Al-Bayyina 98:4

Al-Bayyina · from ayah 4

98:4

وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنَةُ ۟ؕوَمَا تَفَرَّقَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ الۡبَيِّنَةُ

اور اہل کتاب جو متفرق (و مختلف) ہوئے ہیں تو دلیل واضح آنے کے بعد (ہوئے ہیں)

— Fateh Muhammad Jalandhari

Nor did those who were given the Scripture become divided until after there had come to them clear evidence.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 23 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Bayyina

All translations of 98:4

پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی اُن میں تفرقہ برپا نہیں ہوا مگر اِس کے بعد کہ اُن کے پاس (راہ راست) کا بیان واضح آ چکا تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اہل کتاب جو متفرق (و مختلف) ہوئے ہیں تو دلیل واضح آنے کے بعد (ہوئے ہیں)

— مولانا فتح محمد جالندہری

اہل کتاب اپنے پاس ﻇاہر دلیل آجانے کے بعد ہی (اختلاف میں پڑ کر) متفرق ہوگئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو اہل کتاب تھے، انہوں نے جدا راستہ اسی کے بعد اختیار کیا جب ان کے پاس روشن دلیل آچکی تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور پھوٹ نہ پڑی کتاب والوں میں مگر بعد اس کے کہ وہ روشن دلیل ان کے پاس تشریف لائے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(ان) اہل کتاب میں (نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت پر ایمان لانے اور آپ کی شانِ اقدس کو پہچاننے کے بارے میں پہلے) کوئی پھوٹ نہ پڑی تھی مگر اس کے بعد کہ جب (بعثتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی) روشن دلیل ان کے پاس آگئی (تو وہ باہم بٹ گئے کوئی ان پر ایمان لے آیا اور کوئی حسد کے باعث منکر و کافر ہوگیا)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ لوگ جنھیں کتاب دی گئی، جدا جدا نہیں ہوئے مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس کھلی دلیل آگئی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی ان میں تفرقہ اس بات کے بعد پیدا ہوا جبکہ پہلے ان کے پاس واضح احکام آچکے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

حالانکہ اہل کتاب کھلی ہوئی نشانی آجانے کے بعد ہی اختلاف میں پڑے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تفرقے (اور اختلاف) کا ارتکاب نہیں کیا ان لوگوں نے جن کو کتاب دی گئی تھی مگر اس کے بعد کہ آچکی تھی ان کے پاس (حق و ہدایت کو واضح کردینے والی) وہ کھلی (سند اور) دلیل

— مولانا اسحاق مدنی

مگر جو لوگ اہل کتاب تھے وہ تو اس دلیل کے آنے کے بعد ہی مختلف ہوئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی انہوں نے تفرقہ نہیں کیا تھا مگر اس کے بعد جبکہ ان کے پاس البیِّنہ آچکی تھی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اہل کتاب دلیل آنے کے بعد متفرق ہوئے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Nor did those to whom the Book had been given split up until after the Proof (of the Right Way) had come to them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And those who were given the Book did not disagree but after the clear proof came to them,

— Muhammad Taqi Usmani

And those who were given the Book did not disagree but after the clear proof came to them,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the People of the Scripture differed not until after there came to them the Bayyinah.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Nor were the People of the Scripture divided until after the clear proof came unto them.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Nor did those who were given the Scripture become divided until after there had come to them clear evidence.

— Saheeh International

Nor did the People of the Book disagreed among themselves until after receiving the ancient divine testaments.

— Muhammad Sarwar

And those who were given the Book did not become divided except after clear evidence had come to them.

— Muhammad Habib Shakir

And those who are vouchsafed the Book divided not save after there had come Unto them the evidence.

— Abdul Majid Daryabadi

Nor did the People of the Book make schisms, until after there came to them Clear Evidence.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 98:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

