99. Surah Az-Zalzala

الزلزلةThe Earthquake · 8 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 99:1–2

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ Open ayah 99:1 in the Quran reader

جب زمین بھونچال سے ہلا دی جائے گی

وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ Open ayah 99:2 in the Quran reader

اور زمین اپنے (اندر) کے بوجھ نکال ڈالے گی

(1۔ 2) جب زمین میں زلزلہ آئے گا اور وہ اپنی سخت جنبش سے ہلا دی جائے گی جس کی وجہ سے جو کچھ اس پر درخت اور پہاڑ اور مکانات وغیرہ ہیں سب ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور زمین اپنے خزانوں اور مالوں کو باہر نکال پھینکے گی۔
Ayahs 99:3–6

وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ Open ayah 99:3 in the Quran reader

اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوا ہے

یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ Open ayah 99:4 in the Quran reader

اس روز وہ اپنے حالات بیان کر دے گی

بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَاؕ Open ayah 99:5 in the Quran reader

کیونکہ تمہارے پروردگار نے اس کو حکم بھیجا (ہوگا)

یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا١ۙ۬ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ Open ayah 99:6 in the Quran reader

اس دن لوگ گروہ در گروہ ہو کر آئیں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھائے جائیں

(3۔ 6) اور کافر آدمی اس وحشت کو دیکھ کر کہے گا اسے کیا ہوا اس روز زمین جو کچھ اس پر نیکی و برائی ہوئی ہے سب بتانے لگے گی اس بنا پر کہ اس کو کلام کرنے کی اجازت دی جائے گی اس روز لوگ مختلف جماعتیں ہو کر واپس ہوں گے ایک جماعت جنت کی طرف جائے گی اور ایک دوزخ میں تاکہ جو کچھ انہوں نے نیکی اور گناہ کیا ہے اسے دیکھ لیں۔
Ayahs 99:7–8

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ Open ayah 99:7 in the Quran reader

تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠ Open ayah 99:8 in the Quran reader

اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا

(7۔ 8) کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ معمولی سی نیکی پر ثواب نہیں ملتا اور چھوٹے گناہ پر گرفت نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو معمولی نیکی ترغیب دی اور چھوٹے گناہ سے بھی خوف دلایا ہے کہ جو شخص ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اس کو اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا جس سے خوش ہوگا یا یہ کہ مومن اپنی نیکی کا صلہ آخرت میں اور کافر دنیا میں دیکھ لے گا اور جو شخص ذرہ برابر بھی بدی اور گناہ کرے گا وہ اس کو اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا جس سے غمگین ہوگا یا یہ کہ مومن اسے دنیا میں اور کافر آخرت میں دیکھ لے گا۔ شان نزول : وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ الخ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا الخ تو مسلمانوں کو خیال ہوا کہ معمولی سی چیز دینے پر ثواب نہیں ملے گا اور دوسرے لوگ سمجھنے لگے کہ چھوٹے گناہوں پر جیسا کہ جھوٹ بولنا غیبت کرنا، اجنبیہ کو دیکھنا پر کوئی گرفت نہیں ہوگی اور کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے بڑے گناہوں پر دوزخ سے ڈرایا ہے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