99. Surah Az-Zalzala

الزلزلةThe Earthquake · 8 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

سورة کا مضمون اور ترتیب بیان اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ ایک ایسا دن لازماً آنے والا ہے جس دن انسان کی کوئی چیز بھی ڈھکی چھپی نہیں رہ جائے گی بلکہ اس کی جزا یا سزائے پائے گا۔ اس دن ہر شخص اپنے اعمال سے متعلق خود جواب دہ ہوگا۔ کوئی دوسرا نہ اس کا حامی و مددگار ہوگا اور نہ کوئی اس کا سفارشی بنے گا۔ اس مدعا کو واضح کرنے کے لئے پہلے اس ہلچل کی تصویر کھینچی گئی ہے جو قیامت کے دن اس زمین میں برپا ہوگی اور جس کے نتیجے میں وہ سب کچھ باہر آجائے گا جو اس کے اندر مدفون ہے۔ پھر وہ اللہ تعالیٰ کے ایماء سے اپنی ساری کہانی کہہ سنائے گی تاکہ انسان پر اچھی طرح واضح ہوجائے کہ اس نے اس کے اندر کہا کہاں کیا کچھ چھپایا اور کیا کیا کہا اور کیا ہے۔ اس کے بعد ہر ایک اپنی نیکی بھی دیکھے گا، اگر اس نے کوئی نیکی کی ہوگی اگرچہ وہکتنی ہی حقیر ہوا اور وہ برائی بھی دیکھے گا جس کا وہ مرتکب ہوا ہوگا اگرچہ وہ برائی کتنی ہی چھوٹی ہو۔ پچھلی سورتوں کے مطالب اگر ذہن میں محفوظ ہیں تو اس سورة کے انذار کی اہمیت کا اندازہ کرنے میں کچھ زحمت نہیں ہوگی۔ قیامت کے باب میں منکرین کے بڑے مغالطے تین تھے ایک یہ کہ یہ زمین و آسمان بھلا درہم برہم کس طرح ہو سکتے ہیں ؟ دوسرا یہ کہ انسان کے تمام اقوال و افعال کا بھلائی کو احاطہ کرسکتا ہے کہ ان کا حساب کرنے بیٹھے ؟ تیسرا یہ کہ اگر یہ باتیں ممکن بھی فرض کرلی جائیں جب بھی خود ان کے لئے کوئی اندیشہ نہیں ہے، ان کے شرکاء اپنے سفارش سے ان کو ہر آفت سے بچا لیں گے اور ان کو خدا کے ہاں بڑے بڑے درجے دلوائیں گے۔ اس سورة میں ان کے ان تینوں مغالطوں پر ضرب لگائی گئی ہے۔

Ayah 99:1

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ Open ayah 99:1 in the Quran reader

جب کہ زمین ہلا دی جائے گی جس طرح اس کہ ہلانا ہے

جب اس طرح ’اِذَا‘ سے کسی چیز کا بیان ہوتا ہے تو مقصود اس کی یاددہانی ہوتی ہے یعنی اس وقت کو یاد رکھو، اس دن سے ہوشیار رہو، جب کہ ایسا ایسا ہو گا۔ آپ چاہیں تو اس مخفی مضمون کو ترجمے میں ظاہر بھی کر سکتے ہیں۔ زبان کا ایک نکتہ: ’زِلْزَال‘ آیا تو ہے فعل ’زُلْزِلَتِ‘ کی تاکید کے لیے، جس طرح مفعول آیا کرتا ہے، لیکن یہاں زمین کی طرف اس کی اضافت سے مضمون میں ایک خاص اضافہ ہو گیا ہے جس کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے ورنہ آیت کا صحیح زور سمجھ میں نہیں آئے گا۔ اس خاص اسلوب کو سامنے رکھ کر اس کا ترجمہ یہ ہو گا کہ جب کہ زمین ہلا دی جائے گی اس طرح جس طرح زمین کو ہلانے کا حق ہے یا جس طرح اس کا ہلایا جانا مقدر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس ہلائے جانے کا صحیح تصور آج ممکن نہیں ہے، پورے کرۂ ارض کا جھنجھوڑا جانا اور اس طرح جھنجھوڑا جانا جس طرح خدا نے مقدر فرمایا ہے تصور سے ایک مافوق حادثہ ہے لیکن یہ پیش آنے والا ہے اس وجہ سے اس کو یاد رکھو، اس سے غافل رہ کر زندگی نہ گزارو۔
Ayah 99:2

وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ Open ayah 99:2 in the Quran reader