پاک و شفاف اوراق کی زینت قرآن حکیم : اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور مشرکین سے مراد بت پوجنے والے عرب اور آتش پرست عجمی ہیں فرماتا ہے کہ یہ لوگ بغیر دلیل حاصل کیے باز رہنے والے نہ تھے پھر بتایا کہ وہ دلیل اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ جو پاک صحیفے یعنی قرآن کریم پڑھ سناتے ہیں جو اعلیٰ فرشتوں نے پاک اوراق میں لکھا ہوا ہے جیسے اور جگہ ہے فی صحف مکرمتہ، الخ کہ وہ نامی گرامی بلندو بالا پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکو کار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں پھر فرمایا کہ ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں نہ ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة البینہ 6 یعنی اس سے پہلے اہل کتاب جو مختلف گمراہیوں میں بھٹک کر بیشمار فرقوں میں بٹ گئے اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے ان کی رہنمائی کے لیے دلیل روشن بھیجنے میں کوئی کسر اٹھا رکھی تھی، بلکہ یہ روشن انہوں نے اللہ کی جانب سے رہنمائی آجانے کے بعد اختیار کی تھی، اس لیے اپنی گمراہی کے وہ خود ذمہ داری تھے، کیونکہ ان پر حجت تمام کی جاچکی تھی۔ اسی طرح اب چونکہ ان کے صحیفے پاک نہیں رہے ہیں اور ان کی کتابیں بالکل راست اور درست تعلیمات پر مشتمل نہیں رہی ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک دلیل روشن کی حیثیت سے اپنا ایک رسول بھیج کر اور اس کے ذریعہ سے پاک صحیفے بالکل راست اور درست…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وما تفرق الذین اوتوا الکتب الامن بعد ماجآءتہم البینة تفرق سے مراد اس جگہ انکار و اختلاف ہے۔ قرآن اور نبی کریم ﷺ کی نبوت سے جس پر تمام اہل کتاب آنحضرت ﷺ کی ولادت اور بعثت سے پہلے متفق تھے کیونکہ ان کی آسمانی کتب تورات و انجیل میں رسول ﷺ کی رسالت و نبوت کا اور آپ کی خاص خاص صفات اور آپ پر قرآن نازل ہونے کا واضح ذکر موجود تھا اس لئے کسی یہودی نصرانی کو اس میں اختلاف نہیں تھا کہ آخر زمانے میں محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لاویں گے۔ آپ پر قرآن نازل ہوگا آپ ہی کا اتابع سب پر لازم ہوگا، جیسا کہ قرآن کریم میں بھی ان کے اس اتفاق کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے۔ وکانوا من قبل یستفخون علی الذین کفروا یعنی یہ اہل کتاب…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اہل کتاب کے القاء کردہ مطالبہ کا جواب: یہ مطالبہ چونکہ اہل کتاب کی ایجادات میں سے تھا جو انھوں نے قریش کے لیڈروں کو اس لیے سکھایا تھا کہ وہ اس کو قرآن کے خلاف استعمال کریں، اس وجہ سے قرآن نے اس کا جواب انہی کو سامنے رکھ کر دیا۔ فرمایا کہ ان کو ان کی طلب کے مطابق کوئی معجزہ دکھا بھی دیا جائے جب بھی یہ ماننے والے اسامی نہیں ہیں۔ ان کی تاریخ شاہد ہے کہ ان کو جو شریعت دی گئی تھی وہ نہایت کھلے ہوئے معجزات کے جلو میں دی گئی تھی، ان کے پیغمبر، حضرت موسیٰ نے قدم قدم پر ان کو قدرت خداوندی کے وہ کرشمے دکھائے جو کسی قوم کو ان سے پہلے نہیں دکھائے گئے، تورات کے احکام عشرہ ان کو الواح میں لکھ کر دیے گئے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

4۔ 1 یعنی اہل کتاب، حضرت نبی کریم ﷺ کی آمد سے قبل اکھٹے تھے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کی بعث ہوگئی، اس کے بعد یہ متفرق ہوگئے، ان میں سے کچھ مومن ہوگئے لیکن اکثریت ایمان سے محروم ہی رہی۔ نبی ﷺ کی بعث و رسالت کو دلیل سے تعبیر کرنے میں یہی نقطہ ہے کہ آپ ﷺ کی صداقت واضح تھی جس میں مجال انکار نہیں تھی۔ لیکن ان لوگوں نے آپ ﷺ کی تکذیب محض حسد اور عناد کی وجہ سے کی۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تفرق کا ارتکاب کرنے والوں میں صرف اہل کتاب کا نام لیا ہے، حالانکہ دوسروں نے بھی اس کا ارتکاب کیا تھا، کیونکہ یہ بہرحال علم والے تھے۔ اور آپ ﷺ کی آمد اور صفات کا تذکرہ ان کی کتابوں میں موجود تھا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–8

2: یہ ان اہل کتاب کی بات ہورہی ہے جو آنحضرت ﷺ کی نبوت کے روشن دلائل دیکھنے کے بعد بھی آپ پر ایمان نہیں لائے، مطلب یہ ہے کہ آپ کی تشریف آوری کو ایک نعمت سمجھنے کے بجائے ان لوگوں نے ضد کی وجہ سے آپ کی بات نہیں مانی اور الگ الگ راستہ اختیار کرلیا، حالانکہ ان کے پاس روشن دلیل آچکی تھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

پہلا اختلاف تو یہودیوں کے درمیان ہوا ، یہ اختلاف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت سے قبل ہوا۔ یہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے اور کئی فرقے اور پارٹیاں بن گئے۔ حالانکہ ان کا رسول (علیہ السلام) ایک تھا یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی کتاب بھی ایک تھی ۔ یعنی تورات۔ یہ پانچ فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے۔ مثلاً صدوتی ، فریسی ، آسین ، غالی اور سامری۔ ان فرقوں میں سے ہر ایک کے اپنے اپنے عقائد ، خصائص اور اپنا اپنا رخ تھا اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعث ہوئی تو یہودی اور عیسائی تنازعہ شروع ہوگیا۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) انبیائے بنی اسرائیل میں سے آخری نبی تھے اور آپ نے تورات کی تصدیق فرمائی۔ یہودی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی اس رسول ﷺ اور اس کتاب کے آئے پیچھے شبہ نہیں رہا۔ پھر اب اہل کتاب ضد سے مخالف ہیں۔ شبہ سے نہیں، اسی لئے ان میں دو فریق ہوگئے۔ جس نے ضد کی منکر رہا۔ جس نے انصاف کیا ایمان لے آیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ جس پیغمبر آخرالزمان کا انتظار کر رہے تھے۔ اس کے آنے پر اپنے تمام اختلافات کو ختم کر کے سب وحدت و اجتماع کو خلاف وشقاق کا ذریعہ بنا لیا۔ جب اہل کتاب کا یہ حال ہے تو جاہل مشرکوں کا تو پوچھنا کیا (تنبیہ) حضرت شاہ عبدالعزیز نے یہاں " الینۃ " کا مصداق حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ٹھہرایا ہے۔ یعنی جب حضرت مسیح کھلے کھلے نشان لے کر آئے یہود دشمن ہوگئے۔ اور نصارٰی نے بھی دنیاوی اغراض میں پھنس کر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4{ وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ اِلَّا مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَ تْہُمُ الْبَـیِّنَۃُ۔ } ”اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی انہوں نے تفرقہ نہیں کیا تھا مگر اس کے بعد جبکہ ان کے پاس البیِّنہ آچکی تھی۔“ یعنی اسی طرح اس سے پہلے بنی اسرائیل کے پاس بھی البیِّنہ اللہ کا رسول ﷺ اور اس کی کتاب آئی تھی ‘ مگر وہ لوگ اس کے بعد بھی راہ راست پر آنے کے بجائے تفرقہ بازی میں پڑگئے۔ ان میں سے کچھ لوگ یہودی بن گئے اور کچھ نصاریٰ۔ بعد میں نصاریٰ مزید کئی فرقوں میں بٹتے چلے گئے۔ چناچہ البَیِّنہ کے آجانے کے بعد بھی راہ راست پر نہ آنے کے جرم کی پاداش میں وہ لوگ شدید ترین سزا کے مستحق ہوچکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

