Al-Bayyina 98:8

Al-Bayyina · from ayah 8

98:8

جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا ؕ— رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ ؕ— ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّهٗ ۟۠جَزَآؤُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ جَنّٰتُ عَدۡنٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ‌ؕ رَضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ ‌ؕ ذٰلِكَ لِمَنۡ خَشِىَ رَبَّهٗ

ان کا صلہ ان کے پروردگار کے ہاں ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ابدالاباد ان میں رہیں گے۔ خدا ان سے خوش اور وہ اس سے خوش۔ یہ (صلہ) اس کے لیے ہے جو اپنے پروردگار سے ڈرتا رہا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Their reward with Allah will be gardens of perpetual residence beneath which rivers flow, wherein they will abide forever, Allah being pleased with them and they with Him. That is for whoever has feared his Lord.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 23 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Bayyina

All translations of 98:8

اُن کی جزا اُن کے رب کے ہاں دائمی قیام کی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے یہ کچھ ہے اُس شخص کے لیے جس نے اپنے رب کا خوف کیا ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان کا صلہ ان کے پروردگار کے ہاں ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ابدالاباد ان میں رہیں گے۔ خدا ان سے خوش اور وہ اس سے خوش۔ یہ (صلہ) اس کے لیے ہے جو اپنے پروردگار سے ڈرتا رہا

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشگی والی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور یہ اس سے راضی ہوئے۔ یہ ہے اس کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان کے پروردگار کے پاس ان کا انعام وہ سدا بہار جنتیں ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں۔ وہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے خوش ہوگا اور وہ اس سے خوش ہوں گے۔ یہ سب کچھ اس کے لیے ہے جو اپنے پروردگار کا خوف دل میں رکھتا ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان کا صلہ ان کے رب کے پاس بسنے کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں، اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی یہ اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ان کی جزا ان کے رب کے حضور دائمی رہائش کے باغات ہیں جن کے نیچے سے نہریں رواں ہیں، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اﷲ اُن سے راضی ہوگیا ہے اور وہ لوگ اس سے راضی ہیں، یہ (مقام) اس شخص کے لئے ہے جو اپنے رب سے خائف رہا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان کا بدلہ ان کے رب کے ہاں ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ہمیشہ۔ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے۔ یہ اس شخص کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈر گیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان کے پروردگار کے ہاں ان کا بدلہ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے یہ سب کچھ اس کے لیے ہے جو اپنے پروردگار سے ڈرتا رہا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کا صلہ ان کے رب کے پاس ہمیشگی کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، وہ ہے جو اپنے خداوند سے ڈرا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان کا صلہ ان کے رب کے یہاں ہمیشہ رہنے کی ایسی عظیم الشان جنتیں ہیں جن کے نیچے سے بہہ رہی ہوں گی طرح طرح کی عظیم الشان نہریں جہاں ان (خوش نصیبوں) کو ہمیشہ ہمیش رہنا نصیب ہوگا اللہ راضی ہوگیا ان سے (اپنے کرم بےپایاں کی بناء پر) اور یہ راضی ہوگئے اس سے

— مولانا اسحاق مدنی

ان کا صلہ ان کے پروردگار کے نزدیک ہمیشگی والی بہشتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جہاں ہمیشہ ہمیش رہیں گے اللہ ان سے خوش رہے گا اور وہ اللہ سے خوش رہیں گے یہ اس کیلئے ہے جو اپنے پروردگار سے ڈرتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان کا بدلہ ہوگا ان کے رب کے پاس دائمی قیام کے باغات کی صورت میں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی ان میں وہ رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وہاں رہیں گے۔ اللہ ان سے خوش اور وہ اللہ سے خوش یہ اجر اس کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Their recompense lies with their Lord: Gardens of eternity beneath which rivers flow; therein they shall dwell, forever and ever. Allah is well-pleased with them, and they are well-pleased with Him. All this is for him who fears his Lord.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Their reward, with their Lord, is gardens of eternity beneath which rivers flow, in which they will be abiding forever. Allah is well pleased with them, and they are well pleased with Him. That (reward) is for him who has awe of his Lord.

— Muhammad Taqi Usmani

Their reward, with their Lord, is gardens of eternity beneath which rivers flow, in which they will be abiding forever. Allah is well pleased with them, and they are well pleased with Him. That (reward) is for him who has awe of his Lord.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Their reward with their Lord is Eternal Gardens, underneath which rivers flow. They will abide therein forever, Allah will be pleased with them, and they well-pleased with Him. That is for him who fears his Lord.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Their reward is with their Lord: Gardens of Eden underneath which rivers flow, wherein they dwell for ever. Allah hath pleasure in them and they have pleasure in Him. This is (in store) for him who feareth his Lord.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Their reward with Allah will be gardens of perpetual residence beneath which rivers flow, wherein they will abide forever, Allah being pleased with them and they with Him. That is for whoever has feared his Lord.

— Saheeh International

Their reward from their Lord will be the gardens of Eden wherein streams flow and wherein they will live forever. God will be pleased with them and they will be pleased with Him. This (reward) is for those who fear their Lord.

— Muhammad Sarwar

Their reward with their Lord is gardens of perpetuity beneath which rivers flow, abiding therein for ever; Allah is well pleased with them and they are well pleased with Him; that is for him who fears his Lord.

