Az-Zalzala 99:1

99. Az-Zalzalaالزلزلة

The Earthquake · Medinan · 8 ayahs · 1 ruku

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

99:1

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا ۟ۙاِذَا زُلۡزِلَتِ الۡاَرۡضُ زِلۡزَالَهَا

جب زمین بھونچال سے ہلا دی جائے گی

— Fateh Muhammad Jalandhari

When the earth is shaken with its [final] earthquake

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 24 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zalzala

All translations of 99:1

جب زمین اپنی پوری شدت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب زمین بھونچال سے ہلا دی جائے گی

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب زمین پوری طرح جھنجھوڑ دی جائے گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

جب زمین اپنے بھونچال سے جھنجھوڑ دی جائے گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جب زمین تھرتھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جب زمین اپنے سخت بھونچال سے بڑی شدت کے ساتھ تھرتھرائی جائے گی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جب زمین اپنی پوری شدت سے ہلا دی جائے گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جب کہ زمین ہلا دی جائے گی جس طرح اس کہ ہلانا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جب ہلا دیا جائے گا زمین (کے اس عظیم الشان کرے) کو اس کے زبردست بھونچال سے

— مولانا اسحاق مدنی

جب کہ زمین اپنی جنبش سے خوب ہی ہلا ڈالی جائے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جب زمین ہلائی جائے گی جیسے کہ ہلائی جائے گی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب زمین زلزلہ سے ہلا دی جائے گی

— محترمہ رفعت اعجاز

When the earth will be shaken with a mighty shaking,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When the earth will be trembled with its quake,

— Muhammad Taqi Usmani

When the earth will be trembled with its quake,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

When the earth quakes with its Zilzal.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

When Earth is shaken with her (final) earthquake

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

When the earth is shaken with its [final] earthquake

— Saheeh International

When the earth is shaken by a terrible quake

— Muhammad Sarwar

When the earth is shaken with her (violent) shaking,

— Muhammad Habib Shakir

When the earth is shaken by the shaking thereof,

— Abdul Majid Daryabadi

When the earth is shaken to her (utmost) convulsion,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 99:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–8

مرحلہ وار قیامت : زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ) 22۔ الحج :1) لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے اور جگہ ارشاد ہے (وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۙ) 84۔ الانشقاق :3) جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کردی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی سونا چاندی مل ستونوں کے باہر نکل پڑے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الزلزال 1 اصل الفاظ ہیں زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَا۔ زلزلہ کے معنی پے در پے زور زور سے حرکت کرنے کے ہیں۔ پس زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ کا مطلب یہ ہے کہ زمین کو جھٹکے پر جھٹکے دے کر شدت کے ساتھ ہلا ڈالا جائے گا۔ اور چونکہ زمین کو ہلانے کا ذکر کیا گیا ہے اس لیے اس سے خود بخود یہ مطلب نکلتا ہے کہ زمین کا کوئی مقام یا کوئی حصہ یا علاقہ نہیں بلکہ پوری کی پوری زمین ہلا ماری جائے گی۔ پھر اس زلزلے کی مزید شدت کو ظاہر کرنے کے لیے زِلْزَالَهَا کا اس پر اضافہ کیا گیا ہے جس کے لفظی معنی ہیں " اس کا ہلایا جانا " اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو ایسا ہلایا جائے گا جیسا اس جیسے عظیم کرے کو ہلانے کا حق ہے، یا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر جب زمین اپنی سخت جنبش سے ہلائی جائے گی اور زمین اپنے بوجھ باہر نکال پھینکے گی (مراد بوجھ سے دفینے اور مردے ہیں اور اگرچہ بعض روایات سے پہلے بھی دفینوں کا باہر آجانا معلوم ہوتا ہے لیکن ممکن ہی کہ قیامت سے پہلے جو دفینے باہر آگئے تھے مرورایام سے پھر ان پر مٹی آگئی ہو اور مستور ہوگئے ہوں اور قیامت کے روز پھر نکلیں اور دفائن کے ظاہر ہوجانے کی شاید یہ حکمت ہو کہ ماں کی بہت محبت کرنے والی اپنی آنکھوں اموال کا بیکار ہونا دیکھ لیں) اور (اس حالت کو دیکھ کر کافر) آدمی کہے گا کہ اس کو کیا ہوا (کہ زمین اس طرح ہل رہی ہے اور سب دفینے باہر آرہے ہیں) اس روز زمین اپنی سب (اچھی بری) خبریں بیان کرنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

