Explained with ayahs 6–8
ساری مخلوق سے بہتر اور بدتر کون ہے ؟
اللہ تعالیٰ کافروں کا انجام بیان فرماتا ہے وہ کافر خواہ یہود و نصاریٰ ہوں یا مشرکین عرب و عجم ہوں جو بھی انبیاء اللہ کے مخالف ہوں اور کتاب اللہ کے جھٹلانے والے ہوں وہ قیامت کے دن جہنم کی آگ میں ڈال دئیے جائیں گے اور اسی میں پڑے رہیں گے نہ وہاں سے نکلیں گے نہ رہا ہوں گے یہ لوگ تمام مخلوق سے بدتر اور کمتر ہیں پھر اپنے نیک بندوں کے انجام کی خبر دیتا ہے جن کے دلوں میں ایمان ہے اور جو اپنے جسموں سے سنت کی بجا آوری میں ہر وقت مصروف رہتے ہیں کہ یہ ساری مخلوق سے بہتر اور بزرگ ہیں اس آیت سے حضرت ابوہریرہ ؓ اور علماء کرام کی ایک جماعت نے استدلال کیا ہے کہ ایمان والے…
Read the full tafseer →سورة البینہ 8
یہاں کفر سے مراد محمد ﷺ کو ماننے سے انکار کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکین اور اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے اس رسول کے آجانے کے بعد اس کو نہیں مانا جس کا وجود خود ایک دلیل روشن ہے اور جو بالکل درست تحریروں پر مشتمل پاک صحیفے ان کو پڑھ کر سنا رہا ہے، ان کا انجام وہ ہے جو آگے بیان کیا جارہا ہے۔
سورة البینہ 9
یعنی خدا کی مخلوقات میں ان سے بد تر کوئی مخلوق نہیں ہے حتی کہ جانوروں سے بھی گئے گزرے ہیں، کیونکہ جانور عقل اور اختیار نہیں رکھتے، اور یہ عقل اور اختیار رکھتے ہوئے حق سے منہ موڑتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
رضی اللہ عنھم ورضواعنہ، ذلک لمن خشی ربہ، اس آیت میں اہل جنت کی سب سے بڑی نعمت کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اب ناراضی کا کوئی خطرہ نہیں۔ حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے خطاب کے لئے فرمائیں گے۔ یا اہل الجنہ، تو اہل جنت جواب دیں گے۔ لبیک ربنا وسعدیک والخیر کلہ فی یدیک یعنی اے ہمارے رب ہم حاضر ہیں اور اطاعت حکم کے لے تیار ہیں اور ہر بھلائی آپ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ پھر حق تعالیٰ فرمائیں گے ھل رضیتم یعنی تم لوگ راضی اور خوش ہو وہ جواب دیں گے، اے ہمارے پروردگار، اب بھی راضی نہ ہونے کا کیا احتمال ہے جبکہ آپ نے ہمیں وہ سب کچھ عطا فرما دیا جو کسی…
Read the full tafseer →اہل کتاب اور مشرکین کے کبر و غرور پر ضرب: یہ ان لوگوں کا انجام بیان فرمایا ہے جو قرآن کی تکذیب پر اڑے ہوئے ہیں، خواہ وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکین سے۔ ساتھ ہی اس میں ان کے اس کبر و غرور پر بھی ضرب لگائی ہے جو اس تکذیب کا سبب بنا۔
فرمایا کہ جو بھی قرآن کی تکذیب کر کے کفر کے مرتکب ہوئے ہیں وہ سب جہنم میں بھر دیے جائیں گے، خواہ وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکین میں سے۔ اہل کتاب ہو کر جنھوں نے اسی اندھے پن کا ثبوت دیا جس کا مظاہرہ مشرکین نے کیا تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ کسی رعایت کے مستحق ٹھہریں۔ ساتھ ہی یہ تاکید بھی ہے کہ یہ اس جہنم میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخل کیے جائیں گے۔ یہ نہیں ہو گا کہ چند…
Read the full tafseer →6۔ 1 یہ اللہ کے رسول اور اس کی کتابوں کا انکار کرنے والوں کا انجام۔ نیز انہیں تمام مخلوقات میں بدترین قرار دیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
2: یہ ان اہل کتاب کی بات ہورہی ہے جو آنحضرت ﷺ کی نبوت کے روشن دلائل دیکھنے کے بعد بھی آپ پر ایمان نہیں لائے، مطلب یہ ہے کہ آپ کی تشریف آوری کو ایک نعمت سمجھنے کے بجائے ان لوگوں نے ضد کی وجہ سے آپ کی بات نہیں مانی اور الگ الگ راستہ اختیار کرلیا، حالانکہ ان کے پاس روشن دلیل آچکی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