اور زمین اپنا بوجھ باہر نکال پھینکے گی

’اثقال‘ سے مراد: ’ثِقْلٌ‘ کے معنی بار اور بوجھ کے ہیں۔ اس کا اول مصداق تو مردے ہیں جو زمین میں دفن ہیں اور قیامت کے دن زمین ان کو نکال باہر کرے گی لیکن لفظ عام ہے اس وجہ سے اس سے وہ خزانے اور دفینے بھی مراد ہو سکتے ہیں اور ان جرائم کی یادگاریں بھی جن کا مجرموں نے ارتکاب کیا اور زمیں میں ان کو چھپایا۔ سورۂ انشقاق کی آیت ’وَاَلْقَتْ مَا فِیْھَا وَتَخَلَّتْ‘ (الانشقاق ۸۴: ۴) (جو کچھ اس کے اندر ہو گا وہ اس کو ڈال کر فارغ ہو جائے گی) میں اس کی وضاحت ہو چکی ہے اور آگے سورۂ عادیات کی آیت ’اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِ‘ (العادیات ۱۰۰: ۹) (اور جب کہ قبریں اگلوائی جائیں گی) کے تحت بعض اشارات ان شاء اللہ مزید آئیں گے۔
Ayah 99:3

وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ Open ayah 99:3 in the Quran reader

اور انسان پکار اٹھے گا کہ اسے کیا ہوگیا ہے !

انسان کی بدحواسی کی تصویر: اس ہولناک صورت حال کا انسان پر جو اثر پڑے گا یہ اس کی تعبیر ہے کہ وہ بدحواس ہو کر پکار اٹھے گا کہ ارے، یہ اسے کیا ہو گیا ہے کہ یہ کسی طرح ٹکنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے اور اپنے اندر کی ہر چیز باہر نکالے دے رہی ہے! اسی طرح کی گھبراہٹ مجرموں پر اس وقت بھی طاری ہو گی جب ان کے اعمال کا رجسٹر کھلے گا۔ اس وقت بھی وہ کہیں گے: ’مَالِ ھٰذَا الْکِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّلَا کَبِیْرَۃً اِلَّآ اَحْصٰھَا‘ (الکہف ۱۸: ۱۹) (عجیب ہے یہ کتاب! کوئی چھوٹا یا بڑا عمل ایسا نہیں ہے جو اس کی گرفت سے باہر رہ گیا ہو!)
Ayah 99:4

یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ Open ayah 99:4 in the Quran reader

اس دن وہ اپنی داستان کہہ سنائے گی ،

زمین ہر ایک کا ریکارڈ سنا دے گی: یعنی اس دن زمین وہ تمام نیکیاں اور بدیاں جو اس کی پشت پر کی گئی ہیں خدا کے حکم سے سنا ڈالے گی۔ قرآن کے دوسرے مقامات میں یہ تصریح ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ مجرموں کے اعضاء کو ناطق بنا دے گا اور وہ ان کے خلاف گواہی دیں گے یہاں تک کہ ان کی کھالیں (بدن کے رونگٹے) بھی ان کے خلاف شہادت دیں گے۔ سورۂ حٰم السجدہ میں فرمایا ہے: وَقَالُوْا لِجُلُوْدِھِمْ لِمَ شَھِدْتُّمْ عَلَیْنَا قَالُوْٓا اَنْطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْطَقَ کُلَّ شَیْءٍ.(حٰم السجدہ ۴۱: ۲۱) ’’اور مجرمین اپنی کھالوں سے پوچھیں گے کہ آخر تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟ وہ جواب دیں گی کہ جس خدا نے آج ہر چیز کو گویا کر دیا ہے اس نے ہمیں بھی گویا کر دیا۔‘‘ اس دنیا میں انسان جو کچھ بھی کرتا ہے اسی زمین کے اوپر یا نیچے کرتا ہے اس وجہ سے یہ انسان کے اعمال و اقوال کی سب سے بڑی گواہ ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جس طرح انسان کے اعضاء و جوارح اور اس کے بدن کے روئیں روئیں کو اس کے خلاف گواہی دینے اور اس کی زندگی کا ریکارڈ سنانے کے لیے گویا کر دے گا اسی طرح زمین کو بھی ناطق بنا دے گا کہ وہ ہر ایک کا ریکارڈ سنا دے۔
Ayah 99:5

بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَاؕ Open ayah 99:5 in the Quran reader