6 فرقہ بندی کی اصل وجہ :۔ اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں ایک یہ کہ ان اہل کتاب کے پاس محمد رسول اللہ ﷺ جیسے جلیل القدر پیغمبر اور قرآن جیسی روشن کتاب آنے کے بعد ان میں تفرقہ پیدا ہوگیا۔ کچھ تھوڑے بہت لوگ ایمان لے آئے باقی کافر کے کافر ہی رہے حالانکہ ان کے پاس واضح دلائل آچکے ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ انبیاء کے بعد ان کی امت جو فرقوں میں بٹنا شروع ہوجاتی ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ ان کے پاس روشن دلائل موجود نہیں ہوتے یا ان پر حق بات مبہم رہ جاتی ہے۔ بلکہ وہ اپنی اپنی اغراض، مفادات اور جاہ طلبی کی ہوس میں فرقہ در فرقہ بٹتے چلے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ یعنی اہل کتاب جو توحید، نبوت، کتاب، حشر وغیرہ کے بنیادی عقائد سے فی الجملہ آشنا ومانوس تھے، اور جن سے اس کی توقع بہت زیادہ کی جاسکتی تھی کہ کتاب ہدی کے آجانے کے بعد اسی کو قول فیصل سمجھ کر اس کا اتباع کریں گے اور اپنے باہمی دینی مناقشوں میں اسی کو حکم بنائیں گے، وہ اور الٹے اس کی مخالفت میں پیش پیش ہوگئے۔ (آیت) ” وما ...... الکتب “۔ اہل کتاب کے تفرق سے مراد مسیحیوں اور یہود، اور پھر ان کے اندرونی فرقوں کے آپس کے شدید تفرقے اور مناقشے ہیں۔ (آیت) ” البینۃ “۔ مراد قرآن اور رسول کریم ﷺ سے ہے۔ (آیت) ” البینۃ “ کے اگر عام معنی ہی لئے جائیں، تو آیت سے مراد یہ ہوگی کہ یہ تو اہل کتاب کا شروع سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 4–8

وما تفرق الذین اوتوا الکتب الخ یہاں تفرق سے مراد انکار و اختلاف ہے، نزول قرآن اور آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے تمام اہل کتاب خواہ یہود ہوں یا نصاریٰ اس بات پر متفق تھے کہ نبی آخر الزمان کا ابھی آنا باقی ہے، کیوں کہ ان کی آسمانی کتابوں میں آپ ﷺ کی بعثت کی اطلاع دی گئی تھی اور آپ ﷺ کی مخصوص صفات کو واضح طور پر بیان کیا گیا تھا اور اہل کتاب آپ ﷺ کی آمد کے شدت سے منتظر تھے اور جب کبھی اہل کتاب اور مشرکین کے درمیان نزاع ہوتا اور مشرک اپنی عددی طاقت میں زیادہ ہونے کی وجہ سے یہود پر غالب آجاتے تو یہود آنحضرت ﷺ کے واسطے سے مشرکین پر فتح مندی کی دعاء کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اے اللہ ! تو آنے والے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما تفرق الذین اوتوا الکتب الا من بعد ما جاء تھم البینۃ . یعنی رسول اللہ ﷺ کے آنے کے بعد ہی رسول پر ایمان لانے کے متعلق اہل کتاب کے اندر اختلاف پیدا ہوا ‘ ورنہ آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے تو آنے والے رسول کی تصدیق پر سب کا اتفاق تھا اور سب بعثت نبی کے منتظر تھے۔ کافروں کے خلاف نبی منتظر کے وسیلے سے فتح کی دعا کرتے تھے لیکن جب وہ جانا پہچانا نبی گیا تو محض حسد اور عناد کی وجہ سے اس کی تصدیق نہیں کی۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اگرچہ بعض اہل کتاب کا عقیدہ صفات الٰہیہ کے متعلق درست نہ تھا ‘ اللہ کو مخلوق کا باپ قرار دیتے تھے (اور بعض اہل کتاب کا عقیدہ درست تھا) لیکن بعثت نبی ﷺ پر سب کا اتفاق تھا کیونکہ آنے والے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–4