حضرت محمد ﷺ آخری رسول ہیں اور جو دین لے کر آئے ہیں وہ آخری دین ہے اس سے قبل یوں تھا کہ جب بھی انسانیت گمراہ ہوتی اور راستے سے ہٹ جاتی اللہ رسول بھیج دیتا ، یہ سلسلہ مسلسل جاری رہا اور لوگوں کو وقفے وقفے سے مہلت ملتی رہی کہ لوگ اپنی اصلاح کرلیں لیکن اللہ کی مشیت کا تقضا یہ ہوا کہ ایک جامع ، مانع اور مکمل دین بھیج کر رسولوں کے اس سلسلے کو ختم کردے۔ یہ آخری مہلت ہے ۔ لوگ اس آخری دین کو قبول کرکے نجات پالیں گے یا انکار کرکے ہلاک وبرباد ہوجائیں گے۔ اس لئے کہ کفر اور شرک شر کے قائم مقام اور شر کی علامت بن جاتی ہے اور شر کی کوئی حد نہیں ہوتی اور ایمان خیر کا قائم مقام ہوجاتا ہے۔ اور ایمان کے نتیجے…
Read the full tafseer →7 یعنی علم کا دعویٰ رکھنے والے اہل کتاب ہوں، یا جاہل مشرک، حق کا انکار کرنے پر سب کا انجام ایک ہے وہی دوزخ جس سے کبھی چھٹکارا نہیں۔
8 یعنی بہائم سے بھی زیادہ ذلیل اور بدتر۔ کما قال فی سورة " الفرقان " (اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِيْلًا) 25 ۔ الفرقان :44)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
آیت 5{ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَلا حُنَفَآئَ } ”اور انہیں حکم نہیں ہوا تھا مگر یہ کہ وہ بندگی کریں اللہ کی ‘ اپنی اطاعت کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے ‘ بالکل یکسو ہو کر“
یہ حکم گویا پورے دین کا خلاصہ ہے جو اس سے پہلے سورة الزمر آیات 2 ‘ 3 ‘ 11 اور 14 میں بہت تاکید اور شدومد کے ساتھ بیان ہوچکا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت اس کی پوری اطاعت کے ساتھ کریں۔ یہ نہیں کہ نماز بھی پڑھے جا رہے ہیں اور حرام خوریوں سے بھی باز نہیں آتے۔ گویا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ اپنے نفس کی اطاعت بھی جاری ہے۔ ایسی آیات دراصل ہمیں خبردار کرتی ہیں کہ جزوی بندگی اور…
Read the full tafseer →8 کفر کے درجے :۔ کفر کے سو درجے ہیں اور ہر درجہ ایک دوسرے سے کم و بیش ہوتا ہے۔ مثلاً اللہ کی ذات کا سرے سے انکار کردینا بھی کفر ہے۔ نماز کو عمداً چھوڑ دینا بھی۔ اب ظاہر ہے کہ یہ دونوں قسم کے کفر ایک جیسے تو نہیں ہوسکتے۔ یہود اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں حتیٰ کہ آخرت پر بھی پورا پورا ایمان رکھتے تھے۔ مگر ساتھ یہ بھی کہتے تھے کہ ہم اللہ کے چہیتے اور پیارے ہیں اور ہمیں بس چند دن ہی آگ چھوئے گی۔ تو اللہ نے ان کے اس عقیدہ کو بھی کفر سے تعبیر کیا۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ ان کا کفر مشرکوں کے کفر سے کم تر درجہ کا ہے جو سرے سے انسان کی دوبارہ زندگی کے ہی قائل نہ تھے۔ اس آیت میں کفر کی سب قسمیں مراد…
Read the full tafseer →4۔ یہاں یہ بتادیا کہ جو لوگ قانون الہی کے باغی ومنکر ہیں، ان کا ماضی جو کچھ بھی ہو، اور وہ دوسری حیثیتوں سے جیسے بھی ہوں، اللہ کی عدلت میں ” شریت “۔ میں کامل ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
وما تفرق الذین اوتوا الکتب الخ یہاں تفرق سے مراد انکار و اختلاف ہے، نزول قرآن اور آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے تمام اہل کتاب خواہ یہود ہوں یا نصاریٰ اس بات پر متفق تھے کہ نبی آخر الزمان کا ابھی آنا باقی ہے، کیوں کہ ان کی آسمانی کتابوں میں آپ ﷺ کی بعثت کی اطلاع دی گئی تھی اور آپ ﷺ کی مخصوص صفات کو واضح طور پر بیان کیا گیا تھا اور اہل کتاب آپ ﷺ کی آمد کے شدت سے منتظر تھے اور جب کبھی اہل کتاب اور مشرکین کے درمیان نزاع ہوتا اور مشرک اپنی عددی طاقت میں زیادہ ہونے کی وجہ سے یہود پر غالب آجاتے تو یہود آنحضرت ﷺ کے واسطے سے مشرکین پر فتح مندی کی دعاء کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اے اللہ ! تو آنے والے…
Read the full tafseer →ان الذین کفروا من اھل الکتب والمشرکین . یہ اِنَّ کا اسم ہے۔
فی نار جھنم . یہ اِنَّ کی خبر ہے۔