— Muhammad Habib Shakir

Their recompense with their Lord shall be Gardens Everlasting, whereunder rivers flow - as abiders therein for evermore. Well-pleases will be Allah with them and well-pleased will be they with Him, That is for him who feareth his Lord.

— Abdul Majid Daryabadi

Their reward is with Allah: Gardens of Eternity, beneath which rivers flow; they will dwell therein for ever; Allah well pleased with them, and they with Him: all this for such as fear their Lord and Cherisher.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 98:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–8

ساری مخلوق سے بہتر اور بدتر کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ کافروں کا انجام بیان فرماتا ہے وہ کافر خواہ یہود و نصاریٰ ہوں یا مشرکین عرب و عجم ہوں جو بھی انبیاء اللہ کے مخالف ہوں اور کتاب اللہ کے جھٹلانے والے ہوں وہ قیامت کے دن جہنم کی آگ میں ڈال دئیے جائیں گے اور اسی میں پڑے رہیں گے نہ وہاں سے نکلیں گے نہ رہا ہوں گے یہ لوگ تمام مخلوق سے بدتر اور کمتر ہیں پھر اپنے نیک بندوں کے انجام کی خبر دیتا ہے جن کے دلوں میں ایمان ہے اور جو اپنے جسموں سے سنت کی بجا آوری میں ہر وقت مصروف رہتے ہیں کہ یہ ساری مخلوق سے بہتر اور بزرگ ہیں اس آیت سے حضرت ابوہریرہ ؓ اور علماء کرام کی ایک جماعت نے استدلال کیا ہے کہ ایمان والے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة البینہ 11 بالفاظ دیگر جو شخص خدا سے بےخوف اور اس کے مقابلہ میں جری و بےباک بن کر نہیں رہا بلکہ دنیا میں قدم قدم پر اس بات سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتا رہا کہ کہیں مجھ سے ایسا کوئی کام نہ ہوجائے جو خدا کے ہاں میری پکڑ کا موجب ہو، اس کے لیے خدا کے پاس یہ جزا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ذلک لمن خشی ربہ، آخر سورت میں تمام کمالات دینی اور نعمائے اخروی کا جس پر مدار ہے وہ بتلا دیا یعنی خشیتہ اللہ، خشیت اس خوف کو نہیں کہا جاتا جو کسی دشمن یا درندے یا موذی چیز سے طبعاً ہوتا ہے بلکہ خشیت اس خوف کو کہتے ہیں جو کسی کی انتہائی عظمت و جلال کی وجہ سے پیدا ہو جس کا مقتضایہ ہوتا ہے کہ وہ ہر کام ہر حال میں اس کی رضا جوئی کی فکر کرتا ہے اور ناراضی کے شبہ سے بھی بچتا ہے یہی وہ چیز ہے جو انسان کو عبد کامل اور مقبول بنانے والی ہے۔ تمت سورة البینہ بحمداللہ تعالیٰ

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ اللہ کے ان بندوں کا صلہ بیان ہو رہا ہے۔ فرمایا کہ اس دنیا میں ان کے لیے جو آزمائشیں مقدر ہیں، ان سے تو انھیں بہرحال گزرنا ہے لیکن اپنے رب کے پاس ان کے لیے اقامت کے ایسے باغ ہیں جن میں نہریں جاری ہوں گی اور یہ ان میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہوں گے۔ ’جَنَّاتُ عَدْنٍ‘ کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے۔ ’رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوۡا عَنْہُ‘۔ یعنی اس جنت میں اللہ بھی ان سے راضی اور وہ بھی اس سے راضی۔ اللہ ان سے اس وجہ سے راضی کہ انھوں نے بندگی کا حق اس طرح ادا کیا جس طرح ان کو ادا کرنا چاہیے تھا اور جو ان کے رب کے معیار پر پورا اترا اور وہ اللہ سے اس وجہ سے راضی کہ ان کے رب نے نہ صرف وہ وعدے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 ان کے ایمان وطاعت اور اعمال صالحہ کے سبب۔ اللہ کی رضامندی سب سے بڑی چیز ہے (ورضوان من اللہ اکبر) 8۔ 2 اس لئے کہ اللہ نے انہیں ایسی نعمتوں سے نواز دیا، جن میں ان کی روح اور بدن دونوں کی سعادتیں ہیں۔ 8۔ 3 یعنی یہ جزا اور رضامندی ان لوگوں کے لئے ہے جو دنیا میں اللہ سے ڈرتے رہے اور اس کے ڈر کی وجہ سے اللہ کی نافرمانی کے ارکاب سے بچتے رہے۔ اگر کبھی نافرمانی کرلی بھی تو توبہ کرلی۔ اور آئندہ کے لیے اپنی اصلاح کرلی، حتیٰ کہ ان کی موت اسی اطاعت پر ہوئی نہ کہ معصیت پر۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ سے ڈرنے والا معصیت پر اصرار اور دوام نہیں کرسکتا اور جو ایسا کرتا ہے، حقیقت میں اس کا دل اللہ کے خوف سے خالی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–8

2: یہ ان اہل کتاب کی بات ہورہی ہے جو آنحضرت ﷺ کی نبوت کے روشن دلائل دیکھنے کے بعد بھی آپ پر ایمان نہیں لائے، مطلب یہ ہے کہ آپ کی تشریف آوری کو ایک نعمت سمجھنے کے بجائے ان لوگوں نے ضد کی وجہ سے آپ کی بات نہیں مانی اور الگ الگ راستہ اختیار کرلیا، حالانکہ ان کے پاس روشن دلیل آچکی تھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

