Explained with ayahs 6–8
ساری مخلوق سے بہتر اور بدتر کون ہے ؟
اللہ تعالیٰ کافروں کا انجام بیان فرماتا ہے وہ کافر خواہ یہود و نصاریٰ ہوں یا مشرکین عرب و عجم ہوں جو بھی انبیاء اللہ کے مخالف ہوں اور کتاب اللہ کے جھٹلانے والے ہوں وہ قیامت کے دن جہنم کی آگ میں ڈال دئیے جائیں گے اور اسی میں پڑے رہیں گے نہ وہاں سے نکلیں گے نہ رہا ہوں گے یہ لوگ تمام مخلوق سے بدتر اور کمتر ہیں پھر اپنے نیک بندوں کے انجام کی خبر دیتا ہے جن کے دلوں میں ایمان ہے اور جو اپنے جسموں سے سنت کی بجا آوری میں ہر وقت مصروف رہتے ہیں کہ یہ ساری مخلوق سے بہتر اور بزرگ ہیں اس آیت سے حضرت ابوہریرہ ؓ اور علماء کرام کی ایک جماعت نے استدلال کیا ہے کہ ایمان والے…
Read the full tafseer →سورة البینہ 10
یعنی وہ خدا کی مخلوقات میں سب سے حتی کہ ملائکہ سے بھی افضل و اشرف ہیں۔ کیونکہ فرشتے نافرمانی کا اختیار ہی نہیں رکھتے اور یہ اس کا اختیار رکھنے کے باوجود فرمانبرداری اختیار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
رضی اللہ عنھم ورضواعنہ، ذلک لمن خشی ربہ، اس آیت میں اہل جنت کی سب سے بڑی نعمت کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اب ناراضی کا کوئی خطرہ نہیں۔ حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے خطاب کے لئے فرمائیں گے۔ یا اہل الجنہ، تو اہل جنت جواب دیں گے۔ لبیک ربنا وسعدیک والخیر کلہ فی یدیک یعنی اے ہمارے رب ہم حاضر ہیں اور اطاعت حکم کے لے تیار ہیں اور ہر بھلائی آپ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ پھر حق تعالیٰ فرمائیں گے ھل رضیتم یعنی تم لوگ راضی اور خوش ہو وہ جواب دیں گے، اے ہمارے پروردگار، اب بھی راضی نہ ہونے کا کیا احتمال ہے جبکہ آپ نے ہمیں وہ سب کچھ عطا فرما دیا جو کسی…
Read the full tafseer →ان بندوں کا بیان جو استکبار سے پاک رہے: یہ اللہ کے ان بندوں کا بیان ہے جو کبر و غرور کی آلائش سے پاک رہے اس وجہ سے ان کے اندر حق کا احترام باقی رہا۔ انھوں نے جب رسول کی دعوت سنی تو اس طرح کا کوئی مطالبہ نہیں کیا جس طرح کا مطالبہ مغروروں نے کیا بلکہ وہ اللہ کی کتاب پر ایمان لائے اور عمل صالح کی راہ پر چل پڑے۔ فرمایا کہ یہی لوگ ہیں جو بہترین خلائق ہیں۔ اس لیے کہ انسان کی قدر و قیمت مال و اسباب سے اور خاندان سے نہیں بلکہ اس کے عقل و اخلاقی اوصاف سے ہے۔ جن کے اندر یہ اوصاف موجود ہیں اللہ کے نزدیک وہی اشراف و سادات ہیں اگرچہ وہ روم یا حبش کے غلام ہوں اور جو ان اوصاف سے محروم ہیں وہ اللہ کے نزدیک…
Read the full tafseer →7۔ 1 یعنی جو دل کے ساتھ ایمان لائے اور جنہوں نے اعضا کے ساتھ عمل کئے، وہ تمام مخلوقات سے بہتر اور افضل ہیں۔ جو اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ مومن بندے ملائکہ سے شرف فضل میں بہترین ہیں۔ ان کی ایک دلیل یہ آیت بھی ہے۔ البریۃ، یرأ (خلق) سے ہے۔ اسی سے اللہ کی صفت الباری ہے۔ اس لیے بریّہ اصل میں بریئۃ ہے، ہمزہ کو یا سے بدل کر یا کا یا میں ادغام کردیا گیا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
2: یہ ان اہل کتاب کی بات ہورہی ہے جو آنحضرت ﷺ کی نبوت کے روشن دلائل دیکھنے کے بعد بھی آپ پر ایمان نہیں لائے، مطلب یہ ہے کہ آپ کی تشریف آوری کو ایک نعمت سمجھنے کے بجائے ان لوگوں نے ضد کی وجہ سے آپ کی بات نہیں مانی اور الگ الگ راستہ اختیار کرلیا، حالانکہ ان کے پاس روشن دلیل آچکی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
