Al-Bayyina 98:5

Al-Bayyina · from ayah 5

98:5

وَمَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ۙ۬— حُنَفَآءَ وَیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَیُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِ ۟ؕوَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَـهُ الدِّيۡنَ ۙ حُنَفَآءَ وَيُقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوا الزَّكٰوةَ‌ وَذٰلِكَ دِيۡنُ الۡقَيِّمَةِ

اور ان کو حکم تو یہی ہوا تھا کہ اخلاص عمل کے ساتھ خدا کی عبادت کریں (اور) یکسو ہو کراورنماز پڑھیں اور زکوٰة دیں اور یہی سچا دین ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they were not commanded except to worship Allah, [being] sincere to Him in religion, inclining to truth, and to establish prayer and to give zakah. And that is the correct religion.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 23 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Bayyina

All translations of 98:5

اور اُن کو اِس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں اپنے دین کو اُس کے لیے خالص کر کے، بالکل یکسو ہو کر، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں یہی نہایت صحیح و درست دین ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان کو حکم تو یہی ہوا تھا کہ اخلاص عمل کے ساتھ خدا کی عبادت کریں (اور) یکسو ہو کراورنماز پڑھیں اور زکوٰة دیں اور یہی سچا دین ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں۔ ابراہیم حنیف کے دین پر اور نماز کو قائم رکھیں اور زکوٰة دیتے رہیں یہی ہے دین سیدھی ملت کا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور انہیں اس کے سوا کوئی اور حکم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت اس طرح کریں کہ بندگی کو بالکل یکسو ہو کر صرف اسی کے لیے خاص رکھیں، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، اور یہی سیدھی سچی امت کا دین ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہوکر اور نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں اور یہ سیدھا دین ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

حالانکہ انہیں فقط یہی حکم دیا گیا تھا کہ صرف اسی کے لئے اپنے دین کو خالص کرتے ہوئے اﷲ کی عبادت کریں، (ہر باطل سے جدا ہو کر) حق کی طرف یک سُوئی پیدا کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیا کریں اور یہی سیدھا اور مضبوط دین ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھیں اس کے سوا حکم نہیں دیا گیا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اس حال میں کہ اس کے لیے دین کو خالص کرنے والے، ایک طرف ہونے والے ہوں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہی مضبوط ملت کا دین ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور انہیں حکم تو یہی دیا گیا تھا کہ خالصتا اللہ کی مکمل حاکمیت تسلیم کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں، پوری طرح یکسو ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور یہی درست دین ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کو حکم یہی ہوا تھا کہ وہ اللہ ہی کی بندگی کریں، اسی کی خالص اطاعت کے ساتھ، بالکل یکسو ہو کر اور نماز کا اہتمام رکجھیں اور زکواۃ دیں اور یہی سیدھی ملت کا دین ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

حالانکہ ان کو حکم نہیں دیا گیا تھا مگر اس بات کا کہ وہ عبادت (و بندگی) کریں صرف اللہ کی خالص کر کے اس کے لئے اپنے دین کو (ہر شائبہ شرک و ریا سے) یکسو ہو کر اور وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور یہی ہے نہایت درست دین

— مولانا اسحاق مدنی

حالانکہ انہیں یہی حکم ہوا تھا کہ اللہ کی عبادت اس طرح کریں کہ دین کو اسی کے لئے خالص رکھیں یکسو ہو کر اور نماز کی پابندی رکھیں اور زکوٰۃ دیا کریں یہی طریقہ ہے (ان) درست مضامین کا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور انہیں حکم نہیں ہوا تھا مگر یہ کہ وہ بندگی کریں اللہ کی اپنی اطاعت کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے بالکل یکسو ہو کر اور (یہ کہ) نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور یہی ہے سیدھا (اور سچا) دین۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان کو حکم تو یہی ہوا تھا کہ خلوص دل سے اللہ کی عبادت کریں یکسو ہو کر نماز پڑھیں زکوۃٰ دیں کہ یہی سچا دین ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Yet all that they had been commanded was that they serve Allah, with utter sincerity, devoting themselves exclusively to Him, and that they establish Prayer and pay Zakah. That is the Right Faith.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

while they were not ordered but to worship Allah, making their submission exclusive for him with no deviation, and to establish Salah and pay Zakah . That is the way of the straight religion.

— Muhammad Taqi Usmani

while they were not ordered but to worship Allah, making their submission exclusive for him with no deviation, and to establish Salah and pay Zakah . That is the way of the straight religion.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they were commanded not, but that they should worship Allah, making religion purely for Him alone, Hunafa', and that they perform Salah and give Zakah, and that is the right religion.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they are ordered naught else than to serve Allah, keeping religion pure for Him, as men by nature upright, and to establish worship and to pay the poor-due. That is true religion.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they were not commanded except to worship Allah, [being] sincere to Him in religion, inclining to truth, and to establish prayer and to give zakah. And that is the correct religion.

— Saheeh International

They were only commanded to worship God, be uprightly devoted to His religion, steadfast in prayer and pay the zakat. This is truly the eternal religion.

— Muhammad Sarwar

And they were not enjoined anything except that they should serve Allah, being sincere to Him in obedience, upright, and keep up prayer and pay the poor-rate, and that is the right religion.

— Muhammad Habib Shakir

And they were commanded not but that they should worship Allah, keeping religion pure for him, as upright men, and that they should establish prayer and give the poor-rate, And that is the right religion.