خالدین فیھا . یہ (جار مجرور) ظرف کے فاعل سے حال ہے یعنی جن اہل کتاب اور مشرکوں نے کفر کیا وہ جہنم کی آگ میں ہوں گے (اور) اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
اولئک ھم شر البریۃ . مذکورہ اوصاف والے ہی تمام مخلوق یہاں تک کہ سوروں اور کتوں سے بھی بدتر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(5۔ 6) حالاں کہ ان لوگوں کو سابقہ کتب میں حکم ہوا تھا کہ اللہ کی خلوص کے ساتھ یک سو ہو کر وحدانیت کے قائل ہوجائیں اور توحید کے بعد پانچوں نمازوں کی پابندی کیا کرو اور اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا کریں اور توحید سچا دین ہے، یا یہ کہ توحید فرشتوں کا دین ہے، یا یہ کہ دین حنفیہ ہے، یا یہ کہ ملت ابراہیمی ہے۔ مشرکین اہل کتاب اور مکہ کے کافر ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور یہ لوگ بدترین مخلوق ہیں۔
Read the full tafseer →(ان الذین کفروا من اھل الکتب…:”البریۃ“ ”بر یبراً برآء و بروعاً“ (ف) (پیدا کرنا) سے ”فعلۃ“ کے وزن پر اسم مفعول کے معنی میں ہے، مخلوق یعنی یہ لوگ تمام مخلوق حتیٰ کہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں، جیسا کہ فرمایا :(اولئک کالا نعام بل ھم اضل) (الاعراف : 189)”یہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔“ کیونکہ وہ جان بوجھ کر حق کی مخالفت کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ان الذین کفروا۔۔۔ تا۔۔۔ البریہ۔
المشرکین کا عطف الذین، اسم موصول پر ہے یا یہ مجرور ہے اور اس کا عطف اھل پر ہے۔ نافع اور ابن ذکوان نے دونوں مواقع پر البریہ کو ہمزہ کے ساتھ اپنے اصل پر پڑھا ہے۔ یہ عربوں کے اس قول سے ہے، براء اللہ الخلق۔ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اللہ تعالیٰ کے لیے باری کا لفظ استعمال ہوتا ہے جس کا معنی خالق ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے، من قبل ان نبراھا، الحدید 22) اسے پیدا کرنے سے قبل جب کہ باقی نے ہمزہ کے بغیر اور یاء کو مشدد پڑھا ہے یہ یاء ہمزہ کے عوض میں ہے فراء نے کہا، اگر بدیہ کالفط برسی سے مشتق ہو جس کا معنی مٹی ہے تو اس کی اصل ہمزہ کے بغیر ہوگی، تو کہے گا، براہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة لم یکن مدینہ میں نازل ہوئی
2۔ ابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ سورة لم یکن مکہ میں نازل ہوئی۔
3۔ ابو نعیم نے المعرفہ میں اسماعیل بن ابی حکیم المزنی ؓ جو بنو فضیل میں سے ایک تھے سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بیشک اللہ تعالیٰ لم یکن کی قراءت کو سنتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میرے بندے کو بشارت دے دو پس میری عزت اور میرے جلال کی قسم ! میں تجھے اتنا اختیار دوں گا جنت میں یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے گا۔
4۔ ابوموسی المدینی نے المعرفہ میں اسماعیل بن ابی حکیم سے روایت کیا اور انہوں نے مطر المزنی یا المدنی (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →[ان الَّذِينَ كَفَرُوْا : بیشک وہ لوگ جنھوں نے انکار کیا ][ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ : اہل کتاب میں سے ][ وَالْمُشْرِكِيْنَ : اور (بیشک) سب شرک کرنے والے ][ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ : جہنم کی آگ میں ہیں ][ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭ: ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے اس میں ][ اُولٰۗىِٕكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ : وہ لوگ ہی تمام مخلوق کے بدترین ہیں ]
ترکیب 1: اَلْمُشْرِکِیْنَ کے دو امکانات ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو مِنْ پر عطف مانا جائے۔ ایسی صورت میں مطلب ہوگا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ وَ (مِنَ ) الْمُشْرِکِیْنَ ۔ دوسرے یہ کہ اس کو اِنَّ پر عطف مانا جائے۔ ایسی صورت میں مطلب ہوگا وَ (اِنَّ ) الْمُشْرِکِیْنَ ۔ دونوں ترجمے…