حضرت محمد ﷺ آخری رسول ہیں اور جو دین لے کر آئے ہیں وہ آخری دین ہے اس سے قبل یوں تھا کہ جب بھی انسانیت گمراہ ہوتی اور راستے سے ہٹ جاتی اللہ رسول بھیج دیتا ، یہ سلسلہ مسلسل جاری رہا اور لوگوں کو وقفے وقفے سے مہلت ملتی رہی کہ لوگ اپنی اصلاح کرلیں لیکن اللہ کی مشیت کا تقضا یہ ہوا کہ ایک جامع ، مانع اور مکمل دین بھیج کر رسولوں کے اس سلسلے کو ختم کردے۔ یہ آخری مہلت ہے ۔ لوگ اس آخری دین کو قبول کرکے نجات پالیں گے یا انکار کرکے ہلاک وبرباد ہوجائیں گے۔ اس لئے کہ کفر اور شرک شر کے قائم مقام اور شر کی علامت بن جاتی ہے اور شر کی کوئی حد نہیں ہوتی اور ایمان خیر کا قائم مقام ہوجاتا ہے۔ اور ایمان کے نتیجے…
Read the full tafseer →1 یعنی جو لوگ سب رسولوں اور کتابوں پر یقین لائے اور بھلے کاموں میں لگے رہے وہی بہترین، خلائق ہیں حتی کہ ان میں سے بعض افراد بعض فرشتوں سے آگے نکل جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 7{ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لا } ”اس کے برعکس وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے“
{ اُولٰٓئِکَ ہُمْ خَیْرُالْبَرِیَّۃِ۔ } ”یہی بہترین خلائق ہیں۔“
اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان لوگوں میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین !
Read the full tafseer →9 بریۃ کا لغوی مفہوم :۔ بریۃ : برء سے مشتق ہے یعنی کسی چیز کو عدم سے وجود میں لانا، لہذا ہر وہ چیز جو وجود رکھتی ہے۔ بریہ میں شامل ہے۔ یعنی پوری مخلوق۔ ساری کائنات، زمین و آسمان اور دیگر سیارے سب اس میں شامل ہیں۔ ان دو آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ کافر تمام مخلوق سے بدتر مخلوق ہیں کیونکہ انہوں نے عقل وتمیز ہونے کے باوجود اپنے خالق ومالک کے حق کو نہیں پہچانا۔ اور مومن جو نیک اعمال بجالاتے رہے تمام مخلوق سے بہتر ہیں۔ حتیٰ کہ فرشتوں سے بھی بہتر ہیں۔ اس لیے کہ فرشتوں کو خیر وشر کا اختیار ہی نہیں دیا گیا۔ ان کی اطاعت الٰہی اضطراری ہے اختیاری نہیں۔ جبکہ مومنوں کی اطاعت اختیاری ہوتی ہے۔ علماء کہتے…
Read the full tafseer →5۔ یعنی جو لوگ قانون الہی کے تصدیق کرنے والے اور وفادار ہیں وہ دوسری حیثیتوں سے جیسے کچھ بھی ہوں، اللہ کی عدالت میں ” خیریت “ میں کامل ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
وما تفرق الذین اوتوا الکتب الخ یہاں تفرق سے مراد انکار و اختلاف ہے، نزول قرآن اور آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے تمام اہل کتاب خواہ یہود ہوں یا نصاریٰ اس بات پر متفق تھے کہ نبی آخر الزمان کا ابھی آنا باقی ہے، کیوں کہ ان کی آسمانی کتابوں میں آپ ﷺ کی بعثت کی اطلاع دی گئی تھی اور آپ ﷺ کی مخصوص صفات کو واضح طور پر بیان کیا گیا تھا اور اہل کتاب آپ ﷺ کی آمد کے شدت سے منتظر تھے اور جب کبھی اہل کتاب اور مشرکین کے درمیان نزاع ہوتا اور مشرک اپنی عددی طاقت میں زیادہ ہونے کی وجہ سے یہود پر غالب آجاتے تو یہود آنحضرت ﷺ کے واسطے سے مشرکین پر فتح مندی کی دعاء کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اے اللہ ! تو آنے والے…
