Ayah 98:1اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے (لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ ) نہیں ہیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے۔ یعنی یہودونصاری میں سے (والمشرکین) اور مشرکین اور دیگر قوموں کی تمام اصناف میں سے (منفکین) باز آنے والے۔ یعنی یہ سب اپنے کفر اور ضلالت سے جدا نہیں ہوں گے وہ اپنی گمراہی اور ضلالت میں بھٹکے رہیں گے اور مرور اوقات ان کے کفر پر اضافہ ہی کرے گا۔ ( حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ ) یہاں تک کہ ان کے پاس واضح دلیل اور نمایاں برہان آجائے۔ پھر (البینۃ) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا۔
Ayah 98:2(رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ ) اللہ کے رسول۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو مبعوث کیا جو لوگوں کو حق کی طرف دعوت دیتا ہے اس پر کتاب اتاری جس کی وہ تلاوت کرتا ہے تاکہ لوگوں کو دانائی سکھائے، ان کو پاک کرے اور ان کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائے اس لیے فرمایا (يَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً ) وہ رسول پاک اوراق پڑھتا ہے۔ یعنی وہ شیطان کے قریب ہونے سے محفوظ ہیں۔ اسے صرف پاک فرشتے ہی چھوتے ہیں کیونکہ یہ بلند ترین کلام ہے۔
Ayah 98:3اس لیے صحیفوں کے بارے میں فرمایا ان صحیفوں میں ( كُتُبٌ قَيِّمَةٌ) سچی خبریں اور عدل پر مبنی احکام ہیں جو حق اور راہ راست کی طرف راہ نمائی کرتے ہیں جب ان کے پاس یہ واضح دلیل آجاتی ہے تب اس وقت طالب حق اور وہ شخص جس کا مقصد طلب حق نہیں ہے دونوں واضح ہوجاتے ہیں پس جو کوئی ہلاک ہوتا ہے تو دلیل ہے ہلاک ہوتا ہے اور جو کوئی زندہ رہتا ہے تو دلیل سے زندہ رہتا ہے۔
Ayah 98:4اگر اہل کتاب اس رسول پر ایمان نہیں لاتے اور آپ کی اطاعت نہیں کرتے تو یہ ان کی گمراہی اور عناد کی بنا پر کوئی انوکھی چیز نہیں ہے کیونکہ انہوں نے تفرقہ بازی اور باہم اختلاف کیا اور فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ (مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ ) اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح دلیل آگئی جو اپنے ماننے والوں کے لیے اجتماع اور اتفاق کی موجب ہے مگر ان کے بگاڑ اور ان کی خساست کی بنا پر ہدایت نے ان کی گمراہی میں اور بصیرت نے ان کے اندھے پن میں اضافے کے سوا کچھ نہیں کیا حالانکہ تمام کتابیں ایک ہی اصل اور ایک ہی دین لے کر آئی ہیں۔
Ayah 98:5ان کو تمام شریعتوں میں حکم تو یہی ہے کہ عبادت کریں (اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ڏ) اللہ کی اخلاص کے ساتھ اس کے لیے بندگی۔ یعنی اپنی تمام ظاہری اور باطنی عبادت میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے قرب کی طلب کو مقصد بناتے ہوئے (حُنَفَاۗءَ وَيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوا الزَّكٰوةَ ) یکسو ہو کر۔ (یعنی دین توحید کے مخالف تمام ادیان سے منہ موڑ کر) اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔ اللہ نے نماز اور زکوۃ کو ان کے فضل وشرف کی بنا پر خاص طور پر ذکر کیا حالانکہ وہ دونوں اللہ کے ارشاد ( لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ) میں داخل ہیں نیز اس لیے بھی انہیں الگ ذکر کیا کہ یہ دونوں ایسی عبادتیں ہیں کہ جس نے ان کو قائم کیا اس نے دین کی تمام شرائع کو قائم کیا۔ اور یہ یعنی توحید اور اخلاص فی الدین دونوں (دِيْنُ الْقَيِّمَةِ ) دین مستقیم ہیں جو نعمتوں بھری جنت میں پہنچاتا ہے اور اس کے سوا دیگر ادیان ایسے راستے ہیں جو جہنم میں لے جاتے ہیں۔
Ayah 98:6پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ کافروں کے پاس واضح دلیل آجانے کے بعد ان کی جزا کیا ہوگی چناچہ فرمایا (اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَالْمُشْرِكِيْنَ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ ) بیشک وہ لوگ جنہوں نے اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا، جہنم کی آگ میں ہوں گے اس کا عذاب ان کا احاطہ کرلے گا۔ اور اس کی عقوبت ان پر بہت شدت اختیار کرلے گی۔ (خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭ ) یہ عذاب ان سے کبھی منقطع نہیں ہوگا اور وہ جہنم کے اندر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس رہیں گے (اُولٰۗىِٕكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ ) ی لوگ مخلوق میں سے بدتر ہیں کیونکہ انہوں نے حق کو پہچان کر اس کو ترک کردیا اور یوں دنیا وآخرت میں انہوں نے نقصان اٹھایاق۔
Ayah 98:7(اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ اُولٰۗىِٕكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ ) بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے وہ مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔ کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور اس کی معرفت حاصل کی اور وہ دنیا وآخرت کی نعمتوں سے فوز یاب ہوئے۔
Ayah 98:8(جَزَاۗؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ ) ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشہ کے باغات ہیں۔ یعنی دائمی اقامت کے لیے جنتیں جہاں سے کبھی کوچ نہ ہوگا نہ روانگی اور نہ ان جنتوں سے اوپر کسی اور چیز کی طلب رہے گی۔ (تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭرَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ ۭ ) جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے پس اللہ تعالیٰ ان سے اس سبب سے راضی ہوا کہ انہوں نے اس کی مرضی کو پورا کیا اور وہ اللہ تعالیٰ پر راضی ہوئے کہ اس نے ان کے لیے مختلف انواع کی تکریمات تیار کیں۔ (ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهٗ ) یہ جزائے حسن اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس کی نافرمانیوں سے باز رہتا ہے اور ان امور کو قائم کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیے ہیں۔