Ayahs 98:1–23 ۔ پیغمبر بذات خود ایک عظیم الشان دلیل : سو ارشاد فرمایا گیا اور " بینہ " کی وضاحت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا " رسول من اللہ " یعنی اللہ کی طرف سے آنے والا ایک عظیم الشان رسول، اور رسول کی تنوین تعظیم و تفخیم کے لیے، اور ظاہر ہے کہ جس عظمت شان سے حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے آنجناب ﷺ کو نوازا گیا وہ پوری مخلوق خداوندی میں اور کسی کو نہ ملی ہے، نہ مل سکتی ہے، نہ مل سکے گی، جو ہمہ گیر اور عظیم الشان انقلاب آپ کے ذریعے رونما ہوا اس کی نظر چشم فلک نے نہ اس سے قبل کبھی دیکھی اور نہ آئندہ قیامت تک کبھی دیکھ سکے گی، اور آپ کا وجود اپنے اوصاف و کمالات کے اعتبار سے اور اپنی تعلیمات و ارشادات کے لحاظ سے حق اور باطل کو پوری طرح واضح کردینے والا ہے، ﷺ یہاں پر رسول " البینہ " سے بدل واقع ہوا ہے جس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ رسول بذات خود " بینہ " اور ایک عظیم الشان کھلی دلیل ہے، سو آپ کی نبوت سے پہلے وانی زندگی بھی پاکیزہ اور بےداغ زندگی تھی، امی ہونے کے باوجود آپ کا دنیا کے سامنے قرآن حکیم جیسی عظیم الشان اور بےمثال کتاب پیش کرنا اور اور پیدائش سے لیکر موت تک بلکہ پیدائش سے بھی پہلے اور موت کے بعد بھی حالات کے بارے میں خبر دینا اور خاص ہدایات سے نوازنا، آپ ﷺ کی اس اعجازی شان کے کھلے دلائل اور واضح مظاہر ہیں۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔ بہرکیف اس رسول عظیم کی صفت کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ جو پڑھ کر سنائے ان کو ایسے عظیم الشان صحیفے جن کو ہر طرح سے پاک کردیا گیا ہو، اور اس طور پر کہ ان میں کسی طرح کے کذب و زور، زیغ و ضلال، اور نفاق و انحراف کا کوئی شائبہ تک نہ پایا جاتا ہو، جیسا کہ اس سے پہلے کی آسمانی کتابوں کے ساتھ ہوا یہ سب کچھ آپ کی صداقت اور حقانیت کا واضح ثبوت کھلا بیان ہے۔ ( روح، قرطبی، مدارک، صفوہ، خازن اور معارف وغیرہ) واضح رہے کہ یہاں پر " طاھرۃ " نہیں " مطھرۃ " فرمایا گیا ہے۔ پس عام طور پر اردو تراجم میں جو اس کا ترجمہ پاک یا پاکیزہ وغیرہ الفاظ سے کیا جاتا ہے وہ اس کا پورا ترجمہ نہیں بنتا، کیونکہ وہ ترجمہ ہے " طاھرۃ " کا جب کہ یہاں " طاھرہ " نہیں مطھرہ فرمایا گیا ہے اور طاہرہ اور مطہرہ کے ان دونوں لفظوں میں بڑا فرق ہے، ہم نے اپنے ترجمہ میں اسی فرق کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ والحمد للہ الذی لا تتم الصالحات الا بتوفیق منہ جل وعلا۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ وہ پیغمبر ان کو ایسے عظیم الشان صحیفے پڑھ کر سنائے جو ہر قسم کے شوائب سے پاک ہوں، ان الفاظ کی پوری اہمیت اس وقت واضح ہوتی ہے جب انسان قرآن مجید کے مقابلے میں بائبل اور دوسرے مذاہب کی کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ ان میں صحیح باتوں کے ساتھ ساتھ کیا کیا خرافات بھی موجود ہیں۔ مگر قرآن حکیم اس طرح کی خرافات کے ہر شائبے سے پاک ہے۔ والحمدللہ رب العالمین جل وعلا۔ اللھم شرفنا بھذا الفوز العظیم المبارک بمحض منک وکرمک یا ارحم الرحمین و یا اکرم الاکرمین۔