(1۔ 4) یہود و نصاری اور مشرکین عرب یہ رسول اکرم صلی اللہ اور قرآن کریم اور اسلام کے انکار پر قائم رہتے جب تک کہ ان کے پاس توریت و انجیل میں اس چیز کا ذکر نہ آتا کہ حضرت محمد ﷺ کی طرف سے رسول ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ بعثت نبوی سے پہلے یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب کفر سے باز نہ آتے جب تک کہ ان کے پاس واضح دلیل نہ آتی یعنی حضرت محمد ﷺ جو ان کو پاک صحیفے پڑھ کر سنا دے جس میں دین مستقیم کے مضامین لکھے ہوں۔ اور یہودی یعنی کعب بن اشرف وغیرہ اپنی کتاب توریت میں رسول اکرم ﷺ کی نعت و صفت آنے ہی کے بعد حضور اور قرآن اور دین اسلام کے بارے میں مختلف ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) وما تفرق الذین اوتوا الکب…: اس آیت میں اہل کتاب کے ایک جرم کا ذکر فرمایا، مشرکین کا نام نہیں لیا، کیونکہ جب پڑھے لکھوں کا یہ حال ہے تو جاہل مشرکین کی ضد اور عناد کا اندازہ خود کرلیں۔ اہل کتاب کا یہ جرم ان کا باہمی تفرقہ تھا اور اس جرم کا ارتکاب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے بھی کیا اور آپ کی آمد پر بھی۔ آپ کی تشریف آوری سے پہلے وہ بہتر (72) فرقوں میں بٹ چکے تھے۔ اس آیت میں وضاحت فرمائی کہ ان کے لاگ الگ بہتر (72) فرقے بننے کی وجہ یہ تھی کہ انہیں اللہ کے حکم کا علم نہ تھا، نہیں ! بلکہ ”البینۃ“ (کھلی دلیل اور واضح حکم) موجود ہونے کے باوجود باہمی ضد اور عناد کی وجہ سے کسی نے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وماتفرق الذین اوتوالکتاب الا من بعد ماجاء تھم البینہ۔ الذین اوتوالکتاب۔ سے مراد یہودونصاری ہیں اہل کتاب کے لی تفریق کا خصوصاذکر کیا دوسرے لوگوں کا ذکر نہیں کیا اگرچہ وہ بھی کافروں کیساتھ جمع ہیں الگ اس لیے ذکر کیا، کیونکہ انہیں اپنے بارے میں گمان ہے کہ انہیں علم حاصل ہے جب انہوں نے افتراق کیا ہے تو ان کا غیر جس کے پاس کتاب ہی نہیں وہ اس وصف میں زیادہ داخل ہوگا۔ البینہ سے مراد واضح دلیل ہے اس سے مراد حضرت محمد کی ذات ہے یعنی قرآن حکیم نعمت ہونے کے وصف میں ان کتابوں کے موافق جو کتابیں ان کے پاس ہیں اس کی وجہ یہ ہے وہ آپ کی نبوت پر متفق تھے جب آپ کو مبعوث کیا گیا تو انہوں نے انکار کردیا اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–8

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة لم یکن مدینہ میں نازل ہوئی 2۔ ابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ سورة لم یکن مکہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ ابو نعیم نے المعرفہ میں اسماعیل بن ابی حکیم المزنی ؓ جو بنو فضیل میں سے ایک تھے سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بیشک اللہ تعالیٰ لم یکن کی قراءت کو سنتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میرے بندے کو بشارت دے دو پس میری عزت اور میرے جلال کی قسم ! میں تجھے اتنا اختیار دوں گا جنت میں یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے گا۔ 4۔ ابوموسی المدینی نے المعرفہ میں اسماعیل بن ابی حکیم سے روایت کیا اور انہوں نے مطر المزنی یا المدنی (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَا تَفَرَّقَ : اور الگ الگ نہیں ہوئے ][ الَّذِينَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ : وہ لوگ جن کو دی گئی کتاب ][ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا : مگر اس کے بعد سے جو ][ جَاۗءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ : آئی ان کے پاس واضح بات ] نوٹ 5: آیت۔ 4 ۔ میں تفرق سے مراد وہ انکار واختلاف ہے جو قرآن اور نبی کریم ﷺ کی نبوت کے بارے میں اہل کتاب میں پیدا ہوا۔ ان کی آسمانی کتب تورات و انجیل میں رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا، آپ ﷺ کی خاص خاص صفات کا اور آپ ﷺ پر قرآن نازل ہونے کا واضح ذکر موجود تھا۔ اس لیے کسی یہودی یا نصرانی کو اس میں اختلاف نہیں تھا کہ آخر زمانے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لائیں گے، آپ ﷺ پر قرآن (اللہ کا کلام) نازل ہوگا اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–4

یہاں سے سورة البینہ شروع ہو رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے دنیا میں مشرکین بھی بہت تھے اور اہل کتاب یہود و نصاریٰ بھی تھے۔ یہ سب جماعتیں اپنے اپنے دین پر مضبوطی سے جمی ہوئی تھیں ان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ شانہ نے خاتم الانبیاء سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ یہ لوگ اتنے اڑیل تھے کہ اپنے کفر کو اس وقت تک چھوڑنے والے نہ تھے جب تک کوئی مضبوط واضح دلیل سامنے نہ آجائے، اللہ تعالیٰ جل شانہ نے مضبوط واضح دلیل بھیجی۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے آپ پر قرآن نازل ہوا، لوگوں نے اپنی آنکھوں سے آپ کے معجزات دیکھے اور برکات کا ظہور ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن لوگوں نے کفر کیا یعنی اہل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

ذات رسول کریم ﷺ وآیات قرآن شرچشمہ علوم وبرہان ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لم یکن الذین کفروا ....... الی .......... ذلک لمن خشی ربہ “۔ (ربط) گزشتہ سورت القدر میں شب قدر کی عظمت وفضیلت کا ذکر تھا، اس مناسبت سے اب اس سورت میں قبولیت عبادت کی اساس بیان کی جارہی ہے کہ وہ بندہ کا اخلاص اور قلب کی طہارت ہے اور اسی کو نام حنیفیت ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا شعار تھا، نیز یہ کہ سورة قدر میں لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کی گئی تھی تو اب اس سورت میں سعادت وشقاوت کے اصول بیان کئے گئے تاکہ ایمان وکفر اور ہدایت وگمراہی میں کسی کو التباس نہ رہے، تو ارشاد فرمایا۔ نہیں تھے باز آنے والے وہ لوگ جو کافر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