جب اس طرح ’اِذَا‘ سے کسی چیز کا بیان ہوتا ہے تو مقصود اس کی یاددہانی ہوتی ہے یعنی اس وقت کو یاد رکھو، اس دن سے ہوشیار رہو، جب کہ ایسا ایسا ہو گا۔ آپ چاہیں تو اس مخفی مضمون کو ترجمے میں ظاہر بھی کر سکتے ہیں۔ زبان کا ایک نکتہ: ’زِلْزَال‘ آیا تو ہے فعل ’زُلْزِلَتِ‘ کی تاکید کے لیے، جس طرح مفعول آیا کرتا ہے، لیکن یہاں زمین کی طرف اس کی اضافت سے مضمون میں ایک خاص اضافہ ہو گیا ہے جس کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے ورنہ آیت کا صحیح زور سمجھ میں نہیں آئے گا۔ اس خاص اسلوب کو سامنے رکھ کر اس کا ترجمہ یہ ہو گا کہ جب کہ زمین ہلا دی جائے گی اس طرح جس طرح زمین کو ہلانے کا حق ہے یا جس طرح اس کا ہلایا جانا مقدر ہے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1۔ 1 اس کا مطلب ہے سخت بھو نچال سے ساری زمین لرز اٹھے گی اور ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی، یہ اس وقت ہوگا جب پہلا نفخہ پھونکا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–2

1: یعنی سارے مردے جو زمین میں دفن ہیں، وہ باہر آجائیں گے اور زمین میں جو خز انے دفن ہیں، زمین ان کو بھی اگل دے گی۔ ایک حدیث میں ہے کہ جس کسی نے مال کی خاطر کسی کو قتل کیا ہوگا، یا جس نے مال و دولت کی خاطر رشتہ داروں کا حق پامال کیا ہوگا، یا اس کی خاطر چوری کی ہوگی، وہ اس مال کو دیکھ کر یہ کہے گا کہ یہ ہے وہ مال جس کی وجہ سے میں نے یہ گناہ کئے تھے پھر کوئی بھی اس سونے اور چاندی کی طرف توجہ نہیں دے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–2

یہ ہے منظر قیام قیامت کا ، اس دن زمین نہایت شدت سے ہلا ماری جائے گی اور ایک شدید زلزلہ برپا ہوگا اور زمین کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہوگا ، وہ اسے باہر پھینک دے گی اور اس نے ایک طویل عرصے سے انسانی جانوں کا جو بوجھ اٹھارکھا ہوگا ، یا اس کے اندر جو معدنیات ہوں گے وہ ان کو اٹھاکر باہر پھینک دے گی ، گویا اس بوجھ کو باہر پھینک کر وہ ہلکی ہوجائے گی۔ یہ ایک ایسی تصویر کشی ہے کہ سننے والے اپنے پاﺅں کے نیچے کھڑی ہر چیز متزلزل محسوس کرتے ہیں کہ وہ ڈگمگا رہے ہیں ، لڑکھڑا رہے ہیں ، ان کے قدموں کے نیچے سے زمین کانپ رہی ہے ، دوڑرہی ہے ، یہ ایک ایسا منظر ہے جس کو دیکھ کر انسان تمام امور سے قطع تعلق کرلیتا ہے جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی حق تعالیٰ ساری زمین کو ایک نہایت سخت اور ہولناک زلزلہ سے ہلا ڈالے گا۔ جس کے صدمہ سے کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ یا درخت زمین پر قائم نہ رہے گا۔ سب نشیب و فراز برابر ہوجائیں گے۔ تاکہ میدان حشر بالکل ہموار اور صاف ہوجائے اور یہ معاملات قیامت میں نفخ ثانی کے وقت ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1{ اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَہَا۔ } ”جب زمین ہلائی جائے گی جیسے کہ ہلائی جائے گی۔“ یعنی تم انسان یہ تصور بھی نہیں کرسکتے کہ اس زلزلے کی کیفیت کیسی ہوگی۔ سورة الحج کے آغاز میں اس کیفیت کی شدت کا نقشہ بایں الفاظ کھینچا گیا ہے : { یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّـکُمْج اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْئٌ عَظِیْمٌ - یَوْمَ تَرَوْنَہَا تَذْہَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَتَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَمَا ہُمْ بِسُکٰرٰی وَلٰکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیْدٌ۔ } ”اے لوگو ! تقویٰ اختیار کروا پنے رب کا ‘ یقینا قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہوگا۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