Read the full tafseer →ان الذین امنوا وعملوا الصلحت اولئک ھم خیر البریہ . ایمان دار نیکو کار سب مخلوق سے یعنی بےگناہ فرشتوں سے بھی بہتر ہیں ‘ اسی جگہ سے علماء نے کہا ہے کہ خاص درجات والے انسان خاص درجات والے ملائکہ سے افضل ہیں اور عام انسان یعنی صاف دل اور پاک نفس رکھنے والے ایماندار ‘ نیکو کار ‘ عام ملائکہ سے افضل ہیں ‘ رہے غیر صالح (گناہگار) مؤمن تو جب مغفرت سے یا گناہوں کی سزا دے کے گناہوں سے پاک کردیا جائے گا تو عمل صالح رکھنے والے مؤمنوں کے ساتھ ان کو ملا دیا جائے گا اور وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے (اور گناہوں سے پاک ہونے کے بعد وہ ملائکہ سے افضل ہوجائیں گے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(7۔ 8) ایمان لانے والے اور نیک اعمال کرنے والے حضرات جیسا کہ حضرت عبداللہ بن سلام اور حضرت ابوبکر صدیق یہ لوگ بہترین مخلوق ہیں ان کا ثواب ان کے پروردگار کے نزدیک انبیاء کرام اور مقربین کے رہنے کی بہشت میں ہے جن کے نیچے بہتی ہوں گی جہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کے ایمان و اعمال سے خوش رہے گے اور یہ اللہ کے عطا کردہ ثواب اور فضل سے خوش رہیں گے یہ جنت اور خوشنودیا اس کے لیے ہیں جو اپنے پروردگار کی وحدانیت کا قائل ہو جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور دوسرے صحابہ کرام۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(ان الذین امنوا و عملوا اصلحت…:ْو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں اور تمام کاتبوں پر ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے ان کے لئے تین بڑی بڑی بشارتیں ہیں، پہلی یہ کہ وہ مخلوق میں سب سے بہتر ہیں، کیونکہ اپنے اختیار سے گناہ چھوڑ کر ایمان اور عمل صالح کرنے والوں کا درجہ یقیناً ان لوگوں سے بلند ہے جن میں نافرمانی کی استعداد ہی نہیں، دوسری یہ کہ ان کے لئے ہمیشہ رہنے کے لئے باغات ہیں، جن کے تلے نہریں بہتی ہیں اور تیسری یہ کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوگی جو آخرت کی نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت ہے، فرمایا :(ورضوان من اللہ اکبر) (التوبۃ : 82)”اور اللہ کی رضا مندی سب سے بڑی چیز ہے۔“”اور وہ اللہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ان الذین کفروا۔۔۔ تا۔۔۔ البریہ۔
المشرکین کا عطف الذین، اسم موصول پر ہے یا یہ مجرور ہے اور اس کا عطف اھل پر ہے۔ نافع اور ابن ذکوان نے دونوں مواقع پر البریہ کو ہمزہ کے ساتھ اپنے اصل پر پڑھا ہے۔ یہ عربوں کے اس قول سے ہے، براء اللہ الخلق۔ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اللہ تعالیٰ کے لیے باری کا لفظ استعمال ہوتا ہے جس کا معنی خالق ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے، من قبل ان نبراھا، الحدید 22) اسے پیدا کرنے سے قبل جب کہ باقی نے ہمزہ کے بغیر اور یاء کو مشدد پڑھا ہے یہ یاء ہمزہ کے عوض میں ہے فراء نے کہا، اگر بدیہ کالفط برسی سے مشتق ہو جس کا معنی مٹی ہے تو اس کی اصل ہمزہ کے بغیر ہوگی، تو کہے گا، براہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة لم یکن مدینہ میں نازل ہوئی
2۔ ابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ سورة لم یکن مکہ میں نازل ہوئی۔
3۔ ابو نعیم نے المعرفہ میں اسماعیل بن ابی حکیم المزنی ؓ جو بنو فضیل میں سے ایک تھے سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بیشک اللہ تعالیٰ لم یکن کی قراءت کو سنتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میرے بندے کو بشارت دے دو پس میری عزت اور میرے جلال کی قسم ! میں تجھے اتنا اختیار دوں گا جنت میں یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے گا۔