Read the full tafseer →شرک و کفر کی مذمت اور توحید کا حکم بیان فرمانے کے بعد آخر کی تین آیتوں میں ہر دو فریق کا انجام بتایا۔ ارشاد فرمایا : ﴿ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِيْنَ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا 1ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِؕ006﴾
اس میں یہود و نصاریٰ و مشرکین کے بارے میں فرمایا کہ وہ دوزخ میں داخل ہوں گے آگ میں جلیں گے ساتھ ہی ان کے بارے میں ﴿ شَرُّ الْبَرِيَّةِ ﴾ بھی فرمایا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جو مخلوق پیدا فرمائی یہ ان میں سب سے بدترین مخلوق ہیں۔
انسانوں میں بہت بڑی تعداد میں وہ لوگ بھی گزرے ہیں اور اب بھی ہیں جو نہ اہل کتاب ہیں اور نہ مشرک ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ذات رسول کریم ﷺ وآیات قرآن شرچشمہ علوم وبرہان ہدایت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لم یکن الذین کفروا ....... الی .......... ذلک لمن خشی ربہ “۔
(ربط) گزشتہ سورت القدر میں شب قدر کی عظمت وفضیلت کا ذکر تھا، اس مناسبت سے اب اس سورت میں قبولیت عبادت کی اساس بیان کی جارہی ہے کہ وہ بندہ کا اخلاص اور قلب کی طہارت ہے اور اسی کو نام حنیفیت ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا شعار تھا، نیز یہ کہ سورة قدر میں لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کی گئی تھی تو اب اس سورت میں سعادت وشقاوت کے اصول بیان کئے گئے تاکہ ایمان وکفر اور ہدایت وگمراہی میں کسی کو التباس نہ رہے، تو ارشاد فرمایا۔
نہیں تھے باز آنے والے وہ لوگ جو کافر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5:۔ ” ان الذی کفروا “ تخویف اخروی۔ یہود و نصاریٰ اور مشرکین جنہوں نے رسول کا، قرآن کا اور دین کا انکار کیا وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ لوگ خدا کی ساری مخلوق میں سب سے بد تر ہیں۔ ” ان الذین امنوا “ بشارت اخرویہ۔ لیکن جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک کام کیے وہ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق میں سب سے بہتر ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مومن کامل کا مرتبہ عرش عظیم اور کعبہ شریفہ سے بھی اونچا ہے کیونکہ یہ بھی مخلوق ہیں اور مؤمن کامل خدا کی ساری مخلوق سے افضل و اعلی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
گزشتہ سے پیوستہ
اس سورة مبارکہ کے ابتدائی حصے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بینہ کے لقب سے ملقب حضور خاتم النبین ﷺ کی بعثت سے پہلے اہل کتاب اور مشرکوں کی حالت بہت خراب ہوچکی تھی۔ وہ اپنے فاسد عقائد اور باطل مذاہب سے باز آنے والے نہیں تھے۔ یہاں تک کہ ان کے پاس بینہ یعنی اللہ کا وہ عظیم الشان رسول آجائے جو پاک صحیفوں کی تلاوت کرتا ہے قرآن کریم کی ہر سورة ایک مقدس صحیفہ ہے۔ جس میں مضبوط اصول لکھے ہوئے ہیں مگر جب وہ بینہ آ گیا اور خدا تعالیٰ کی حجت تمام ہوگئی تو اہل کتاب تفرقہ میں پڑگئے۔ روح المعانی والے مفسر فرماتے ہیں کہ تفرقے کا مطلب یہ ہے ۔ بہت تھوڑے لوگ ایمان لائے ، جب کہ ان کی اکثریت باطل…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْكِتٰبِ وَالْمُشْرِكِيْنَ فِيْ نَارِ جَہَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْہَا 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ ہُمْ شَرُّ الْبَرِيَّۃِ 6 ۭ
