Ayah 98:1اہل کتاب اور مشرکین کا ضدی گروہ: یہاں ’لَمْ یَکُنْ‘ فعل ناقص کے مفہوم میں نہیں بلکہ جس طرح
’وَکَانَ اللہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا‘ (النساء ۴: ۱۷)
(اللہ علیم و حکیم ہے)
میں ہے اسی طرح یہاں بھی فعل تام کے مفہوم میں ہے اس وجہ سے اس کا ترجمہ یوں ہونا چاہیے کہ اہل کتاب اور مشرکین میں سے جنھوں نے قرآن اور رسول کا کفر کیا وہ اپنی ہٹ سے باز آنے والے نہیں ہیں جب تک کھلی نشانی نہیں دیکھ لیں گے۔
’کَفَرُوْا‘ کا مفعول یہاں، قرینہ کی وضاحت کی بنا پر، محذوف ہے۔ یعنی جنھوں نے قرآن اور رسول کا انکار کر دیا ہے۔
’اہل کتاب‘ اور ’مشرکین‘ کا ذکر یہاں بحیثیت دو گروہوں کے ہے جو اس دور میں نبی ﷺ کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔ مشرکین علانیہ طور پر اور اہل کتاب، جیسا کہ ہم نے تمہید میں اشارہ کیا، خفیہ طور پر۔ لفظ ’مشرکین‘ جب یوں آتا ہے، جس طرح یہاں آیا ہے، تو مشرکین قریش یا مشرکین بنی اسمٰعیل کے لیے بطور عَلَم آتا ہے۔ اس استعمال کی مثالیں قرآن میں متعدد نہایت واضح موجود ہیں۔
’مِنْ‘ یہاں اپنے معروف استعمال یعنی تبعیض ہی کے لیے ہے اس لیے کہ یہاں مشرکین اور اہل کتاب میں سے اس گروہ کا کردار بیان ہو رہا ہے جو اسلام کی مخالفت کے لیے اندھا بہرا بن کر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ ان دونوں گروہوں میں سب ایک ہی طرح کے نہیں تھے بلکہ ان میں ایسے سنجیدہ افراد بھی تھے جو اسلام لائے اور اگر اسلام نہیں لائے تو کم از کم اس معاملے میں وہ میانہ رو یا غیر جانب دار رہے۔ قرآن میں اس طرح کے لوگوں کا ذکر تحسین کے ساتھ ہوا ہے۔ یہاں ’مِنْ‘ اسی فرق کو ظاہر کرنے کے لیے آیا ہے کہ یہ صرف اس گروہ کا کردار بیان ہو رہا ہے جو اپنے مطلوبہ معجزات دیکھے بغیر کوئی بات سننے سمجھنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
ضدیوں کا مطالبہ: ’حَتّٰی تَأْتِیَہُمُ الْبَیِّنَۃُ‘۔ یہ ان ضدیوں کی وہ شرط بیان ہوئی جس کے پورے ہوئے بغیر وہ اپنی ہٹ دھرمی سے باز آنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ’بَیِّنَۃُ‘ کے معنی کھلی ہوئی نشانی کے ہیں۔ ’کھلی ہوئی نشانی‘ سے ان کی مراد یہ تھی کہ ان کو کوئی ایسا واضح معجزہ دکھایا جائے جس کے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ ان کے اس مطالبہ کا ذکر قرآن میں جگہ جگہ ہوا ہے۔ ہم بعض مثالیں پیش کرتے ہیں جن سے ان کے ذہن کا کچھ اندازہ ہو سکے گا۔
سورۂ نساء میں اہل کتاب کے مطالبہ کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے:
یَسْئَلُکَ أَہْلُ الْکِتَابِ أَنۡ تُنَزِّلَ عَلَیْہِمْ کِتَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَأَلُوۡا مُوۡسٰی أَکْبَرَ مِنۡ ذٰلِکَ فَقَالُوۡا أَرِنَا اللہِ جَہْرَۃً (النساء ۴: ۱۵۳)