4۔ ابوموسی المدینی نے المعرفہ میں اسماعیل بن ابی حکیم سے روایت کیا اور انہوں نے مطر المزنی یا المدنی (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →[ان الَّذِينَ اٰمَنُوْا : بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے ][وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ: اور انھوں نے عمل کیے نیکیوں کے ][ اُولٰۗىِٕكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ : وہ لوگ ہی تمام مخلوق کے بہترین ہیں ]
Read the full tafseer →پھر اہل ایمان اور اعمال صالحہ والے بندوں کے لیے فرمایا ﴿ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ 1ۙ اُولٰٓىِٕكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِؕ007﴾ (بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کی یہ لوگ خیر البریہ ہیں یعنی مخلوق میں سب سے بہتر ہیں) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ذات رسول کریم ﷺ وآیات قرآن شرچشمہ علوم وبرہان ہدایت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لم یکن الذین کفروا ....... الی .......... ذلک لمن خشی ربہ “۔
(ربط) گزشتہ سورت القدر میں شب قدر کی عظمت وفضیلت کا ذکر تھا، اس مناسبت سے اب اس سورت میں قبولیت عبادت کی اساس بیان کی جارہی ہے کہ وہ بندہ کا اخلاص اور قلب کی طہارت ہے اور اسی کو نام حنیفیت ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا شعار تھا، نیز یہ کہ سورة قدر میں لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کی گئی تھی تو اب اس سورت میں سعادت وشقاوت کے اصول بیان کئے گئے تاکہ ایمان وکفر اور ہدایت وگمراہی میں کسی کو التباس نہ رہے، تو ارشاد فرمایا۔
نہیں تھے باز آنے والے وہ لوگ جو کافر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5:۔ ” ان الذی کفروا “ تخویف اخروی۔ یہود و نصاریٰ اور مشرکین جنہوں نے رسول کا، قرآن کا اور دین کا انکار کیا وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ لوگ خدا کی ساری مخلوق میں سب سے بد تر ہیں۔ ” ان الذین امنوا “ بشارت اخرویہ۔ لیکن جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک کام کیے وہ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق میں سب سے بہتر ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مومن کامل کا مرتبہ عرش عظیم اور کعبہ شریفہ سے بھی اونچا ہے کیونکہ یہ بھی مخلوق ہیں اور مؤمن کامل خدا کی ساری مخلوق سے افضل و اعلی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
گزشتہ سے پیوستہ
اس سورة مبارکہ کے ابتدائی حصے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بینہ کے لقب سے ملقب حضور خاتم النبین ﷺ کی بعثت سے پہلے اہل کتاب اور مشرکوں کی حالت بہت خراب ہوچکی تھی۔ وہ اپنے فاسد عقائد اور باطل مذاہب سے باز آنے والے نہیں تھے۔ یہاں تک کہ ان کے پاس بینہ یعنی اللہ کا وہ عظیم الشان رسول آجائے جو پاک صحیفوں کی تلاوت کرتا ہے قرآن کریم کی ہر سورة ایک مقدس صحیفہ ہے۔ جس میں مضبوط اصول لکھے ہوئے ہیں مگر جب وہ بینہ آ گیا اور خدا تعالیٰ کی حجت تمام ہوگئی تو اہل کتاب تفرقہ میں پڑگئے۔ روح المعانی والے مفسر فرماتے ہیں کہ تفرقے کا مطلب یہ ہے ۔ بہت تھوڑے لوگ ایمان لائے ، جب کہ ان کی اکثریت باطل…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ 0 ۙ اُولٰۗىِٕكَ ہُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّۃِ 7 ۭ