— Abdul Majid Daryabadi

And they have been commanded no more than this: To worship Allah, offering Him sincere devotion, being true (in faith); to establish regular prayer; and to practise regular charity; and that is the Religion Right and Straight.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 98:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

پاک و شفاف اوراق کی زینت قرآن حکیم : اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور مشرکین سے مراد بت پوجنے والے عرب اور آتش پرست عجمی ہیں فرماتا ہے کہ یہ لوگ بغیر دلیل حاصل کیے باز رہنے والے نہ تھے پھر بتایا کہ وہ دلیل اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ جو پاک صحیفے یعنی قرآن کریم پڑھ سناتے ہیں جو اعلیٰ فرشتوں نے پاک اوراق میں لکھا ہوا ہے جیسے اور جگہ ہے فی صحف مکرمتہ، الخ کہ وہ نامی گرامی بلندو بالا پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکو کار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں پھر فرمایا کہ ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں نہ ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة البینہ 7 یعنی جس دین کو اب محمد ﷺ پیش کر رہے ہیں، اسی دین کی تعلیم اہل کتاب کو ان کے ہاں آنے والے انبیاء اور ان کے ہاں نازل ہونے والی کتابوں نے دی تھی، اور ان عقائد باطلہ اور اعمال فاسدہ میں سے کسی چیز کا انہیں حکم نہیں دیا گیا تھا جنہیں انہوں نے بعد میں اختیار کر کے مختلف مذاہب بنا ڈالے۔ صحیح اور درست دین ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ خالص اللہ کی بندگی کی جائے، اس کے ساتھ کسی دوسرے کی بندگی کی آمیزش نہ کی جائے، ہر طرف سے رخ پھیر کر انسان صرف ایک اللہ کا پرستار اور تابع فرمان بن جائے، نماز قائم کی جائے، اور زکوٰۃ ادا کی جائے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الاعراف حاشیہ 19۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

و ذلک دین القیمة یہاں لفظ قیمہ بظاہر کتب کی صفت ہے جس کا ذکر اوپر آیا ہے اور بعض نے اس کو ملت کی صفت قرار دیا ہے غ۔ حاصل آیت کا یہ ہے کہ اہل کتاب کو ان کی کتابوں میں یہی حکم دیا گیا تھا کہ اپنی عبادت و اطاعت کو خلاص اللہ کے لئے رکھیں اور نماز قائم کریں اور زکوة ادا کریں، پھر فرمایا کہ یہ کچھ ان کی ہی خصوصیت نہیں، ہر ملت قیمہ یا تمام کتب قیمہ جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئیں ان سب کا دین اور طریقہ یہی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ قیمہ جو کتب کی صفت ہے اس سے مراد بقرینہ سابق احکام قرآنیہ لئے جائیں تو مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ اس شریعت محمدیہ نے بھی جوا حکام ان کو دیئے وہ بھی بعینہا وہی تھے جو پہلے ان کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ اس تفرق کی مثال ہے جس کا ذکر اوپر کی آیت میں ہوا ہے۔ فرمایا کہ دین کی بنیادی چیزوں میں سے کوئی چیز بھی ایسی باقی نہیں رہ گئی ہے جس پر یہ قائم و استوار ہوں بلکہ ہر چیز میں ان کی راہیں الگ الگ ہو گئیں یہاں تک کہ اپنے اس اختلاف کی بدولت وہ ان کو ضائع کر بیٹھے۔ ان کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے توحید کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ ہی کی بندگی کریں اسی کے لیے اطاعت کو خالص کر کے، بالکل یکسو ہو کر، لیکن انھوں نے دین کی یہ بنیادی تعلیم برباد کر دی۔ اپنے پیغمبر کی موجودگی میں انھوں نے ایک بچھڑے کی پرستش کی، عزیر کو ابن اللہ اور اپنے علماء و فقہاء کو ’اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ‘ بنایا۔ جادو اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

5۔ 1 یعنی ان کی کتابوں میں انہیں حکم تو یہ دیا گیا تھا کہ۔۔۔ 5۔ 2 حنیف کے معنی ہیں، مائل ہونا، کسی ایک طرف یکسو ہونا، حنفآء جمع ہے۔ یعنی شرک سے توحید کی طرف اور تمام ادیان سے منقطع ہو کر صرف دین اسلام کی طرف مائل اور یکسو ہوتے ہوئے۔ جیسے حضرت ابراہیم علیہ والسلام نے کیا۔ 5۔ 3 ا ؛ قیّمۃ محذوف موصوف کی صفت ہے۔ دین الملۃ القیّمۃ ائ : المستقیمۃ یا الأمّۃ المستقیمۃ المعتدلۃ، یہی اس ملت یا امت کا دین ہے جو سیدھی اور معتدل ہے۔ اکثر ائمہ نے اس آیت سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ اعمال، ایمان میں داخل ہیں (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–8