جزاءھم ................................ ابدا (8:98) ” ان کی جزا ان کے رب کے ہاں دائمی قیام کی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے “۔ ایسے باغات جن کی نعمتوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہاں مکمل امن ہوگا ۔ اور ان کے فنا ہونے اور رک جانے کا کوئی خطرہ نہ ہوگا۔ فنا ہونے اور امن و اطمینان کا ختم ہوجانا دنیا کی تمام سہولیات اور طیبات کا مزہ خراب کردیتا ہے اور ان تروتازہ باغوں کے نیچے نہروں کا بہنا ، اس طرف اشارہ ہے کہ ان باغات میں تازگی اور بہار دائمی ہوگی اور یہ زندگی اور جمال سے بھرپور ہوں گے۔ اس دائمی نعمت و رحمت کی تصویر کسی میں سیاق کلام دوقدم اور آگے جاتا ہے۔ ؓ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی جنت کے باغوں اور نہروں سے بڑھ کر رضاء مولیٰ کی دولت ہے۔ بلکہ جنت کی تمام نعمتوں کی اصلی روح یہی ہے۔ 3 یعنی یہ مقام بلند ہر ایک کو نہیں ملتا۔ صرف ان بندوں کا حصہ ہے جو اپنے رب کی ناراضی سے ڈرتے ہیں۔ اور اس کی نافرمانی کے پاس نہیں جاتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8{ جَزَآؤُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًاط } ”ان کا بدلہ ہوگا ان کے رب کے پاس دائمی قیام کے باغات کی صورت میں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی ‘ ان میں وہ رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔“ یہاں پر ضمنی طور پر یہ علمی نکتہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ قرآن مجید میں دو مقامات ایسے ہیں جہاں اہل جنت اور اہل جہنم کے فوری تقابل simultaneous contrast میں اہل جنت کے لیے { خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا } جبکہ اہل جہنم کے لیے صرف { خٰلِدِیْنَ فِیْہَا } کے الفاظ آئے ہیں۔ ان میں ایک مقام تو یہی ہے۔ یعنی اس سورت کی زیر مطالعہ آیت میں اہل جنت کے لیے {…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

10 یعنی ایمان اور عمل صالح کی توفیق اسی صورت میں ملتی ہے جبکہ انسان اللہ سے ڈرتے ہوئے اور ہر بات میں اس کے احکام کی پابندی کرتے ہوئے زندگی گزارے۔ اللہ ایسے ہی لوگوں سے خوش ہوتا ہے اور وہ بھی اللہ کی مشیئت پر ہر وقت خوش رہتے ہیں اور جب انہیں آخرت میں اللہ تعالیٰ جنت اور بیش بہا نعمتیں عطا فرمائے گا تو وہ اللہ سے اور بھی زیادہ راضی ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

6۔ (اور یہ خشیت ہی تو انسان کو ایمان وعمل صالح پر لاتی ہے جس کی جزاء جنت اور نعماء جنت ہیں) (آیت) ” خلدین فیھا ابدا “۔ ابدا کا اضافہ خلود جنت کے ففہوم کو مؤکد وغیر منقطع بنادینے کے لئے ہے، قیام جنت محض طویل وممتد ہی نہ ہوگا، زمانہ نامتناہی کے لئے ہوگا، عجب نہیں جو الفاظ آیت سے مقصود تردید ان گمراہ گروہوں کی ہو، جن کے خیال میں، جنت میں ایک طویل مدت کے بعد فنا ہوجائے گی، اور دنیا کی تخلیق اس کے بعد پھر سے ہوگی (آیت) ” ؓ ..... عنہ “۔ اللہ ان بندوں سے ہر طرح خوش ومطمئن ہوگا، اور یہ بندے بھی اللہ سے ہر طرح خوش ومطمئن ہوں گے۔ ایسے خوش نصیب بندوں کی خوش نصیبی پرک سے رشک نہ آئے گا ؟ (آیت) ” ذلک “ ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 4–8

وما تفرق الذین اوتوا الکتب الخ یہاں تفرق سے مراد انکار و اختلاف ہے، نزول قرآن اور آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے تمام اہل کتاب خواہ یہود ہوں یا نصاریٰ اس بات پر متفق تھے کہ نبی آخر الزمان کا ابھی آنا باقی ہے، کیوں کہ ان کی آسمانی کتابوں میں آپ ﷺ کی بعثت کی اطلاع دی گئی تھی اور آپ ﷺ کی مخصوص صفات کو واضح طور پر بیان کیا گیا تھا اور اہل کتاب آپ ﷺ کی آمد کے شدت سے منتظر تھے اور جب کبھی اہل کتاب اور مشرکین کے درمیان نزاع ہوتا اور مشرک اپنی عددی طاقت میں زیادہ ہونے کی وجہ سے یہود پر غالب آجاتے تو یہود آنحضرت ﷺ کے واسطے سے مشرکین پر فتح مندی کی دعاء کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اے اللہ ! تو آنے والے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