3:۔ ” وما تفرق “ اہل کتاب کے عناد و شقاق کا ذکر ہے۔ اہل کتاب، یہود و نصاریٰ نے دین میں جو مختلف راہیں نکالی ہیں یہ سب کچھ انہوں نے لاعلمی سے نہیں کیا۔ بلکہ البیۃ آجانے کے بعد جان بوجھ کر عمداً قصداً محض ضد وعناد کی وجہ سے کیا ہے۔ یہ اختلاف ڈالنے والے اہل کتاب کے باغی علماء تھے اور یہ اختلاف انہوں نے اللہ کی طرف سے علم اور بینات آجانے کے بعد کیا اور محض ضد وعناد کی وجہ سے کیا جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے ” وما تفرقوا الا من بعد ماجاءھم العلم بغیا بینہم “ (شوری رکوع 2) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

مفسرین کرام اس کا نام سورة قیامت بھی ذکر کرتے ہیں۔ جیسا کہ تفسیر روح المعانی میں ہے اور سورة بریہ بھی اور منفکین ، سورة بینہ بھی۔ لیکن بینہ زیادہ مشہور ہے۔ اس لئے کہ اس سورة میں دو دفعہ بینہ کا لفظ مذکور ہے۔ اور بینہ واضح چیز کو کہتے ہیں۔ واضح دلیل یا واضح بات بینہ کہلاتی ہے جیسا کہ قرآن کریم کی آیات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بینات کا لفظ استعمال کیا۔ ” من البینت والھدی “ واضح واضح باتیں اور ہدایت کی باتیں۔ “ ان الذین یکتمون ما انزلنا من البینت والھدی “ یہ بینات کا لفظ آتا ہے۔ اس سے مراد وہ واضح اصول ہیں جو بالکل واضح ہوں آسانی سے معلوم ہو سکتے ہوں۔ ہدایت واضح باتیں واضح قانون ، واضح دلائل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْہُمُ الْبَيِّنَۃُ۝ 4 ۭ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ وما تفرق الخ الجملہ مستانفۃ لتوبیخ اھل الکتاب والتخصیص بذکرھم للد لالۃ علی ان المشرکین مع جھلھم اولیٰ بالتفرق الا الا ستثناء مفرغ من اعم الاحوال والا وقات۔ وما امرو الجملۃ فی محل النصب علی انھا حال من اھل الکتاب والحال انھم ما امرو ابشیء یخالف اصول دینھم بل بشیء یطابقھا مخلصین قراء الجمھور بکسر اللام وقرا الحسن بفتحھا۔ وھی حال من الضمیر فی یعبدو احنفاء حال من الضمیر فی مخلصین فیکون من باب التداخل ویمکن ان یکون من یعبدوا جمع حنیف۔ والحنیف المائل عن الباطل ای الحق وقیل المتبع بطریقۃ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) ویقیموا ویوتوا معطوفان علی لیعبدوا سقطت النون لتقدر ان ای ان لیعبدوا للہ الخ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْـکِتٰبَ اِلاَّ مِنْ م بَعْدِ مَاجَآئَ تْھُمُ الْبَیِّنَۃُ ۔ (البینۃ : 4) (اور نہیں تفرقہ برپا ہوا ان لوگوں میں جن کو کتاب دی گئی تھی، مگر اس کے بعد کہ آگئی ان لوگوں کے پاس روشن دلیل۔ ) اہلِ کتاب کی تاریخ سے ان کی بدنصیبی پر استشہاد پیشِ نظر آیت کریمہ میں اہل کتاب کو ایک طرح کی تنبیہ کی گئی ہے کہ بلاشبہ انسان میں خیروصلاح کی صورت پیدا نہیں ہوتی جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی روشن دلیل نازل نہیں کی جاتی۔ یعنی کوئی رسول نہیں آتا اور اس پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوتی۔ لیکن اہل کتاب کی بدنصیبی یہ ہے کہ ان کی طرف اللہ تعالیٰ کے رسول آئے، ان کی طرف کتابیں نازل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–5

فہم القرآن ربط کلام : واضح ہدایات آجانے کے باوجود اہل کتاب کا منفی کردار۔ اس فرمان میں بظاہر صرف اہل کتاب کو مخاطب کیا گیا ہے لیکن اس خطاب میں مشرکین بھی برابر کے شریک ہیں۔ اہل کتاب کا الگ اس لیے ذکر کیا ہے کہ مشرکین عرب بظاہر کسی آسمانی کتاب کے قائل نہیں تھے لیکن اہل کتاب آسمانی کتابوں پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے تھے۔ یہاں ان کی مذہبی حالت بیان کرکے اشارہ کیا ہے کہ جب اہل کتاب کے کفر و شرک کی حالت یہ تھی اور ہے تو مشرکین کے شرک کی حالت کیا ہوگی ؟ اس کے ساتھ ہی اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اہل کتاب کے فکری انتشار اور ان کے کفرو شرک کی وجہ یہ نہیں کہ ان کے پاس رسول، آسمانی کتابیں اور کھلے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