1 یعنی زمین پر لگاتار زلزلے آئیں گے اور یہ علاقائی قسم کے نہیں ہوں گے۔ بلکہ پوری زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ ان مسلسل اور متواتر زلزلوں کی وجہ سے زمین میں کوئی نشیب و فراز باقی نہیں رہے گا۔ اور ایسے زلزلے نفخہ صور ثانی کے وقت آئیں گے نفخہ صور اول کے وقت جو زلزلہ آئے گا اس سے قیامت برپا ہوگی اور سب جاندار مخلوق مرجائے گی۔ نفخہ صور ثانی کے وقت شدید زلزلوں سے زمین کے نشیب و فراز ختم کرکے اسے ہموار اور چٹیل میدان بنادیا جائے گا۔ دریاؤں، پہاڑوں، سمندروں غرضیکہ ہر چیز کو ختم کردیا جائے گا جس سے اس زمین کی ہیئت ہی بدل جائے گی پھر اس پر میدان محشر قائم ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–3

1۔ یہ سب واقعات حشر کے سلسلہ میں نفخہ اول کے وقت کے ہیں۔ (آیت) ” اثقالھا “۔ زمین کے بوجھ سے مراد مردے بھی ہوسکتے ہیں، اور زمین کے دفینے اور معدنیات وغیرہا بھی۔ (آیت) ” اذا ...... زلزالھا “۔ غرض یہ کہ زمین کی اس جنبش اضطرابی سے سارا عالم زیروزبر ہوجائے گا۔ (آیت) ” وقال الانسان مالھا “۔ انسان گھبرا کر اور سراسیمہ ہو کر پکار اٹھے گا کہ آخر یہ ہو کیا گیا ؟ (آیت) ” الانسان “۔ انسان۔ سے اس سیاق میں مراد کافر انسان ہے، جسے سارا بھروسہ مادی ہی طاقتوں کا رہتا ہے، اور جو مسبب الاسباب کی قدرت و حکمت کا منکر یا عملا منکر رہتا ہے۔ قیل ھذا قول الکافر لانہ کان لایؤمن بالبعث (مدارک) قال الجمھورالانسان ھو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب زمین پوری شدت سے قیام قیامت کے وقت ہلا دی جائے گی جو کہ اس کے عظیم ہونے کے مناسب ہوگی اور زمین اپنے اندر کے سارے بوجھ مثلاً اس کے خزانے اور اس کے مردے نکال دے گی اور ان کو اپنی ظاہری سطح پر ڈال دے گی اور بعث کا منکر انسان اس حالت کا انکار کرتے ہوئے کہے گا کہ اس کو کیا ہو رہا ہے ؟ اس روز (یومئذ) اذا سے بدل ہے اور (اذا) کا جواب تحدث اخبار ہا ہے، ان تمام حالات کو بیان کرے گی جو نیک و بداعمال اس کے اوپر کئے گئے ہوں گے یہ اس وجہ سے ہوگا کہ تریے رب نے اس کے لئے وحی بھیجی ہوگی یعنی اس کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہوگا اور حدیث شریف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اذا زلزلت الارض زلزالھا . یعنی جب زمین کو ہلایا جائے گا اور اس کی عظمت کی حالت کے مناسب جھنجھوڑا جائے گا یا تقاضاء حکمت کے مطابق جھنجھوڑا جائے گا یا جس قدر اس کو جھنجھوڑنا ممکن ہوگا اتنا جھنجھوڑا جائے گا یا جس قدر جھنجھوڑ زمین کے لیے مقرر ہے اتنی حرکت دی جائے گی۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ زمین اپنے اسفل حصہ سے ہلے گی (یعنی ہلنا شروع ہوگی) اس زلزلہ کا وقت مختلف فیہ ہے۔ کیا دوسرے نفخہ کے بعد جبکہ لوگ قبروں سے اٹھ چکے ہوں گے ‘ یہ زلزلہ آئے گا یا پہلے نفخہ سے بھی پہلے آئے گا اور یہ قیامت کی علامات میں سے ہوگا۔ اوّل قول حلیمی وغیرہ کا مختار ہے اور دوسرا قول ابن عربی وغیرہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–2