2: یہ ان اہل کتاب کی بات ہورہی ہے جو آنحضرت ﷺ کی نبوت کے روشن دلائل دیکھنے کے بعد بھی آپ پر ایمان نہیں لائے، مطلب یہ ہے کہ آپ کی تشریف آوری کو ایک نعمت سمجھنے کے بجائے ان لوگوں نے ضد کی وجہ سے آپ کی بات نہیں مانی اور الگ الگ راستہ اختیار کرلیا، حالانکہ ان کے پاس روشن دلیل آچکی تھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ اصول تمام ادیان کا اصل الاصول ہے کہ اللہ وحدہ کی عبادت کرو ، دین صرف اللہ کا ہو ، شرک اور اہل شرک سے دور ہو ، نماز قائم کرو ، زکوٰة ادا کرو۔ وذلک دین القیمة (5:98) ” یہی نہایت صحیح اور درست دین ہے “ یعنی انسانی ضمیر و شعور میں عقیدہ خالص ہو۔ صرف اللہ کی بندگی اور غلامی ہو ، جو اس عقیدے پر مبنی ہو ، اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا جائے ، یعنی زکوٰة دی جائے۔ جس شخص نے بھی ان اصولوں کو حقیقت کا روپ دے دیا تو اس کا ایمان قائم ہوگیا ، جس طرح اہل کتاب کو اس کا حکم دیا گیا تھا۔ اور جس طرح اللہ کے تمام رسولوں کو یہی حکم دیا گیا تھا اور تمام رسولوں اور امتوں کا دین دراصل ایک ہے ، عقیدہ ایک ہے ، جس پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی ہر قسم کے باطل اور جھوٹ سے علیحدہ ہو کر خالص خدائے واحد کی بندگی کریں اور ابراہیم (علیہ السلام) حنیف کی طرح سب طرف سے ٹوٹ کر اسی ایک مالک کے غلام بن جائیں۔ تشریع وتکوین کے کسی شعبہ میں کسی دوسرے کو خود مختار نہ سمجھیں۔ 6 یعنی یہ چیزیں ہر دین میں پسندیدہ رہی ہیں، انہی کی تفصیل یہ پیغمبر کرتا ہے۔ پھر خدا جانے ایسی پاکیزہ تعلیم سے کیوں وحشت کھاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 5–6

آیت 5{ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَلا حُنَفَآئَ } ”اور انہیں حکم نہیں ہوا تھا مگر یہ کہ وہ بندگی کریں اللہ کی ‘ اپنی اطاعت کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے ‘ بالکل یکسو ہو کر“ یہ حکم گویا پورے دین کا خلاصہ ہے جو اس سے پہلے سورة الزمر آیات 2 ‘ 3 ‘ 11 اور 14 میں بہت تاکید اور شدومد کے ساتھ بیان ہوچکا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت اس کی پوری اطاعت کے ساتھ کریں۔ یہ نہیں کہ نماز بھی پڑھے جا رہے ہیں اور حرام خوریوں سے بھی باز نہیں آتے۔ گویا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ اپنے نفس کی اطاعت بھی جاری ہے۔ ایسی آیات دراصل ہمیں خبردار کرتی ہیں کہ جزوی بندگی اور…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 دین قیم کے تین اہم ارکان :۔ دین قیم بمعنی ایسا مستحکم اور قائم دین جو حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی آخر الزمان تک ایک ہی رہا ہے۔ اس دین کے اہم اجزاء تین باتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ اکیلے ہی کو خالق ومالک سمجھا جائے۔ اس کے ساتھ کسی بھی نوعیت کا شرک نہ کیا جائے۔ اس کے حکم اور قانون کو سب سے بالاتر سمجھا جائے اور اس کے قانون اور حکم کے مقابلہ میں کسی دوسرے کے حکم یا قانون کی پروا نہ کی جائے۔ اکیلے اسی کی عبادت کی جائے اور یکسو ہو کر کی جائے۔ دوسری یہ کہ نماز کو ٹھیک طریقے سے باقاعدگی کے ساتھ ہمیشہ ادا کیا جائے اور تیسری یہ کہ اپنے اموال میں سے زکوٰۃ ادا کی جائے۔ واضح رہے کہ نماز اور زکوٰۃ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

3۔ (اور جب انہیں تعلیمات کو ان لوگوں نے مانا، تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ یہ خود اپنی کتابوں کے عملا منکر و مخالف ہوگئے ہیں) (آیت) ” وما امروا “۔ یعنی یہ حکم انہیں خود انہیں کی کتابوں میں مل چکا ہے۔ (آیت) ” مخلصین ..... حنفآء “۔ اور اسی اخلاص فی الدین کے اندر خامت النبیین ﷺ کی تصدیق اور قرآن مجید پر ایمان بھی داخل ہیں۔ (آیت) ” ذلک ‘۔ یعنی یہی امور جن کا ذکر معاقبل ہوچکا ہے۔ عبادت الہی اخلاص وحنیفیت کے ساتھ اور اقامت صلوۃ ادائے زکوٰۃ۔ اشارۃ الی ماذکر من عبادۃ اللہ بالاخلاص واقامۃ الصلوۃ وایتاء الذکوۃ (روح) (آیت) ” دین القیمۃ “۔ قیمۃ صفت ہے موصوف محذوف الملۃ کی۔ اے دین الملۃ القیمۃ (مدارک) قال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 4–8

وما تفرق الذین اوتوا الکتب الخ یہاں تفرق سے مراد انکار و اختلاف ہے، نزول قرآن اور آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے تمام اہل کتاب خواہ یہود ہوں یا نصاریٰ اس بات پر متفق تھے کہ نبی آخر الزمان کا ابھی آنا باقی ہے، کیوں کہ ان کی آسمانی کتابوں میں آپ ﷺ کی بعثت کی اطلاع دی گئی تھی اور آپ ﷺ کی مخصوص صفات کو واضح طور پر بیان کیا گیا تھا اور اہل کتاب آپ ﷺ کی آمد کے شدت سے منتظر تھے اور جب کبھی اہل کتاب اور مشرکین کے درمیان نزاع ہوتا اور مشرک اپنی عددی طاقت میں زیادہ ہونے کی وجہ سے یہود پر غالب آجاتے تو یہود آنحضرت ﷺ کے واسطے سے مشرکین پر فتح مندی کی دعاء کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اے اللہ ! تو آنے والے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما امروا الا لیعبدوا اللہ . لام زائد ہے ‘ اَنْ محذوف مقدر ہے یعنی ان یعبدوا اللہ اور یہ امروا کا مفعول ہے یا لام علت ہے اور مفعول محذوف ہے یعنی ان کو جن احکام کا امر کیا گیا وہ اس لیے تھا کہ خلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی معرفت کا جو حکم ان کو دیا گیا وہ فی نفسہٖ اور حقیقت میں اچھا تھا ‘ دلائل عقلیہ اس کے اچھے ہونے پر دلالت کر رہی ہیں اور گزشتہ آسمانی کتابوں میں بھی یہی حکم دیا گیا تھا۔ پس تعجب ہے منکر کس طرح اس مسلّمہ چیز کا انکار کرتے ہیں اور کس بناء پر تفرقہ کر رہے ہیں۔ مخلصین لہ الدین . یعنی اللہ کی عبادت کریں اعتقاد کو شرک سے پاک رکھتے ہوئے۔ یہ یعبدوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 5–6