تیرے خداوند کے ایما سے

یہ اللہ کے حکم سے ہو گا: ’بِاَنَّ رَبَّکَ اَوْحٰی لَھَا‘۔ لفظ ’وحی‘ یہاں ایماء اور اشارہ کے مفہوم میں ہے۔ اس معنی میں یہ قرآن میں استعمال ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ زمین ایسا اس وجہ سے کرے گی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو اس کے لیے ایماء ہو گا۔ سورۂ حٰم السجدہ کی مذکورہ بالا آیت ’قَالُوْٓا اَنْطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْطَقَ کُلَّ شَیْءٍ‘ میں جو بات فرمائی گئی ہے وہی بات یہ ذرا مختلف اسلوب میں یہاں ارشاد ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جو کچھ ہو گا خدا کے حکم سے ہو گا اور ہر چیز خدا کے حکم کی تعمیل پر مجبور ہو گی۔ چنانچہ سورۂ انشقاق میں زمین ہی سے متعلق ارشاد ہے کہ ’وَاَذِنَتْ لِرَبِّھَا وَحُقَّتْ‘ (الانشقاق ۸۴: ۵) (اور وہ اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اس کے لیے یہی زیبا ہے)۔
Ayah 99:6

یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا١ۙ۬ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ Open ayah 99:6 in the Quran reader

اس دن لوگ الگ الگ نکلیں گہ کہ ان کو ان کے اعمال دکھائے جائیں۔

اس دن ہر شخص کو اپنی جواب دہی خود کرنی ہو گی: ’اَشْتَاتٌ‘ کے معنی متفرق، اکیلے اکیلے، تنہا تنہا کے ہیں۔ یعنی اس دن لوگ قبروں سے اس طرح نکلیں گے کہ کسی کے ساتھ نہ اس کے اہل خاندان ہوں گے، نہ اعزہ و اقرباء، نہ اس کا جتھا ہو گا، نہ خدم و حشم، نہ املاک و جائداد، نہ اعوان و انصار اور نہ مزعومہ شرکاء و شفعاء بلکہ ہر ایک اپنے اعمال کی جواب دہی کے لیے اپنے رب کے حضور تنہا حاضر ہو گا۔ یہ مضمون قرآن کے دوسرے مقامات میں نہایت وضاحت سے بیان ہوا ہے۔ مثلاً سورۂ مریم میں فرمایا ہے: ’وَکُلُّھُمْ اٰتِیۡہِ یٰوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا‘ (مریم ۱۹: ۹۵) (اور ان میں سے ہر ایک اپنے رب کے سامنے حاضر ہو گا تنہا)۔ سورۂ انعام میں فرمایا ہے: ’وَلَقَدْ جِئۡتُمُوْنَا فُرَادٰی کَمَا خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ‘ (الانعام ۶: ۹۴) (اور تم آئے ہمارے پاس تنہا تنہا جس طرح ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا)۔ ’لِّیُرَوْا اَعْمَالَہُمْ‘۔ یہ اس حاضری کی غایت بیان ہوئی ہے کہ یہ اس لیے ہو گی کہ ان کو ان کے اعمال دکھا دیے جائیں کہ دنیا کی زندگی میں انھوں نے کیا کارگزاری انجام دی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس دکھا دینے سے مقصود اس کا نتیجہ یعنی اس کا مزہ چکھو، یعنی فعل نتیجۂ فعل کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔
Ayahs 99:7–8

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ Open ayah 99:7 in the Quran reader

پس جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ بھی اس کو دیکھے گا

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠ Open ayah 99:8 in the Quran reader

اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھے گا

یہ اس اجمال کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ فرمایا کہ جس نے ذرہ کے برابر بھی نیکی کی ہو گی وہ بھی اس کے سامنے آئے گی اور جس نے ذرہ کے برابر برائی کی ہو گی وہ بھی اس کے سامنے آئے گی۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ ہر مومن و کافر کی ہر چھوٹی بڑی نیکی یا بدی اس کے سامنے آئے گی تو ضرور لیکن اس قاعدے کے مطابق آئے گی جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کے دوسرے مقامات میں بیان فرمایا ہے یعنی ایک مومن یہ دیکھے گا کہ اس سے نیکیوں کے ساتھ فلاں فلاں غلطیاں بھی صادر ہوئی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی فلاں فلاں نیکیوں کو ان کا کفارہ بنا دیا ہے۔ اسی طرح ایک کافر یہ دیکھے گا کہ اس نے بدیوں کے ساتھ کچھ نیک کام بھی کیے ہیں لیکن اس کے وہ نیک کام اس کے فلاں برے اعمال و عقائد کے سبب سے حبط ہو گئے، اس وجہ سے وہ ان کے صلہ سے محروم رہا۔ اس قاعدہ پر پرکھے جانے کے بعد نجات پانے والوں اور ہلاک ہونے والوں کے لیے جو ضابطہ مقرر ہوا ہے وہ سورۂ قارعہ میں یوں بیان ہوا ہے: فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ فَھُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ وَاَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ فَاُمُّہٗ ھَاوِیَۃٌ.(القارعہ ۱۰۱: ۶-۹) ’’پس جس کے پلڑے بھاری ہوں گے وہ تو دل پسند عیش میں ہو گا اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے تو اس کا ٹھکانا دوزخ کا کھڈ ہو گا۔‘‘