(1۔ 2) جب زمین میں زلزلہ آئے گا اور وہ اپنی سخت جنبش سے ہلا دی جائے گی جس کی وجہ سے جو کچھ اس پر درخت اور پہاڑ اور مکانات وغیرہ ہیں سب ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور زمین اپنے خزانوں اور مالوں کو باہر نکال پھینکے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(اذا زلزلت الارض زلزالا :”زلزل یزلزل زلزلۃ و زلزالا“ (فعللہ) سخت لہانا۔ یہاں ”زلزال“ مصدر مفعول کے معنی میں ہے، یعنی سخت ہلایا جانا۔ اس سے مراد دور سے نفخہ کے ساتھ آنے والا زبردست زلزلہ ہے، کیونکہ دور سے نفخہ کے ساتھ ہی مردے قبروں سے نکلیں گے، فرمایا :(ثم نفخ فیہ اخری فاذا ھم قیام ینظرون) (الزمر : 68) ”پھر اس میں دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو یک لخت وہ کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہوں گے۔“ (زلزالھا“ (اپنے زلزلے) سے مراد یہ ہے کہ زمین کو سخت ہلا دینے کے لئے جتنا زبردست زلزلہ ہونا چاہیے اس قسم کے زلزلے کے ساتھ وہ سخت ہلا دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اذا زلزلت الارض زلزالھا۔ یعنی زمین اپنی جڑ سے حرکت کرنے لگے گی، عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے اسی طرح روایت نقل کی ہے وہ کہا کرتے تھے، نفخہ اولی کے موقع پر اللہ تعالیٰ اسے حرکت دے گا، یہ مجاہد کا قول ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے، یوم ترجف الراجفہ۔ تتبعھا الرادفہ۔ النازعات) پھر اسمیں دوبارہ زلزلہ برپا ہوگا تو وہ اپنے مردوں کو باہر نکال دے گی یہ مردے ہی اس کے اثقال ہیں مصدر کا ذکر تاکید کے لیے ہے پھر فعل کو زمین کی طرف منسوب کیا گیا ہے جس طرح یہ قول ہے : لاعطینک عطیتک۔ اس میں یہ عطیتی لک ہے اس طرح کرنا بہت اچھا ہے تاکہ بعد والی آیات کے سروں کے موافق ہوجائے، عام قرات زاء کے کسرہ کے ساتھ ہے یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–8

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة اذا زلزلت مدینہ میں نازل ہوئی 2۔ ابن مردویہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اذا زلزلت مدینہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ احمد وابوداوٗد والنسائی والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! مجھے کچھ پڑھا دیجیے آپ نے فرمایا ” المر “ والی تین سورتیں پڑھ۔ اس نے کہا میں بوڑھا ہوگیا ہوں دل بھی سخت ہوگیا ہے اور زبان بھی موٹی ہوگئی ہے یعنی سخت کلامی پر اتر آئی ہے۔ آپ نے فرمایا حم والی تین سورتیں پڑھ۔ اس نے پھر پہلے کی طرح کہا۔ آپ نے فرمایا تین سورتیں مسجلات میں سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ : جب ہلایا جائے گا زمین کو ][ زِلْزَالَهَا : جیسے اس کو ہلا مارنے کا حق ہے ] ترکیب : (آیت۔ 1 تا 3) بات اِذَا سے شروع ہو رہی ہے اس لیے ان آیات میں آے والے افعال ماضی کا ترجمہ مستقبل میں ہوگا۔ نوٹ 1: اس میں اختلاف ہے کہ یہاں جس زلزلہ کا ذکر ہے، یہ وہ زلزلہ ہے جو نفخۂِ اولٰی (پہلا صور پھونکے جانے) سے پہلے دنیا میں ہوگا، جیسا کہ علاماتِ قیامت میں ذکر آیا ہے۔ یا اس زلزلہ سے مراد وہ زلزلہ ہے جو دوسرا صور پھونکے جانے کے بعد ہوگا جب مردے زندہ ہو کر اٹھیں گے۔ مفسرین کے اقوال مختلف ہیں لیکن آگے احوال قیامت اور حساب کتاب کا ذکر ہے، وہ قرینہ اسی کا ہے کہ یہ زلزلہ دوسرا صور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–4