(5۔ 6) حالاں کہ ان لوگوں کو سابقہ کتب میں حکم ہوا تھا کہ اللہ کی خلوص کے ساتھ یک سو ہو کر وحدانیت کے قائل ہوجائیں اور توحید کے بعد پانچوں نمازوں کی پابندی کیا کرو اور اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا کریں اور توحید سچا دین ہے، یا یہ کہ توحید فرشتوں کا دین ہے، یا یہ کہ دین حنفیہ ہے، یا یہ کہ ملت ابراہیمی ہے۔ مشرکین اہل کتاب اور مکہ کے کافر ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور یہ لوگ بدترین مخلوق ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وما امروآ الالیعبدوا اللہ…:”القیمۃ“ ’ قام یقوم“ سے ”فیعلۃ“ کے وزن پر صفت کا صیغہ ہے۔ جس میں تاء مبالغے کے لئے ہے ، نہایت مضبوط سیدھی جس میں کوئی کجی نہیں ””ای ذلک دین الملۃ القیمۃ“ یعنی یہی مضبوط ملت کا دین ہے۔“ ”حنفآء“”حنیف“ کی جمع ہے جو ”حنف یحنف حنفا“ (ض) (حاء کے ساتھ) سے ”فعیل“ بمعنی اسم فاعل ہے، اس کا لفظی معنی ”ایک طرف مائل ہونا“ ہے۔ اس کا اکثر استعمال ”تمام راستوں سے ہٹ کر سیدھے راستے یک طرف آنے“ کے معنی میں ہوتا ہے، جب کہ ”حنف“ (جیم کے ساتھ) کا مطلب ”سیدھے راستے سے ہٹ کر ادھر ادھر ہو اجنا“ ہوتا ہے۔ اس آیت میں دین کا خلاصہ بیان فرما دیا کہ پہلی امتیں ہوں یا یہ امت ، سب میں ایک ہی حکم…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وما امروا الالیعبدواللہ۔۔۔ تا۔۔۔ القیمہ۔ اس میں تین مسائل ہیں : تورات وانجیل میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا بیان۔ مسئلہ نمبر 1۔ ان کفار کو تورات اور انجیل میں حکم نہیں دیا گیا مگر یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اظہار کریں۔ لیعبد میں لام، ان کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، یرید اللہ لیبین لکم۔ النساء 26) یہاں بھی لام، ان کے معنی میں ہے، اس طرح ان آیات میں بھی لام، ان کے معنی میں ہے، یریدون لیطفوا نور اللہ (الصف 8) امرنا لنسلم لرب العالمین۔ الانعام) حضرت عبداللہ بن مسعود کی قرات میں، الا ان یعبدواللہ ہے۔ الدین سے مراد عبادت ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، قل انی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–8

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة لم یکن مدینہ میں نازل ہوئی 2۔ ابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ سورة لم یکن مکہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ ابو نعیم نے المعرفہ میں اسماعیل بن ابی حکیم المزنی ؓ جو بنو فضیل میں سے ایک تھے سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بیشک اللہ تعالیٰ لم یکن کی قراءت کو سنتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میرے بندے کو بشارت دے دو پس میری عزت اور میرے جلال کی قسم ! میں تجھے اتنا اختیار دوں گا جنت میں یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے گا۔ 4۔ ابوموسی المدینی نے المعرفہ میں اسماعیل بن ابی حکیم سے روایت کیا اور انہوں نے مطر المزنی یا المدنی (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَآ اُمِرُوْٓا : اور ان لوگوں کو حکم نہیں دیا گیا سوائے اس کے کہ ][ اِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ : چاہیے کہ وہ لوگ بندگی کریں اللہ کی ][ مُخْلِصِيْنَ : خالص کرنے والے ہوتے ہوئے ][ لَهُ الدِّيْنَ : اسی کے لیے ضابطۂ حیات (دین) کو ][ حُنَفَاۗءَ : یکسو ہوتے ہوئے ][ وَيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ : اور چاہیے کہ وہ لوگ قائم کریں نماز کو ][ وَيُؤْتُوا الزَّكٰوةَ : اور چاہیے کہ وہ لوگ پہنچائیں زکوٰۃ کو ][ وَذٰلِكَ : اور یہ ہے ][ دِيْنُ الْقَيِّمَةِ : (لوگوں کا) پختہ ضابطۂ حیات (دین)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا ﴾ (الآیۃ) اور مشرکین اور کفار کو صرف یہی تعلیم دی گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کریں اور اسی کے لیے توحید میں بھی مخلص رہیں اور دیگر عبادات میں بھی اور دین اسلام کے علاوہ تمام ادیان سے بچ کر اور ہٹ کر رہیں ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ نمازوں کو قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کیا کریں اور یہ جو کچھ انہیں حکم دیا گیا وہ دین قیمۃ ہے یعنی ایسی شریعت کے احکام ہیں جو بالکل سیدھی ہے اس میں کوئی كجی نہیں۔ یہی دین سارے انبیاء کرام (علیہ السلام) کا دین ہے سب نے اسی کی تعلیم دی۔ یہود و نصاریٰ خود بھی اس بات کو جانتے تھے اور جانتے ہیں لیکن ضد وعناد کی وجہ سے حق کو حق جانتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