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ترکیب ¦ الذین موصول کفر واصل تھا من اھل کتاب والمشرکین بیان الکفر وا اسم ان فی نار جہنم خبرھا ای یصیرون الیھا بعد الموت خالدین فیھا حال من المستکن فی الجز۔ اولئک مبتدا ھم شرالبریۃ الجملۃ خبر قرء الجمھور فی الموضعین البریۃ بغیر ھمزۃ و قرئ بالھمزۃ وقیل الاصل بالھمزۃ لانہ یقال برء اللہ الخلق بالھمز ای ابتدعہ واخترعہ ومنہ قولہ من قبل ان نبراھا ولکنھا خففت عند عامۃ العرب والبریۃ ن الخلیفۃ والباری الخالق الذین آمنوا الخ اسم ان ھم خیر البریۃ خبر ھاجزا ھم مبتداء عند ربہم صفۃ جنات عدن خبر یقال عدن بالمکان یعدن عدنا ای اقام ومعدن الشیء مرکزہ و مستقرہ تجری الخ الجملۃ صفۃ جنات خالدین حال العامل محذوف ای…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْـکِتٰبِ وَالْمُشْرِکِیْنَ فِیْ نَارِجَھَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط اُوْلٰٓئِکَ ھُمْ شَرُّالْبَرِیَّۃ۔ (البینۃ : 6)
(بیشک اہل کتاب اور مشرکین میں سے جنھوں نے کفر کیا وہ دوزخ کی آگ میں پڑیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے، یہی لوگ بدترینِ خلائق ہیں۔ )
آنحضرت ﷺ کی مخالفت کا نتیجہ
آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری کے بعد جو لوگ آپ کی اور قرآن کریم کی تکذیب پر اڑے رہے اور برابر آپ کی مخالفت کرتے رہے چاہے وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکین میں سے، یہ دونوں نام بطور عَلَم کے استعمال ہوئے ہیں، یعنی ان کا تعلق چاہے اہل کتاب سے ہو یا مشرکین سے وہ آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : کفار اور مشرکین کا انجام۔
اس سورت کی پہلی آیت میں جس طرح اہل کتاب اور مشرکین کو بیک وقت مخاطب کیا گیا اسی طرح اس آیت میں اہل کتاب اور مشرکین کا انجام بھی ایک بتلایا ہے۔ فرمان یہ ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین میں سے جنہوں نے کفر کیا وہ جہنم میں داخل کیے جائیں گے۔ اہل کتاب اور مشرکین میں دو قسم کے لوگ کفار میں شامل ہوں گے ایک وہ گروہ جو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں کفر و شرک پر قائم رہا۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو نبی آخرالزمان ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے ہیں یہ جہنم میں داخل کیے جائیں گے۔ کردار اور انجام کے لحاظ سے یہ لوگ ایک جیسے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں…
Read the full tafseer →6 : اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ وَالْمُشْرِکِیْنَ فِیْ نَارِ جَھَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا اُولٰٓپکَ ھُمْ شَرُّالْبَرِیَّۃِ (بیشک جو لوگ اہل کتاب اور مشرکین میں سے کافر ہوئے وہ آتش دوزخ میں جائینگے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ لوگ بدترین خلائق ہیں)
Read the full tafseer →6 ۔” پھر ذکر کیا جو دونوں فریقوں کو ملے گا تو فرمایا : ” ان الذین کفروا من اھل الکتاب والمشرکین فی نار جھنم خالدین فیھا اولئک ھم شر البریۃ “ نافع اور ابن عمر نے ” البریئۃ “ ہمزہ کے ساتھ دوحرفوں میں پڑھا ہے۔ اس لئے کہ یہ ان کے قول ” برا اللہ الخلق “ سے ماخوذ ہے اور دیگر حضرات نے شد کے ساتھ بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے جیسے ” ذریۃ “ اس کا ہمزہ استعمال میں چھوڑ دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ 8۔ شروع سورة سے حتیٰ تاتھیم البینۃ تک کی آیت کا مطلب اس طرح کا مشکل ہے کہ جس کے بیان کرنے میں اکثر مفسروں نے غلطی کی ہے لیکن صحیح قول یہ ہے کہ بینہ 1 ؎ سے مراد نبی آخر الزمان ہیں۔ اور یہ آیت ان لوگوں کی شان میں ہے جو اہل مکہ اور اہل کتاب میں سے راہ راست پر آگئے اور اسلام لے آئے اور حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ اگر قرآن جیسی کتاب نازل نہ ہوتی اور نبی آخر الزمان جیسے رسول نہ آتے تو اہل مکہ اور اہل کتاب سب کے سب اسی کفر کی حالت پر رہتے اور کوئی ان میں سے راہ راست پر نہ آتا۔ پھر فرمایا کہ یہ اہل کتاب جو متفرق ہو رہے ہیں کہ کوئی ان میں سے اسلام لے آیا اور کوئی بدستور حالت کفر پر اڑا ہوا ہے اس کا…