جزاوھم عند ربھم جنت عدن تجری من تحتھا الانھر . اللہ کے پاس ان کیلئے اچھا بدلہ جنتیں ہوں گی جن میں وہ قیام کرینگے ‘ ان جنتوں کے محلات اور درختوں کے نیچے دریا رواں ہونگے۔ جزاء ھم مبتداء ہے۔ عند ربھم ظرف ہے جس کا تعلق جزاء سے ہے۔ جنت عدن خبر ہے۔ عدن کا معنی ہے قیام۔ تجری کا فاعل الانھار ہے اور الانھار کی طرف بہنے کی نسبت مجازی ہے (کیونکہ نہر اس گڑھے کو کہتے ہیں جس میں پانی بہتا ہے تو حقیقت میں بہنے والی چیز پانی ہے ‘ گڑھا نہیں بہتا) یہ پورا جملہ جنات کی صفت ہے۔ خلدین فیھا ابدا . خالدین حال ہے ابدًا ‘ خالدین کا ظرف ہے یعنی ان جنات میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ بیضاوی نے لکھا ہے اس کلام میں کئی طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 7–8

(7۔ 8) ایمان لانے والے اور نیک اعمال کرنے والے حضرات جیسا کہ حضرت عبداللہ بن سلام اور حضرت ابوبکر صدیق یہ لوگ بہترین مخلوق ہیں ان کا ثواب ان کے پروردگار کے نزدیک انبیاء کرام اور مقربین کے رہنے کی بہشت میں ہے جن کے نیچے بہتی ہوں گی جہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کے ایمان و اعمال سے خوش رہے گے اور یہ اللہ کے عطا کردہ ثواب اور فضل سے خوش رہیں گے یہ جنت اور خوشنودیا اس کے لیے ہیں جو اپنے پروردگار کی وحدانیت کا قائل ہو جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور دوسرے صحابہ کرام۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 7–8

(ان الذین امنوا و عملوا اصلحت…:ْو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں اور تمام کاتبوں پر ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے ان کے لئے تین بڑی بڑی بشارتیں ہیں، پہلی یہ کہ وہ مخلوق میں سب سے بہتر ہیں، کیونکہ اپنے اختیار سے گناہ چھوڑ کر ایمان اور عمل صالح کرنے والوں کا درجہ یقیناً ان لوگوں سے بلند ہے جن میں نافرمانی کی استعداد ہی نہیں، دوسری یہ کہ ان کے لئے ہمیشہ رہنے کے لئے باغات ہیں، جن کے تلے نہریں بہتی ہیں اور تیسری یہ کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوگی جو آخرت کی نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت ہے، فرمایا :(ورضوان من اللہ اکبر) (التوبۃ : 82)”اور اللہ کی رضا مندی سب سے بڑی چیز ہے۔“”اور وہ اللہ سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

جزاء ھم عندربھم۔۔۔ تا۔۔۔ خشی ربہ۔ جزا سے مراد ثواب ہے، رب سے مراد خالق ومالک ہے، جنت سے مراد باغات ہیں، عدن کا معنی ٹھہرنا ہے مفسرین کہتے ہیں، جنت عدن سے مراد درمیانی باغات ہیں تو کہتا ہے عدن بالمکان وہ مقیم ہوا، معدن الشی سے مراد اس کا مرکز ومستقر ہے، اعشی نے یہی معنی لیا ہے۔ وان یستضافوا الی حکمہ، یضافوا الی راجح قد عدن۔ اگر انہیں اس کے فیصلہ کی طرف مائل کیا جائے تو انہیں اپنے راجح امر کی طرف مائل کیا گیا ہے جو مرکز و محور ہے۔ وہ نہ وہاں سے کوچ کریں گے اور نہ ہی مریں گے اللہ تعالیٰ ان کے اعمال پر راضی ہیں۔ حضرت ابن عباس نے یہی کہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے بدلہ سے راضی ہیں، یہ جنت اس شخص کے لیے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–8

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة لم یکن مدینہ میں نازل ہوئی 2۔ ابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ سورة لم یکن مکہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ ابو نعیم نے المعرفہ میں اسماعیل بن ابی حکیم المزنی ؓ جو بنو فضیل میں سے ایک تھے سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بیشک اللہ تعالیٰ لم یکن کی قراءت کو سنتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میرے بندے کو بشارت دے دو پس میری عزت اور میرے جلال کی قسم ! میں تجھے اتنا اختیار دوں گا جنت میں یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے گا۔ 4۔ ابوموسی المدینی نے المعرفہ میں اسماعیل بن ابی حکیم سے روایت کیا اور انہوں نے مطر المزنی یا المدنی (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[جَزَاۗؤُهُمْ : ان لوگوں کی جزا ][ عِنْدَ رَبِهِمْ : ان کے رب کے پاس ][ جَنّٰتُ عَدْنٍ : عدن کے باغات ہیں ][ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْانهٰرُ : بہتی ہیں جن کے دامن سے نہریں ][ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا : ایک حالت میں رہنے والے ہوتے ہوئے اس میں ہمیشہ ][ ۭرَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ : راضی ہوا اللہ ان لوگوں سے ][ وَرَضُوْا عَنْهُ ۭ: اور وہ لوگ راضی ہوئے اس سے ][ ذٰلِكَ لِمَنْ : یہ اس کے لیے ہے جو ][ خَشِيَ رَبَّهٗ : مرعوب ہوا اپنے رب سے ] (آیت۔ 8) جزاؤُھُمْ مبتدا ہے۔ عِنْدَ رَبِّھِمْ اس کی خبر نہیں ہے بلکہ متعلق خبر مقدم ہے اور جَنّٰتُ عَدْنٍ اس کی خبر ہے۔ نوٹ 2: آیت۔ 8 ۔ میں اہل جنت کی سب سے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا ﴾ (ان لوگوں کی جزا ان کے رب کے پاس ایسے باغ ہیں جو رہنے کے باغ ہیں، ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے) ۔ ﴿رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ ﴾ (اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت بھی راضی تھا جب دنیا میں تھے اور عالم آخرت میں بھی ان سے راضی ہوگا) ۔ ﴿ وَ رَضُوْا عَنْهُ 1ؕ﴾ (اور جو بندے جنت میں داخل ہوں گے اللہ تعالیٰ سے راضی ہوں گے) انہیں اتنا ملے گا اتنا ملے گا کہ ان کے تصور سے باہر ہوگا اور وہ اس سب پر بہت بڑی خوشی کے ساتھ راضی ہوں گے کوئی طلب اور تمنا باقی نہ رہے گی۔ حضرت ابو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