’’اہل کتاب تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم ان پر آسمان سے براہ راست ایک کتاب اتارو تب وہ مانیں گے۔ ان کا یہ مطالبہ کچھ عجیب نہیں۔ موسیٰ سے تو انھوں نے اس سے بھی بڑا مطالبہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اللہ کو کھلم کھلا دکھاؤ تب ہم مانیں گے۔‘‘
اسی طرح مشرکین سے متعلق قرآن نے سورۂ مدثر میں بیان فرمایا ہے:
بَلْ یُرِیْدُ کُلُّ امْرِئً مِّنْہُمْ أَنۡ یُؤْتٰی صُحُفًا مُّنَشَّرَۃً (المدثر ۷۴: ۵۲)
’’بلکہ ان میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کو کھلے ہوئے صحیفے پکڑائے جائیں۔‘‘
یعنی وہ اس قرآن کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں جو وحی کے ذریعے سے صرف ایک شخص پر نازل ہوتا ہے بلکہ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ آسمان سے ان میں سے ہر ایک کے لیے الگ الگ صحیفے اتریں۔ تب وہ یقین کریں گے کہ فی الواقع اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لیے کتاب اتاری ہے۔
Ayah 98:2یہ ’اَلْبَیِّنَۃُ‘ کی وضاحت ہے کہ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ ہم سے منوانا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرشتہ براہ راست پاک اور اچھوتے اوراق پڑھتا ہوا اترے جس میں نہایت واضح اور قطعی احکام مرقوم ہیں۔
’رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰہِ‘ کے الفاظ سے واضح ہے کہ ان کا منشا یہ تھا کہ انسانوں میں سے اٹھا ہوا کوئی رسول جو مدعی ہو کہ اس پر وحی آتی ہے، ان کو مطلوب نہیں ہے، بلکہ وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا کوئی فرشتہ چاہتے ہیں جو پاک اور اچھوتے اوراق پڑھتا ہوا اترے۔
’صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً‘۔ ’صَحِیْفَۃٌ‘ ورق کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ فرشتہ کی بات بھی اس صورت میں باور کریں گے جب وہ خدا کی طرف سے صرف خبر دینے والا نہ ہو بلکہ جو کچھ لائے، لکھے ہوئے اوراق میں لائے اور اس کو پڑھ کر سنائے۔ ان اوراق کے لیے ’مُطَہَّرَۃً‘ کی صفت میں یہ مضمون مضمر ہے کہ یہ اوراق بالکل پاکیزہ اور اچھوتے ہوں، خدا اور فرشتہ کے سوا کسی جن و بشر نے ان کو ہاتھ نہ لگایا ہو۔
Ayah 98:3’فِیْہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ‘۔ مذکورہ شرائط کے اوپر ایک مزید شرط یہ بھی کہ ان اوراق میں ادھر ادھر کی بہت سی سرگزشتیں اور حکایتیں نہ ہوں بلکہ سیدھے سیدھے قطعی اور واضح احکام ہوں کہ وہ ان کو سن کر بے تکلف جان لیں کہ ان کا رب ان کو کن باتوں کا حکم دیتا ہے اور کن باتوں سے روکتا ہے۔
’کُتُبٌ‘ جمع ہے ’کِتَابٌ‘ کی۔ سورۂ بقرہ کی تفسیر میں اس کی وضاحت ہو چکی ہے۔۱ وہاں ہم نے بتایا ہے کہ یہ لفظ قرآن میں شریعت کے احکام کے معنی میں بھی آیا ہے۔ یہاں یہ اسی معنی میں ہے۔