Read the full tafseer →پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ کافروں کے پاس واضح دلیل آجانے کے بعد ان کی جزا کیا ہوگی چناچہ فرمایا (اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَالْمُشْرِكِيْنَ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ ) بیشک وہ لوگ جنہوں نے اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا، جہنم کی آگ میں ہوں گے اس کا عذاب ان کا احاطہ کرلے گا۔ اور اس کی عقوبت ان پر بہت شدت اختیار کرلے گی۔ (خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭ ) یہ عذاب ان سے کبھی منقطع نہیں ہوگا اور وہ جہنم کے اندر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس رہیں گے (اُولٰۗىِٕكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ ) ی لوگ مخلوق میں سے بدتر ہیں کیونکہ انہوں نے حق کو پہچان کر اس کو ترک کردیا اور یوں دنیا وآخرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
عبادت میں اخلاص ضروری ہے
قول باری ہے (وما امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین حنفاء اور ان کو اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں اپنے دین کو اس کے لئے خالص کرکے ، بالکل یکسوہوکر) اس میں اللہ کے لئے عبادت کو خالص کرنے کا حکم ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ عبادت میں اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کیا جائے کیونکہ اخلاص اشراک کی ضد ہے۔
نیت کے ساتھ اخلاص کا تعلق نہیں ہے نہ تو عبادت کی وجود کی صورت میں اور نہ ہی اس کے عدم کی صورت میں اس لئے اس سے نیت کے وجوب پر استدلال کرنا درست نہیں ہوگا کیونکہ ایک شخص جب ایمان کا اعتقاد کرلے گا تو اسے عبادت میں اخلاص اور اشراک کی نفی حاصل…
Read the full tafseer →8 ۔ کفر و شرک کا نتیجہ و انجام قطعی طور پر دوزخ، والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا اور " ان " کے حڑف تاکید کے ساتھ واضح فرما دیا گیا کہ کافروں اور مشرکوں کا دائمی ٹھکانہ دوزخ ہے جس میں ان کو ہمیشہ عیش کے لیے رہنا ہوگا، والعیاذ باللہ جل وعلا۔ اور یہ سب کچھ ان کے اپنے اختیار کردہ کفر و انکار کے اس جرم عظیم کی پاداش میں ہوگا جو کہ منبع ومصدر ہے ہر شر و فساد کا، والعیاذ باللہ۔ سو اس سے ان لوگوں کا انجام واضح فرما دیا گیا جو قرآن کی تکذیب پر اڑے ہوئے ہوں خواہ وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا دوسرے کھلے مشرکوں سے والعیاذ باللہ، کہ تکذیب حق کا جرم بہت بڑا اور سب سے سنگین جرم ہے، جس کی سزا دوزخ کا عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
اہل کتاب کی مخالفت اور رسول ﷺ کی ضرورت
تشریح : ایک ہی پیغام ہے جو ہمیشہ تمام پیغمبر دیتے رہے ہیں۔ کہ اللہ ایک ہے اسی کی عبادت کرو جس کا بہترین طریقہ ہے نماز۔ کیونکہ اس سے طہارت ملتی ہے۔ دل کو سکون ملتا ہے وقت کی پابندی کی عادت پڑتی ہے۔ سستی اور کاہلی دور ہوتی ہے۔ اللہ سے ملاقات کا اور دعا کا موقعہ ملتا ہے انسان کے اندر اللہ کا خوف پیدا ہوتا ہے۔ اس کی محبت اور فرمانبرداری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ دنیا سے بےنیازی ' خودداری اور کردار میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔
شرط یہ ہے کہ نماز پورے خلوص ' توجہ اور خشوع و خضوع کے ساتھ صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے اور اللہ کے غضب سے ڈرتے ہوئے پڑھی جائے۔
اسی طرح زکوۃٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة البینہ۔
آیات 1 تا 8
اسرار ومعارف۔