ذات رسول کریم ﷺ وآیات قرآن شرچشمہ علوم وبرہان ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لم یکن الذین کفروا ....... الی .......... ذلک لمن خشی ربہ “۔ (ربط) گزشتہ سورت القدر میں شب قدر کی عظمت وفضیلت کا ذکر تھا، اس مناسبت سے اب اس سورت میں قبولیت عبادت کی اساس بیان کی جارہی ہے کہ وہ بندہ کا اخلاص اور قلب کی طہارت ہے اور اسی کو نام حنیفیت ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا شعار تھا، نیز یہ کہ سورة قدر میں لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کی گئی تھی تو اب اس سورت میں سعادت وشقاوت کے اصول بیان کئے گئے تاکہ ایمان وکفر اور ہدایت وگمراہی میں کسی کو التباس نہ رہے، تو ارشاد فرمایا۔ نہیں تھے باز آنے والے وہ لوگ جو کافر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

6: ” جزاءہم “ اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کی جزاء یہ ہے کہ ان کے لیے جنت کے دائمی باغات ہیں جن میں تمام انواع مشروبات کی ندیاں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے نہ جنت کی نعمتوں کو زوال ہوگا نہ اہل جنت کو موت آئیگی، نہ ان کو جنتوں سے نکالا ہی جائیگا اور نہ وہ خود ہی ان سے نکلنا پسند کریں گے۔ ” ؓ “ یہ ان کے ایمان خالص، یقین کامل اور عمل صالح کا انعام ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اور وہ بھی انعام و اکرام پر راضی ہیں۔ یہ اعزاز واکرام اور یہ انعام وافضال ایسے ہی لوگوں کے لیے ہے جو اپنے پروردگار سے ڈر کر اس کے احکام کی اطاعت کریں اور اس کے محرمات سے دور رہیں۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 5–8

گزشتہ سے پیوستہ اس سورة مبارکہ کے ابتدائی حصے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بینہ کے لقب سے ملقب حضور خاتم النبین ﷺ کی بعثت سے پہلے اہل کتاب اور مشرکوں کی حالت بہت خراب ہوچکی تھی۔ وہ اپنے فاسد عقائد اور باطل مذاہب سے باز آنے والے نہیں تھے۔ یہاں تک کہ ان کے پاس بینہ یعنی اللہ کا وہ عظیم الشان رسول آجائے جو پاک صحیفوں کی تلاوت کرتا ہے قرآن کریم کی ہر سورة ایک مقدس صحیفہ ہے۔ جس میں مضبوط اصول لکھے ہوئے ہیں مگر جب وہ بینہ آ گیا اور خدا تعالیٰ کی حجت تمام ہوگئی تو اہل کتاب تفرقہ میں پڑگئے۔ روح المعانی والے مفسر فرماتے ہیں کہ تفرقے کا مطلب یہ ہے ۔ بہت تھوڑے لوگ ایمان لائے ، جب کہ ان کی اکثریت باطل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

جَزَاۗؤُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْہَآ اَبَدًا۝ 0 ۭ رَضِيَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ۝ 0 ۭ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّہٗ۝ 8 ۧ جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 -…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–8

ترکیب ¦ الذین موصول کفر واصل تھا من اھل کتاب والمشرکین بیان الکفر وا اسم ان فی نار جہنم خبرھا ای یصیرون الیھا بعد الموت خالدین فیھا حال من المستکن فی الجز۔ اولئک مبتدا ھم شرالبریۃ الجملۃ خبر قرء الجمھور فی الموضعین البریۃ بغیر ھمزۃ و قرئ بالھمزۃ وقیل الاصل بالھمزۃ لانہ یقال برء اللہ الخلق بالھمز ای ابتدعہ واخترعہ ومنہ قولہ من قبل ان نبراھا ولکنھا خففت عند عامۃ العرب والبریۃ ن الخلیفۃ والباری الخالق الذین آمنوا الخ اسم ان ھم خیر البریۃ خبر ھاجزا ھم مبتداء عند ربہم صفۃ جنات عدن خبر یقال عدن بالمکان یعدن عدنا ای اقام ومعدن الشیء مرکزہ و مستقرہ تجری الخ الجملۃ صفۃ جنات خالدین حال العامل محذوف ای…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

جَزَآؤُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰـرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا ط رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ رَضُوْا عَنْہُ ط ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہٗ ۔ (البینۃ : 8) (ان کا صلہ ان کے رب کے پاس ہمیشگی کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی، وہ ان میں تا ابد رہیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی، یہ صلہ اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرا۔ ) اصحابِ ایمان کا صلہ اور انعام ایسے وفاداروں اور جانثاروں کا صلہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سدا بہار باغات ہیں جن کے نیچے ندیاں رواں ہوں گی۔ جہاں کا ہر پھول، ہر کلی ان کی محبت کے رنگ میں رنگی ہوگی۔ لیکن ان سے بھی بڑا اعزاز…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–8