یہ سورة الزلزال کا ترجمہ ہے لفظ زلزال اور زلزلہ دونوں سخت جھٹکا کھانے اور سخت حرکت کرنے کے معنی میں آتے ہیں دونوں باب فعللہ (رباعی مجرد) کے مصادر ہیں زلزالھا مفعول مطلق ہے جو تاکید اور بیان شدت کے لیے لایا گیا ہے جیسا کہ سورة الاحزاب میں فرمایا : ﴿وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا﴾ یہاں بھی قیامت کے زلزلہ کو بیان فرمایا ہے، یہ زلزلہ بہت سخت اور شدید ہوگا۔ جیسا کہ سورة الحج میں فرمایا : ﴿یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكمْ اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ﴾ (اے لوگو ! بیشک اپنے رب سے ڈرو، بیشک قیامت زلزلہ بہت بڑی چیز ہے) وہ زلزلہ دنیا والے زلزلوں جیسا نہیں کہ دو چار شہروں میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

حوادث وزلازل بوقت وقوع قیامت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا زلزلت الارض زلزالھا ........ الی ........ ذرۃ شرایرہ “۔ (ربط) گزشتہ سورت کا مضمون اہل سعادت وشقاوت کے اعمال وافعال اور ان کے انجام پر مشتمل تھا اور اصول سعادت اور حق تعالیٰ کے انعامات کے استحقاق کی بنیاد یہ بیان کی گئی تھی کہ وہ خشیت خداوندی ہے اور (آیت) ” ذلک لمن خشی ربہ “۔ فرما کر اس حقیقت کو واضح کردیا گیا تھا، اب اس سورت میں سعادت وشقاوت کے ثمرات مرتب ہونے کا وقت بتایا جارہا ہے کہ وہ قیامت ہے اور قیامت کا قائم ہونا، نظام عالم کا درہم برہم ہوجانا ہے اور وہی دن زندگی کے اعمال کا محاسبہ کرتا رہے اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

2:۔ ” اذا زلزلت “ یہ وہ زلزلہ ہے جو نفخہ اولی کے وقت آئے گا جس سے زمین اپنی تہ تک ہل جائیگی اور یہ زلزلہ اس قدرسخت اور شدید ہوگا کہ زمین پر کوئی جاندار زندہ نہ رہے گا پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر ہموار ہوجائیں گے دریا اور سمندر خشک ہو کر زمین کے برابر ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

موضوع اس سورة کا موضوع جزائے عمل ہے اگرچہ سورة تو مختصر ہے تاہم موضوع کے لحاظ سے جامع اور مانع سورة ہے۔ اس سورة میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو بھی اعمال اس دنیا میں کرتا ہے ان کی جزاء لازم ہے۔ جس طرح انسان کوئی چیز کھاتا ہے تو اس کے نتیجے میں بدہضمی پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح انسان جو عمل کرتا ہے۔ اس کے ساتھ اس کی جزاء بھی لازم ہے ، جس طرح پیدائش کے ساتھ موت لازم ہے اور جس طرح طلوع کے ساتھ غروب لازم ہے۔ ایسے ہی عمل کے ساتھ جزائے عمل کا ہونا ضروری ہے۔ اس سورة مبارکہ میں یہی بات سمجھائی گئی ہے۔ فضیلت حدیث پاک میں اس سورة کی بہت فضیلت آئی ہے۔ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَہَا۝ 1 ۙ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ اذا کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–6