’قَیِّمَۃٌ‘ کے معنی سیدھے، واضح اور قطعی کے ہیں۔ یعنی ہمیں قطعی احکام بتائے جائیں، غیر متعلق باتیں سننے کے خواہش مند ہم نہیں ہیں۔ اس لفظ میں ان شریر لوگوں کی طرف سے قرآن مجید پر جو تعریض ہے وہ اہل ذوق خود سمجھ سکتے ہیں۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح تورات کے احکام عشرہ الواح میں لکھ کر دیے گئے تھے اسی طرح واضح احکام، اوراق میں لکھے ہوئے لے کر فرشتہ آسمان سے ہمارے اوپر اترے تب ہم مانیں گے کہ یہ خدا کی اتاری ہوئی کتاب ہے۔
_____
۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن۔ جلد اول، صفحہ: ۴۲۔
Ayah 98:4اہل کتاب کے القاء کردہ مطالبہ کا جواب: یہ مطالبہ چونکہ اہل کتاب کی ایجادات میں سے تھا جو انھوں نے قریش کے لیڈروں کو اس لیے سکھایا تھا کہ وہ اس کو قرآن کے خلاف استعمال کریں، اس وجہ سے قرآن نے اس کا جواب انہی کو سامنے رکھ کر دیا۔ فرمایا کہ ان کو ان کی طلب کے مطابق کوئی معجزہ دکھا بھی دیا جائے جب بھی یہ ماننے والے اسامی نہیں ہیں۔ ان کی تاریخ شاہد ہے کہ ان کو جو شریعت دی گئی تھی وہ نہایت کھلے ہوئے معجزات کے جلو میں دی گئی تھی، ان کے پیغمبر، حضرت موسیٰ نے قدم قدم پر ان کو قدرت خداوندی کے وہ کرشمے دکھائے جو کسی قوم کو ان سے پہلے نہیں دکھائے گئے، تورات کے احکام عشرہ ان کو الواح میں لکھ کر دیے گئے۔ ان سے شریعت کا عہد لیتے وقت پہاڑ ان کے اوپر چھتری کی طرح اڑھا دیا گیا، ان کے لیے صحرا میں سایہ اور من و سلویٰ کا انتظام کیا گیا، پہاڑ سے ان کے لیے اکٹھے بارہ چشمے جاری کر دیے گئے لیکن یہ سارے کرشمے اور معجزے دیکھنے کے بعد شریعت الٰہی کے ساتھ وفاداری کا حق انھوں نے یوں ادا کیا کہ سامری سے ایک بچھڑا بنوا کر اس کی پوجا شروع کر دی کہ یہی ہمارا معبود ہے۔ ان کے اسی فساد سے ان کے اندر سب سے پہلے انتشار پیدا ہوا جو امتداد زمانہ کے ساتھ بڑھتا گیا یہاں تک کہ اختلاف کے سوا کوئی چیز بھی ان کے درمیان مشترک نہیں رہ گئی۔
Ayah 98:5یہ اس تفرق کی مثال ہے جس کا ذکر اوپر کی آیت میں ہوا ہے۔ فرمایا کہ دین کی بنیادی چیزوں میں سے کوئی چیز بھی ایسی باقی نہیں رہ گئی ہے جس پر یہ قائم و استوار ہوں بلکہ ہر چیز میں ان کی راہیں الگ الگ ہو گئیں یہاں تک کہ اپنے اس اختلاف کی بدولت وہ ان کو ضائع کر بیٹھے۔
ان کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے توحید کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ ہی کی بندگی کریں اسی کے لیے اطاعت کو خالص کر کے، بالکل یکسو ہو کر، لیکن انھوں نے دین کی یہ بنیادی تعلیم برباد کر دی۔ اپنے پیغمبر کی موجودگی میں انھوں نے ایک بچھڑے کی پرستش کی، عزیر کو ابن اللہ اور اپنے علماء و فقہاء کو ’اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ‘ بنایا۔ جادو اور اعمال سفلیہ اختیار کر لیے یہاں تک کہ دوسری قوموں کے بتوں کی بھی پوجا کی جس پر ان کے نبیوں نے نہایت درد انگیز الفاظ میں نوحہ کیا۔