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین اور کفار کے مقابلے میں صالح کردار ایمان والوں کا مقام اور انعام۔ دین اسلام کے اوصاف حمیدہ میں جو اوصاف سب سے نمایاں اور مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں پہلا وصف یہ ہے کہ دین اسلام کسی مخصوص قوم اور علاقے کے لوگوں کو دعوت نہیں دیتا، اس کی دعوت رنگ و نسل، جغرافیائی حدود اور زمانے کی قیود سے بالاتر ہے۔ اس لیے قرآن مجید کھلے الفاظ میں دعوت دیتا ہے کہ جو لوگ بھی اللہ اور نبی آخرالزمان ﷺ پر ایمان لائیں اور صالح اعمال اختیار کریں وہ مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔ دوسرے مقام پر اس بات کی یوں وضاحت کی گئی ہے۔ ” بیشک مسلمانوں، یہودیوں، عیسائیوں اور بےدین لوگوں میں سے جو بھی اللہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

8 : جَزَآؤُھُمْ عِنْدَرَبِّھِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہٗ (ان کا صلہ ان کے پروردگار کے نزدیک ہمیشہ رہنے کی بہشتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہونگی۔ جہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے خوش رہے گا اور وہ اللہ تعالیٰ سے خوش رہیں گے۔ یہ اس شخص کیلئے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے) جنات عدن : اقامت کی جنتیں۔ ؓ ؔ ان سے راضی ہوا کہ ان کے اعمال کو قبول فرمایا۔ ورضوا عنہؔ وہ اس کے ثواب سے راضی ہوگئے۔ ذلک یہ رضا مندی۔ فضیلت مومن : خیر البریۃ دلالت کرتا ہے کہ مؤمنوں کو ملائکہ پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

8 ۔” جزائوھم عند ربھم جنات عدن تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا ابدا رضی اللہ عنھم ورضواعنہ ذلک لمن خشی ربہ “ اور معاصی سے باز آجائے اور کہا گیا ہے کہ رضا دو قسموں کی طرف تقسیم ہے رضا بہ (اس پر راضی ہونا) اور رضاعنہ (اس سے راضی ہونا) پس رضا بہ اس کے رب اور مدبر ہونے پر راضی ہونا اور رضا عنہ اس کے قضاء وقدر سے راضی ہونا۔ سری (رح) فرماتے ہیں جب تو اللہ سے راضی نہیں ہے تو پھر تو اس سے کیسے سوال کرتا ہے تجھ سے راضی ہونے کا ؟ انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابی کو کہا بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھ پر ” لم یکن الذین کفروا “ پڑھوں۔ ابی ؓ نے کہا اور میرے رب نے میرا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ شروع سورة سے حتیٰ تاتھیم البینۃ تک کی آیت کا مطلب اس طرح کا مشکل ہے کہ جس کے بیان کرنے میں اکثر مفسروں نے غلطی کی ہے لیکن صحیح قول یہ ہے کہ بینہ 1 ؎ سے مراد نبی آخر الزمان ہیں۔ اور یہ آیت ان لوگوں کی شان میں ہے جو اہل مکہ اور اہل کتاب میں سے راہ راست پر آگئے اور اسلام لے آئے اور حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ اگر قرآن جیسی کتاب نازل نہ ہوتی اور نبی آخر الزمان جیسے رسول نہ آتے تو اہل مکہ اور اہل کتاب سب کے سب اسی کفر کی حالت پر رہتے اور کوئی ان میں سے راہ راست پر نہ آتا۔ پھر فرمایا کہ یہ اہل کتاب جو متفرق ہو رہے ہیں کہ کوئی ان میں سے اسلام لے آیا اور کوئی بدستور حالت کفر پر اڑا ہوا ہے اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(جَزَاۗؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ ) ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشہ کے باغات ہیں۔ یعنی دائمی اقامت کے لیے جنتیں جہاں سے کبھی کوچ نہ ہوگا نہ روانگی اور نہ ان جنتوں سے اوپر کسی اور چیز کی طلب رہے گی۔ (تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭرَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ ۭ ) جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے پس اللہ تعالیٰ ان سے اس سبب سے راضی ہوا کہ انہوں نے اس کی مرضی کو پورا کیا اور وہ اللہ تعالیٰ پر راضی ہوئے کہ اس نے ان کے لیے مختلف انواع کی تکریمات تیار کیں۔ (ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهٗ ) یہ جزائے حسن اس شخص کے لیے ہے جو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–8

عبادت میں اخلاص ضروری ہے قول باری ہے (وما امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین حنفاء اور ان کو اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں اپنے دین کو اس کے لئے خالص کرکے ، بالکل یکسوہوکر) اس میں اللہ کے لئے عبادت کو خالص کرنے کا حکم ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ عبادت میں اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کیا جائے کیونکہ اخلاص اشراک کی ضد ہے۔ نیت کے ساتھ اخلاص کا تعلق نہیں ہے نہ تو عبادت کی وجود کی صورت میں اور نہ ہی اس کے عدم کی صورت میں اس لئے اس سے نیت کے وجوب پر استدلال کرنا درست نہیں ہوگا کیونکہ ایک شخص جب ایمان کا اعتقاد کرلے گا تو اسے عبادت میں اخلاص اور اشراک کی نفی حاصل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 7–8