ترکیب ¦ اذا شرطیۃ کان والفرق بینھا ان اذا تستعمل فی المقطوع ای اذا اردت التعلیق بما یوجد قطعا تقول اذا بخلاف ان فانھا کان لزلزال یقیناً قال اذا زلزلت فعل مجہول الارض مفعول ما لم یسم فاعلہ زلزالھا زلزال مفعول مطلق مضاف الی الضمیر الراجع الی الارض۔ قال الفراء الزلزال بالکسر مصدر و بالفتح اسم و قال القرطبی بالفتح مصدر کا لو سو اس والقلقا وقیل ھما مصدران وقد قری بھما۔ فالمصدر مضاف الی فاعلہ والمعنی ای حرکت الارض حرکۃ شدیدۃ کما قال اذا رجت الارض رجاً واخرجت الخ الجملۃ معطوفہ علی زلزلت الارض والاثقال جمع ثقل والمراد بہ الد فائن وقال الخ ایضا معطوف ما مبتداء لھا خبر والجملۃ الا ستفھامیۃ مفعول قال…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَھَا۔ (الزلزال : 1) (جب تھرتھرانے لگے گی زمین پوری شدت سے۔ ) ایک ہمہ گیر اضطراب اور ہلچل، مراد قیامت ہے زلزلہ، پے در پے زور زور سے حرکت کرنے کو کہتے ہیں۔ علامہ راغب لکھتے ہیں التزلزل، الاضطراب وتکریر حروف لفظہ تنبیہ علیٰ تکریرِ معنی الزلل یعنی تزلزل مضطرب ہونے کو کہتے ہیں اور حروف کا تکرار جھٹکوں کے تکرار پر دلالت کرتا ہے۔ زِلْزَالَھَا… تاکید اور شدت و قوت کے اظہار کے لیے ہے۔ یعنی جب زمین زوردار جھٹکوں کے باعث پوری قوت کے ساتھ تھرتھرانے لگے گی اور یہاں چونکہ زمین کو ہلانے کا ذکر کیا گیا ہے اس لیے اس سے خودبخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ زمین کا کوئی مقام یا کوئی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن ربط سورت : البیّنہ کا اختتام ان الفاظ پر ہوا کہ ” اللہ تعالیٰ “ ہر اس شخص پر راضی ہوگا جس نے اس سے ڈر کر زندگی بسر کی اللہ تعالیٰ کے ڈر کا حقیقی تقاضا ہے کہ انسان ہر دم قیامت کا عقیدہ تازہ رکھے جس دن کی ابتداء بڑے بڑے زلزلوں سے ہوگی۔ قرآن مجید نے یہ حقیقت بڑی تفصیل کے ساتھ بتلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جب پہلی دفعہ اسرافیل صور میں پھونک مارے گا تو زمین و آسمانوں میں ایسا بھونچال آئے گا کہ بالآخر ہر چیز ختم ہوجائے گی۔ ایک مدّت کے بعد جس کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں اس مدّت میں صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی باقی رہے گی۔ اسرافیل دوسری پھونک مارے گا تو ایک دفعہ پھر زمین پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1 : اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَھَا (جب زمین اپنی سخت جنبش سے ہلا دی جائے گی) یعنی زمین کو وہ شدید حرکت دی جائے گی۔ جس سے بڑھ کر حرکت نہیں۔ قراءت : زِلْزَالَھَا اس کو کسرہ کے ساتھ پڑھا گیا ہے اس صورت میں مصدر ہے اور زاء کے فتحہ سے پڑھیں تو یہ اسم ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

1 ۔” اذا زلزلت الارض زلزالھا “ زمین کو سخت حرکت دی جائے گی قیامت کے قائم ہونے کی وجہ سے۔ ” زلزالھا “ اس کا حرکت کرنا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ دجال کا پیدا ہونا سورج کا مغرب سے نکلنا۔ لال آندھی کا آنا۔ جس طرح یہ چیزیں دنیا کی مدت اخیر ہونے کی علامتیں ہیں اسی طرح اس وقت ایک زلزلہ بھی لال آندھی کے آنے کے بعد آئے گا جس کا ذکر ترمذی 1 ؎ وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ وغیرہ کی روایت سے آیا ہے اور ایک زلزلہ دوسرا صور پھونکا جائے گا جس آئے گا جس کا ذکر قرآن شریف میں کئی جگہ آیا ہے اس آیت میں جو زلزلہ کا ذکر ہے بعض مفسر کہتے ہیں کہ اس سے پہلا زلزلہ مراد ہے اور بعض کہتے ہیں دوسرا زلزلہ مراد ہے۔ اس زلزلہ کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے حساب و کتاب اور زمین کی شہادت کا ذکر فرمایا ہے اور یہ باتیں تو ضرور دوسرے صور کے بعد کی ہیں اس لئے اس زلزلہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک وتعالی ان واقعات کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو قیامت کے دن وقوع میں آئیں گے نیز یہ کہ زمین میں زلزلہ آئے گا وہ ہلادی جائے گی اور وہ کانپ اٹھے گی یہاں تک کہ اس پر موجود تمام عمارتیں اور تمام نشانات گر کر معدوم ہوجائیں گے اس کے تمام پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اس کے ٹیلے برابر کردیے جائیں گے زمین ہموارج اور چٹیل میدان بن جائے گی جس میں کوئی نشیب و فراز نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