ذات رسول کریم ﷺ وآیات قرآن شرچشمہ علوم وبرہان ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لم یکن الذین کفروا ....... الی .......... ذلک لمن خشی ربہ “۔ (ربط) گزشتہ سورت القدر میں شب قدر کی عظمت وفضیلت کا ذکر تھا، اس مناسبت سے اب اس سورت میں قبولیت عبادت کی اساس بیان کی جارہی ہے کہ وہ بندہ کا اخلاص اور قلب کی طہارت ہے اور اسی کو نام حنیفیت ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا شعار تھا، نیز یہ کہ سورة قدر میں لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کی گئی تھی تو اب اس سورت میں سعادت وشقاوت کے اصول بیان کئے گئے تاکہ ایمان وکفر اور ہدایت وگمراہی میں کسی کو التباس نہ رہے، تو ارشاد فرمایا۔ نہیں تھے باز آنے والے وہ لوگ جو کافر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

4:۔ ” وما امرو “ حنفاء، حنیف کی جمع ہے یعنی ہر باطل دین سے اعراض کر کے دین اسلام کی طرف مائل ہونے والا۔ ای مائلین عن الادیان کلہا الی دین الاسلام (قرطبی ج 20 ص 144) ۔ ” دین القیمۃ “ مرکب اضافی ہے اور القیمۃ مقدر کی صفت ہے ای المسئلۃ القیمۃ۔ یعنی محکم اور پختہ مسئلہ اور وہ مسئلہ توحید ہے یا الملۃ القیمۃ یعنی ملت مستقیمہ کے احکام ہیں جس کا حکم نہایت صحیح اور محکم ہے۔ وقال الزجاج ای ذلک دین الملۃ المستقیمۃ (قرطبی) ۔ زجاج کے دو قول ہیں اگر ملت سے مراد امت ہو تو مفہوم زیادہ واضح ہوجاتا ہے۔ یعنی یہ اس امت کا دین ہے جو حق پر قائم ہے جیسا کہ علامہ آلوسی فرماتے ہیں۔ وقال الزجاج ای الامۃ القیمۃ بالحق…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 5–8

گزشتہ سے پیوستہ اس سورة مبارکہ کے ابتدائی حصے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بینہ کے لقب سے ملقب حضور خاتم النبین ﷺ کی بعثت سے پہلے اہل کتاب اور مشرکوں کی حالت بہت خراب ہوچکی تھی۔ وہ اپنے فاسد عقائد اور باطل مذاہب سے باز آنے والے نہیں تھے۔ یہاں تک کہ ان کے پاس بینہ یعنی اللہ کا وہ عظیم الشان رسول آجائے جو پاک صحیفوں کی تلاوت کرتا ہے قرآن کریم کی ہر سورة ایک مقدس صحیفہ ہے۔ جس میں مضبوط اصول لکھے ہوئے ہیں مگر جب وہ بینہ آ گیا اور خدا تعالیٰ کی حجت تمام ہوگئی تو اہل کتاب تفرقہ میں پڑگئے۔ روح المعانی والے مفسر فرماتے ہیں کہ تفرقے کا مطلب یہ ہے ۔ بہت تھوڑے لوگ ایمان لائے ، جب کہ ان کی اکثریت باطل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِــيَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِيْنَ لَہُ الدِّيْنَ۝ 0ۥۙ حُنَفَاۗءَ وَيُقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَيُؤْتُوا الزَّكٰوۃَ وَذٰلِكَ دِيْنُ الْقَيِّمَۃِ۝ 5 ۭ أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته : إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ وما تفرق الخ الجملہ مستانفۃ لتوبیخ اھل الکتاب والتخصیص بذکرھم للد لالۃ علی ان المشرکین مع جھلھم اولیٰ بالتفرق الا الا ستثناء مفرغ من اعم الاحوال والا وقات۔ وما امرو الجملۃ فی محل النصب علی انھا حال من اھل الکتاب والحال انھم ما امرو ابشیء یخالف اصول دینھم بل بشیء یطابقھا مخلصین قراء الجمھور بکسر اللام وقرا الحسن بفتحھا۔ وھی حال من الضمیر فی یعبدو احنفاء حال من الضمیر فی مخلصین فیکون من باب التداخل ویمکن ان یکون من یعبدوا جمع حنیف۔ والحنیف المائل عن الباطل ای الحق وقیل المتبع بطریقۃ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) ویقیموا ویوتوا معطوفان علی لیعبدوا سقطت النون لتقدر ان ای ان لیعبدوا للہ الخ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلاَّ لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَـہُ الدِّیْنَ 5 لا حُنَفَـآئَ وَیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکٰوۃَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ ۔ (البینۃ : 5) (حالانکہ انھیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کریں، اسی کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے بالکل یکسو ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، اور یہی نہایت صحیح اور درست دین ہے۔ ) اہل کتاب میں تفرقہ کا سبب اہلِ کتاب میں جو تفرقہ پیدا ہوا اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے دین کی بنیادی چیزوں کو چھوڑ دیا۔ ان میں کوئی چیز ایسی باقی نہ رہی جس پر یہ اپنے آپ کو قائم اور استوار رکھ سکیں۔ انھیں بھی اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–5