12 ۔ اہل ایمان کے لیے خلود جنت کی بشارتیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسوں کی جزا ان کے رب کے یہاں وہ عظیم الشان جنتیں ہوں گی جن کے نیچے طرح طرح کی عظیم الشان نہریں بہہ رہی ہوں گی جہاں ان خوش نصیبوں کو ہمیشہ ہمیش رہنا نصیب ہوگا کہ نہ وہاں کی یہ نعمتیں کبھی ختم ہوں گی کہ ان کی شان یہ ہوگی " لا مقطوعۃ ولا ممنوعۃ " یعنی نہ وہ کبھی ختم ہوں گی اور نہ ان سے ان کو روکا جائے گا اور نہ ہی ان اہل جنت کو وہاں سے کبھی نکالا جائ گا، ان کے لیے " وما ھم بمخرجین " کا پیشگی وعدہ ہے، اور نہ کبھی ان حضرات کا خود وہاں سے نکلنے کا جی چاہے گا، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا " لا یبغون عنھا حولا " سو یہی ہے اصل اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

اہل کتاب کی مخالفت اور رسول ﷺ کی ضرورت تشریح : ایک ہی پیغام ہے جو ہمیشہ تمام پیغمبر دیتے رہے ہیں۔ کہ اللہ ایک ہے اسی کی عبادت کرو جس کا بہترین طریقہ ہے نماز۔ کیونکہ اس سے طہارت ملتی ہے۔ دل کو سکون ملتا ہے وقت کی پابندی کی عادت پڑتی ہے۔ سستی اور کاہلی دور ہوتی ہے۔ اللہ سے ملاقات کا اور دعا کا موقعہ ملتا ہے انسان کے اندر اللہ کا خوف پیدا ہوتا ہے۔ اس کی محبت اور فرمانبرداری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ دنیا سے بےنیازی ' خودداری اور کردار میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ نماز پورے خلوص ' توجہ اور خشوع و خضوع کے ساتھ صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے اور اللہ کے غضب سے ڈرتے ہوئے پڑھی جائے۔ اسی طرح زکوۃٰ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

سورة البینہ۔ آیات 1 تا 8 اسرار ومعارف۔ دنیا میں کافر ، اہل کتاب اور مشرک سب ہی بہت زیادہ گمراہی میں مبتلا تھے ہر سمت کفر وشرک کے ساتھ جوروستم چھایا ہوا تھا دنیا کا حال اس قدر برا تھا کہ تاریخ انسانی میں کبھی اس سے پہلے ایسا نہ ہوا تھا اور نہ آئندہ کبھی اتنی گمراہی اکٹھی ہوگی کہ اس کو دور کرنے کے لیے ایسی روشنی اور اتنی طاقتور ہدایت کی ضرورت تھی کہ جس طرح ظلم وجور بےمثال تھا اسی طرح رسول اللہ بھی لاثانی ہو اور جتنی گہری ظلمت تھی اتنی اور اس سے زیادہ طاقتور نورانیت ہو تب اللہ نے آپ کو ایسے رسول کی شان سے مبعوث فرمایا جس نے سارے عالم کو ہمیشہ کے لیے منور کردیا اور اللہ کی طرف سے اللہ کی کتاب اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(98:8) جزاؤہم عند ربھم جنت عدن تجری من تحتھا الانھر : جزاؤھم مضاف مضاف الیہ مل کر مبتدا۔ (ہم ضمیر جمع مذکر غائب اولئک (آیت سابقہ) کی طرف راجع ہے) عند ظرف مکان ہے بمعنی پاس۔ قریب۔ مضاف، ربھم مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ۔ عند ربھم (اپنے رب کی ہاں) ظرف ہے جس کا تعلق جزاء سے ہے۔ جنت عدن : مضاف مضاف الیہ مل کر مبتداء کی خبر۔ عدن۔ رہنا بسنا۔ کسی جگہ مقیم ہونا۔ یہ مصدر ہے اور اس کا فعل باب ضرب اور نصر سے آتا ہے۔ جنت عدن کا معنی ہے۔ رہنے بسنے کے باغات۔ یعنی وہ جنتیں جہاں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ تجری من تحتھا الانھر۔ یہ جملہ صفت ہے جنت کی۔ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع جنت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن۔ لم یکن۔ نہیں ہے۔ منفکین۔ باز آنے والے۔ البینۃ۔ صاف اور کھلی باتیں۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ صاف ستھرا۔ کتب قیمۃ۔ لکھی ہوئی مضبوط کتابیں۔ ما تفرق۔ الگ الگ نہ ہوئے۔ امروا۔ حکم دیا گی ا ہے۔ مخلصین۔ خالص کرنے والے۔ حنفائ۔ سب سے منہ موڑنے والے ( ایک اللہ کے ہوجانے والے) ۔ شر البریۃ۔ بدترین مخلوق۔ خیر البریۃ۔ بہترین مخلوق۔ ؓ اللہ خوش ہوگیا۔ خشی۔ جو ڈرا۔ تشریح : قرآن کریم میں اہل کتاب ان لوگوں کو کہا گیا ہے جن کے پاس گذشتہ رسول کوئی کتاب لے کر آئے۔ بعد میں آنے والوں نے اپنے بعض دنیاوی مقاصد کے لئے ان میں بتدیلیاں کرلیں وہ ان کو اللہ کی کتاب ماننے کے باوجود شرک بھی کرتے تھے۔ اللہ نے ان کو یہود،…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–8

