتے رہیں گے اور یہ بدترین مخلوق ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِؕ Open ayah 98:7 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے۔ یہی بہترین مخلوق ہیں

جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ۠ Open ayah 98:8 in the Quran reader

ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ ان میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے۔ یہ اس شخص کے لئے ہے جو اپنے پروردگار سے ڈرتا ہے۔

لغات القرآن۔ لم یکن۔ نہیں ہے۔ منفکین۔ باز آنے والے۔ البینۃ۔ صاف اور کھلی باتیں۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ صاف ستھرا۔ کتب قیمۃ۔ لکھی ہوئی مضبوط کتابیں۔ ما تفرق۔ الگ الگ نہ ہوئے۔ امروا۔ حکم دیا گی ا ہے۔ مخلصین۔ خالص کرنے والے۔ حنفائ۔ سب سے منہ موڑنے والے ( ایک اللہ کے ہوجانے والے) ۔ شر البریۃ۔ بدترین مخلوق۔ خیر البریۃ۔ بہترین مخلوق۔ ؓ اللہ خوش ہوگیا۔ خشی۔ جو ڈرا۔ تشریح : قرآن کریم میں اہل کتاب ان لوگوں کو کہا گیا ہے جن کے پاس گذشتہ رسول کوئی کتاب لے کر آئے۔ بعد میں آنے والوں نے اپنے بعض دنیاوی مقاصد کے لئے ان میں بتدیلیاں کرلیں وہ ان کو اللہ کی کتاب ماننے کے باوجود شرک بھی کرتے تھے۔ اللہ نے ان کو یہود، نصاری اور اہل کتاب فرمایا لیکن ان کو مشرک نہیں فرمایا یعنی یہ ان بگڑے ہوئے مسلمانوں کی طرح کے لوگ ہیں جو اللہ کی کتاب کو ماننے کے باوجود توحید کے ساتھ شرک میں بھی مبتلا رہتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں سمجھتے۔ مشرک وہ لوگ ہیں جو کسی آسمانی کتاب یا کسی رسول کو نہیں مانتے اور توحید سے انکار کرکے غیر اللہ کی عبادت و بندگی کو مذہب کا نام دیتے ہیں۔ چونکہ اہل کتاب کو ان کی کتابوں سے معلوم تھا کہ ایک ایسے نبی اور رسول آنے والے ہیں جن کے آنے کی خوش خبری تمام پیغمبر دیتے آئے ہیں۔ جب وہ آئیں گے تو ساری قوموں اور مذہبوں پر چھا جائیں گے۔ یہودیوں کو یہ غلط فہمی تھی کہ وہ آخری نبی ان ہی میں سے آئیں گے چناچہ جب بھی اہل کتاب اور مشرکین میں کسی بات پر جھگڑا ہوتا تو یہودی مشرکین سے کہا کرتے تھے کہ تم ہمیں جتنا ستانا اہتے ہو ستا لو جب وہ آخری نبی آئیں گے تو ہم ان کے سات مل کر فتح و نصرت حاصل کریں گے اور ظلم و ستم کا گن گن کر بدلہ لیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کو نہایت واضح دلیل کے ساتھ اور کود ان کی ذات و کھلی ہوئی دلیل نا کر بھٹکے ہوئے لوگوں کی اصلاح کے لئے بھیجا تو یہودی اور نصاری مختلف نشانیوں سے نبی کریم ﷺ کی شان نبوت و رسالت کو پہنچا چکے تھے مگر اس ضد میں انکار کر بیٹھے کہ وہ آخری نبی ان ہی میں سے آئین گے چناچہ جب بھی اہل کتاب اور مشرکین میں کسی بات پر جھگڑا ہوتا تو یہودی مشرکین سے کہا کرتے تھے کہ تم ہمیں جتنا ستانا چاہتے ہو ستا لو جب وہ آخری نبی آئیں گے تو ہم ان کے ساتھ مل کر فتح و نصرت حاصل کریں گے اور ظلم و ستم کا گن گن کر بدلہ لیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کو نہایت واضح دلیل کے ساتھ اور خود ان کی ذات کو کھلی ہوئی دلیل بنا کر بھٹکے ہوئے لوگوں کی اصلاح کے لئے بھیجا تو یہودی اور نصاری مختلف نشانیوں سے نبی کریم ﷺ کی شان نبوت و رسالت کو پہچان چکے تھے مگر اس ضد میں انکار کر بیٹھے کہ وہ آخری نبی ہماری قوم میں سے کیوں نہ آئے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ یہ اہل کتاب پہلے سے تو فتح کی دعائیں مانگا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اس نبی کے ساتھ مل کر ہم ہر طرح کی کامیابیاں حاصل کریں گے۔ یہ اہل کتاب ان کے آنے کے بعد پہنچان بھی گئے ہیں لیکن محض ضد بندی میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو نبی اور رسول ماننے سے انکار کررہے ہیں۔ ان اہل کتاب میں سے کوئی ان کو مان رہا ہے اور کوئی ان کی نبوت و رسالت کا انکار کرر ہا ہے۔ اس پس منظر میں سورة البینہ کی آیات کا مفہوم ملاحظہ کیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کفار اہل کتاب اور مشرکین اس وقت تک اپنی حرکتوں سے باز آنے والے نہیں تھے جب تک ان کے پاس کوئی واضح اور روشن دلیل نہ آجائے۔ اب وہ واضح دلیل اللہ کے رسول (حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں جو آچکے ہیں وہ رآن کریم جس میں تمام پاک صحیفے موجود ہیں وہ ان کے سامنے اس کی تلاوت کرتے ہیں جس میں درست اور مضبوط مضامین موجود ہیں۔ جب وہ واضح اور روشن دلیل یعنی اللہ کے نبی و رسول آگئے ہیں تو اہل کتاب پہنچاننے کے باوجود خود ہی شدید اختلافات کا شکار ہوئگے ہیں حالانکہ ان کی کتابوں میں اور قرآن کریم میں بات کا حکم دیا گی ا ہے کہ وہ یکسو ہو کر اطاعت کے اعتقاد کے ساتھ صرف ایک اللہ کی اطاعت و فرماں برداری کریں، نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کرتے رہیں۔ اللہ تعالیی نے فرمایا کہ یہی وہ درست اور صحیح طریقہ ہے جس میں سب کی نجات کا سامان ہے۔ اگر وہ اہل کتاب اور مشرکین اپنے انکار پر جمے رہے یعنی انہوں نے حضرت محمد مصطفیٰ ْ کو اللہ کا آخری نبی اور رسول نہ مانا، ان کی لائی ہوئی شریعت اور کتاب پر وہ ایمان ن لائے تو ان کا بھیانک انجام ہوگا کہ وہ جہنم کی اس آگ کا ایندھن بن جائیں گے جس سے کبھی چھٹکارا نہ ملے گا اور وہ بدترین مخلوق بن کر رہ جائیں گے لیکن اگر وہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور عمل صالح کی پابندی کرتے رہے تو نہ صرف ان کا شمار کائنات کی بہترین مخلوق میں ہوگا بلکہ وہ اپنے پروردگار کے ہاں ایسے دائمی باغات میں ہوں گے جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ لوگ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے بلکہ جو لوگ اللہ کے خوف اور ڈر سے زندگی بسر کرتے رہے ہوں گے ان تمام اہل ایمان اور اللہ کا خوف رکھنے والوں کو سب سے بڑی نعمت اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل ہوگی۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جنت والوں سے یا اھل الجنۃ ( اے جنت والو ! ) کہہ کر خطاب فرمائیں گے تو اہل جنت عرض کریں گے ” اے ہمارے رب ہم حاض رہیں اطاعت کے لئے تیار ہیں بیشک ہر ایک بھلائی آپ کے ہاتھ میں ہے “۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تم راضی اور خوش ہو ؟ عرض کریں گے الٰہی ! (جنت کی نعمتوں کے باوجود بھی) کیا ہم اب بھی راضی نہ ہوں گے۔ آپ نے ہمیں وہ سب کچھ عطا فرمادیا جو کسی مخلوق کو نہیں ملا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ کیا میں تمہیں اس سے افضل اور بہتر نعمت نہ دوں ؟ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں نے اپنی رضا تم پر نازل کردی اب میں تم سے کبھی ناراض نہ ہوں گا۔ (اور میری رضا تمہیں ہمیشہ حاصل رہے گی) ۔ (بخاری و مسلم) ۔