Ayah 98:34 ۔ صحف ہدایت کی عظمت شان کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے پاکیزہ صحیفے جن میں ثبت و مندرج ہوں نہایت عمدہ و درست مضامین جن کی راستگی و درستگی اور صداقت و پختگی پر نہ آج تک کسی کو کہیں بھی اور کسی بھی اعتبار سے کسی طرح کی حرف گیری اور انشت نمائی کا کوئی موقع مل سکا ہے، اور نہ قیامت تک کبھی مل سکے گا، کیونکہ یہ اللہ پاک کا وہ کلام صدق نظام ہے اس میں کسی قسم کی کنجی اور زیغ و انحراف کی کوئی گنجائش نہیں، جیسا کہ دوسرے مقام جس پر اس کی صٖت میں فرمایا گیا " ولم یجعل لہ عوجا " نیز فرمایا گیا " قیما " یعنی یہ سراسر درست اور سیدھی بات کہنے والی کتاب ہے سو اس میں کجی وہی تلاش کرسکتا ہے جس کی مت ماری گئی ہو، اور ابدی شقاوت و بدبختی اس پر چھا گئی ہو اور وہ سیاہ کو سفید کہنے کی حماقت پر اتر آئے اور ان کی کتب ( مضامین) سے مراد قرآن حکیم کی سورتیں بھی ہوسکتی ہیں جن کے جملہ اصولی اور اساسی مضامین کو قرآن حکیم میں کامل و بےمثال طریقے سے سمو دیا گیا، اسی لیے قرآن حکیم کی صفت و شان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا " ومھیمنا علیہ " ( المائدہ 48) یعنی اس کتاب حکیم کو گزشتہ تمام آسمانی کتب کے اساسی اور اصولی مضامین کا محافظ و امین اور پاسدار و نگہبان بنا کر اتارا گیا ہے اور جیسا کہ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ (الشعراء 196 پ 19) نیز ایک اور جگہ ارشاد فرمایا گیا اِنَّ هٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى صُحُفِ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى (الاعلی 18، 19 پ 30) نیز ان " صحف " سے مراد وہ صحیفے بھی ہوسکتے ہیں جن کے اندر عالم بالا میں یہ کتاب مکتوب و مسطور ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا فِيْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۢ بِاَيْدِيْ سَفَرَةٍ كِرَامٍۢ بَرَرَةٍ ( عبس 13 تا 16 پ 30) (روح، کبیر، ابن کثیر وغیرہ) بہرکیف یہ کتاب حکیم ایک عظیم الشان کتاب ہے اور اس کے صحیفے اور مضامین نہایت پاکیزہ، ستھرے اور عمدہ و سیدھے مضامین پر مشتمل ہیں۔ والحمدللہ رب العالمین جل وعلا۔
Ayah 98:45 ۔ اہل کتاب کے عناد اور ہٹ دھرمی کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اہل کتاب کا تفرق و اختلاف اس کھلی دلیل کے پہنچ جانے کے بعد تھا۔ سو اس سے اہل کتاب کے عناد اور ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ اور مظہر سامنے آتا ہے، حالانکہ ان کے پاس وہ کھلی دلیل آگئی جس کی یہ لوگ خود انتظار میں تھے اور ان کے لیے دعائیں مانگا کرتے تھے کہ وہ آخری نبی تشریف لائیں تو ہم ان کے زیر سایہ جہاد کر کے دشمنوں پر فتح پائیں۔ چناچہ وہ کہا کرتے تھے " اللھم افتح علینا وانصرنا بالنبی المبعوث " یعنی اے اللہ ہمیں اس مبعوث ہونے والے نبی موعود کی تشریف آوری کے ذریعے فتح و نصرت سے نواز، اور ہمیں دشمنوں پر غلبہ عطا فرما ا، بلکہ تاریخ بتاتی ہے کہ اس امید میں ان لوگوں میں سے کئی ایک نے اپنے بچوں کے نام بھی محمد رکھے تھے کہ شاید اس شرف سے اس کا بچہ ہی مشرف ہوجائے، مگر اس سب امید و انتظار کے باوجود جب وہ نبی موعود تشریف لے آئے اور انہوں نے ان کو پہچان بھی لیا تو انہوں نے محض ضد اور حسد وعناد کی بنا پر ان کا انکار کردیا، اور اس طرح یہ لوگ اس کی رحمتوں اور برکتوں سے مالا مال ہونے کی بجائے لعنت و عذاب اور غضب بالائے غضب کے مستحق بن گئے، والعیاذ باللہ۔ چناچہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا فَلَمَّا جَاۗءَھُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ ۡ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ (البقرہ 89 پ 1) یعنی جب ان کے پاس آگیا وہ کچھ جس کو انہوں نے پہچان بھی لیا تو انہوں نے اس کے ساتھ کفر کیا، سو اللہ تعالیٰ کی لعنت اور پھٹکار ہے ان کافروں پر، سو حسد اور ضد و ہٹ دھرمی محرومی کی جڑ بنیاد ہے، کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین واکرم الاکرمین، و یا ارحم الرحمین، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب جل وعلا۔