(ف 1) اللہ تعالیٰ اس مقام پر فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے صرف وہ بہترین مخلوقات ہیں اور ایسے لوگوں کی جزا اللہ کے پاس یہ موجود ہے کہ ان کو ایسے باغ مرحمت ہوں گے کہ جن کی بہار کے لیے کوئی فنا نہیں اور ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ہمارے خاص بندے ان باغات میں ہمیشہ ہمیشہ عیش کریں گے اور اللہ ان سے خوش ہوجائے گا اور وہ اللہ سے خوش ہو ویں گے حقیقت میں دنیا اور آخرت میں اس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں کہ بندہ کو یہ بات حاصل ہوجائے کہ ہر حال میں اللہ سے خوش رہے اور ایسے کام کرتا رہے کہ اللہ بھی اس سے خوش رہے آخر پھر فرمایا کہ جن لوگوں کے دل میں خدا کے روبرو کھڑے ہونے کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–8

[5] اللہ تعالیٰ ان سے اس وجہ سے راضی ہوا کہ انہوں نے بندگی کا حق اس طرح ادا کیا جس طرح ادا کرنا چاہیے تھا اور جو ان کے رب کے معیار پر پورا اترا۔ اور وہ اللہ سے اس وجہ سے راضی کہ ان کے رب نے نہ صرف وہ وعدے پورے کئے جو اس نے ان سے کئے تھے بلکہ ان کو وہ کچھ بخشا جس کا وہ تصور بھی نہ کرسکے تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–8

ف 2: یعنی اللہ کے پیغمبر (علیہ السلام) بلا تخصیص مکان اور زمان کے جہاں کہیں اور جب کبھی تشریف لائے ۔ انہوں نے ایک ہی پیغام کی تلقین کی ہے اور ایک ہی نصب العین کی طرف بلایا ہے اور وہ پیغام اور نصب العین یہ ہے ۔ کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے ۔ ا کی خدا سے محبت ہو ۔ ایک خدا کا خوف دلوں میں جاگزین ہو اور ایک خدا ہو ، جس کے لئے عقیدت اور نیاز کے جذبات مختص ہوں ۔ پھر یہ کہ اس کی عبادت میں سرگرمی کا اظہار کیا جائے ۔ اور ان شرائط وآداب کو ملحوظ رکھا جائے جو اقامت صلوٰۃ کے لئے ضروری ہیں اور اللہ کی راہ میں باقاعدہ زکوٰۃ ادا کی جائے اور قوم وملت کی جملہ ضروریات اقتصادی کو اپنے سامنے رکھا جائے ۔ 3: اہل…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) ان کا صلہ ان کے پروردگار کیپ اس ایسے دائمی باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ تعالیٰ ان سے خوش اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی یہ جنت اور رضا اس شخص کے لئے ہے جو اپنے پروردگار سے ڈرتا ہے - یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال سے خوش ہوا اور وہ لوگ اس کی عطا سے راضی ہوئے اور جو خیروکرامت اور بزرگی ان کو دی جائے گی وہ اس سے راضی رہیں گے خشیت خداوندی چونکہ اس راہ میں اہم امر ہے۔ اس لئے آخر میں فرمایا ذلک لمن خشی ربہ یعنی یہ رضائے مولیٰ جو سب مرتبوں سے بڑا مرتبہ ہے جیسا کہ سورة توبہ میں گزر چکا ہے۔ ورضوان من اللہ اکبر تو ایسی بڑی چیز کے وہی بندے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ یعنی نہ ان سے کوئی معصیت ہوگی اور نہ ان کو کوئی امر مکروہ پیش آئے گا، جس سے احتمال عدم رضا کا جانبین سے ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کا صلہ ان کے پروردگار کے ہاں ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں 8 ؎” ان کا صلہ ان کے پروردگار کے ہاں ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی “ وہ لوگ جن کو گزشتہ آیت میں ( خیر البریۃ) کہا گیا ہے اب ان کے صلہ کو بیان کیا جا رہا ہے کہ بہشت کے سدا بہار باغات انہی کے لیے منتظر کھڑے ہیں اور ان باغات میں ان کے لیے ٹھنڈے اور میٹھے پانی کی بہنے والی نہریں ہیں جو ان کے لے بنائی گئی ہیں اور وہاں کا ہر پھول اور ہر کلی ان کی محبت کے رنگ میں رنگی ہوئی ہے اور وہ ان باغات میں تا ابد الاباد رہیں گے نہ ان کو نکالا جائے گا اور نہ وہ خود نکلنا پسند کریں گے۔ جنت کی ساری رونقیں ان لوگوں کے دم قدم سے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Verse [ 8 - the concluding phrase ] ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَ‌بَّهُ (…That is for him who has awe of his Lord.) The word 'fear' or 'awe' here is not used in the sense of an 'agitated, disturbed or perturbed feeling' which we naturally have for an enemy, a beast, a ferocious animal or an obnoxious thing that might harm us. 'Khashyatullah' (Allah's awe) is, on the contrary, a feeling of deep, reverential awe that leads man to Allah's obedience. It is the awe of Allah's Majesty and His Incomparability that makes the perfect slave do every work under every circumstance to attain the Divine…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

11 In other words, the person who did not live in the world fearless and independent of God, but feared Him at every step lest.he should do something which might entail His wrath and punishment, will have this reward resolved for him with Allah.

Read the full tafseer →