دنیا میں کافر ، اہل کتاب اور مشرک سب ہی بہت زیادہ گمراہی میں مبتلا تھے ہر سمت کفر وشرک کے ساتھ جوروستم چھایا ہوا تھا دنیا کا حال اس قدر برا تھا کہ تاریخ انسانی میں کبھی اس سے پہلے ایسا نہ ہوا تھا اور نہ آئندہ کبھی اتنی گمراہی اکٹھی ہوگی کہ اس کو دور کرنے کے لیے ایسی روشنی اور اتنی طاقتور ہدایت کی ضرورت تھی کہ جس طرح ظلم وجور بےمثال تھا اسی طرح رسول اللہ بھی لاثانی ہو اور جتنی گہری ظلمت تھی اتنی اور اس سے زیادہ طاقتور نورانیت ہو تب اللہ نے آپ کو ایسے رسول کی شان سے مبعوث فرمایا جس نے سارے عالم کو ہمیشہ کے لیے منور کردیا اور اللہ کی طرف سے اللہ کی کتاب اور…
Read the full tafseer →ف 9 کیونکہ وہ جان بوجھ کر حق بات کو چھپا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →(98:6) ان الذین کفروا من اہل الکتب والمشرکین فی نار جھنم : ان حرف مشبہ بالفعل۔ الذین کفروا۔ موصولہ وصلہ۔ من بیانیہ، اہل الکتب والمشرکین بیان ہے کفروا کا۔ الذین کفروا من اہل الکتب والمشرکین۔ اسم ان۔ فی نار جہنم۔ سارا جملہ خبر ہے ان کی۔ نار جھنم مضاف مضاف الیہ۔
خالدین فیہا۔ یہ جہنم میں جانے والے کافر اہل کتاب و کافر مشرکین۔ سے حال ہے۔ یعنی جن اہل کتاب اور مشرکین نے کفر کیا۔ وہ جہنم کی آگ میں ہوں گے (اور) اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ فیہا میں ضمیر ھا واحد مؤنث غائب کا مرجع نار جہنم ہے۔
اولئک ہم شر البریۃ : اولئک اسم اشارہ بعید ہے جمع مذکر۔ مبتدائ۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب تاکید کے لئے لائی گئی ہے۔
شر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن۔
لم یکن۔ نہیں ہے۔ منفکین۔ باز آنے والے۔ البینۃ۔ صاف اور کھلی باتیں۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ صاف ستھرا۔ کتب قیمۃ۔ لکھی ہوئی مضبوط کتابیں۔ ما تفرق۔ الگ الگ نہ ہوئے۔ امروا۔ حکم دیا گی ا ہے۔ مخلصین۔ خالص کرنے والے۔ حنفائ۔ سب سے منہ موڑنے والے ( ایک اللہ کے ہوجانے والے) ۔ شر البریۃ۔ بدترین مخلوق۔ خیر البریۃ۔ بہترین مخلوق۔ ؓ اللہ خوش ہوگیا۔ خشی۔ جو ڈرا۔
تشریح : قرآن کریم میں اہل کتاب ان لوگوں کو کہا گیا ہے جن کے پاس گذشتہ رسول کوئی کتاب لے کر آئے۔ بعد میں آنے والوں نے اپنے بعض دنیاوی مقاصد کے لئے ان میں بتدیلیاں کرلیں وہ ان کو اللہ کی کتاب ماننے کے باوجود شرک بھی کرتے تھے۔ اللہ نے ان کو یہود،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
حضور ﷺ کی تشریف آوری کا ذکر۔
(ف 1) اہل کتاب یہود ونصاری اور مشرکین جو بت پرستی یا آتش پرستی وغیرہ میں مبتلا تھے اور کوئی کتاب سماوی ان کے ہاتھ مین نہ تھی اور نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے سب دین والے بگڑ چکے تھے اور سیدنا انبیاء محمد ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے یہ تمام یہی کہتے تھے کہ ہم اپنا دین چھوڑنے والے نہیں ، جب تک کہ وہ نبی موعود تشریف فرما نہ ہوں یعنی سید عالم جلوہ افروز نہ ہوں جن کا ذکر توریت وانجیل میں ہے ، چناچہ وہ رسول یعنی محمد ﷺ حق وعدل کی کتاب یعنی قرآن مجید پڑھتے ہوئے جلوہ افروز ہوئے آگے فرمایا کہ یہ اہل کتاب اب جو متفرق ہورہے ہیں کہ کوئی ان میں سے اسلام لے آیا اور کوئی بدستور حال تکفر پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
[5] اللہ تعالیٰ ان سے اس وجہ سے راضی ہوا کہ انہوں نے بندگی کا حق اس طرح ادا کیا جس طرح ادا کرنا چاہیے تھا اور جو ان کے رب کے معیار پر پورا اترا۔ اور وہ اللہ سے اس وجہ سے راضی کہ ان کے رب نے نہ صرف وہ وعدے پورے کئے جو اس نے ان سے کئے تھے بلکہ ان کو وہ کچھ بخشا جس کا وہ تصور بھی نہ کرسکے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ف 2: یعنی اللہ کے پیغمبر (علیہ السلام) بلا تخصیص مکان اور زمان کے جہاں کہیں اور جب کبھی تشریف لائے ۔ انہوں نے ایک ہی پیغام کی تلقین کی ہے اور ایک ہی نصب العین کی طرف بلایا ہے اور وہ پیغام اور نصب العین یہ ہے ۔ کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے ۔ ا کی خدا سے محبت ہو ۔ ایک خدا کا خوف دلوں میں جاگزین ہو اور ایک خدا ہو ، جس کے لئے عقیدت اور نیاز کے جذبات مختص ہوں ۔ پھر یہ کہ اس کی عبادت میں سرگرمی کا اظہار کیا جائے ۔ اور ان شرائط وآداب کو ملحوظ رکھا جائے جو اقامت صلوٰۃ کے لئے ضروری ہیں اور اللہ کی راہ میں باقاعدہ زکوٰۃ ادا کی جائے اور قوم وملت کی جملہ ضروریات اقتصادی کو اپنے سامنے رکھا جائے ۔