اسی طرح انھیں نماز اور زکوٰۃ کا بھی حکم دیا گیا تھا لیکن نماز انھوں نے، جیسا کہ سورۂ بقرہ کی تفسیر میں وضاحت ہو چکی ہے، بالکل ہی ضائع کر دی یہاں تک کہ تورات میں اس کا ذکر بھی باقی نہیں رہا۔ تورات میں قربانی کا ذکر آتا ہے لیکن نماز کا ذکر بمنزلہ صفر ہے۔ یہی حال زکوٰۃ کا بھی ہوا۔ رسمی طور پر تو وہ باقی رہی لیکن اس کے اصلی حق دار فقراء و غرباء کی جگہ بنی لاوی کے علماء و فقہاء بن گئے اور ان کے علماء و فقہاء کی خِسّت و بخالت کا جو حال رہا ہے اس کا اندازہ کرنا ہو تو انجیلوں اور دوسرے نبیوں کے صحیفوں میں ان کی زرپرستی کی جو تصویر کھینچی گئی ہے اس کو ملاحظہ فرمائیے۔
’وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ‘۔ یہ جواب ہے ان کے اس مطالبہ کا جو اوپر ’فِیْھَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ‘ کے الفاظ میں نقل ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ فی الواقع سیدھے اور واضح دین ہی کے طالب ہیں تو یہ احکام تو انھیں سیدھے اور فطری دین ملت ابراہیم کے احکام کی حیثیت سے دیے گئے تھے تو انھوں نے آخر ان کو کیوں برباد کیا؟ اور یہ قرآن بھی ان کو انہی واضح اور قطعی باتوں کی طرف بلا رہا ہے تو اس کی مخالفت کے درپے کیوں ہیں؟ مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب جو سوالات اٹھا رہے ہیں یہ محض ان کے حسد کی پیداوار ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح یہ خود اپنے کو اللہ کی شریعت سے محروم کیے بیٹھے ہیں اسی طرح دوسرے بھی اس سے محروم ہی رہیں۔
دین قیم: ’ذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ‘۔ یہ اصل میں ’ذٰلِکَ دِیْنُ الْمِلَّۃِ الْقَیِّمَۃِ‘ ہے۔ ’قَیِّمَۃ‘ کا موصوف یہاں حذف ہو گیا ہے اور اس قسم کا حذف، قرینہ موجود ہو تو عربی میں معروف ہے۔ اس اسلوب بیان سے اس بات کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ دین کی یہی وہ بنیادی تعلیمات ہیں جو حضرت ابراہیم کے خاندان کی دونوں شاخوں کو ان کے جد اعلیٰ کی وراثت کی حیثیت سے منتقل ہوئیں۔ تو حیف ہے، اگر انہی کی مخالفت کے لیے دونوں شاخیں گٹھ جوڑ کرنے کی کوشش کریں۔
یہ امر واضح رہے کہ ملت ابراہیم کا تعارف قرآن میں جگہ جگہ ’مِلَّۃٌ قَیِّمَۃٌ‘ کی صفت سے کرایا گیا ہے۔ اس ملت پر مفصل بحث اس کے محل میں ہو چکی ہے۔ یہاں ہم صرف ایک آیت کے حوالہ پر اکتفا کریں گے۔ فرمایا ہے:
قُلْ اِنَّنِیْ ھَدٰنِیْ رَبِّیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا. (الانعام ۶: ۱۶۱)
(کہہ دو۔ میرے رب نے میری رہنمائی ایک سیدھی راہ کی طرف فرمائی ہے۔ فطری دین، ملت ابراہیم کی طرف یکسو ہو کر)۔
Ayah 98:6اہل کتاب اور مشرکین کے کبر و غرور پر ضرب: یہ ان لوگوں کا انجام بیان فرمایا ہے جو قرآن کی تکذیب پر اڑے ہوئے ہیں، خواہ وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکین سے۔ ساتھ ہی اس میں ان کے اس کبر و غرور پر بھی ضرب لگائی ہے جو اس تکذیب کا سبب بنا۔