فہم القرآن ربط کلام : واضح ہدایات آجانے کے باوجود اہل کتاب کا منفی کردار۔ اس فرمان میں بظاہر صرف اہل کتاب کو مخاطب کیا گیا ہے لیکن اس خطاب میں مشرکین بھی برابر کے شریک ہیں۔ اہل کتاب کا الگ اس لیے ذکر کیا ہے کہ مشرکین عرب بظاہر کسی آسمانی کتاب کے قائل نہیں تھے لیکن اہل کتاب آسمانی کتابوں پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے تھے۔ یہاں ان کی مذہبی حالت بیان کرکے اشارہ کیا ہے کہ جب اہل کتاب کے کفر و شرک کی حالت یہ تھی اور ہے تو مشرکین کے شرک کی حالت کیا ہوگی ؟ اس کے ساتھ ہی اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اہل کتاب کے فکری انتشار اور ان کے کفرو شرک کی وجہ یہ نہیں کہ ان کے پاس رسول، آسمانی کتابیں اور کھلے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قدرت کے احکام کا خلاصہ : 5 : وَمَآ اُمِرُوْا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَآئَ وَیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکٰوۃَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ (حالانکہ ان لوگوں کو یہی حکم ہوا تھا۔ کہ اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کریں کہ عبادت کو اسی کیلئے خالص رکھیں یکسو ہو کر اور نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ دیا کریں اور یہی طریقہ ہے ان درست مضامین کا) وما امروا اور تورات و انجیل میں یہی حکم دیا گیا ہے۔ مخلصین لہ الدین شرک و نفاق سے خالص دین۔ حنفاءؔ باطل ادیان سے مائل ہو کر تمام رسل پر ایمان لائیں۔ دین القیمۃؔ ای دین الملۃ القیمۃ : مضبوط ملت کا دین ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5 ۔” وماامروا “ یعنی یہ کفار ” الالیعبدوا اللہ “ یعنی مگر یہ کہ وہ اللہ کی عبادت کریں۔ ” مخلصین لہ الدین “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان کو توریت و انجیل میں یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ عبادت خالص اللہ کے لئے کریں توحید کو اپنائیں۔ ” حنفائ “ تمام ادیان سے اعراض کرکے دین اسلام کی طرف مائل ہوں۔ تفسیر :” ویقیموا الصلوۃ “ فرض کی ہوئی ان کے اوقات میں۔” ویوتوا الزکاۃ “ اس کے محل کے وقت۔ ” وذلک “ جس کا ان کو حکم دیا گیا ” دین القیمۃ “ یعنی ملت اور سیدھی شریعت ہے دین کی اضافت قیمہ کی طرف کی ہے حالانکہ یہ اس کی صفت ہے لفظوں کے مختلف ہونے کی وجہ سے اور ” قیمۃ “ کو مونث لایا گیا ہے دین کو ملت کی طرف رد کرتے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ شروع سورة سے حتیٰ تاتھیم البینۃ تک کی آیت کا مطلب اس طرح کا مشکل ہے کہ جس کے بیان کرنے میں اکثر مفسروں نے غلطی کی ہے لیکن صحیح قول یہ ہے کہ بینہ 1 ؎ سے مراد نبی آخر الزمان ہیں۔ اور یہ آیت ان لوگوں کی شان میں ہے جو اہل مکہ اور اہل کتاب میں سے راہ راست پر آگئے اور اسلام لے آئے اور حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ اگر قرآن جیسی کتاب نازل نہ ہوتی اور نبی آخر الزمان جیسے رسول نہ آتے تو اہل مکہ اور اہل کتاب سب کے سب اسی کفر کی حالت پر رہتے اور کوئی ان میں سے راہ راست پر نہ آتا۔ پھر فرمایا کہ یہ اہل کتاب جو متفرق ہو رہے ہیں کہ کوئی ان میں سے اسلام لے آیا اور کوئی بدستور حالت کفر پر اڑا ہوا ہے اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

ان کو تمام شریعتوں میں حکم تو یہی ہے کہ عبادت کریں (اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ڏ) اللہ کی اخلاص کے ساتھ اس کے لیے بندگی۔ یعنی اپنی تمام ظاہری اور باطنی عبادت میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے قرب کی طلب کو مقصد بناتے ہوئے (حُنَفَاۗءَ وَيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوا الزَّكٰوةَ ) یکسو ہو کر۔ (یعنی دین توحید کے مخالف تمام ادیان سے منہ موڑ کر) اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔ اللہ نے نماز اور زکوۃ کو ان کے فضل وشرف کی بنا پر خاص طور پر ذکر کیا حالانکہ وہ دونوں اللہ کے ارشاد ( لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ) میں داخل ہیں نیز اس لیے بھی انہیں الگ ذکر کیا کہ یہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–8

عبادت میں اخلاص ضروری ہے قول باری ہے (وما امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین حنفاء اور ان کو اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں اپنے دین کو اس کے لئے خالص کرکے ، بالکل یکسوہوکر) اس میں اللہ کے لئے عبادت کو خالص کرنے کا حکم ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ عبادت میں اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کیا جائے کیونکہ اخلاص اشراک کی ضد ہے۔ نیت کے ساتھ اخلاص کا تعلق نہیں ہے نہ تو عبادت کی وجود کی صورت میں اور نہ ہی اس کے عدم کی صورت میں اس لئے اس سے نیت کے وجوب پر استدلال کرنا درست نہیں ہوگا کیونکہ ایک شخص جب ایمان کا اعتقاد کرلے گا تو اسے عبادت میں اخلاص اور اشراک کی نفی حاصل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