3: اہل…
Read the full tafseer →(6) بے شک اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کفر پر قائم رہے وہ جہنم کی آگ میں جائیں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ لوگ تمام مخلوق کے بدترین ہیں۔ یعنی جہنم میں داخل ہوں گے اور اس جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ لوگ بدترین خلائق ہیں یعنی بہا تم سے بھی زیادہ ذلیل اور بدتر ہیں وہ بھی اپنے محسنوں کو پہچانتے ہیں لیکن یہ اپنے محسن کے ناسپاس ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
ف 2۔ یعنی دین حق سے بھی اختلاف کیا اور باہمی اختلافات جو پہلے سے تھے ان کو بھی دین حق کا اتباع کر کے دور نہ کیا اور مشرکین کو بدرجہ اولی اس لئے کہا کہ ان کے پاس تو پہلے سے بھی کوئی سماوی علم نہ تھا اور قرآن کو صحف اور اس کے مضامین کو کتب فرمانا باعتبار قوة کے ہے، حاصل یہ کہ ایسے رسول اور ایسی کتاب عظیم الشان کا آنا مقتضی تھا اجتماع علی الدین الھق کو مگر ان لوگوں نے سبب اجتماع کو سبب تفرق بنالیا، اور قرینہ مقابلہ سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جن لوگوں نے تفق اور خلاف نہیں کیا وہ اہل ایمان ہیں۔
Read the full tafseer →بلا شبہ کافر کافر ہیں خواہ وہ اہل کتاب سے ہوں یا دوسرے گروہوں سے
6 ؎ کفر اور اسلام دو کرداروں کا نام ہے اور یہ دونوں کردار ایک دوسرے کے خلاف ہیں ۔ ایک کردار وہ ہے جو دوزخیوں کا کردار ہے اور دوسرا وہ کردار ہے جو اہل جنت کا ہے۔ خواہ کسی دور میں ان کا نام کچھ رکھ دیا گیا ہو یعنی کبھی وہ اہل کتاب کہلائیں یا اپنے آپ کو مسلمان کہیں کہنے سے کچھ نہیں ہوتا کردار صرف عقیدہ کا نام نہیں بلکہ عقیدہ اور عمل کے مل جانے سے کردار بنتا ہے۔ اہل کتاب میں سے یہود کا دعویٰ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی لائی ہوئی ہدایت کو ماننے کا نام بتایا جاتا ہے اور دوسرا گروہ اہل کتاب کا نصاریٰ کا ہے جن کا دعویٰ عیسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
Verse [ 8] ` رَّضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُ (Allah is pleased with them, and they are pleased with Him; that is for him who fears his Lord.) This verse points to the highest stage of spiritual development of the inmates of Paradise, that is, the Divine pleasure with no danger of Divine displeasure. This is the greatest reward with which the people of faith will be blessed. The God-fearing people are well-pleased with Him because of the comprehensive favours He has given them. Sayyidna Abu Said Khudri ؓ narrates that the Messenger of Allah ﷺ…
Read the full tafseer →8 "Disbelieved": refused to acknowledge the Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace) as Allah's Messenger. The meaning is that the end of those from among the mushriks and the followers of the Book, who have not acknowledged the Messenger whose emergence by itself is a clear evidence, and who is reciting to them hallowed pages containing sound and correct teachings, will be as is being described below.
9 That is, they are worse than all creatures of God, even than animals, for the animals do not possess reason and power, but these people reject the Truth in spite of having reason and…
Read the full tafseer →