4 : وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ اِلَّا مِنْم بَعْدِ مَا جَآ ئَ تْھُمُ الْبَیِّنَۃُ (اور جو لوگ اہل کتاب تھے وہ اس واضح دلیل کے آنے کے بعد ہی مختلف ہوگئے) ان میں سے بعض نے آپ کی نبوت کو ضد وحسد کی وجہ سے نہ مانا۔ اور بعض ایمان لے آئے۔ سوال : یہاں صرف اہل کتاب کو ذکر کیا جبکہ شروع میں مشرکین کو بھی ساتھ ذکر کیا تھا۔ جواب : اس لئے کہ اہل کتاب کو آپ کی آمد کی پختہ اطلاع تھی ان کی کتابوں کی متواترخبریں اس کی شاہد تھیں۔ جب ان جاننے والے لوگوں کے مختلف ہونے کو ذکر کردیا۔ تو مشرکین جہلاء تو خود اس صفت میں ان کے شریک حال ہوگئے۔ الگ ذکر کی ضرورت نہ تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4 ۔ پھر ان کا ذکر کیا جو اہل کتاب میں سے ایمان لائے فرمایا ” وماتفرق الذین اوتوا الکتاب “ محمد ﷺ کے امر میں۔ ” الا من بعد ماجاء تھم البینۃ “ یعنی ان کی کتابوں میں واضح بیان کہ وہ نبی مرسل ہیں۔ مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں اہل کتاب ہمیشہ محمد ﷺ کی تصدیق میں متفق رہے یاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کو بھیج دیا۔ پھر جب آپ (علیہ السلام) کو بھیجا گیا تو آپ (علیہ السلام) کے معاملہ میں اختلاف کیا اور فرقے بن گئے تو ان میں سے بعض آپ ﷺ پر ایمان لائے اور دیگر نے کفر کیا اور بعض آئمہ لغت فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” منفکین “ کا معنی ہلاک ہونے والے ۔ یہ ماخوذ ہے ان کے قول ” انفک صلاء المراۃ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ شروع سورة سے حتیٰ تاتھیم البینۃ تک کی آیت کا مطلب اس طرح کا مشکل ہے کہ جس کے بیان کرنے میں اکثر مفسروں نے غلطی کی ہے لیکن صحیح قول یہ ہے کہ بینہ 1 ؎ سے مراد نبی آخر الزمان ہیں۔ اور یہ آیت ان لوگوں کی شان میں ہے جو اہل مکہ اور اہل کتاب میں سے راہ راست پر آگئے اور اسلام لے آئے اور حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ اگر قرآن جیسی کتاب نازل نہ ہوتی اور نبی آخر الزمان جیسے رسول نہ آتے تو اہل مکہ اور اہل کتاب سب کے سب اسی کفر کی حالت پر رہتے اور کوئی ان میں سے راہ راست پر نہ آتا۔ پھر فرمایا کہ یہ اہل کتاب جو متفرق ہو رہے ہیں کہ کوئی ان میں سے اسلام لے آیا اور کوئی بدستور حالت کفر پر اڑا ہوا ہے اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اگر اہل کتاب اس رسول پر ایمان نہیں لاتے اور آپ کی اطاعت نہیں کرتے تو یہ ان کی گمراہی اور عناد کی بنا پر کوئی انوکھی چیز نہیں ہے کیونکہ انہوں نے تفرقہ بازی اور باہم اختلاف کیا اور فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ (مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ ) اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح دلیل آگئی جو اپنے ماننے والوں کے لیے اجتماع اور اتفاق کی موجب ہے مگر ان کے بگاڑ اور ان کی خساست کی بنا پر ہدایت نے ان کی گمراہی میں اور بصیرت نے ان کے اندھے پن میں اضافے کے سوا کچھ نہیں کیا حالانکہ تمام کتابیں ایک ہی اصل اور ایک ہی دین لے کر آئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

5 ۔ اہل کتاب کے عناد اور ہٹ دھرمی کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اہل کتاب کا تفرق و اختلاف اس کھلی دلیل کے پہنچ جانے کے بعد تھا۔ سو اس سے اہل کتاب کے عناد اور ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ اور مظہر سامنے آتا ہے، حالانکہ ان کے پاس وہ کھلی دلیل آگئی جس کی یہ لوگ خود انتظار میں تھے اور ان کے لیے دعائیں مانگا کرتے تھے کہ وہ آخری نبی تشریف لائیں تو ہم ان کے زیر سایہ جہاد کر کے دشمنوں پر فتح پائیں۔ چناچہ وہ کہا کرتے تھے " اللھم افتح علینا وانصرنا بالنبی المبعوث " یعنی اے اللہ ہمیں اس مبعوث ہونے والے نبی موعود کی تشریف آوری کے ذریعے فتح و نصرت سے نواز، اور ہمیں دشمنوں پر غلبہ عطا فرما ا، بلکہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

اہل کتاب کی مخالفت اور رسول ﷺ کی ضرورت تشریح : ایک ہی پیغام ہے جو ہمیشہ تمام پیغمبر دیتے رہے ہیں۔ کہ اللہ ایک ہے اسی کی عبادت کرو جس کا بہترین طریقہ ہے نماز۔ کیونکہ اس سے طہارت ملتی ہے۔ دل کو سکون ملتا ہے وقت کی پابندی کی عادت پڑتی ہے۔ سستی اور کاہلی دور ہوتی ہے۔ اللہ سے ملاقات کا اور دعا کا موقعہ ملتا ہے انسان کے اندر اللہ کا خوف پیدا ہوتا ہے۔ اس کی محبت اور فرمانبرداری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ دنیا سے بےنیازی ' خودداری اور کردار میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ نماز پورے خلوص ' توجہ اور خشوع و خضوع کے ساتھ صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے اور اللہ کے غضب سے ڈرتے ہوئے پڑھی جائے۔ اسی طرح زکوۃٰ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