Ayah 98:56 ۔ توحید خداوندی مطلوب مشترک : سو ارشاد فرمایا گیا حالانکہ ان سب کو اسی بات کا حکم دیا گیا تھا کہ یہ اللہ ہی کی بندگی کریں اس لیے کہ معبود برحق وہی اور صرف وہی وحدہ لا شریک ہے، سبحانہ و تعالی۔ ہر قسم کی عبادت و بندگی خواہ وہ بدنی ہو یا مالی، قلبی ہو یا قالی، ظاہری ہو یا باطنی، سب اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے، اس کے سوا کسی بھی اور ہستی کے لیے کسی بھی طرح کی عبادت کا بجا لانا صریح ناانصافی اور کھلم کھلا ظلم ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ مگر انہوں نے اس حکم خداوندی کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کی اور معبود برحق کی عبادت و بندگی سے منہ موڑ کر یہ طرح طرح کی ہلاکتوں میں گرگئے، سو اپنی گمراہی اور اس ہلاکت و تباہی کے ذمہ دار یہ لوگ خود ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو توحید خداوندی اصل الاصول اور مطلوب مشترک ہے جس کی دعوت ہر پیغمبر نے دی اور جس کی تعلیم ہر دین میں مطلوب مشترک کے طور پر موجود رہی اور جس پر دین حق کا مدار ہے، سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو اسی بات کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی بندگی کریں، اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے اپنے دین کو یکسو ہوکر۔ یعنی دوسرے تمام دینوں سے منہ موڑ کر صرف ملت ابراہیمی کے پیروکار بن کر رہو، جو کہ دین اسلام کی صورت میں تمہارے پاس موجود ہے کہ حق و ہدایت کی راہ اب یہی اور صرف یہی ہے اس کے بغیر نجات ممکن نہیں اور حق و ہدایت کی یہی وہ راہ ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہرہ ور کرتی ہے، لیکن ان لوگوں نے اپنی بدبختی اور سوء اختیار کی بنا پر اپنے دین کی ان بنیادی تعلیمات کو برباد کردیا، یہاں تک کہ ان بدبختوں نے اپنے پیغمبر کی موجودگی میں بچھڑے کی پوجا جیسے ہولناک جرم کا ارتکاب کیا، اپنے پیغمبر حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دیا، اپنے علماء فقہاء کو " اربابا من دون اللہ " بنادیا، اور دین سماوی کی مقدس تعلیمات سے منہ موڑ کر جادو ٹونے وغیرہ جیسے سفلی اعمال کو اپنا لیا، اور اس طرح ان لوگوں نے اپنے آپ کو گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈال دیا اور حق و ہدایت کی کھلی اور واضح روشنی مل جانے کے باوجود انہوں نے ایسے کیا اور اس طرح وہ " خسر الدنیا والاخرۃ " کے مصداق بن گئے جو کہ خساروں کا خسارہ اور محرومیوں کی محرومی ہے، بہرکیف اس ارشاد عالی سے واضح فرما دیا گیا کہ توحید خداوندی مطلوب مشترک ہے، جس کی تلقین ہر دین سماوی میں فرمائی گئی ہے اور عقیدہ توحید ہی پر دین حنیف کی بقا ہے، والحمد للہ جل وعلا بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الی سواء السبیل فعلیہ نتوکل وبہ نسعین
7 ۔ دین حق کی نشاندہی کا ذکر وبیان : سو مذکورہ بالا معالم حق کے ذکر وبیان کے بعد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہی ہے نہایت درست اور سیدھا راستہ اور سچا اور درست دین۔ یعنی دین اسلام جو کہ مبنی ہے ملت ابراہیمی اور توحید خداوندی پر جو تقاضا ہے عقل سلیم اور فطرت مستقیم دونوں کا اور جو ضامن اور کفیل ہے دارین کی سعادت و سرخروائی کا، پس اسی دین حنیف کو صدق دل سے اپنانا اور اس کی پیروی کرنا دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ اور واحد ذریعہ ہے، ورنہ اندھیرے ہی اندھیرے اور محرومیاں ہی محرومیاں ہیں، والعیاذ باللہ، واضح رہے کہ لفظ " القیمۃ " اصل میں صفت ہے " الملۃ " کی جو کہ محذوف و مقدر ہے ( روح، قرطبی، ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر، اور مدارک التنزیل وغیرہ) بہرکیف عبادت خالص اللہ کے لیے کرنا اسی کے لیے نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اس ملت " قیمۃ " کی وہ بنیادی تعلیمات ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان کی دونوں شاخوں کو ان کے جد اعلی کی وراثت میں منتقل ہوئی ہیں تو اب یہ کتنی افسوس کی بات ہے کہ دونوں شاخوں کی طرف سے اس کی مخالفت کی جارہی ہے، یعنی یہود و نصاری کے اہل کتاب کی طرف سے بھی اور مشرکین عرب کی طرف سے بھی جو کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں، اور ان کو اپنی اس نسبت پر بڑا فخر بھی تھا مگر اس کے باوجود انہوں نے بھی اس دین حق کا انکار اور اس کی مخالفت کی۔ بہرکیف اس سے یہ واضح فرما دیا گیا کہ اگر یہ لوگ فی الواقع صحیح اور سیدھے دین کے طالب اور متلاشی ہیں تو وہ ملت ابراہیمی کی شکل میں ان کو دے دیا گیا تھا، تو اس کو انہوں نے کیوں بدلا ؟ اور اب قرآن حکیم کی صورت میں دین قیم اور ملت ابراہیمی کی تعلیمات مقدسہ کو نئے سرے سے پیش کیا جارہا ہے تو یہ اس سے کیوں انحراف کرتے ہیں ؟ سو یہ لوگ دراصل حق کی بجائے اپنی اہوا و اغراض کی پیروی کرنا چاہتے ہیں اور حق کی روشنی سے منہ موڑ کر اہوا اور اغراض کی پیروی کرنا محرومی کی جڑ اور بنیاد ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا اِنْ هِىَ اِلَّآ اَسْمَاۗءٌ سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ ۚ وَلَقَدْ جَاۗءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰى (النجم 23 پ 27) یعنی یہ لوگ پیری نہیں کرتے مگر ظن اور گمان کی اور ان چیزوں کی جن کی خواہش ان کے نفس کرتے ہیں حالانکہ ان کے پاس ہدایت آچکی ان کے رب کی طرف سے۔ سبحانہ و تعالیٰ فلک الحمد ولک الشکر، یا ربی یا من بیدہ ملکوت کل شیء، فخذنی بناصیتی الی ما فیہ حبک ورضاک، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن وکل لحظۃ من الحظات فی الحیاۃ، وایاک نسال اللھم التوفیق للتقوی وما تحب وترضی من القوم والعمل، یا اکرم الاکرمین و یا ارحم الرحمین و تبارکت وتعالیت۔
Ayah 98:68 ۔ کفر و شرک کا نتیجہ و انجام قطعی طور پر دوزخ، والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا اور " ان " کے حڑف تاکید کے ساتھ واضح فرما دیا گیا کہ کافروں اور مشرکوں کا دائمی ٹھکانہ دوزخ ہے جس میں ان کو ہمیشہ عیش کے لیے رہنا ہوگا، والعیاذ باللہ جل وعلا۔ اور یہ سب کچھ ان کے اپنے اختیار کردہ کفر و انکار کے اس جرم عظیم کی پاداش میں ہوگا جو کہ منبع ومصدر ہے ہر شر و فساد کا، والعیاذ باللہ۔ سو اس سے ان لوگوں کا انجام واضح فرما دیا گیا جو قرآن کی تکذیب پر اڑے ہوئے ہوں خواہ وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا دوسرے کھلے مشرکوں سے والعیاذ باللہ، کہ تکذیب حق کا جرم بہت بڑا اور سب سے سنگین جرم ہے، جس کی سزا دوزخ کا عذاب ہے، اور وہ بھی ہمیشہ کے لیے، والعیاذ باللہ العظیم۔ پس اس سے کفار و مشرکین کے اس کبر و غرور پر ضرب لگائی گئی ہے جس کی بنا پر انہوں نے حق کی تکذیب اور اس کے انکار کے ہولناک جرم کا ارتکاب کیا، سو ان سب کو دوزخ میں داخل ہونا ہوگا جس میں ان کو ہمیشہ ہمیش کے لیے رہنا ہوگا، والعیاذ باللہ۔ ایسا نہیں ہوگا کہ ان کو کچھ دنوں کے بعد اس سے نکال دیا جائے جیسا کہ اہل کتاب نے سمجھ رکھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں تو دوزخ کی آگ چھوئے گی بھی نہیں سوائے گنتی کے کچھ دنوں کے، یعنی اور اگر ایسے ہوا بھی تو وہ بھی محض گنتی کے کچھ دنوں کے لیے ہوگا، اور بس۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے، ذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَــسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ ۠ وَغَرَّھُمْ فِيْ دِيْــنِهِمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ (آل عمران 24 پ 3) سو یہ سب محض ان کے منہ کی باتیں اور جھوٹی اور من گھڑت آرزوئیں ہیں، والعیاذ باللہ من کل زیغ و ضلال و سوء و انحراف ومن کل سوء و شر۔
9 ۔ کفار و مشرکین بدترین مخلوق، والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کفر و شرک والے لوگ بدترین مخلوق ہیں۔ یہاں تک یہ حیوانات اور درندوں سے بھی برے ہیں کیونکہ ان کو عقل کا جوہر نہیں بخشا گیا تھا جبکہ ان کو عقل کے اس جوہر عظیم سے بہرہ ور و سرفراز کیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعے یہ لوگ حق اور باطل کے درمیان فرق وتمیز کرسکیں اور اس کے نتیجے میں حق کو اپنا کر یہ اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا سامان کرسکیں، مگر انہوں نے عقل کی اس روشنی کے باوجود اور ہر طرح کی تذکیر و تفہیم کے باوصف کفر و تباہی کے راستے کو اپنایا، اور اللہ تعالیٰ کی زمین کو شر و فساد سے بھر دیا، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ایسے کافر اور منکر لوگ تو اپنی دنیاوی دولت وغیرہ کی بنا پر اپنے آپ کو بڑٰ چیز سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ ہمیں بھی وہی کچھ نہ دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے ( الانعام 125) لیکن حقیقت نفس الامری کے مطابق یہ لوگ بدترین یعنی سب سے بری مخلوق ہیں، سو کفر و شرک کے باعث اور ایمان و یقین کی دولت سے محرومی کے نتیجے میں ایسے لوگ سب سے برے اور بدترین مخلوق۔ " شر البریہ " ہیں اور یہ اس لیے کہ ان کو قدرت نے عقل جوہر بےمثال سے نوازا تھا، جو کہ انسان کا مابہ الامتیاز ہے اور جس کی بنا پر انسان اشرف المخلوقات قرار پاتا ہے، مگر ان منکرین و مشرکین نے عقل و خرد کے اسی جوہر بےمثال کو حق کے لیے استعمال کرنے کی بجائے الٹا اس کو حق کے خلاف اور کفر ونکار کے حق میں استعمال کیا، اور اسی بنا پر انہوں نے دین حق کی روشنی سے منہ موڑا اور اپنے آپ کو " اسفل السافلین " بنادیا، اور یہ ساری مخلوق میں سب سے برے اور " شر البریہ " یعنی بدترین مخلوق بن گئے۔ والعیاذ باللہ۔
Ayahs 98:7–812 ۔ اہل ایمان کے لیے خلود جنت کی بشارتیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسوں کی جزا ان کے رب کے یہاں وہ عظیم الشان جنتیں ہوں گی جن کے نیچے طرح طرح کی عظیم الشان نہریں بہہ رہی ہوں گی جہاں ان خوش نصیبوں کو ہمیشہ ہمیش رہنا نصیب ہوگا کہ نہ وہاں کی یہ نعمتیں کبھی ختم ہوں گی کہ ان کی شان یہ ہوگی " لا مقطوعۃ ولا ممنوعۃ " یعنی نہ وہ کبھی ختم ہوں گی اور نہ ان سے ان کو روکا جائے گا اور نہ ہی ان اہل جنت کو وہاں سے کبھی نکالا جائ گا، ان کے لیے " وما ھم بمخرجین " کا پیشگی وعدہ ہے، اور نہ کبھی ان حضرات کا خود وہاں سے نکلنے کا جی چاہے گا، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا " لا یبغون عنھا حولا " سو یہی ہے اصل اور حقیقی کامیابی، جس کے لیے محنت کرنے کی ضرورت ہے، اللہ نصیب فرمائے۔ آمین۔ پس اسے اللہ تعالیٰ کے ان نیک بندوں کا صلہ بیان فرما دیا گیا جنہوں نے اپنی دنیاوی زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کی طلب و تلاش میں گزاری ہوگی، کہ ان کے لیے اس دنیا میں جو آزمائشیں مقدر ہیں ان سے تو ان کو بہرحال گزرنا ہوگا، لیکن ان رب کے یہاں ان کے لیے دائمی اقامت کی ایسی عظیم الشان جنتیں ہوں گی جن کے نچیے سے طرح طرح کی عظیم الشان نہریں بہہ رہی ہوں گی جہاں ان کو ہمیشہ ہمیش کے لیے رہنا نصیب ہوگا نہ ان کو کبھی وہاں سے نکالا جائے گا اور نہ ہی خود ان کے نکلنے کو جی چاہے گا۔ اللھم فشرفنا بھا بمحض منک وکرمک یا ارحم الرحمین۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین واکرم الاکرمین۔