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ترکیب ¦ الذین موصول کفر واصل تھا من اھل کتاب والمشرکین بیان الکفر وا اسم ان فی نار جہنم خبرھا ای یصیرون الیھا بعد الموت خالدین فیھا حال من المستکن فی الجز۔ اولئک مبتدا ھم شرالبریۃ الجملۃ خبر قرء الجمھور فی الموضعین البریۃ بغیر ھمزۃ و قرئ بالھمزۃ وقیل الاصل بالھمزۃ لانہ یقال برء اللہ الخلق بالھمز ای ابتدعہ واخترعہ ومنہ قولہ من قبل ان نبراھا ولکنھا خففت عند عامۃ العرب والبریۃ ن الخلیفۃ والباری الخالق الذین آمنوا الخ اسم ان ھم خیر البریۃ خبر ھاجزا ھم مبتداء عند ربہم صفۃ جنات عدن خبر یقال عدن بالمکان یعدن عدنا ای اقام ومعدن الشیء مرکزہ و مستقرہ تجری الخ الجملۃ صفۃ جنات خالدین حال العامل محذوف ای…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لا اُوْلٰٓئِکَ ھُمْ خَیْرُالْبَرِیَّۃِ ۔ (البینۃ : 7)
(بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے وہ ساری مخلوق سے بہتر ہیں۔ )
ایمان لانے والوں کا اعزاز
یوں تو ایمان اور عمل صالح، یہی ایک انسان کا حقیقی سرمایہ ہے، اسی سے اسے عرفانِ ذات کی دولت ملتی ہے اور اسی سے اسے اللہ تعالیٰ کا معرفت نصیب ہوتی ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جو اس کی زندگی میں خوش اطواری پیدا کرتی اور ایک مومن کی زندگی کے طوراطوار ابھارتی ہے۔ اس سے پہلے کی آیت میں ان لوگوں کا تذکرہ ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور ان تمام حقائق کو ماننے سے انکار کرتے ہیں جو نبی کریم ﷺ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین اور کفار کے مقابلے میں صالح کردار ایمان والوں کا مقام اور انعام۔
دین اسلام کے اوصاف حمیدہ میں جو اوصاف سب سے نمایاں اور مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں پہلا وصف یہ ہے کہ دین اسلام کسی مخصوص قوم اور علاقے کے لوگوں کو دعوت نہیں دیتا، اس کی دعوت رنگ و نسل، جغرافیائی حدود اور زمانے کی قیود سے بالاتر ہے۔ اس لیے قرآن مجید کھلے الفاظ میں دعوت دیتا ہے کہ جو لوگ بھی اللہ اور نبی آخرالزمان ﷺ پر ایمان لائیں اور صالح اعمال اختیار کریں وہ مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔ دوسرے مقام پر اس بات کی یوں وضاحت کی گئی ہے۔
” بیشک مسلمانوں، یہودیوں، عیسائیوں اور بےدین لوگوں میں سے جو بھی اللہ…
Read the full tafseer →7 : اِنَّ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓپکَ ھُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّۃِ (بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے وہ لوگ بہترین خلائق ہیں)
قراءت : البرئۃ نافع نے دونوں میں ہمزہ پڑھا۔ اور قرائے دیگر تخفیف کے قائل ہیں۔
قاعدہ :
النبی اور البریہ کے الفاظ ہمیشہ سے تخفیف سے استعمال ہوئے ہیں اور اصل کو چھوڑا گیا ہے۔
Read the full tafseer →7 ۔” ان الذین امنوا وعملوا الصالحات اولئک ھم خیر البریۃ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1۔ 8۔ شروع سورة سے حتیٰ تاتھیم البینۃ تک کی آیت کا مطلب اس طرح کا مشکل ہے کہ جس کے بیان کرنے میں اکثر مفسروں نے غلطی کی ہے لیکن صحیح قول یہ ہے کہ بینہ 1 ؎ سے مراد نبی آخر الزمان ہیں۔ اور یہ آیت ان لوگوں کی شان میں ہے جو اہل مکہ اور اہل کتاب میں سے راہ راست پر آگئے اور اسلام لے آئے اور حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ اگر قرآن جیسی کتاب نازل نہ ہوتی اور نبی آخر الزمان جیسے رسول نہ آتے تو اہل مکہ اور اہل کتاب سب کے سب اسی کفر کی حالت پر رہتے اور کوئی ان میں سے راہ راست پر نہ آتا۔ پھر فرمایا کہ یہ اہل کتاب جو متفرق ہو رہے ہیں کہ کوئی ان میں سے اسلام لے آیا اور کوئی بدستور حالت کفر پر اڑا ہوا ہے اس کا…