سورة البینہ۔ آیات 1 تا 8 اسرار ومعارف۔ دنیا میں کافر ، اہل کتاب اور مشرک سب ہی بہت زیادہ گمراہی میں مبتلا تھے ہر سمت کفر وشرک کے ساتھ جوروستم چھایا ہوا تھا دنیا کا حال اس قدر برا تھا کہ تاریخ انسانی میں کبھی اس سے پہلے ایسا نہ ہوا تھا اور نہ آئندہ کبھی اتنی گمراہی اکٹھی ہوگی کہ اس کو دور کرنے کے لیے ایسی روشنی اور اتنی طاقتور ہدایت کی ضرورت تھی کہ جس طرح ظلم وجور بےمثال تھا اسی طرح رسول اللہ بھی لاثانی ہو اور جتنی گہری ظلمت تھی اتنی اور اس سے زیادہ طاقتور نورانیت ہو تب اللہ نے آپ کو ایسے رسول کی شان سے مبعوث فرمایا جس نے سارے عالم کو ہمیشہ کے لیے منور کردیا اور اللہ کی طرف سے اللہ کی کتاب اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یعنی ان کے محمد ﷺ پر ایمان نہ لانے کی وجہ ہرگز یہ نہ تھی کہ انہیں آپ کی صداقت میں شک تھا وہ تو سب نشانیاں اور بشارتیں جو پچھلی کتابوں میں آپ کے بارے میں بیان ہوئی تھیں، خوب اچھی طرح جانتے تھے اور انہیں یقین تھا کہ آپ ہی پیغمبر آخر الزماں ہیں لیکن اس کے باوجود محض حسد اور عناد کی وجہ سے آپ کے بارے میں جدا جدا ہوگئے کوئی ایمان لایا اور کوئی اپنے کفر پر ڈٹا رہا۔ حسد اور عناد یہی تھا کہا آپ کی بعثت بنی اسماعیل میں کیوں ہوئی حالانکہ آپ سے پہلے تمام انبیاء بنی اسرائیل میں آتے رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ معمولی درجہ کے مجرم نہیں ہیں بلکہ بڑے درجہ کے مجرم ہیں جو جانتے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(98:4) وما تفرق الذین اوتوا الکتب الا من بعد ما جاء تھم البینۃ : جملہ مستانفہ ہے۔ واؤ عاطفہ، ما نافیہ۔ تفرق مضارع صیغہ واحد مذکر غائب۔ تفرق (تفعل) مصدر سے۔ وہ متفرق ہوگیا۔ وہ پھوٹا۔ وہ جدا ہوا۔ الذین اسم موصول۔ اوتوا الکتب صلہ۔ الذین اوتوا الکتب فاعل تفرق کا۔ اوتوا ماضی مجہول جمع مذکر غائب ایتاء (افعال) مصدر۔ بمعنی دئیے گئے۔ ان کو دی گئی۔ الکتب مفعول ثانی اوتوا کا۔ الذین اوتوا الکتب۔ جن کو کتاب دی گئی۔ یعنی اہل کتاب (یہود و نصاری) الا۔ استثناء مفرغ (جس کا مستثنیٰ منہ مذکورنہ ہو) البینۃ۔ مراد رسول کریم ﷺ کی ذات ہے۔ ملاحظہ ہو آیت نمبر 1-2 مذکورہ بالا) ترجمہ ہوگا :۔ اور نہیں بٹے فرقوں میں اہل…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن۔ لم یکن۔ نہیں ہے۔ منفکین۔ باز آنے والے۔ البینۃ۔ صاف اور کھلی باتیں۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ صاف ستھرا۔ کتب قیمۃ۔ لکھی ہوئی مضبوط کتابیں۔ ما تفرق۔ الگ الگ نہ ہوئے۔ امروا۔ حکم دیا گی ا ہے۔ مخلصین۔ خالص کرنے والے۔ حنفائ۔ سب سے منہ موڑنے والے ( ایک اللہ کے ہوجانے والے) ۔ شر البریۃ۔ بدترین مخلوق۔ خیر البریۃ۔ بہترین مخلوق۔ ؓ اللہ خوش ہوگیا۔ خشی۔ جو ڈرا۔ تشریح : قرآن کریم میں اہل کتاب ان لوگوں کو کہا گیا ہے جن کے پاس گذشتہ رسول کوئی کتاب لے کر آئے۔ بعد میں آنے والوں نے اپنے بعض دنیاوی مقاصد کے لئے ان میں بتدیلیاں کرلیں وہ ان کو اللہ کی کتاب ماننے کے باوجود شرک بھی کرتے تھے۔ اللہ نے ان کو یہود،…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–6

حضور ﷺ کی تشریف آوری کا ذکر۔ (ف 1) اہل کتاب یہود ونصاری اور مشرکین جو بت پرستی یا آتش پرستی وغیرہ میں مبتلا تھے اور کوئی کتاب سماوی ان کے ہاتھ مین نہ تھی اور نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے سب دین والے بگڑ چکے تھے اور سیدنا انبیاء محمد ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے یہ تمام یہی کہتے تھے کہ ہم اپنا دین چھوڑنے والے نہیں ، جب تک کہ وہ نبی موعود تشریف فرما نہ ہوں یعنی سید عالم جلوہ افروز نہ ہوں جن کا ذکر توریت وانجیل میں ہے ، چناچہ وہ رسول یعنی محمد ﷺ حق وعدل کی کتاب یعنی قرآن مجید پڑھتے ہوئے جلوہ افروز ہوئے آگے فرمایا کہ یہ اہل کتاب اب جو متفرق ہورہے ہیں کہ کوئی ان میں سے اسلام لے آیا اور کوئی بدستور حال تکفر پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[3] یعنی اس سے پہلے اہل کتاب میں جو تفرقہ برپا ہوا اور وہ بہت سے فرقوں میں بٹ گئے اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں کوئی رہنمائی نہیں ملی تھی۔ بلکہ یہ روش انہوں نے اللہ کی طرف سے ہدایت ملنے کے بعد اختیار کی تھی، اس لئے اپنی گمراہی کے ذمہ دار وہ خود تھے۔ اب چونکہ ان کی آسمانی کتابیں تحریف و تدلیس کی وجہ سے صحیح اور درست تعلیمات پر مشتمل نہیں رہی تھیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے دوبارہ اتمام حجت کے لئے محمد ﷺ کو قرآن دے کر مبعوث فرمایا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–5