13 ۔ اہل جنت کے لیے رضا خداوندی کا مژدہ جانفزا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ راضی ہوگیا ان سے اور یہ راضی ہوگئے اس سے، اور یہی ہے وہ سب سے بڑا مقصد حیات جو ایک صالح انسان اپنے سامنے رکھتا ہے اور جس کی تمنا وہ آرزو ہر بندہ مومن کرتا ہے کہ اسے اس سے نوازا جا 4 ے۔ یعنی یہ کہ اس کا خالق ومالک اس سے راضی ہوجائے، سبحانہ و تعالی۔ کہ رب کی رضا ہی اصل مقصود اور دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی فوزو فلاح کی ضامن و کفیل ہے۔ اللھم شرفنا بہ بمحض منک وکرمک یا ارحم الرحمین۔ بہرکیف اس سے اہل جنت کے لیے رضا خداوندی کی سب سے بڑی نعمت کا اعلان فرما دیا گیا یعنی یہ کہ اللہ ان سے راضی اور یہ اللہ سے راضی، اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ اور اللہ ان سے اس لیے راضی ہوگیا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں اس کی رضا کے حصول کو اپنا اصل مقصد اور نصب العین بنایا تھا، اور اس کے لیے انہوں نے اس کی بندگی کا حق اس طرح ادا کیا جس طرح ادا کرنا چاہیے تھا، اور جو ان کے رب کے یہاں معیار مطلوب پر پورا اترتا تھا اور یہ خوش نصیب اللہ سے اس لیے راضی ہوگئے کہ اس نے نہ صرف یہ کہ ان سے کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا فرمایا ہوگا بلکہ ان کو وہ کچھ بخشا ہوگا جس کا یہ لوگ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وھو الھادی الی سواء السبیل۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر مستقیم و ثابت قدم رکھے، اور نفس و شیطان کے ہر مکرو فریب سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین واکرم الاکرمین یامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ۔
14 ۔ خوف و خشیت خداوندی کی عظمت شان کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ہر اس شخص کے لیے جو ڈرتا رہا اپنے رب سے، اور اس نے ہمیشہ اس کا پاس ولحاظ رکھا کہ میرا رب جو کہ میرا خالق ومالک بھی ہے اور منعم و وہاب بھی بھی وہ مجھ سے ناراض نہ ہوجائے اور مجھ سے ایسا کوئی کام نہ ہوجائے جو اس کی رضا کے خلاف ہو، سو خوف و خشیت خداوندی وہ اصل اصیل اور شاہ کلید ہے جس پر انسان کی حقیقی فوز و فلاح اور دارین کی سعادت و سرخروئی کا دارومدار ہے، فخذنا اللھم بنواصینا الی مافیہ حبک ورضاک والی ما فیہ فوزنا و فلاحنا فی الدنیا ولاخرۃ بمحض منک وکرمک یا ارحم الرحمین و یا اکرم الاکرمین انک انت السمیع القریب، و بالاجابۃ جدیر، وعلی کل شیء قدیر یا من لا حد لجودک ولا نھایۃ لکرمک واحسانک۔ بہرکیف اس سے یہ اہم اور بنیادی حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ بن دیکھے اپنے رب سے ڈرے اور اس کے احکام اور صدق دل سے بجا لائے، اور ہر اسی قول و فعل اور حرکت سے بچنے جو اس وحدہ لاشریک کی ناراضگی کا باعث ہو، پس جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم آنکھوں سے دیکھ کر ہی مانیں گے وہ بڑے ہی احمق، بدبخت اور محروم ہیں، والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