Read the full tafseer →(اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ اُولٰۗىِٕكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ ) بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے وہ مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔ کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور اس کی معرفت حاصل کی اور وہ دنیا وآخرت کی نعمتوں سے فوز یاب ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
عبادت میں اخلاص ضروری ہے
قول باری ہے (وما امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین حنفاء اور ان کو اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں اپنے دین کو اس کے لئے خالص کرکے ، بالکل یکسوہوکر) اس میں اللہ کے لئے عبادت کو خالص کرنے کا حکم ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ عبادت میں اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کیا جائے کیونکہ اخلاص اشراک کی ضد ہے۔
نیت کے ساتھ اخلاص کا تعلق نہیں ہے نہ تو عبادت کی وجود کی صورت میں اور نہ ہی اس کے عدم کی صورت میں اس لئے اس سے نیت کے وجوب پر استدلال کرنا درست نہیں ہوگا کیونکہ ایک شخص جب ایمان کا اعتقاد کرلے گا تو اسے عبادت میں اخلاص اور اشراک کی نفی حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
12 ۔ اہل ایمان کے لیے خلود جنت کی بشارتیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسوں کی جزا ان کے رب کے یہاں وہ عظیم الشان جنتیں ہوں گی جن کے نیچے طرح طرح کی عظیم الشان نہریں بہہ رہی ہوں گی جہاں ان خوش نصیبوں کو ہمیشہ ہمیش رہنا نصیب ہوگا کہ نہ وہاں کی یہ نعمتیں کبھی ختم ہوں گی کہ ان کی شان یہ ہوگی " لا مقطوعۃ ولا ممنوعۃ " یعنی نہ وہ کبھی ختم ہوں گی اور نہ ان سے ان کو روکا جائے گا اور نہ ہی ان اہل جنت کو وہاں سے کبھی نکالا جائ گا، ان کے لیے " وما ھم بمخرجین " کا پیشگی وعدہ ہے، اور نہ کبھی ان حضرات کا خود وہاں سے نکلنے کا جی چاہے گا، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا " لا یبغون عنھا حولا " سو یہی ہے اصل اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
اہل کتاب کی مخالفت اور رسول ﷺ کی ضرورت
تشریح : ایک ہی پیغام ہے جو ہمیشہ تمام پیغمبر دیتے رہے ہیں۔ کہ اللہ ایک ہے اسی کی عبادت کرو جس کا بہترین طریقہ ہے نماز۔ کیونکہ اس سے طہارت ملتی ہے۔ دل کو سکون ملتا ہے وقت کی پابندی کی عادت پڑتی ہے۔ سستی اور کاہلی دور ہوتی ہے۔ اللہ سے ملاقات کا اور دعا کا موقعہ ملتا ہے انسان کے اندر اللہ کا خوف پیدا ہوتا ہے۔ اس کی محبت اور فرمانبرداری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ دنیا سے بےنیازی ' خودداری اور کردار میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔
شرط یہ ہے کہ نماز پورے خلوص ' توجہ اور خشوع و خضوع کے ساتھ صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے اور اللہ کے غضب سے ڈرتے ہوئے پڑھی جائے۔
اسی طرح زکوۃٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