6 ۔ توحید خداوندی مطلوب مشترک : سو ارشاد فرمایا گیا حالانکہ ان سب کو اسی بات کا حکم دیا گیا تھا کہ یہ اللہ ہی کی بندگی کریں اس لیے کہ معبود برحق وہی اور صرف وہی وحدہ لا شریک ہے، سبحانہ و تعالی۔ ہر قسم کی عبادت و بندگی خواہ وہ بدنی ہو یا مالی، قلبی ہو یا قالی، ظاہری ہو یا باطنی، سب اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے، اس کے سوا کسی بھی اور ہستی کے لیے کسی بھی طرح کی عبادت کا بجا لانا صریح ناانصافی اور کھلم کھلا ظلم ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ مگر انہوں نے اس حکم خداوندی کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کی اور معبود برحق کی عبادت و بندگی سے منہ موڑ کر یہ طرح طرح کی ہلاکتوں میں گرگئے، سو اپنی گمراہی اور اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

اہل کتاب کی مخالفت اور رسول ﷺ کی ضرورت تشریح : ایک ہی پیغام ہے جو ہمیشہ تمام پیغمبر دیتے رہے ہیں۔ کہ اللہ ایک ہے اسی کی عبادت کرو جس کا بہترین طریقہ ہے نماز۔ کیونکہ اس سے طہارت ملتی ہے۔ دل کو سکون ملتا ہے وقت کی پابندی کی عادت پڑتی ہے۔ سستی اور کاہلی دور ہوتی ہے۔ اللہ سے ملاقات کا اور دعا کا موقعہ ملتا ہے انسان کے اندر اللہ کا خوف پیدا ہوتا ہے۔ اس کی محبت اور فرمانبرداری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ دنیا سے بےنیازی ' خودداری اور کردار میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ نماز پورے خلوص ' توجہ اور خشوع و خضوع کے ساتھ صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے اور اللہ کے غضب سے ڈرتے ہوئے پڑھی جائے۔ اسی طرح زکوۃٰ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

سورة البینہ۔ آیات 1 تا 8 اسرار ومعارف۔ دنیا میں کافر ، اہل کتاب اور مشرک سب ہی بہت زیادہ گمراہی میں مبتلا تھے ہر سمت کفر وشرک کے ساتھ جوروستم چھایا ہوا تھا دنیا کا حال اس قدر برا تھا کہ تاریخ انسانی میں کبھی اس سے پہلے ایسا نہ ہوا تھا اور نہ آئندہ کبھی اتنی گمراہی اکٹھی ہوگی کہ اس کو دور کرنے کے لیے ایسی روشنی اور اتنی طاقتور ہدایت کی ضرورت تھی کہ جس طرح ظلم وجور بےمثال تھا اسی طرح رسول اللہ بھی لاثانی ہو اور جتنی گہری ظلمت تھی اتنی اور اس سے زیادہ طاقتور نورانیت ہو تب اللہ نے آپ کو ایسے رسول کی شان سے مبعوث فرمایا جس نے سارے عالم کو ہمیشہ کے لیے منور کردیا اور اللہ کی طرف سے اللہ کی کتاب اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 جس کی طرف پیغمبر آخر الزمان ﷺ دعوت دیتے ہیں۔ اس لئے یہ لوگ اگر حسد کی بیماری میں مبتلا نہ ہوتے تو ہرگز آپ پر ایمان لانے سے نہ رک سکتے تھے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(98:5) وما امروا الا لیعبدوا اللہ : یہ سارا جملہ الذین اوتوا الکتب سے حال ہے۔ ای والحال انہم ما امروا بشیء یخالف اصول دینہم بل شیء یطابقھا۔ حال یہ ہے کہ ان کو کسی ایسی چیز کے متعلق حکم نہیں دیا گیا تھا جو ان کے دین کے اصول کے خلاف ہو بلکہ (جو حکم دیا گیا ان کے دین کے اصول کے) مطابق تھا۔ ما نافیہ۔ امروا ماضی مجہول کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ ان کو حکم دیا گیا۔ الا حرف استثناء لیعبدوا میں لام زائدہ ہے اور ان محذوف مقدر ہے ای الا ان یعبدوا اللہ۔ اور یہ ما امروا کا مفعول ہے۔ یعنی ان کو صرف اللہ کا حکم دیا گیا تھا۔ مخلصین لہ الدین۔ یہ یعبدوا کی ضمیر فاعل سے حال ہے خالصۃ اس کی اطاعت کی نیت سے۔ مخلصین :…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن۔ لم یکن۔ نہیں ہے۔ منفکین۔ باز آنے والے۔ البینۃ۔ صاف اور کھلی باتیں۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ صاف ستھرا۔ کتب قیمۃ۔ لکھی ہوئی مضبوط کتابیں۔ ما تفرق۔ الگ الگ نہ ہوئے۔ امروا۔ حکم دیا گی ا ہے۔ مخلصین۔ خالص کرنے والے۔ حنفائ۔ سب سے منہ موڑنے والے ( ایک اللہ کے ہوجانے والے) ۔ شر البریۃ۔ بدترین مخلوق۔ خیر البریۃ۔ بہترین مخلوق۔ ؓ اللہ خوش ہوگیا۔ خشی۔ جو ڈرا۔ تشریح : قرآن کریم میں اہل کتاب ان لوگوں کو کہا گیا ہے جن کے پاس گذشتہ رسول کوئی کتاب لے کر آئے۔ بعد میں آنے والوں نے اپنے بعض دنیاوی مقاصد کے لئے ان میں بتدیلیاں کرلیں وہ ان کو اللہ کی کتاب ماننے کے باوجود شرک بھی کرتے تھے۔ اللہ نے ان کو یہود،…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–6