1 ۔ زلزلہ قیامت کی تذکیر و یاد دہانی : سو زلزلہ قیامت کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جب بلا دیا جائے گا زمین کے اس عظیم الشان کرے کو اس عظیم الشان بھونچال سے، جس سے اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اس کی سب اونچ نیچ جو آج موجود ہے برابر کردی جائے گی، اور یہ زمین ایک ہموار اور چٹیل میدان بن جائے گی جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا، لَّا تَرٰى فِيْهَا عِوَجًا وَّلَآ اَمْتًا (طہ 106، 107 پ 16) اور جس طرح زلزلہ کے لفظ میں تکرار پایا جاتا ہے، اسی طرح اس کے معنی کے اندر بھی تکرار کا مفہوم شامل ہے، سو اس کے معنی پے در پے ہلانے اور زور سے حرکت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

قیامت کا واقعہ اعمال کا اندراج اور گواہی تشریح : یہاں قیامت کا ذکر کرتے ہوئے زمین کے حالات بتائے جا رہے ہیں کہ زمین میں شدید زلزلہ آئے گا، جیسے انڈہ توڑو تو اس کے اندر کا مال سفیدی زردی سب باہر نکل آتا ہے ایسے ہی زمین کا حال ہوگا۔ ہم زمین کے بارے میں کافی بحث کرچکے ہیں۔ مختصراً عرض ہے کہ زمین کی اوپر کی سطح نے اس کے اندر کے سارے مال کو محفوظ کر رکھا ہے۔ وہ مال ہے تیل گیس ' معدنیات ' کوئلہ ' ہیرے اور قیمتی پتھر یہ سب کچھ سمندر کی طرح موجیں مار رہا ہے۔ جس کی نشاندہی قرآن پاک میں کی گئی ہے۔ اور اس کی تصدیق ان آتش فشاں پہاڑوں سے نکلنے والے لاوے سے ہوتی رہتی ہے جو اکثر و بیشتر پہاڑ کی کسی نہ کسی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

سورة الزلزال آیات 1 تا 8۔ اسرار ومعارف۔ جب زمین کو جھنجھوڑ ڈالا جائے گا ، یعنی قیامت قائم ہوگی اور زمین تمام لوگوں کو اور مال وزر کو اگل دے گی یا وہ راز جو بہرحال اس کے پاس محفوظ ہوں گے کھول دے گی تو انسان کہہ اٹھے گا زمین کو کیا ہوگیا اس نے تو سب کچھ بتادیا۔ ہاں ضرور بتائے گی کہ تیرے پروردگار کا حکم اس کو بتانے ہی کا ہوگا اس روز لوگ الگ الگ طبقے اور جماعتیں بن جائیں گے جس طرح کے لوگوں اور کردار کی رفاقت دنیا میں اختیار کی اسی طرح کے گروپوں میں کھڑے ہوں گے کہ اپنے اعمال کے نتائج کو دیکھیں جس کسی نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اس کا بدلہ پائے گا اس سے علماء نے دلیل اختیار فرمائی ہے کہ جس کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–3

ف 2 یعنی قیامت کے قریب جب وہ صور پھونکے جانے سے دہل جائے اور اس میں بھونچال آجائے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(99:1) اذا زلزلت الارض زلزالہا : اذا شرطیہ ، زلزلت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب۔ زلزال (فعلال) مصدر سے۔ الارض مفعول مالم یسم فاعلہ۔ زلزالہا میں زلزال مفعول مطلق مضاف ھا ضمیر واحد مؤنث غائب (جس کا مرجع الارض ہے) مضاف الیہ۔ (زلزال مصدر ہے اور اپنے فاعل کی طرف مضاف ہے) مطلب یہ کہ مصدر کو مفعول مطلق لانے کا مقصد فعل کی تاکید ہے۔ یعنی حرکت الارض حرکۃ شدیدۃ۔ یعنی زمین شدت کے ساتھ بار بار ہلائی جائے گی۔ جیسے کہ دوسری جگہ قرآن مجید میں آیا ہے :۔ اذا رجت الارض رجا (56:4) جب زمین بھونچال سے لرزے گی ! اذا شرطیہ۔ ظرف زمان بمعنی جب۔ زلزال ہلانا۔ جھڑ جھڑ دینا۔ زلزلہ میں ڈالنا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن۔ زلزلت۔ ہلاڈالی گئی۔ اثقال۔ بوجھ۔ مالھا ۔ کیا ہوگیا اسے ؟ ۔ تحدت۔ بیان کردے گی۔ اخبر۔ خبریں۔ حالات۔ یصدر۔ باہر نکلنے گا۔ لوٹے گا۔ اشتات۔ مختلف گروہ۔ مثقال ۔ وزن۔ برابر۔ یرہ۔ وہ اس کو دیکھ گا۔ تشریح : نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب زمین پر ایک شخص بھی اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا تو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز پر فنا کی کیفیت طاری کردی جائے گی۔ اسی کو قیامت کہا جاتا ہے جو برحق ہے اور اس کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ہے۔ لیکن پہلا صور پھونکے جانے کے بعد کیا ہوگا اس کو اس سورت میں بیان فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ جب زمین مسلسل جھٹکوں اور زلزلوں سے ہلا ماری…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