فرمایا کہ جو بھی قرآن کی تکذیب کر کے کفر کے مرتکب ہوئے ہیں وہ سب جہنم میں بھر دیے جائیں گے، خواہ وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکین میں سے۔ اہل کتاب ہو کر جنھوں نے اسی اندھے پن کا ثبوت دیا جس کا مظاہرہ مشرکین نے کیا تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ کسی رعایت کے مستحق ٹھہریں۔ ساتھ ہی یہ تاکید بھی ہے کہ یہ اس جہنم میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخل کیے جائیں گے۔ یہ نہیں ہو گا کہ چند دنوں کے بعد اس سے ان کو نکلنا نصیب ہو جائے۔ یہاں اہل کتاب کے اس زعم پر نظر رہے جس کی طرف قرآن نے اشارہ فرمایا ہے کہ ان کا گمان یہ ہے کہ اول تو دوزخ کی آگ سے ان کو کوئی سابقہ پڑنے والا نہیں ہے اور پڑا بھی تو وہ چند دنوں سے زیادہ کے لیے نہیں ہو گا۔
’اُولٰٓئِکَ ہُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ‘۔ یہ ان کے کبر پر ضرب لگائی گئی ہے۔ اہل کتاب اور مشرکین کے سردار، قرآن اور پیغمبر پر ایمان لانے کے لیے یہ شرط جو لگاتے تھے کہ جب تک کوئی فرشتہ آسمان سے اچھوتے صحیفے پڑھتا نہیں اترے گا یا جب تک ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں کھلے صحیفے نہیں پکڑائے جائیں گے اس وقت تک وہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ محمد ﷺ اپنے دعوائے رسالت میں سچے ہیں، ظاہر ہے کہ یہ شرط وہ اس غرور کی بنا پر لگاتے تھے کہ وہ اپنے ہی اندر کے ایک شخص کو، جو دنیوی اعتبار سے ان سے فروتر بھی ہے، خدا کا رسول مان کر اس کی اطاعت کا قلادہ اپنی گردن میں کس طرح ڈال لیں! ان کا یہ غرور ان کے لیے قبول حق سے مانع بنا حالانکہ حق خواہ چھوٹا ہو یا بڑا اللہ تعالیٰ کی طرف ہے جس کے آگے گردن جھکا دینا ہر ایک پر واجب ہے خواہ وہ کوئی بادشاہ ہو یا غلام۔ اگر کوئی شخص حق سے اکڑتا ہے تو وہ ابلیس کی ذریت میں سے ہے اور ابلیس کی ذریت بدترین خلائق ہے جس کا ٹھکانا صرف جہنم ہے۔
Ayah 98:7ان بندوں کا بیان جو استکبار سے پاک رہے: یہ اللہ کے ان بندوں کا بیان ہے جو کبر و غرور کی آلائش سے پاک رہے اس وجہ سے ان کے اندر حق کا احترام باقی رہا۔ انھوں نے جب رسول کی دعوت سنی تو اس طرح کا کوئی مطالبہ نہیں کیا جس طرح کا مطالبہ مغروروں نے کیا بلکہ وہ اللہ کی کتاب پر ایمان لائے اور عمل صالح کی راہ پر چل پڑے۔ فرمایا کہ یہی لوگ ہیں جو بہترین خلائق ہیں۔ اس لیے کہ انسان کی قدر و قیمت مال و اسباب سے اور خاندان سے نہیں بلکہ اس کے عقل و اخلاقی اوصاف سے ہے۔ جن کے اندر یہ اوصاف موجود ہیں اللہ کے نزدیک وہی اشراف و سادات ہیں اگرچہ وہ روم یا حبش کے غلام ہوں اور جو ان اوصاف سے محروم ہیں وہ اللہ کے نزدیک ارذل خلائق ہیں اگرچہ وہ قرشی و ہاشمی سادات ہوں۔ یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے قریش کے لیڈروں کی وہ پھبتیاں ذہن میں تازہ کر لیجیے جو ان غریب مسلمانوں پر چست کرتے تھے جو شروع شروع میں اسلام لائے تھے۔ ان کی طرف سے اس توہین و تذلیل کے بعد رب السمٰوٰت والارض کی طرف سے ان کی اس سرفرازی سے کون اندازہ کر سکتا ہے کہ ان کے سر کتنے اونچے ہوئے ہوں گے!