حضور ﷺ کی تشریف آوری کا ذکر۔ (ف 1) اہل کتاب یہود ونصاری اور مشرکین جو بت پرستی یا آتش پرستی وغیرہ میں مبتلا تھے اور کوئی کتاب سماوی ان کے ہاتھ مین نہ تھی اور نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے سب دین والے بگڑ چکے تھے اور سیدنا انبیاء محمد ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے یہ تمام یہی کہتے تھے کہ ہم اپنا دین چھوڑنے والے نہیں ، جب تک کہ وہ نبی موعود تشریف فرما نہ ہوں یعنی سید عالم جلوہ افروز نہ ہوں جن کا ذکر توریت وانجیل میں ہے ، چناچہ وہ رسول یعنی محمد ﷺ حق وعدل کی کتاب یعنی قرآن مجید پڑھتے ہوئے جلوہ افروز ہوئے آگے فرمایا کہ یہ اہل کتاب اب جو متفرق ہورہے ہیں کہ کوئی ان میں سے اسلام لے آیا اور کوئی بدستور حال تکفر پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[4] یعنی یہی وہ دین ہے جس کی تعلیم اہل کتاب کو ان پیغمبروں نے دی تھی اور اسی دین کو اب محمد ﷺ پیش کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–5

ف 1: ان آیتوں میں حضور ﷺ کو لفظ بینۃ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ اہل بصیرت کے لئے خود آپ ﷺ کا وجود ، آپ ﷺ کی اخلاقی رفعت اور آپ ﷺ کی شخصیت ایک دلیل ہے سچائی کی اور صداقت کی ۔ آپ ﷺ کو نفس دعویٰ کے اثبات کے لئے کسی خارجی دلیل وبرہان کی ضرورت نہیں ہے ۔ بلکہ آپ ﷺ کا وجود مبارک بجائے خود ایک علم ہے ، ایک ثبوت ہے اور ایک آئینہ ہے ۔ فیھا کتب قیمۃ کی تصریح سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے نقطہ نگاہ میں یہ جامعیت موجود ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر اب تک جس قدر صحائف کا نزول ہوچکا ہے ، ان سب کی تعلیمات بطور اصول و اساس کے اس میں موجود ہیں ۔ اس میں تورات بھی ہے اور انجیل بھی ۔ زبور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) حالانکہ کتب سابقہ میں ان اہل کتاب کو صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ یکسو ہوکر خالص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے اعتقاد سے اس کی عبادت کیا کریں اور نماز کی پابندی رکھیں اور زکوٰۃ دیا کریں اور یہی طریقہ درست اور مضبوط ہے - مطلب یہ ہے کہ جس طرح اس رسول کے صحیفوں میں کتب قمیہ مندرج اور مرقوم ہے اسی طرح ان اہل کتاب کو جو کتب سماویہ دی گئی تھیں ان میں بھی ان کو صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کریں کہ عبادت کو اسی کے لئے خالص رکھیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح تمام ادیان باطلہ سے یکسو ہوکر خلوص کے ساتھ اسی کی عبادت کیا کریں اور نماز کو قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–7

ف 2۔ یعنی دین حق سے بھی اختلاف کیا اور باہمی اختلافات جو پہلے سے تھے ان کو بھی دین حق کا اتباع کر کے دور نہ کیا اور مشرکین کو بدرجہ اولی اس لئے کہا کہ ان کے پاس تو پہلے سے بھی کوئی سماوی علم نہ تھا اور قرآن کو صحف اور اس کے مضامین کو کتب فرمانا باعتبار قوة کے ہے، حاصل یہ کہ ایسے رسول اور ایسی کتاب عظیم الشان کا آنا مقتضی تھا اجتماع علی الدین الھق کو مگر ان لوگوں نے سبب اجتماع کو سبب تفرق بنالیا، اور قرینہ مقابلہ سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جن لوگوں نے تفق اور خلاف نہیں کیا وہ اہل ایمان ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حالانکہ ان کو ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا اور دین قیم کی دعوت دی گئی تھی 5 ؎ یہ حقیقت اس وقت کھل کر سامنے آجاتی ہے جب ان دعوتوں کی طرف رخ کیا جائے جن دعوتوں کے ایک سرے پر نوح (علیہ السلام) اور دوسرے پر سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کھڑے ہیں اور قرآن کریم نے ان میں سے 24 ، 25 دعوتوں کا ذکر نام بنام بھی کیا ہے۔ ان میں سے ایک ایک دعوت کا آپ مطالعہ کر کے دییں و کہ ہر نبی و رسول نے اپنی قوم کو سب سے پہلے سبق جو یاد کرایا وہ توحید ہی کا سبق تھا اور وہ قومیں جو آج طرح طرح کے شرک میں مبتلا ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسی قوم نہیں جس کو اس کے نبی و رسول نے اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لانے کا حکم نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Verse [ 5] وَذَٰلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ (And that is the way of the straight religion.) The word qayyimah [ the straight ] is apparently the qualifier of the noun kutub [ Books ] which occurred earlier. Some treat the adjective as qualifying the noun millah [ religion ]. The verse purports to say that Allah commanded the People of the former Scriptures that they should render full and sincere obedience to Divine commandments, that is, to worship Allah alone. They should also establish the regular prayers and pay the obligatory alms. Then the Qur'an reminds them that this is not their…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

7 That is, the message of the same religion, which now the Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) is preaching, had been given to the people of the Book by the Prophets who came to them and by the Books which were sent among them; they had not ban enjoined any of the false belief aad wicked deeds which they adopted afterwards and created different sects. Right and correct religion has always been the same: that Allah alone should be served and worshipped exclusively, none else be joined with Him in worship, man should become worshipper of One Allah alone and obedient to…

Read the full tafseer →