سورة البینہ۔
آیات 1 تا 8
اسرار ومعارف۔
دنیا میں کافر ، اہل کتاب اور مشرک سب ہی بہت زیادہ گمراہی میں مبتلا تھے ہر سمت کفر وشرک کے ساتھ جوروستم چھایا ہوا تھا دنیا کا حال اس قدر برا تھا کہ تاریخ انسانی میں کبھی اس سے پہلے ایسا نہ ہوا تھا اور نہ آئندہ کبھی اتنی گمراہی اکٹھی ہوگی کہ اس کو دور کرنے کے لیے ایسی روشنی اور اتنی طاقتور ہدایت کی ضرورت تھی کہ جس طرح ظلم وجور بےمثال تھا اسی طرح رسول اللہ بھی لاثانی ہو اور جتنی گہری ظلمت تھی اتنی اور اس سے زیادہ طاقتور نورانیت ہو تب اللہ نے آپ کو ایسے رسول کی شان سے مبعوث فرمایا جس نے سارے عالم کو ہمیشہ کے لیے منور کردیا اور اللہ کی طرف سے اللہ کی کتاب اور…
Read the full tafseer →(98:7) ان الذین امنوا وعملوا الصلحت اولئک ہم خیر البریۃ : ان حرف مشبہ بالفعل الذین امنوا وعملوا الصلحت اسم ان۔ ہم خیر البریۃ اس کی خبر۔ (نیز ملاحظہ ہو آیت (6) مذکورہ بالا) ۔
ترجمہ ہوگا :۔ اور جو ایمان لائے اور نیک کام کئے وہی سب خلق سے بہتر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
لغات القرآن۔
لم یکن۔ نہیں ہے۔ منفکین۔ باز آنے والے۔ البینۃ۔ صاف اور کھلی باتیں۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ صاف ستھرا۔ کتب قیمۃ۔ لکھی ہوئی مضبوط کتابیں۔ ما تفرق۔ الگ الگ نہ ہوئے۔ امروا۔ حکم دیا گی ا ہے۔ مخلصین۔ خالص کرنے والے۔ حنفائ۔ سب سے منہ موڑنے والے ( ایک اللہ کے ہوجانے والے) ۔ شر البریۃ۔ بدترین مخلوق۔ خیر البریۃ۔ بہترین مخلوق۔ ؓ اللہ خوش ہوگیا۔ خشی۔ جو ڈرا۔
تشریح : قرآن کریم میں اہل کتاب ان لوگوں کو کہا گیا ہے جن کے پاس گذشتہ رسول کوئی کتاب لے کر آئے۔ بعد میں آنے والوں نے اپنے بعض دنیاوی مقاصد کے لئے ان میں بتدیلیاں کرلیں وہ ان کو اللہ کی کتاب ماننے کے باوجود شرک بھی کرتے تھے۔ اللہ نے ان کو یہود،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(ف 1) اللہ تعالیٰ اس مقام پر فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے صرف وہ بہترین مخلوقات ہیں اور ایسے لوگوں کی جزا اللہ کے پاس یہ موجود ہے کہ ان کو ایسے باغ مرحمت ہوں گے کہ جن کی بہار کے لیے کوئی فنا نہیں اور ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ہمارے خاص بندے ان باغات میں ہمیشہ ہمیشہ عیش کریں گے اور اللہ ان سے خوش ہوجائے گا اور وہ اللہ سے خوش ہو ویں گے حقیقت میں دنیا اور آخرت میں اس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں کہ بندہ کو یہ بات حاصل ہوجائے کہ ہر حال میں اللہ سے خوش رہے اور ایسے کام کرتا رہے کہ اللہ بھی اس سے خوش رہے آخر پھر فرمایا کہ جن لوگوں کے دل میں خدا کے روبرو کھڑے ہونے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
[5] اللہ تعالیٰ ان سے اس وجہ سے راضی ہوا کہ انہوں نے بندگی کا حق اس طرح ادا کیا جس طرح ادا کرنا چاہیے تھا اور جو ان کے رب کے معیار پر پورا اترا۔ اور وہ اللہ سے اس وجہ سے راضی کہ ان کے رب نے نہ صرف وہ وعدے پورے کئے جو اس نے ان سے کئے تھے بلکہ ان کو وہ کچھ بخشا جس کا وہ تصور بھی نہ کرسکے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ف 2: یعنی اللہ کے پیغمبر (علیہ السلام) بلا تخصیص مکان اور زمان کے جہاں کہیں اور جب کبھی تشریف لائے ۔ انہوں نے ایک ہی پیغام کی تلقین کی ہے اور ایک ہی نصب العین کی طرف بلایا ہے اور وہ پیغام اور نصب العین یہ ہے ۔ کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے ۔ ا کی خدا سے محبت ہو ۔ ایک خدا کا خوف دلوں میں جاگزین ہو اور ایک خدا ہو ، جس کے لئے عقیدت اور نیاز کے جذبات مختص ہوں ۔ پھر یہ کہ اس کی عبادت میں سرگرمی کا اظہار کیا جائے ۔ اور ان شرائط وآداب کو ملحوظ رکھا جائے جو اقامت صلوٰۃ کے لئے ضروری ہیں اور اللہ کی راہ میں باقاعدہ زکوٰۃ ادا کی جائے اور قوم وملت کی جملہ ضروریات اقتصادی کو اپنے سامنے رکھا جائے ۔