قیامت کی نشانیاں۔ (ف 1) یعنی اللہ تعالیٰ ساری زمین کو ایک نہایت سخت اور ہولناک زلزلہ سے ہلاڈالے گا جس کے صدمہ سے کوئی عمارت اور کوئی پہاڑ یادرخت زمین پر قائم نہ رہے گا سب نشیب و فراز برابر ہوجائیں گے تاکہ میدان حشر بالکل ہموار اور صاف ہوجائے اور یہ معاملہ قیامت میں نفخ ثانی کے وقت ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–8

ف 1: سابقہ سورة کا اختتام ان آیتوں پر ہوا تھا کہ منکرین بدترین خلائق ہیں اور ان کو جو سزا ملے گی ۔ وہ بھی بدترین مقام پر فائز ہوں گے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ یہ وقت مکافات اور جزا کا کب آئے گا ۔ جب لفخہ ثانیہ کے وقت زمین میں ایک شدید حرکت اور جنبش ہوگی ۔ اور زمین اپنے تمام ذخائر وخزائن اگل دے گی ۔ اس وقت یہ لوگ کہیں گے کہ یہ کیا ہونے والا ہے ۔ اس وقت یہ بےزبان زمین بتائے گی کہ اس کے سینے پر انسانوں نے کیسی معصیت کوشی کی زندگی بسر کی ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس نوع کی تلقین کررکھی ہوگی ۔ یہ وہ دن ہوگا جب لوگ گروہ درگروہ موقف حساب سے واپس ہوں گے ۔ وہ لوگ دیکھیں گے کہ ذرہ برابر نیکی جو…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ وقت یاد کر وجب زمین زلزلہ سے ہلا دی جائے گی 1 ؎ (زلزلت) وہ ہلائی گئی۔ اس کو لرزایا گیا ۔ اس کو زلزلہ میں ڈالا گیا زلزلۃ اور زلزال سے ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب ( زلزالھا) اس کا بھونچال ۔ اس کا زلزلہ ۔ اس کا ہلا دینا ۔ زلزال مصدر مضاف ھا ضمیر واحد مؤنث غائب مضاف الیہ ۔ وہ جھٹکے جو زور دار طرقہ سے زمین کو لگتے ہیں زلزلہ کہے جاتے ہیں ۔ قدرت الٰہی نے مین کے اندر کیا کیا مادے اور لادے دبا کر رکھے ہیں اور اکثر اس جگہ میں جہاں پہاڑ پیدا کیے گئے ہیں وہ مادے زمین کے اندر ان پہاڑوں کے نیچے حرکت کناں ہیں اور اپنے اندر ہی کے زور سے بعض اوقات پہاڑ کو پھاڑ کر باہر نکل آتے ہیں اور ان پہاڑوں کو آتش…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The Merits of Surah Az-Zilzal Sayyidna Anas and Ibn ` Abbas ؓ report that the Messenger of Allah ﷺ said that Surah Al-Zilzal equals half the Qur'an, Surah Al-Ikhlas equals a third of the Qur'an and Surah Al-Kafirun equals a quarter of the Qur'an. [ Transmitted by al-Tirmidhi, al-Baghawi and a1-Mazhari ]. The Scene of the Day of Resurrection Verse [ 1] إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْ‌ضُ زِلْزَالَهَا (When the earth will be trembled with its quake.) It is not clear whether this earthquake refers to the convulsion that will take place in the world before the 'first blowing of the trumpet', as is…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

1 Zalzalah means to shake violently over and over again. Thus, zulzilat-il,ardu means that the earth will be shaken violently by convulsion after convulsion, and since shaking of the earth has been mentioned, it automatically gives the meaning that the entire earth will be shaken and not a limited territory of it. Then, in order to express the great intensity of the earthquake the word zilzalaha has been added, which literally means "its being shaken". It mean: "It will be so shaken as a huge sphere like it ought to be shaken, or shaken to its utmost intensity." Some commentators have taken…

Read the full tafseer →