ف 1: ان آیتوں میں حضور ﷺ کو لفظ بینۃ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ اہل بصیرت کے لئے خود آپ ﷺ کا وجود ، آپ ﷺ کی اخلاقی رفعت اور آپ ﷺ کی شخصیت ایک دلیل ہے سچائی کی اور صداقت کی ۔ آپ ﷺ کو نفس دعویٰ کے اثبات کے لئے کسی خارجی دلیل وبرہان کی ضرورت نہیں ہے ۔ بلکہ آپ ﷺ کا وجود مبارک بجائے خود ایک علم ہے ، ایک ثبوت ہے اور ایک آئینہ ہے ۔ فیھا کتب قیمۃ کی تصریح سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے نقطہ نگاہ میں یہ جامعیت موجود ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر اب تک جس قدر صحائف کا نزول ہوچکا ہے ، ان سب کی تعلیمات بطور اصول و اساس کے اس میں موجود ہیں ۔ اس میں تورات بھی ہے اور انجیل بھی ۔ زبور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) مگر جب ان کے پاس وہ واضح اور کھلی دلیل آگئی تو اس کے بعد ہی وہ لوگ جو اہل کتاب تھے اختلاف میں پڑ کر متفرق ہوگئے۔ یعنی دین کو قبول کرنے سے بھی انحراف کیا اور ان کے باہمی اختلافات جو پہلے سے چلے آرہے تھے وہ اور ابھرگئے اور ان میں اور جان پڑگئی اور سالام قبول کرکے ان اختلافات کو دور نہ کیا۔ صاحب کشاف نے اس آیت پر تقریر کرتے ہوئے لکھا کہ ان کی نظیر ایسی ہے جیسے کوئی مفلس اور فقیر فاسق تھا اور جب کوئی اس کو نصیحت کرتا تو وہ اپنے ناصح سے کہتا اگر اللہ تعالیٰ مجھ کو غنی اور دولت مند کردے تو میں فسق سے توبہ کرلوں گا اور فسق سے باز آجائوں گا۔ حسن اتفاق سے وہ فاسق فقیر غنی ہوگیا تو بجائے تائب ہونے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–7

ف 2۔ یعنی دین حق سے بھی اختلاف کیا اور باہمی اختلافات جو پہلے سے تھے ان کو بھی دین حق کا اتباع کر کے دور نہ کیا اور مشرکین کو بدرجہ اولی اس لئے کہا کہ ان کے پاس تو پہلے سے بھی کوئی سماوی علم نہ تھا اور قرآن کو صحف اور اس کے مضامین کو کتب فرمانا باعتبار قوة کے ہے، حاصل یہ کہ ایسے رسول اور ایسی کتاب عظیم الشان کا آنا مقتضی تھا اجتماع علی الدین الھق کو مگر ان لوگوں نے سبب اجتماع کو سبب تفرق بنالیا، اور قرینہ مقابلہ سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جن لوگوں نے تفق اور خلاف نہیں کیا وہ اہل ایمان ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جن لوگوں کو یہ کتاب دی گئی وہ اس کے آنے کے بعد بھی مختلف گروہوں میں تقسیم ہو گئے 4 ؎ ( البینۃ) سے مراد کیا ہے گزشتہ آیت اول میں بھی یہی لفظ آیا ہے جس کا مطلب وہاں بذاتہٖ رسول کیا گیا ہے اور یہی اس جگہ مفہوم صحیح اور درست ہے ۔ لا ریب اس جگہ بھی خود رسول اللہ ﷺ کی ذات ہی اس سے مراد ہو سکتی ہے یا زیادہ سے زیادہ آپ قرآن کریم کو ( البینۃ) کہہ سکتے ہیں تیسرا کوئی مطلب اس کا نہیں لیا جاسکتا ۔ یہود و نصاریٰ نے کیا کیا ؟ یہی کہ وہ بیشمار مذاہب میں تبدیل ہوگئے اور مختلف گروہوں اور فرقوں میں بٹ گئے اور ہر فرقہ اپنے آپ کو دین کا ٹھیکہ دار یقین کرتا تھا اور باقی تمام فرقے اس کے نزدیک گمراہ اور راہ راست سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Verse [ 4] وَمَا تَفَرَّ‌قَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ (And those who were given the Book did not disagree but after the Clear Proof came to them.) The verb tafarraqa here means 'to deny, reject or differ and disagree'. The verse means to say that the People of the Book had eagerly awaited the advent of a great Holy Prophet ﷺ about whom clear prophecies were found in their Scriptures, clear description of the Holy Prophet ﷺ was given, in that the Qur'an would descend upon him and it would be compulsory for them to obey and follow him, but when…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6 That is, the reason why the people of the Book before this were divided into countless sects because of different kinds of errors and deviation, was not that Allah had failed to send "a clear evidence" from Himself for their guidance, but the fact that they adopted the wrong way after guidance had come from Allah; therefore, they themselves were responsible for their deviation, for Allah had fulfilled His obligation towards them. Likewise, since their scriptures are no longer pure and their books no longer consist of original and correct teachings, Allah by sending a Messenger of His, as a…

Read the full tafseer →