3: اہل…
Read the full tafseer →(7) البتہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند رہے تو یہ لوگ بہترین خلائق یعنی تمام مخلوق سے بہتر ہیں - یعنی جو اس دین پر ایمان لائے اور اعمال صالحہ کی پابندی کرتے رہے وہی لوگ بہترین خلائق ہیں آگے ان کو جزا اور ان کا صلہ بیان کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
ف 2۔ یعنی دین حق سے بھی اختلاف کیا اور باہمی اختلافات جو پہلے سے تھے ان کو بھی دین حق کا اتباع کر کے دور نہ کیا اور مشرکین کو بدرجہ اولی اس لئے کہا کہ ان کے پاس تو پہلے سے بھی کوئی سماوی علم نہ تھا اور قرآن کو صحف اور اس کے مضامین کو کتب فرمانا باعتبار قوة کے ہے، حاصل یہ کہ ایسے رسول اور ایسی کتاب عظیم الشان کا آنا مقتضی تھا اجتماع علی الدین الھق کو مگر ان لوگوں نے سبب اجتماع کو سبب تفرق بنالیا، اور قرینہ مقابلہ سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جن لوگوں نے تفق اور خلاف نہیں کیا وہ اہل ایمان ہیں۔
Read the full tafseer →بلا شبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے وہی مخلوق میں سے بہتر ہیں
7 ؎ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ، اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اور قیامت و آخرت کے ساتھ ، قرآن کریم کے اللہ تعالیٰ کی کتاب ہونے کے ساتھ جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور اس راستے کی ساری صعوبتوں کو خاطر میں نہیں لاتے اور آگے بڑھ کر اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں اور آپ ﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر گامزن ہوجاتے ہیں یہی نفوس قدسیہ فخر روز گار ہیں اور انسانیت کی آبرو ہیں ، اس کائنات کی کوئی چیز ان کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کرسکتی ۔ ان کا دل پاک ، نگاہیں پاک ، نیت پاک ، عزم بلند ، شوق فراواں اور منزل اونچی اور اتنی اونچی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
Verse [ 8] ` رَّضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُ (Allah is pleased with them, and they are pleased with Him; that is for him who fears his Lord.) This verse points to the highest stage of spiritual development of the inmates of Paradise, that is, the Divine pleasure with no danger of Divine displeasure. This is the greatest reward with which the people of faith will be blessed. The God-fearing people are well-pleased with Him because of the comprehensive favours He has given them. Sayyidna Abu Said Khudri ؓ narrates that the Messenger of Allah ﷺ…
Read the full tafseer →10 That is, they are superior to all creatures of God, even to the angels, for the angels do not have the power to disobey, and these people adopt Allah's obedience in spite of having the power to disobey Him.
Read the full tafseer →