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے اور جیسا کہ سورۂ تین میں ارشاد ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو بہترین ساخت اور نہایت اعلیٰ صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اگر یہ اپنی قدر پہچان لے تو یہ ’خَیْرُ الْبَرِیَّۃِ‘ ہے، خدا کی مخلوقات میں کوئی اس کے برابر کا نہیں۔ اور اگر یہ اپنی حقیقی قدر و قیمت سے بے خبر رہ کر زندگی گزارے تو یہ ’شَرُّ الْبَرِیَّۃِ‘ اور ’رَدَدْنٰہُ أَسْفَلَ سَافِلِیْنَ‘ کا بالکل صحیح مصداق ہے۔ پھر یہ اتنی پستی میں گرتا ہے جو صرف اسی کے لیے خاص ہے۔ خدا کی کوئی اور مخلوق اس پستی تک نہیں گرتی۔ جس طرح انسان کے عروج کی کوئی حد نہیں ہے اسی طرح اس کے زوال کی بھی کوئی حد و نہایت نہیں ہے۔ بڑی ہی اعلیٰ بات کہی ہے ان حکماء نے جنھوں نے کہا ہے کہ ’’اے انسان! تو اپنے کو پہچان!‘‘
Ayah 98:8یہ اللہ کے ان بندوں کا صلہ بیان ہو رہا ہے۔ فرمایا کہ اس دنیا میں ان کے لیے جو آزمائشیں مقدر ہیں، ان سے تو انھیں بہرحال گزرنا ہے لیکن اپنے رب کے پاس ان کے لیے اقامت کے ایسے باغ ہیں جن میں نہریں جاری ہوں گی اور یہ ان میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہوں گے۔ ’جَنَّاتُ عَدْنٍ‘ کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے۔
’رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوۡا عَنْہُ‘۔ یعنی اس جنت میں اللہ بھی ان سے راضی اور وہ بھی اس سے راضی۔ اللہ ان سے اس وجہ سے راضی کہ انھوں نے بندگی کا حق اس طرح ادا کیا جس طرح ان کو ادا کرنا چاہیے تھا اور جو ان کے رب کے معیار پر پورا اترا اور وہ اللہ سے اس وجہ سے راضی کہ ان کے رب نے نہ صرف وہ وعدے پورے کیے جو ان سے کیے تھے بلکہ ان کو وہ کچھ بخشا جس کا وہ تصور بھی نہ کر سکے تھے۔
’ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہُ‘۔ فرمایا کہ یہ مقام ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے رب سے، غیب میں رہتے، ڈرے۔ مطلب یہ ہے کہ جو احمق سب کچھ آنکھوں سے دیکھ کر ماننا چاہتے ہیں وہ اسی طرح بھٹکتے رہیں گے۔ ان کا علاج کوئی نہیں کر سکتا۔ اس دنیا میں انسان کا اصلی امتحان یہی ہے کہ وہ اپنی عقل و بصیرت سے کام لے کر ان حقائق پر ایمان لائے جن کی خبر اللہ کے رسولوں نے دی ہے۔ وہ کان اور آنکھیں بند کر کے زندگی نہ گزارے اور نہ اس بات کا منتظر رہے کہ سب کچھ سامنے دکھا دیا جائے تو وہ تب مانے گا۔ جس نے یہ امتحان پاس کر لیا وہی اس بات کا مستحق ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اس کو اپنے فضل عظیم سے نوازے۔ جو اس میں ناکام رہا وہ جانوروں سے بھی بدتر ہے اور اس لائق نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو اپنے فضل کا کوئی حصہ عطا کرے۔